(آیت 19) { وَمَايَسْتَوِيالْاَعْمٰىوَالْبَصِيْرُ:} یہ کافر اور مومن کی مثال ہے کہ کافر اندھا ہے اور مومن آنکھوں والا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
19۔ نہ تو نابینا اور بینا [27] برابر ہو سکتے ہیں
[27] بینا اور نابینا کون لوگ ہیں؟
یعنی ایک شخص اس طرح دل کا اندھا بنا ہوا ہے کہ کائنات میں ہر سو اللہ تعالیٰ کی بکھری ہوئی نشانیوں میں غور کرنا بھی گوارا نہیں کرتا۔ دوسرا شخص انہی نشانیوں کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی توحید کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے اور عجائبات قدرت میں غور کرنے کے بعد اس کا دل اللہ تعالیٰ کی محبت سے سرشار ہو جاتا ہے اور بے اختیار اللہ کی حمد و ثنا اس کی زبان پر آ جاتی ہے۔ تو کیا یہ دونوں ایک جیسے ہو سکتے ہیں؟ یا ایک شخص جہالت کی تاریکیوں میں مسلسل آگے بڑھتا جا رہا ہے اور دوسرا علم کی روشنی میں محتاط رہ کر اپنا سفر زندگی جاری رکھتا ہے کیا یہ دونوں ایک جیسے ہیں؟ ظاہر ہے کہ یہ دونوں اپنے اپنے طرز زندگی کے لحاظ سے ایک دوسرے کی ضد ہیں تو ان کا انجام بھی ایک دوسرے کے برعکس ہی ہونا چاہئے یعنی جس طرح ٹھنڈی چھاؤں اور چلچلاتی دھوپ ایک دوسرے کی ضد ہیں اسی طرح علم کی روشنی میں سفر کرنے والے کو ٹھنڈی چھاؤں والی اور دوسری نعمتوں والی جنت نصیب ہو گی۔ اور جہالت کے اندھیروں میں آگے بڑھنے والا یک لخت جہنم کے کنارے جا پہنچے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ایک موازنہ ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ مومن و کفار برابر نہیں۔ جس طرح اندھا اور دیکھتا۔ اندھیرا اور روشنی، سایہ اور دھوپ، زندہ اور مردہ برابر نہیں۔ جس طرح ان چیزوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے اسی طرح ایماندار اور بے ایمان میں بھی بے انتہا فرق ہے۔ مومن آنکھوں والے اجالے، سائے اور زندہ کی مانند ہے۔ برخلاف اس کے کافر اندھے اندھیرے اور بھرپور لو والی گرمی کی مانند ہے۔ جیسے فرمایا «اَوَمَنْكَانَمَيْتًافَاَحْيَيْنٰهُوَجَعَلْنَالَهٗنُوْرًايَّمْشِيْبِهٖفِيالنَّاسِكَمَنْمَّثَلُهٗفِيالظُّلُمٰتِلَيْسَبِخَارِجٍمِّنْهَا ۭ كَذٰلِكَزُيِّنَلِلْكٰفِرِيْنَمَاكَانُوْايَعْمَلُوْنَ»۱؎[6-الأنعام:122]، یعنی جو مردہ تھا پھر اسے ہم نے زندہ کر دیا اور اسے نور دیا جسے لیے ہوئے لوگوں میں چل پھر رہا ہے ایسا شخص اور وہ شخص جو اندھیروں میں گھرا ہوا ہے جن سے نکل ہی نہیں سکتا کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ اور آیت میں ہے «مَثَلُالْفَرِيْقَيْنِكَالْاَعْمٰىوَالْاَصَمِّوَالْبَصِيْرِوَالسَّمِيْعِ ۭ هَلْيَسْتَوِيٰنِمَثَلًا ۭ اَفَلَاتَذَكَّرُوْنَ» ۱؎[11-هود:24]، یعنی ان دونوں جماعتوں کی مثال اندھے بہرے اور دیکھنے اور سننے والوں کی سی ہے۔ مومن تو آنکھوں اور کانوں والا اجالے اور نور والا ہے پھر راہ مستقیم پر ہے۔ جو صحیح طور پر سایوں اور نہروں والی جنت میں پہنچے گا اور اس کے برعکس کافر اندھا بہرا اور اندھیروں میں پھنسا ہوا ہے جن سے نکل ہی نہ سکے گا اور ٹھیک جہنم میں پہنچے گا۔ جو تند و تیز حرارت اور گرمی والی آگ کا مخزن ہے۔ اللہ جسے چاہے سنا دے یعنی اس طرح سننے کی توفیق دے کہ دل سن کر قبول بھی کرتا جائے۔ تو قبر والوں کو نہیں سنا سکتا۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک وتعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ حکمت الٰہی اور اس نے اپنے بندوں کو جو فطرت عطا کی ہے، ان کے لحاظ سے اضداد برابر نہیں ہوتیں، فرمایا: ﴿وَمَایَسْتَوِیالْاَعْمٰى ﴾”اور نہیں ہے برابر اندھا“ جس کی بینائی نہیں ﴿وَالْبَصِیْرُۙ۰۰وَلَاالظُّلُمٰتُوَلَاالنُّوْرُۙ۰۰وَلَاالظِّلُّوَلَاالْحَرُوْرُۚ۰۰وَمَایَسْتَوِیالْاَحْیَآءُوَلَاالْاَمْوَاتُ﴾”اور دیکھنے والا، نہ اندھیرے اور روشنی، نہ سایہ اور دھوپ (برابر ہیں) اور نہ زندے اور مردے یکساں ہوتے ہیں۔“ جیسا کہ تمھارے نزدیک بھی یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت اور کسی شک و شبہے سے پاک ہے کہ مذکورہ بالا تمام چیزیں برابر نہیں ہیں، تب تمھیں یہ حقیقت بھی معلوم ہونی چاہیے کہ معنوی طور پر متضاد اشیاء میں عدم مساوات زیادہ اولیٰ ہے۔
پس مومن اور کافر برابر نہیں ہیں، نہ ہدایت یافتہ اور گمراہ برابر ہیں، نہ عالم اور جاہل برابر ہیں، نہ اہل جنت اور اہل جہنم برابر ہیں، نہ زندہ دل اور مردہ دل برابر ہیں۔ ان مذکورہ اشیاء کے درمیان اتنا فرق اور اس قدر تفاوت ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
جب تمام اشیاء کے مراتب معلوم ہو گئے اور ان کے درمیان امتیاز واقع ہو گیا اور وہ اشیاء اپنی اضداد میں سے واضح ہو گئیں جن کے حصول کے لیے کوشش کرنی چاہیے، تو ایک دوراندیش اور عقل مند شخص کو اپنے لیے وہی چیز منتخب کرنی چاہیے جو بہتر اور ترجیح دیے جانے کی مستحق ہے۔
﴿اِنَّاللّٰهَیُسْمِعُمَنْیَّشَآءُ ﴾”اللہ جس کو چاہتا ہے سنوادیتا ہے۔“ یعنی جسے چاہتا ہے فہم و قبول کی سماعت عطا کرتا ہے کیونکہ وہی راہ دکھانے والا اور توفیق عطا کرنے والا ہے۔ ﴿وَمَاۤاَنْتَبِمُسْمِعٍمَّنْفِیالْقُبُوْرِ ﴾”اور آپ ان کو جو قبروں میں پڑے ہیں نہیں سنا سکتے۔“ یعنی جن کے دل مردہ ہو چکے ہیں آپ ان کو نہیں سنا سکتے، جس طرح آپ کا قبر کے مردوں کو بلانا ان کو کوئی فائدہ نہیں دیتا، اسی طرح اعراض کرنے والے معاند کو بھی آپ کا بلانا کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ آپ کا کام صرف ڈرانااور ان تک اس حکم کو پہنچا دینا ہے جس کے ساتھ آپ کو بھیجا گیا ہے، خواہ وہ اس کو قبول کریں یا نہ کریں۔ ﴿اِنْاَنْتَاِلَّانَذِیْرٌ﴾”آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں۔ “
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى أنَّه لا يتساوى الأضدادُ في حكمة الله وفيما أوْدَعَه في فِطَرِ عباده، فلا {يستوي الأعمى}: فاقد البصر {والبصيرُ. ولا الظلماتُ ولا النورُ. ولا الظِّلُّ ولا الحَرورُ. وما يستوي الأحياءُ ولا الأمواتُ}؛ فكما أنه من المتقرِّر عندكم الذي لا يَقْبَلُ الشكَّ أنَّ هذه المذكورات لا تتساوى؛ فكذلك فَلْتَعْلَموا أنَّ عدمَ تساوي المتضادَّاتِ المعنويَّةِ أولى وأولى؛ فلا يستوي المؤمنُ والكافرُ، ولا المهتدي والضالُّ، ولا العالم والجاهل، ولا أصحابُ الجنة وأصحابُ النار، ولا أحياءُ القلوبِ وأمواتُها؛ فبين هذه الأشياء من التفاوتِ والفَرْقِ ما لا يعلمُه إلاَّ الله تعالى. فإذا علمتَ المراتبَ وميَّزْتَ الأشياء وبان الذي ينبغي أن يُتَنافَسَ في تحصيله من ضدِّه؛ فليخترِ الحازمُ لنفسه ما هو أولى به وأحقُّ بالإيثار. {إنَّ الله يُسْمِعُ مَن يشاءُ}: سماع فَهْم وقَبول؛ لأنَّه تعالى هو الهادي الموفِّق. {وما أنتَ بمسمعٍ مَن في القبورِ}؛ أي: أمواتُ القلوب، أو: كما أنَّ دعاءَك لا يفيدُ سكانَ القبورِ شيئاً، كذلك لا يفيدُ المعرِضَ المعاندَ شيئاً، ولكنَّ وظيفتَكَ النذارةُ وإبلاغُ ما أرسلتَ به؛ قُبِلَ منك أم لا، ولهذا قال: {إنْ أنتَ إلا نذيرٌ}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