ترجمہ و تفسیر — سورۃ فاطر (35) — آیت 18

وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰی ؕ وَ اِنۡ تَدۡعُ مُثۡقَلَۃٌ اِلٰی حِمۡلِہَا لَا یُحۡمَلۡ مِنۡہُ شَیۡءٌ وَّ لَوۡ کَانَ ذَا قُرۡبٰی ؕ اِنَّمَا تُنۡذِرُ الَّذِیۡنَ یَخۡشَوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالۡغَیۡبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ ؕ وَ مَنۡ تَزَکّٰی فَاِنَّمَا یَتَزَکّٰی لِنَفۡسِہٖ ؕ وَ اِلَی اللّٰہِ الۡمَصِیۡرُ ﴿۱۸﴾
اور کوئی بوجھ اٹھانے والی (جان) کسی دوسری کا بوجھ نہیں اٹھائے گی اور اگر کوئی بوجھ سے لدی ہو ئی (جان) اپنے بوجھ کی طرف بلائے گی تو اس میں سے کچھ بھی نہ اٹھایا جائے گا، خواہ وہ قرابت دار ہو، تو تو صرف ان لوگوں کو ڈراتا ہے جو دیکھے بغیر اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو پاک ہوتا ہے تو وہ صرف اپنے لیے پاک ہوتا ہے اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ En
اور کوئی اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔ اور کوئی بوجھ میں دبا ہوا اپنا بوجھ بٹانے کو کسی کو بلائے تو کوئی اس میں سے کچھ نہ اٹھائے گا اگرچہ قرابت دار ہی ہو۔ (اے پیغمبر) تم انہی لوگوں کو نصیحت کرسکتے ہو جو بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے اور نماز بالالتزام پڑھتے ہیں۔ اور جو شخص پاک ہوتا ہے اپنے ہی لئے پاک ہوتا ہے۔ اور (سب کو) خدا ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے
En
کوئی بھی بوجھ اٹھانے واﻻ دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، اگر کوئی گراں بار دوسرے کو اپنا بوجھ اٹھانے کے لئے بلائے گا تو وه اس میں سے کچھ بھی نہ اٹھائے گا گو قرابت دار ہی ہو۔ تو صرف ان ہی کو آگاه کرسکتا ہے جو غائبانہ طور پر اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور نمازوں کی پابندی کرتے ہیں اور جو بھی پاک ہوجائے وه اپنے ہی نفع کے لئے پاک ہوگا۔ لوٹنا اللہ ہی کی طرف ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 18) ➊ { وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى:} اس آیت میں مشرکین کے اس غلط خیال کا رد فرمایا کہ قیامت کے دن کچھ لوگ ان کے گناہ اپنے ذمے لے کر انھیں چھڑا لیں گے، جیسا کہ نصرانیوں کا کہنا ہے کہ مسیح علیہ السلام ان کے گناہوں کی پاداش میں سولی پر چڑھ گئے اور بعض کلمہ گو حضرات کا کہنا ہے کہ حسین رضی اللہ عنہ کی محبت کی وجہ سے انھیں قیامت کے دن کوئی نہیں پوچھے گا، کیونکہ انھوں نے شہید ہو کر اپنے ساتھ محبت کرنے والوں کے گناہوں کا بوجھ خود اٹھا لیا ہے۔ آیت میں { وَازِرَةٌ } محذوف لفظ {نَفْسٌ} کی صفت ہے، جو مؤنث ہے، اس لیے صفت بھی مؤنث آئی ہے اور یہ لفظ اس لیے اختیار فرمایا کہ اس میں مرد عورتیں سب آ جاتے ہیں۔ یعنی کوئی بوجھ اٹھانے والی جان کسی دوسری جان کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔
