اور کوئی بوجھ اٹھانے والی (جان) کسی دوسری کا بوجھ نہیں اٹھائے گی اور اگر کوئی بوجھ سے لدی ہو ئی (جان) اپنے بوجھ کی طرف بلائے گی تو اس میں سے کچھ بھی نہ اٹھایا جائے گا، خواہ وہ قرابت دار ہو، تو تو صرف ان لوگوں کو ڈراتا ہے جو دیکھے بغیر اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو پاک ہوتا ہے تو وہ صرف اپنے لیے پاک ہوتا ہے اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
En
اور کوئی اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔ اور کوئی بوجھ میں دبا ہوا اپنا بوجھ بٹانے کو کسی کو بلائے تو کوئی اس میں سے کچھ نہ اٹھائے گا اگرچہ قرابت دار ہی ہو۔ (اے پیغمبر) تم انہی لوگوں کو نصیحت کرسکتے ہو جو بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے اور نماز بالالتزام پڑھتے ہیں۔ اور جو شخص پاک ہوتا ہے اپنے ہی لئے پاک ہوتا ہے۔ اور (سب کو) خدا ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے
کوئی بھی بوجھ اٹھانے واﻻ دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، اگر کوئی گراں بار دوسرے کو اپنا بوجھ اٹھانے کے لئے بلائے گا تو وه اس میں سے کچھ بھی نہ اٹھائے گا گو قرابت دار ہی ہو۔ تو صرف ان ہی کو آگاه کرسکتا ہے جو غائبانہ طور پر اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور نمازوں کی پابندی کرتے ہیں اور جو بھی پاک ہوجائے وه اپنے ہی نفع کے لئے پاک ہوگا۔ لوٹنا اللہ ہی کی طرف ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس کے بعد آنے والی آیت کریمہ آخری معنیٰ پر دلالت کرتی ہے، یعنی ﴿وَلَاتَزِرُوَازِرَةٌوِّزْرَاُخْرٰى ﴾ قیامت کے دن ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا اور کوئی شخص کسی دوسرے شخص کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ ﴿وَاِنْتَدْعُمُثْقَلَةٌ ﴾ اگر کوئی نفس جس نے اپنے گناہوں کا بوجھ اٹھایا ہوا ہو گا اور وہ کسی سے بوجھ اٹھانے کے لیے التماس کرے گا۔ ﴿لَایُحْمَلْمِنْهُشَیْءٌوَّلَوْكَانَذَاقُ٘رْبٰى ﴾”تو کوئی شخص بھی خواہ اس کارشتہ دار ہی کیوں نہ ہو اس کا بوجھ نہیں اٹھائے گا“ کیونکہ آخرت کے احوال دنیا کے احوال کی مانند نہیں ہیں جہاں دوست، دوست کی مدد کرتا ہے، بلکہ قیامت کے روز تو بندہ تمنا کرے گا کہ اس کا کسی کے ذمے حق ہو، خواہ اس کے والدین اور اقارب کے ذمے ہی کیوں نہ ہو۔
﴿اِنَّمَاتُنْذِرُالَّذِیْنَیَخْشَوْنَرَبَّهُمْبِالْغَیْبِوَاَقَامُواالصَّلٰوةَ ﴾”آپ تو صرف انھی لوگوں کو نصیحت کر سکتے ہیں جو بن دیکھے اپنے رب سے ڈرتے اور نماز قائم کرتے ہیں۔“ یعنی یہی وہ لوگ ہیں جو انذار کو قبول کرتے ہیں اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جو کھلے چھپے اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جو نماز کو اس کی تمام حدود و شرائط، ارکان و واجبات اور پورے خشوع کے ساتھ قائم کرتے ہیں کیونکہ خشیت الٰہی بندے سے اس عمل کا تقاضا کرتی ہے جس کے ضیاع پر سزا کا خوف ہو اور ایسے عمل سے دور رہنے کا تقاضا کرتی ہے جس کے ارتکاب پر عذاب کا خوف ہو۔ نماز بھلائی کی طرف بلاتی ہے اور فواحش اور برے کاموں سے روکتی ہے۔
