(آیت 16) {قَالُوْارَبُّنَايَعْلَمُاِنَّاۤاِلَيْكُمْلَمُرْسَلُوْنَ:} ”ہمارا رب جانتا ہے “ یہ الفاظ قسم کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ بلاغت کا اصول ہے کہ سننے والا جتنی شدت کے ساتھ کسی بات کا منکر ہو اتنی ہی تاکید کے ساتھ بات کی جائے۔ پیغمبروں کا حوصلہ دیکھیے، بستی والوں کے انھیں صاف جھوٹا کہنے پر بھی وہ برا فروختہ نہیں ہوئے، بلکہ قسم کھا کر انھیں اپنی رسالت کا یقین دلانے کی کوشش کی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
16۔ وہ کہنے لگے: ”ہمارا پروردگار جانتا ہے کہ ہم یقیناً تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
ان تینوں رسولوں نے جواب دیا: ﴿رَبُّنَایَعْلَمُاِنَّـاۤ٘اِلَیْكُمْلَ٘مُرْسَلُوْنَ ﴾”ہمارا رب جانتا ہے کہ یقینا ہم تمھاری طرف بھیجے گئے ہیں۔“ اور اگر ہم جھوٹے ہوتے تو اللہ تعالیٰ ہمیں سرعام رسوا کر دیتا اور ہمیں فوراً سزا دے دیتا۔