➋ { وَ اِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا …:} یعنی نہ یہ ہوگا کہ کوئی اپنے آپ کسی کے گناہوں کا بوجھ اٹھا لے اور نہ یہ ہوگا کہ کسی کے پکارنے اور درخواست کرنے سے کوئی کسی کا بوجھ اٹھالے، بلکہ اگر کوئی قرابت دار اپنے قریبی رشتہ دار کو اس مقصد کے لیے بلائے گا، حتیٰ کہ باپ ہو یا بیٹا تو وہ بھی اس کے بوجھ سے ذرہ برابر اپنے ذمے نہیں لے گا۔ ہر ایک کو اپنی پڑی ہوگی اور ہر ایک دوسرے سے بھاگے گا۔ بلانے پر بھی بوجھ نہ اٹھانے کا ذکر الگ اس لیے فرمایا کہ عرب کے ہاں معروف تھا کہ جب کوئی تمھیں مدد کے لیے بلائے تو ہر صورت اس کی مدد کرو۔ فرمایا، وہاں بلانے پر بھی کوئی مدد نہیں کرے گا۔ دیکھیے سورۂ لقمان (۳۳) اور عبس (۳۳تا ۳۷) مزید دیکھیے سورۂ انعام (۱۶۴)، بنی اسرائیل (۱۵) اور عنکبوت (۱۲، ۱۳)۔
➌ { اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَيْبِ …:} اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی ہے کہ آپ ان لوگوں کے رویے سے دلبرداشتہ اور غم زدہ نہ ہوں جو آپ کی دعوت سن کر ایمان نہیں لاتے، کیونکہ آپ صرف ان لوگوں کو ڈرا سکتے ہیں جو اپنے رب کو دیکھے بغیر اس سے ڈرتے ہیں اور جب کوئی بھی نہیں دیکھ رہا ہوتا اس وقت بھی اس سے ڈرتے ہیں ({ بِالْغَيْبِ } کے دونوں معنی ہوسکتے ہیں) اور نماز قائم کرتے ہیں۔ مطلب یہ کہ آپ کے ڈرانے سے وہی لوگ فائدہ حاصل کر سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو دیکھے بغیر اس پر ایمان رکھتے، اس سے ڈرتے اور اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں اور جو ان دیکھے رب کو مانتا ہی نہیں اور ہٹ دھرمی اختیار کرتا ہے، اسے آپ کے ڈرانے سے کچھ حاصل نہ ہو گا، نہ آپ اس کے لیے فکر مند ہوں۔ دیکھیے سورۂ یٰس (۱۱) اور سورۂ قٓ (۴۵)۔
➍ {وَ مَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ:} یعنی آپ کی نصیحت سن کر جو شخص کفر و شرک اور فسق و فجور کی نجاست سے پاک ہوتا ہے، اس کا آپ پر یا اللہ تعالیٰ پر کچھ احسان نہیں، اس کے پاک ہونے کا فائدہ خود اسی کو ہے۔
➎ {وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ:} یعنی کفر و فسوق کی نجاست میں آلودہ رہنے کا یا اس سے پاک ہونے کا نتیجہ پوری طرح قیامت کے دن ظاہر ہوگا اور ضرور ظاہر ہو گا، کیونکہ سب کو دوبارہ اللہ ہی کی طرف واپس پلٹنا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

18۔ 1 ہاں جس نے دوسروں کو گمراہ کیا ہوگا، وہ اپنے گناہوں کے بوجھ کے ساتھ ان کے گناہوں کا بوجھ بی اٹھائے گا، جیسا کہ آیت (وَلَيَحْمِلُنَّ اَثْــقَالَهُمْ وَاَثْــقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ) 29۔ العنکبوت:13) واضح ہے لیکن یہ دوسروں کا بوجھ بھی درحقیقت ان کا اپنا ہی بوجھ کہ ان ہی نے ان دوسروں کو گمراہ کیا تھا۔ 18۔ 2 ایسا انسان جو گناہوں کے بوجھ سے لدا ہو ہوگا، وہ اپنا بوجھ اٹھانے کے لئے اپنے رشتہ دار کو بھی بلائے گا تو وہ آمادہ نہیں ہوگا۔ 18۔ 3 یعنی تیرے انذار و تبلیغ کا فائدہ انہی لوگوں کو ہوسکتا ہے تو یا تو انہی کو ڈراتا ہے ان کو نہیں جن کو انذار سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا (اِنَّمَآ اَنْتَ مُنْذِرُ مَنْ يَّخْشٰىهَا) 79۔ النازعات:45) 18۔ 4 تطھر کے معنی ہیں شرک اور فواحش کی آلودگیوں سے پاک ہونا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

