تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزمر (39) — آیت 7

اِنۡ تَکۡفُرُوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنۡکُمۡ ۟ وَ لَا یَرۡضٰی لِعِبَادِہِ الۡکُفۡرَ ۚ وَ اِنۡ تَشۡکُرُوۡا یَرۡضَہُ لَکُمۡ ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰی ؕ ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمۡ مَّرۡجِعُکُمۡ فَیُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ؕ اِنَّہٗ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۷﴾
اگر تم نا شکری کر و تو یقینا اللہ تم سے بہت بے پروا ہے اور وہ اپنے بندوں کے لیے ناشکری پسند نہیںکرتااوراگر تم شکر کرو تووہ اسے تمھارے لیے پسندکرے گا اور کوئی بوجھ اٹھانے والی (جان) کسی دوسری کا بوجھ نہیں اٹھائے گی، پھر تمھارا لوٹنا تمھارے رب ہی کی طرف ہے تو وہ تمھیں بتلائے گا جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔ یقینا وہ سینوں والی بات کو خوب جاننے والا ہے ۔ En
اگر ناشکری کرو گے تو خدا تم سے بےپروا ہے۔ اور وہ اپنے بندوں کے لئے ناشکری پسند نہیں کرتا اور اگر شکر کرو گے تو وہ اس کو تمہارے لئے پسند کرے گا۔ اور کوئی اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ پھر تم اپنے پروردگار کی طرف لوٹنا ہے۔ پھر جو کچھ تم کرتے رہے وہ تم کو بتائے گا۔ وہ تو دلوں کی پوشیدہ باتوں تک سے آگاہ ہے
En
اگر تم ناشکری کرو تو (یاد رکھو کہ) اللہ تعالیٰ تم (سب سے) بے نیاز ہے، اور وه اپنے بندوں کی ناشکری سے خوش نہیں اور اگر تم شکر کرو تو وه اسے تمہارے لئے پسند کرے گا۔ اور کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھاتا پھر تم سب کا لوٹنا تمہارے رب ہی کی طرف ہے۔ تمہیں وه بتلا دے گا جو تم کرتے تھے۔ یقیناً وه دلوں تک کی باتوں کا واقف ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿اِنْ تَكْ٘فُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنْكُمْ اگر ناشکری کروگے تو اللہ تم سے بے نیاز ہے۔ جس طرح تمھاری اطاعت اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی اسی طرح تمھارا کفر اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، بلکہ تمھارے لیے اس کا امرونہی تم پر اس کا محض فضل و احسان ہے ﴿وَلَا یَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْ٘كُفْرَ اور وہ اپنے بندوں کے لیے ناشکری پسند نہیں کرتا۔ کیونکہ ان پر اس کا کامل احسان ہے اسے معلوم ہے کہ کفر ان کو ایسی بدبختی میں مبتلا کر دے گا کہ اس کے بعد انھیں کبھی خوش بختی نصیب نہ ہو گی۔ نیز اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اور یہی وہ غرض و غایت ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا، اس لیے اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ بندے اس مخلوق کو پکاریں جس کو اس مقصد کے لیے تخلیق نہیں کیا گیا ﴿وَاِنْ تَشْكُرُوْا اور اگر تم اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے لیے دین میں اخلاص اختیار کر کے اس کا شکر ادا کرو تو ﴿یَرْضَهُ لَكُمْ وہ اس کو تمھارے لیے پسند کرتا ہے۔ کیونکہ تم پر اس کی بے پایاں رحمت سایہ کناں ہے، وہ تم پر احسان کو پسند کرتا ہے اور تم اس فعل کو بجا لارہے ہو جس کے لیے تمھیں پیدا کیا گیا ہے۔
تمھارے شرک سے اسے کوئی نقصان پہنچ سکتا ہے نہ تمھارے اعمال اور تمھاری توحید سے اسے کوئی فائدہ، تم میں سے ہر شخص کا اچھا برا عمل اسی کے لیے ہے۔ ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ ﴿ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ ، پھر تم کو اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے یعنی قیامت کے روز ﴿فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ وہ تمھارے اعمال کے بارے میں آگاہ کرے گا جن کا اس کے علم نے احاطہ کر رکھا ہے، جن پر اس کا قلم جاری ہو چکا ہے، جنھیں معزز محافظین نے صحیفوں میں درج کر رکھا ہے اور جن پر تمھارے جوارح تمھارے خلاف گواہی دیں گے اور وہ تم میں سے ہر ایک کو اس کے استحقاق کے مطابق جزا دے گا۔ ﴿اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ اللہ تعالیٰ سینوں کے اندر پنہاں نیکی اور برائی کے اوصاف کو خوب جانتا ہے۔ اس آیت کریمہ کا مقصود کامل عدل و انصاف پر مبنی جزا و سزا کے بارے میں خبر دینا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إن تَكْفُروا فإنَّ الله غنيٌّ عنكم}: لا يضرُّه كفرُكم كما لا ينتفع بطاعتكم، ولكنْ أمرُهُ ونهيُهُ لكم محضُ فضلِهِ وإحسانِهِ عليكم. {ولا يرضى لعباده الكفر}: لكمال إحسانِهِ بهم وعلمِهِ أنَّ الكفر يُشقيهم شقاوةً لا يسعدون بعدها، ولأنَّه خَلَقَهم لعبادتِهِ؛ فهي الغاية التي خَلَقَ لها الخلق؛ فلا يرضى أن يَدَعوا ما خلقهم لأجله.

{وإن تشكروا}: لله تعالى بتوحيدِهِ وإخلاص الدين له {يَرْضَهُ لكم}: لرحمته بكم ومحبَّته للإحسانِ عليكم ولِفعْلِكُم ما خَلَقَكُم لأجله، وكما أنَّه لا يَتَضَرَّر بشِرْككم ولا يَنْتَفِعُ بأعمالكم وتوحيدكم؛ كذلك كلُّ أحدٍ منكم له عملُه من خير وشرٍّ. {ولا تزِرُ وازرةٌ وِزْرَ أخرى ثم إلى ربِّكم مرجِعُكُم}: في يوم القيامة، {فينبِّئُكُم بما كنتُم تعملون}: إخباراً أحاط به علمُه وجرى عليه قلمُه وكتبتْه عليكم الحفظةُ الكرامُ وشهدتْ به عليكم الجوارحُ، فيجازي كلًّا منكم ما يستحقُّه. {إنَّه عليمٌ بذات الصدور}؛ أي: بنفس الصدور وما فيها من وصفِ بِرٍّ أو فجورٍ. والمقصود من هذا الإخبار بالجزاء بالعدل التامِّ.