(آیت 49){ كَاَنَّهُنَّبَيْضٌمَّكْنُوْنٌ: ”بَيْضٌ“”بَيْضَةٌ“} کی جمع ہے، انڈے۔ انڈے کا رنگ عموماً سفید سرخی مائل ہوتا ہے، جس میں کچھ زردی کی آمیزش ہوتی ہے۔ یہ رنگ چھپا کر رکھنے سے قائم رہتا ہے، ورنہ اڑجاتا ہے۔ خصوصاً شتر مرغ کے انڈے اس رنگ کے ہوتے ہیں اور شتر مرغ انھیں اپنے ملائم اور نرم پروں کے ریشوں کے فرش پر رکھ کر انھی کے ساتھ ڈھانپ دیتا ہے۔ عرب لوگ عورتوں کے ایسے رنگ کو بہت پسند کرتے ہیں اور انھیں چھپائے ہوئے انڈوں کے ساتھ تشبیہ دیتے ہیں۔ اشرف الحواشی میں ہے: ”بعض مفسرین نے {”بَيْضٌمَّكْنُوْنٌ“} کی تفسیر ”انڈے کے چھلکے کے نیچے چھپی ہوئی جھلی“ سے کی ہے اور اس کی یہی تفسیر ام سلمہ رضی اللہ عنھا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی ہے، اس لیے اس کی یہی تفسیر صحیح ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے {”بَيْضٌمَّكْنُوْنٌ“} کا مطلب دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی (یعنی جنت کی حوروں کی) نرمی اور نزاکت اس جھلی جیسی ہو گی جو انڈے کے چھلکے سے چپکی ہوتی ہے اور اسے {”غِرْقِيٌّ“} کہا جاتا ہے۔“ (ابن کثیر، ابن جریر) قاموس میں ہے: {”غَرْقَأَتِالدَّجَاجَةُبَيْضَتَهَا“} ”مرغی نے سخت چھلکے کے بغیر انڈا دیا۔“ مگر تفسیر ابن کثیر کے محقق حکمت بن بشیر نے اس روایت کے متعلق لکھا ہے: ”اسے طبری اور طبرانی نے ایک ہی سند اور متن کے ساتھ روایت کیا ہے اور اس کی سند سلیمان بن ابی کریمہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔ اسے عقیلی اور ابن عدی نے ضعیف کہا ہے۔“ علاوہ ازیں قرآن میں ان عورتوں کو {”اللُّؤْلُؤِالْمَكْنُوْنِ“} بھی کہا گیا ہے، اس لیے {”بَيْضٌمَّكْنُوْنٌ“} اور {”اللُّؤْلُؤِالْمَكْنُوْنِ“} کی مناسبت مدنظر رہنی چاہیے۔ (واللہ اعلم)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
49۔ 1 یعنی شتر مرغ اپنے پروں کے نیچے چھپائے ہوئے ہوں، جس کی وجہ سے وہ ہوا اور گردو غبار سے محفوظ ہوں گے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
49۔ (ایسی نازک) جیسے انڈے کے چھلکے کے نیچے چھپی [28] ہوئی جھلّی۔
[28] بیض کی مختلف تعبیریں:۔
اس آیت کی کئی تعبیریں کی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ ان کی رنگت سفید ہو گی یعنی گورے رنگ کی ہوں گی اور جلد بالکل بے داغ ہو گی۔ دوسری یہ کہ یہاں انڈوں سے مراد شتر مرغ کے انڈے ہیں جو نہایت خوش رنگ ہوتے ہیں۔ اور اس تعبیر کی تائید اس آیت سے بھی ہو جاتی ہے۔ ﴿كَأنَّهُنَّالْيَاقُوْتُوَالْمَرْجَانُ﴾[55: 58] (یعنی اہل جنت کی عورتیں یاقوت اور مرجان کی طرح ہوں گی) اور تیسری تعبیر وہ ہے جو ماثور ہے۔ چنانچہ سیدہ ام سلمہؓ نے جب اسی آیت کی تفسیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ ان کی نرمی و نزاکت اس جھلیّ جیسی ہو گی جو انڈے کے چھلکے اور اس کے گودے کے درمیان ہوتی ہے (ابن جریر) اسی تعبیر کو معتبر سمجھ کر ترجمہ اس کے مطابق درج کیا گیا ہے۔ یہ اہل جنت کی عورتوں کی تیسری صفت ہوئی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