18۔ اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کے (گناہوں کا) بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ اور اگر بوجھ [25] سے لدا ہوا شخص کسی دوسرے کو اٹھانے کے لئے بلائے گا بھی تو کوئی اس کے بوجھ کا کچھ بھی حصہ اٹھانے کو تیار نہ ہو گا اگرچہ وہ اس کا قرابت دار ہو۔ (اے نبی!) آپ تو صرف ان لوگوں کو ہی ڈرا سکتے ہیں جو بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں۔ اور جو شخص پاکیزگی [26] اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے ہی لئے اختیار کرتا ہے اور (سب کو) اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
[25] وزر کا لغوی مفہوم اور قانون جزاء و سزا:۔
وزر کا لفظ، بالخصوص گناہوں کے بوجھ کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اور اس کا ضابطہ یہ ہے کہ جو کرے گا، وہی بھرے گا۔ یہ نا ممکن ہے کہ کرے کوئی اور بھرے کوئی دوسرا یہ کہ اسے اتنی ہی سزا ملے گی جتنا اس نے گناہ کیا ہو گا اس سے زیادہ نہیں۔ البتہ اگر کوئی شخص ایسا گناہ کا کام رائج کر جائے جس پر بعد میں آنے والے لوگ عمل پیرا ہوں مثلاً کوئی شرکیہ عقیدہ یا کام یا کوئی بدعت رائج کر جائے تو حصہ رسدی کے طور پر اس کے اپنے گناہوں کے بوجھ میں اضافہ بھی ہوتا رہے گا۔ اور دوسری حقیقت یہ ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ اپنے ذمہ لینے کو تیار بھی نہ ہو گا۔ نہ باپ بیٹے کا گناہ اپنے سر مول لے گا اور نہ بیٹا باپ کا۔ ہر ایک کو اپنی اپنی ہی فکر لاحق ہو گی۔ کفار مکہ بعض مسلمانوں کو یہ بات کہا کرتے تھے کہ تم اپنے آبائی دین میں واپس آجاؤ۔ اگر کوئی عذاب و ثواب کی بات ہوئی بھی تو تمہارا بوجھ ہم اپنے ذمہ لے لیں گے۔ اور یہ بات وہ اس لحاظ سے کہتے تھے کہ وہ آخرت اور آخرت کی باز پرس کے قائل ہی نہ تھے۔ اس آیت میں ان لوگوں کے اس قول کا بھی جواب آگیا کہ یہ محض ان کے منہ کی باتیں ہیں۔ جب انہیں محاسبہ سے دوچار ہونا پڑا تو اس کے حواس ٹھکانے آجائیں گے۔
[26] یعنی ضدی اور ہٹ دھرم قسم کے لوگ آپ کے سمجھانے اور ڈرانے سے کبھی اپنا رویہ نہ بدلیں گے۔ نصیحت صرف اس شخص کے حق میں کارگر ہو سکتی ہے؟ جو بن دیکھے آخرت پر یقین رکھتا ہو اور اللہ کے حضور اپنے اعمال کی جواب دہی سے ڈرتا ہو۔ ایسے ہی لوگ نمازیں بھی قائم کرتے ہیں۔ اور اپنا طرز عمل پاکیزہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اس میں ان کا اپنا ہی بھلا ہے وہ اللہ پر کچھ احسان نہیں کرتے۔ اور یہ فائدہ اس وقت پوری طرح ظاہر ہو گا جب سب لوگ اللہ کے حضور پیش ہوں گے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس کے بعد آنے والی آیت کریمہ آخری معنیٰ پر دلالت کرتی ہے، یعنی ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى قیامت کے دن ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا اور کوئی شخص کسی دوسرے شخص کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ ﴿وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اگر کوئی نفس جس نے اپنے گناہوں کا بوجھ اٹھایا ہوا ہو گا اور وہ کسی سے بوجھ اٹھانے کے لیے التماس کرے گا۔ ﴿لَا یُحْمَلْ مِنْهُ شَیْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُ٘رْبٰى تو کوئی شخص بھی خواہ اس کارشتہ دار ہی کیوں نہ ہو اس کا بوجھ نہیں اٹھائے گا کیونکہ آخرت کے احوال دنیا کے احوال کی مانند نہیں ہیں جہاں دوست، دوست کی مدد کرتا ہے، بلکہ قیامت کے روز تو بندہ تمنا کرے گا کہ اس کا کسی کے ذمے حق ہو، خواہ اس کے والدین اور اقارب کے ذمے ہی کیوں نہ ہو۔
