تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِيَةَ اَزْوَاجٍ:} یہ بھی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور قدرت و عظمت کی دلیل ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ انعام (۱۴۳، ۱۴۴) جانوروں کی آٹھ قسمیں پیدا کرنے کے لیے {” اَنْزَلَ “} (اتارا) کا لفظ یہ توجہ دلانے کے لیے ہے کہ تمھیں ملنے والی نعمتیں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے آتی ہیں، جیسا کہ فرمایا: «وَ فِي السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَ مَا تُوْعَدُوْنَ» [الذاریات: ۲۲] ”اور آسمان ہی میں تمھارا رزق ہے اور وہ بھی جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو۔“ بے شمار جانوروں میں سے خاص طور پر ان جانوروں کا ذکر اس لیے فرمایا کہ زیادہ تر یہی جانور لوگوں کے کھانے پینے، پہننے اور دوسری ضروریات میں استعمال ہوتے ہیں۔ لوہا بھی چونکہ انسانی ضروریات میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے، اس کے لیے بھی یہی الفاظ استعمال فرمائے: «وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِيْدَ فِيْهِ بَاْسٌ شَدِيْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ» [الحدید: ۲۵] ”اور ہم نے لوہا اتارا جس میں سخت لڑائی (کا سامان) ہے اور لوگوں کے لیے بہت سے فائدے ہیں۔“
➌ { يَخْلُقُكُمْ فِيْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ:} ایک پیدائش کے بعد دوسری پیدائش سے مراد نطفے سے لے کر مکمل انسان تک کے سارے مراحل ہیں۔ دیکھیے سورۂ مومنون (۱۲ تا ۱۴)۔
➍ { فِيْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ:} اس سے مراد پیٹ کی تاریکی، رحم کی تاریکی اور اس جھلی کی تاریکی ہے جو بچے کے اوپر لپٹی ہوتی ہے۔ ماؤں کے پیٹوں میں اتنی تاریکیوں کے اندر تمھاری مختلف مرحلوں میں پیدائش، وہیں تمھارے لیے ہر ضرورت مہیا کرنا اور ہر صدمے اور چوٹ سے محفوظ رکھنا، پھر خیریت سے اس دنیا میں لے آنا اس ذات واحد ہی کی کاری گری ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ مرسلات (۲۰ تا ۲۳) اور سورۂ عبس (۱۷ تا ۲۰)۔
➎ { ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ …:} یعنی جب تمھارا رب اللہ تعالیٰ ہے اور سب بادشاہی اسی کی ہے تو لازماً تمھارا الٰہ (معبود) بھی وہی ہے۔ اس کے سوا کوئی اور کس طرح الٰہ ہو سکتا ہے، جو نہ تمھارا خالق، نہ مالک، نہ پروردگار، نہ بادشاہ اور نہ ہی اس کا ان کاموں میں کوئی حصہ، پھر تم ایسے معبود بنا کر کس طرح اور کدھر پھیرے جاتے ہو؟ معلوم ہوا انسان کی اصل فطرت توحید کا عقیدہ ہے۔ اس سے ہٹانے والا شیطان ہوتا ہے یا دوسرے لوگ جو اسے غلط راستے کی طرف پھیر دیتے ہیں۔ اس میں آدمی کی غیرت کو ابھارا ہے کہ اپنی عقل اور اپنی مرضی استعمال کرنے کے بجائے اندھا دھند دوسروں کے کہنے پر غلط راستے پر جا رہے ہو، کچھ تو سوچو کہ تمھیں سیدھے راستے سے کس طرح ہٹایا اور کدھر کو لے جایا جا رہا ہے؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
