(آیت 17) {وَمَاعَلَيْنَاۤاِلَّاالْبَلٰغُالْمُبِيْنُ:} یعنی ہمارا فریضہ اتنا ہی ہے کہ ہم تمھیں اللہ کا پیغام صاف پہنچا دیں۔ رہا تمھیں مومن بنا لینا، یا تمھارے مطالبات کے مطابق معجزے دکھانا، یا تم پر عذاب لے آنا، تو یہ ہمارا کام نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
17۔ اور ہمارے ذمہ تو صرف واضح طور پر پیغام پہنچا دینا ہے“
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَمَاعَلَیْنَاۤاِلَّاالْ٘بَلٰ٘غُ٘الْمُبِیْنُ ﴾”اور ہمارے ذمے تو صاف صاف پہنچا دینا ہے۔“ یعنی ایسا پہنچا دینا جس سے ان تمام امور کی توضیح ہو جائے جن کا بیان کرنا مطلوب ہے۔ اس کے سوا جو کچھ ہے وہ یا تو معجزات کا یا جلدی عذاب کا مطالبہ ہے، جو ہمارے اختیار میں نہیں۔ ہماری ذمہ داری تو واضح طور پر پہنچا دینا ہے جو ہم نے پوری کر دی ہے۔ ہم نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو کھول کھول کر تمھارے سامنے بیان کر دیا ہے اگر تم نے راہ راست اختیار کر لی تو یہ تمھارا ہی نصیب ہے اور اگر تم گمراہ رہے تو ہمارے اختیار میں کچھ نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وما علينا إلاَّ البلاغُ المُبينُ}؛ أي: البلاغ المبينُ الذي يحصُلُ به توضيحُ الأمور المطلوب بيانها، وما عدا هذا من آيات الاقتراح أو من سرعةِ العذاب؛ فليس إلينا، وإنَّما وظيفتُنا التي هي البلاغُ المبينُ قُمْنا بها وبيَّنَّاها لكم؛ فإنِ اهْتَدَيْتُم؛ فهو حظُّكم وتوفيقُكم، وإن ضَلَلْتُم؛ فليس لنا من الأمر شيءٌ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