تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ اِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا …:} یعنی نہ یہ ہوگا کہ کوئی اپنے آپ کسی کے گناہوں کا بوجھ اٹھا لے اور نہ یہ ہوگا کہ کسی کے پکارنے اور درخواست کرنے سے کوئی کسی کا بوجھ اٹھالے، بلکہ اگر کوئی قرابت دار اپنے قریبی رشتہ دار کو اس مقصد کے لیے بلائے گا، حتیٰ کہ باپ ہو یا بیٹا تو وہ بھی اس کے بوجھ سے ذرہ برابر اپنے ذمے نہیں لے گا۔ ہر ایک کو اپنی پڑی ہوگی اور ہر ایک دوسرے سے بھاگے گا۔ بلانے پر بھی بوجھ نہ اٹھانے کا ذکر الگ اس لیے فرمایا کہ عرب کے ہاں معروف تھا کہ جب کوئی تمھیں مدد کے لیے بلائے تو ہر صورت اس کی مدد کرو۔ فرمایا، وہاں بلانے پر بھی کوئی مدد نہیں کرے گا۔ دیکھیے سورۂ لقمان (۳۳) اور عبس (۳۳تا ۳۷) مزید دیکھیے سورۂ انعام (۱۶۴)، بنی اسرائیل (۱۵) اور عنکبوت (۱۲، ۱۳)۔
➌ { اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَيْبِ …:} اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی ہے کہ آپ ان لوگوں کے رویے سے دلبرداشتہ اور غم زدہ نہ ہوں جو آپ کی دعوت سن کر ایمان نہیں لاتے، کیونکہ آپ صرف ان لوگوں کو ڈرا سکتے ہیں جو اپنے رب کو دیکھے بغیر اس سے ڈرتے ہیں اور جب کوئی بھی نہیں دیکھ رہا ہوتا اس وقت بھی اس سے ڈرتے ہیں ({” بِالْغَيْبِ “} کے دونوں معنی ہوسکتے ہیں) اور نماز قائم کرتے ہیں۔ مطلب یہ کہ آپ کے ڈرانے سے وہی لوگ فائدہ حاصل کر سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو دیکھے بغیر اس پر ایمان رکھتے، اس سے ڈرتے اور اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں اور جو ان دیکھے رب کو مانتا ہی نہیں اور ہٹ دھرمی اختیار کرتا ہے، اسے آپ کے ڈرانے سے کچھ حاصل نہ ہو گا، نہ آپ اس کے لیے فکر مند ہوں۔ دیکھیے سورۂ یٰس (۱۱) اور سورۂ قٓ (۴۵)۔
➍ {وَ مَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ:} یعنی آپ کی نصیحت سن کر جو شخص کفر و شرک اور فسق و فجور کی نجاست سے پاک ہوتا ہے، اس کا آپ پر یا اللہ تعالیٰ پر کچھ احسان نہیں، اس کے پاک ہونے کا فائدہ خود اسی کو ہے۔
➎ {وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ:} یعنی کفر و فسوق کی نجاست میں آلودہ رہنے کا یا اس سے پاک ہونے کا نتیجہ پوری طرح قیامت کے دن ظاہر ہوگا اور ضرور ظاہر ہو گا، کیونکہ سب کو دوبارہ اللہ ہی کی طرف واپس پلٹنا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[26] یعنی ضدی اور ہٹ دھرم قسم کے لوگ آپ کے سمجھانے اور ڈرانے سے کبھی اپنا رویہ نہ بدلیں گے۔ نصیحت صرف اس شخص کے حق میں کارگر ہو سکتی ہے؟ جو بن دیکھے آخرت پر یقین رکھتا ہو اور اللہ کے حضور اپنے اعمال کی جواب دہی سے ڈرتا ہو۔ ایسے ہی لوگ نمازیں بھی قائم کرتے ہیں۔ اور اپنا طرز عمل پاکیزہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اس میں ان کا اپنا ہی بھلا ہے وہ اللہ پر کچھ احسان نہیں کرتے۔ اور یہ فائدہ اس وقت پوری طرح ظاہر ہو گا جب سب لوگ اللہ کے حضور پیش ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ويدلُّ على المعنى الأخير ما ذكره بعده في قوله: {ولا تزرُ وازرةٌ وِزْرَ أخرى}؛ أي: في يوم القيامةِ كلُّ أحدٍ يُجازى بعمله، ولا يحملُ أحدٌ ذنبَ أحدٍ. {وإن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ}؛ أي: نفسٌ مثقلةٌ بالخطايا والذنوب تستغيثُ بمن يحمل عنها بعضَ أوزارها، {لا يُحْمَلْ منه شيءٌ ولو كان ذا قُربى}: فإنَّه لا يَحْمِلُ عن قريبٍ، فليست حالُ الآخرة بمنزلةِ حال الدُّنيا يساعدُ الحميم حميمَه والصديقُ صديقَه، بل يوم القيامةِ يتمنَّى العبدُ أن يكونَ له حقٌّ على أحدٍ، ولو على والديه وأقاربه. {إنَّما تنذرُ الذين يَخْشَوْنَ ربَّهم بالغيب وأقاموا الصلاة}؛ أي: هؤلاء الذين يقبلون النذارةَ وينتفعون بها، أهلُ الخشية لله بالغيبِ. الذين يخشونَه في حال السرِّ والعلانية والمشهدِ والمغيبِ وأهل إقامةِ الصلاة بحدودِها وشروطِها وأركانها وواجباتها وخُشوعها؛ لأنَّ الخشيةَ لله تستدعي من العبدِ العملَ بما يخشى من تضييعِهِ العقاب والهربَ مما يخشى من ارتكابِهِ العذاب، والصلاة تدعو إلى الخير وتنهى عن الفحشاء والمنكر. {ومن تزكَّى فإنَّما يتزكَّى لنفسِهِ}؛ أي: ومن زكَّى نفسَه بالتنقِّي من العيوب كالرياء والكبر والكذبِ والغشِّ والمكرِ والخداع والنفاقِ ونحو ذلك من الأخلاق الرذيلة، وتحلَّى بالأخلاق الجميلة من الصدقِ والإخلاصِ والتواضُع ولين الجانب والنُّصح للعباد وسلامةِ الصدرِ من الحقدِ والحسدِ وغيرِهما من مساوئ الأخلاق؛ فإنَّ تزكِيَتَه يعود نفعُها إليه ويصلُ مقصودُها إليه، ليس يضيعُ من عملِهِ شيءٌ. {وإلى الله المصيرُ}: فيجازي الخلائقَ على ما أسْلَفوه، ويحاسِبُهم على ما قدَّموه وعَمِلوه، ولا يغادِرُ صغيرةً ولا كبيرةً إلاَّ أحصاها.