وہ عزت و عظمت والا کبریائی اور رفعت والا ہے۔ گنہگاروں کا بخشنہار، عاصیوں پر مہربان وہی ہے۔ تم سب کو اس نے ایک ہی شخص یعنی آدم علیہ السلام سے پیدا کیا ہے پھر دیکھو کہ تمہارے آپس میں کس قدر اختلاف ہے۔ رنگ صورت آواز بول چال زبان و بیان ہر ایک الگ الگ ہے۔ آدم علیہ السلام سے ہی ان کی بیوی صاحبہ حواء رضی اللہ عنہا کو پیدا کیا۔
«ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا فَكَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا ثُمَّ أَنشَأْنَاهُ خَلْقًا آخَرَ فَتَبَارَكَ اللَّـهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ» ۱؎ [23-المؤمنون:14] ’ پہلے نطفہ، پھر خون بستہ، پھر لوتھڑا، پھر گوشت پوست، ہڈی، رگ، پٹھے، پھر روح، غور کرو کہ وہ کتنا اچھا خالق ہے ‘، تین تین اندھیرے مرحلوں میں تمہاری یہ طرح طرح کی تبدیلیوں کی پیدائش کا ہیر پھیر ہوتا رہتا ہے رحم کی اندھیری اس کے اوپر کی جھلی کی اندھیری اور پیٹ کا اندھیرا یہ جس نے آسمان و زمین کو اور خود تم کو اور تمہارے اگلوں پچھلوں کو پیدا کیا ہے۔ وہی رب ہے اسی کا مالک ہے۔ وہی سب میں متصرف ہے وہی لائق عبادت ہے اس کے سوا کوئی اور نہیں۔ افسوس نہ جانیں تمہاری عقلیں کہاں گئیں کہ تم اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے لگے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ومن عزَّتِهِ أن {خَلَقَكُم من نفس واحدةٍ}: على كثرتكم وانتشاركم في أنحاء الأرض، {ثم جَعَلَ منها زَوْجَها}: وذلك ليسكنَ إليها وتسكنَ إليه وتتمَّ بذلك النعمة، {وأنزل لكم من الأنعام}؛ أي: خلقها بقدرٍ نازلٍ منه رحمةً بكم {ثمانيةَ أزواج}: وهي التي ذكرها في سورة الأنعام: {ثمانية أزواج من الضَّأنِ اثنينِ ومن المَعْزِ اثنينِ ومن الإبِلِ اثْنينِ ومن البقرِ اثنينِ}، وخصَّها بالذِّكر مع أنَّه أنزل لمصالح عباده من البهائم غيرها؛ لكثرةِ نفعِها وعموم مصالِحِها ولشرفِها ولاختصاصِها بأشياء لا يَصْلُحُ غيرُها؛ كالأضحيَّة والهدي والعقيقةِ ووجوب الزكاة فيها واختصاصها بالدِّية. ولما ذَكَرَ خَلْقَ أبينا وأمنا؛ ذَكَرَ ابتداءَ خَلْقِنا، فقال: {يخلُقُكُم في بطونِ أمَّهاتِكُم خَلْقاً من بعدِ خَلْق}؛ أي: طوراً بعد طورٍ، وأنتم في حال لا يَدَ مخلوق تمسُّكم ولا عينَ تنظرُ إليكم، وهو قد ربَّاكُم في ذلك المكان الضيق {في ظُلُماتٍ ثلاثٍ}: ظلمة البطن، ثم ظلمة الرحم، ثم ظلمة المشيمة. {ذلِكُم}: الذي خَلَقَ السماواتِ والأرضَ وسخَّر الشمس والقمر، وخَلَقَكُم وخَلَقَ لكم الأنعامَ والنعم {اللهُ ربُّكُم}؛ أي: المألوه المعبود الذي ربَّاكم ودبَّركم؛ فكما أنَّه الواحد في خلقِهِ وتربيتِهِ لا شريك له في ذلك؛ فهو الواحد في ألوهيَّتِهِ لا شريك له، ولهذا قال: {لا إله إلاَّ هو فأنَّى تُصْرَفونَ}: بعد هذا البيان، ببيانِ استحقاقِهِ تعالى الإخلاص وحده، إلى عبادةِ الأوثان التي لا تدبِّرُ شيئاً، وليس لها من الأمر شيء!!