﴿اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ آپ تو صرف انھی لوگوں کو نصیحت کر سکتے ہیں جو بن دیکھے اپنے رب سے ڈرتے اور نماز قائم کرتے ہیں۔ یعنی یہی وہ لوگ ہیں جو انذار کو قبول کرتے ہیں اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جو کھلے چھپے اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جو نماز کو اس کی تمام حدود و شرائط، ارکان و واجبات اور پورے خشوع کے ساتھ قائم کرتے ہیں کیونکہ خشیت الٰہی بندے سے اس عمل کا تقاضا کرتی ہے جس کے ضیاع پر سزا کا خوف ہو اور ایسے عمل سے دور رہنے کا تقاضا کرتی ہے جس کے ارتکاب پر عذاب کا خوف ہو۔ نماز بھلائی کی طرف بلاتی ہے اور فواحش اور برے کاموں سے روکتی ہے۔
﴿وَمَنْ تَزَؔكّٰى فَاِنَّـمَا یَتَزَؔكّٰى لِنَفْسِهٖ یعنی جس کسی نے اپنے نفس کو عیوب، مثلاً: ریاء، تکبر، جھوٹ، دھوکہ، مکر وفریب، نفاق اور دیگر اخلاق رذیلہ سے پاک کیا اور اپنے آپ کو اخلاق حسنہ سے آراستہ کیا، مثلاً: صدق، اخلاص، تواضع و انکسار، بندوں کی خیر خواہی اور دل کو بغض حسد، کینے اور دیگر اخلاق رذیلہ سے پاک رکھا، تو اس کے تزکیۂ نفس کا فائدہ اسی کو حاصل ہو گا۔ اس کے عمل میں سے کوئی چیز ضائع نہیں ہو گی۔ ﴿وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ اور اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ پس وہ تمام خلائق کو ان کے اعمال کی جزا دے گا اور ان کے اعمال کا حساب لے گا اور کوئی چھوٹا یا بڑا عمل شمار کرنے سے نہیں چھوڑے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ويدلُّ على المعنى الأخير ما ذكره بعده في قوله: {ولا تزرُ وازرةٌ وِزْرَ أخرى}؛ أي: في يوم القيامةِ كلُّ أحدٍ يُجازى بعمله، ولا يحملُ أحدٌ ذنبَ أحدٍ. {وإن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ}؛ أي: نفسٌ مثقلةٌ بالخطايا والذنوب تستغيثُ بمن يحمل عنها بعضَ أوزارها، {لا يُحْمَلْ منه شيءٌ ولو كان ذا قُربى}: فإنَّه لا يَحْمِلُ عن قريبٍ، فليست حالُ الآخرة بمنزلةِ حال الدُّنيا يساعدُ الحميم حميمَه والصديقُ صديقَه، بل يوم القيامةِ يتمنَّى العبدُ أن يكونَ له حقٌّ على أحدٍ، ولو على والديه وأقاربه. {إنَّما تنذرُ الذين يَخْشَوْنَ ربَّهم بالغيب وأقاموا الصلاة}؛ أي: هؤلاء الذين يقبلون النذارةَ وينتفعون بها، أهلُ الخشية لله بالغيبِ. الذين يخشونَه في حال السرِّ والعلانية والمشهدِ والمغيبِ وأهل إقامةِ الصلاة بحدودِها وشروطِها وأركانها وواجباتها وخُشوعها؛ لأنَّ الخشيةَ لله تستدعي من العبدِ العملَ بما يخشى من تضييعِهِ العقاب والهربَ مما يخشى من ارتكابِهِ العذاب، والصلاة تدعو إلى الخير وتنهى عن الفحشاء والمنكر. {ومن تزكَّى فإنَّما يتزكَّى لنفسِهِ}؛ أي: ومن زكَّى نفسَه بالتنقِّي من العيوب كالرياء والكبر والكذبِ والغشِّ والمكرِ والخداع والنفاقِ ونحو ذلك من الأخلاق الرذيلة، وتحلَّى بالأخلاق الجميلة من الصدقِ والإخلاصِ والتواضُع ولين الجانب والنُّصح للعباد وسلامةِ الصدرِ من الحقدِ والحسدِ وغيرِهما من مساوئ الأخلاق؛ فإنَّ تزكِيَتَه يعود نفعُها إليه ويصلُ مقصودُها إليه، ليس يضيعُ من عملِهِ شيءٌ. {وإلى الله المصيرُ}: فيجازي الخلائقَ على ما أسْلَفوه، ويحاسِبُهم على ما قدَّموه وعَمِلوه، ولا يغادِرُ صغيرةً ولا كبيرةً إلاَّ أحصاها.