﴿وَمَنْتَزَؔكّٰىفَاِنَّـمَایَتَزَؔكّٰىلِنَفْسِهٖ﴾ یعنی جس کسی نے اپنے نفس کو عیوب، مثلاً: ریاء، تکبر، جھوٹ، دھوکہ، مکر وفریب، نفاق اور دیگر اخلاق رذیلہ سے پاک کیا اور اپنے آپ کو اخلاق حسنہ سے آراستہ کیا، مثلاً: صدق، اخلاص، تواضع و انکسار، بندوں کی خیر خواہی اور دل کو بغض حسد، کینے اور دیگر اخلاق رذیلہ سے پاک رکھا، تو اس کے تزکیۂ نفس کا فائدہ اسی کو حاصل ہو گا۔ اس کے عمل میں سے کوئی چیز ضائع نہیں ہو گی۔ ﴿وَاِلَىاللّٰهِالْمَصِیْرُ ﴾”اور اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔“ پس وہ تمام خلائق کو ان کے اعمال کی جزا دے گا اور ان کے اعمال کا حساب لے گا اور کوئی چھوٹا یا بڑا عمل شمار کرنے سے نہیں چھوڑے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ويدلُّ على المعنى الأخير ما ذكره بعده في قوله: {ولا تزرُ وازرةٌ وِزْرَ أخرى}؛ أي: في يوم القيامةِ كلُّ أحدٍ يُجازى بعمله، ولا يحملُ أحدٌ ذنبَ أحدٍ. {وإن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ}؛ أي: نفسٌ مثقلةٌ بالخطايا والذنوب تستغيثُ بمن يحمل عنها بعضَ أوزارها، {لا يُحْمَلْ منه شيءٌ ولو كان ذا قُربى}: فإنَّه لا يَحْمِلُ عن قريبٍ، فليست حالُ الآخرة بمنزلةِ حال الدُّنيا يساعدُ الحميم حميمَه والصديقُ صديقَه، بل يوم القيامةِ يتمنَّى العبدُ أن يكونَ له حقٌّ على أحدٍ، ولو على والديه وأقاربه. {إنَّما تنذرُ الذين يَخْشَوْنَ ربَّهم بالغيب وأقاموا الصلاة}؛ أي: هؤلاء الذين يقبلون النذارةَ وينتفعون بها، أهلُ الخشية لله بالغيبِ. الذين يخشونَه في حال السرِّ والعلانية والمشهدِ والمغيبِ وأهل إقامةِ الصلاة بحدودِها وشروطِها وأركانها وواجباتها وخُشوعها؛ لأنَّ الخشيةَ لله تستدعي من العبدِ العملَ بما يخشى من تضييعِهِ العقاب والهربَ مما يخشى من ارتكابِهِ العذاب، والصلاة تدعو إلى الخير وتنهى عن الفحشاء والمنكر. {ومن تزكَّى فإنَّما يتزكَّى لنفسِهِ}؛ أي: ومن زكَّى نفسَه بالتنقِّي من العيوب كالرياء والكبر والكذبِ والغشِّ والمكرِ والخداع والنفاقِ ونحو ذلك من الأخلاق الرذيلة، وتحلَّى بالأخلاق الجميلة من الصدقِ والإخلاصِ والتواضُع ولين الجانب والنُّصح للعباد وسلامةِ الصدرِ من الحقدِ والحسدِ وغيرِهما من مساوئ الأخلاق؛ فإنَّ تزكِيَتَه يعود نفعُها إليه ويصلُ مقصودُها إليه، ليس يضيعُ من عملِهِ شيءٌ. {وإلى الله المصيرُ}: فيجازي الخلائقَ على ما أسْلَفوه، ويحاسِبُهم على ما قدَّموه وعَمِلوه، ولا يغادِرُ صغيرةً ولا كبيرةً إلاَّ أحصاها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