ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأحزاب (33) — آیت 50

یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَحۡلَلۡنَا لَکَ اَزۡوَاجَکَ الّٰتِیۡۤ اٰتَیۡتَ اُجُوۡرَہُنَّ وَ مَا مَلَکَتۡ یَمِیۡنُکَ مِمَّاۤ اَفَآءَ اللّٰہُ عَلَیۡکَ وَ بَنٰتِ عَمِّکَ وَ بَنٰتِ عَمّٰتِکَ وَ بَنٰتِ خَالِکَ وَ بَنٰتِ خٰلٰتِکَ الّٰتِیۡ ہَاجَرۡنَ مَعَکَ ۫ وَ امۡرَاَۃً مُّؤۡمِنَۃً اِنۡ وَّہَبَتۡ نَفۡسَہَا لِلنَّبِیِّ اِنۡ اَرَادَ النَّبِیُّ اَنۡ یَّسۡتَنۡکِحَہَا ٭ خَالِصَۃً لَّکَ مِنۡ دُوۡنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ؕ قَدۡ عَلِمۡنَا مَا فَرَضۡنَا عَلَیۡہِمۡ فِیۡۤ اَزۡوَاجِہِمۡ وَ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُہُمۡ لِکَیۡلَا یَکُوۡنَ عَلَیۡکَ حَرَجٌ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۵۰﴾
اے نبی! بے شک ہم نے تیرے لیے تیری بیویاں حلال کر دیں جن کا تو نے مہر دیا ہے اور وہ عورتیں جن کا مالک تیرا دایاں ہاتھ بنا ہے، اس (غنیمت) میں سے جو اللہ تجھ پر لوٹا کر لایا ہے اور تیرے چچا کی بیٹیاں اور تیری پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تیرے ماموں کی بیٹیاں اور تیری خالاؤں کی بیٹیاں، جنھوں نے تیرے ساتھ ہجرت کی ہے اور کوئی بھی مومن عورت اگر وہ اپنا آپ نبی کو ہبہ کر دے، اگر نبی چاہے کہ اسے نکاح میں لے لے۔ یہ خاص تیرے لیے ہے، مومنوں کے لیے نہیں۔ بے شک ہم نے جان لیا جو ہم نے ان پر ان کی بیویوں اور ان عورتوں کے بارے میں فرض کیا جن کے مالک ان کے دائیں ہاتھ بنے ہیں، تاکہ تجھ پر کوئی تنگی نہ ہو اور اللہ ہمیشہ سے بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ En
اے پیغمبر ہم نے تمہارے لئے تمہاری بیویاں جن کو تم نے ان کے مہر دے دیئے ہیں حلال کردی ہیں اور تمہاری لونڈیاں جو خدا نے تم کو (کفار سے بطور مال غنیمت) دلوائی ہیں اور تمہارے چچا کی بیٹیاں اور تمہاری پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تمہارے ماموؤں کی بیٹیاں اور تمہاری خالاؤں کی بیٹیاں جو تمہارے ساتھ وطن چھوڑ کر آئی ہیں (سب حلال ہیں) اور کوئی مومن عورت اگر اپنے تئیں پیغمبر کو بخش دے (یعنی مہر لینے کے بغیر نکاح میں آنا چاہے) بشرطیکہ پیغمبر بھی ان سے نکاح کرنا چاہیں (وہ بھی حلال ہے لیکن) یہ اجازت (اے محمدﷺ) خاص تم ہی کو ہے سب مسلمانوں کو نہیں۔ ہم نے ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں جو (مہر واجب الادا) مقرر کردیا ہے ہم کو معلوم ہے (یہ) اس لئے (کیا گیا ہے) کہ تم پر کسی طرح کی تنگی نہ رہے۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے
En
اے نبی! ہم نے تیرے لئے تیری وه بیویاں حلال کر دی ہیں جنہوں تو ان کا مہر دے چکا ہے اور وه لونڈیاں بھی جو اللہ تعالیٰ نے غنیمت میں تجھے دی ہیں اور تیرے چچا کی لڑکیاں اور پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تیرے ماموں کی بیٹیاں اور تیری خاﻻؤں کی بیٹیاں بھی جنہوں نے تیرے ساتھ ہجرت کی ہے، اور وه باایمان عورت جو اپنا نفس نبی کو ہبہ کردے یہ اس صورت میں کہ خود نبی بھی اس سے نکاح کرنا چاہے، یہ خاص طور پر صرف تیرے لئے ہی ہے اور مومنوں کے لئے نہیں، ہم اسے بخوبی جانتے ہیں جو ہم نے ان پر ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں (احکام) مقرر کر رکھے ہیں، یہ اس لئے کہ تجھ پر حرج واقع نہ ہو، اللہ تعالیٰ بہت بخشنے اور بڑے رحم واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 50) ➊ { يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِنَّاۤ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ …:} اس آیت میں ان لوگوں کے اعتراض کا جواب ہے جو کہتے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے لوگوں کے لیے چار سے زیادہ بیویاں ممنوع قرار دیتے ہیں تو خود انھوں نے چار سے زیادہ شادیاں کیسے کر لیں؟ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب یہ دیا کہ اے نبی! ہم نے آپ کے لیے آپ کی وہ تمام بیویاں حلال کی ہیں جن کا آپ نے مہر دیا ہے۔ مراد وہ بیویاں ہیں جو آیت کے نزول کے وقت آپ کے نکاح میں تھیں۔ مطلب یہ کہ عام مسلمانوں کے لیے چار کی قید لگانے والے ہم ہیں اور آپ کے لیے اس شرط کو ختم کرنے والے بھی ہم ہیں۔ جن عورتوں سے آپ نے نکاح فرمایا ان کی تعداد گیارہ تھی، جن میں سے نو بیویاں آپ کی وفات کے وقت زندہ تھیں۔ دو بیویاں خدیجہ اور زینب بنت خزیمہ ام المساکین رضی اللہ عنھما وفات پا چکی تھیں۔ ان کے علاوہ چند عورتوں کے متعلق اختلاف ہے کہ آپ کا ان سے عقد نکاح ہوا یا نہیں، مگر اس پر اتفاق ہے کہ وہ رخصت ہوکر آپ کے گھر نہیں آئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت یہ نو امہات المومنین حیات تھیں: (1) عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنھما (2) سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنھا (3) حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنھما (4) ام سلمہ بنت ابی امیہ رضی اللہ عنھا (5) زینب بنت جحش رضی اللہ عنھا (6) جویریہ بنت الحارث رضی اللہ عنھا (7) ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنھما (8) صفیہ بنت حُیی رضی اللہ عنھا (9) اور میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنھا۔
➋ ابن کثیر لکھتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام بیویوں کا مہر ساڑھے بارہ اوقیہ تھا، جو پانچ سو درہم ہوتے ہیں۔ ہاں ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنھما کا مہر نجاشی رحمہ اللہ نے اپنے پاس سے چار سو دینار دیا تھا۔ صفیہ رضی اللہ عنھا کا مہر انھیں آزاد کرنا تھا، وہ خیبر کے قیدیوں میں سے تھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں آزاد کر دیا اور اسی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا اور نکاح کر لیا۔ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنھا بنو المصطلق سے گرفتار ہو کر آئی تھیں، انھوں نے ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ سے جتنی رقم پر مکاتبت کی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اتنی رقم ادا کر کے ان سے عقد کر لیا تھا۔ (ابن کثیر)
➌ { وَ مَا مَلَكَتْ يَمِيْنُكَ مِمَّاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلَيْكَ: أَفَاءَ يُفِيْءُ} کا معنی لوٹا کر لانا ہے۔ فے عموماً ان اموال کو کہا جاتا ہے جو جنگ کے بغیر دشمن سے حاصل ہوں۔ بعض اوقات جنگ کے ساتھ ملنے والی غنیمت کو بھی فے کہہ لیتے ہیں۔ ان اموال کو فے اس لیے کہتے ہیں کہ دنیا کے تمام اموال حقیقت میں مسلمان کی ملکیت ہیں جو عارضی طور پر کفار کے قبضے میں ہیں، جب مسلمان انھیں حاصل کرتے ہیں تو وہ اپنا ہی مال واپس لیتے ہیں۔ ان عورتوں کے آپ کے لیے حلال کرنے کے ذکر کے بعد جن کے ساتھ آپ نے مہر دے کر نکاح کیا تھا، تین قسم کی عورتیں حلال کرنے کا ذکر فرمایا۔ ان میں سے پہلی قسم لونڈیاں ہیں، جو بطور فے آپ کو حاصل ہوئیں اور آپ نے لونڈی کی حیثیت سے ان سے فائدہ اٹھایا۔ یہ ماریہ قبطیہ تھیں، جنھیں مقوقس مصر نے آپ کے لیے بطور ہدیہ بھیجا تھا۔ اس لیے وہ فے کے حکم میں تھیں، ان سے آپ کے بیٹے ابراہیم پیدا ہوئے۔ { مِمَّاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلَيْكَ } کا یہ معنی نہیں کہ جو لونڈیاں بطور فے آپ کے پاس نہ آئیں وہ آپ کے لیے حلال نہیں، بلکہ سراری (لونڈیوں) کی تو آپ کے لیے اور آپ کی امت کے لیے عام اجازت ہے۔ (قرطبی)
➍ { وَ بَنٰتِ عَمِّكَ وَ بَنٰتِ عَمّٰتِكَ …:} پہلی بیویوں کے بعد آپ کے لیے حلال کی جانے والی عورتوں کی یہ دوسری قسم ہے، یعنی وہ عورتیں جو باپ یا ماں کی طرف سے آپ کی قریبی رشتہ دار ہیں اور انھوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی ہے۔ ان کے ساتھ نکاح آپ کے لیے حلال ہے۔ یہ تفسیر اس لیے کی گئی ہے کہ آپ کے ماموں یا خالہ کی کوئی بیٹی تھی ہی نہیں۔ آپ کی والدہ کے خاندان بنو زہرہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماموں کہا جاتا تھا۔
➎ { وَ امْرَاَةً مُّؤْمِنَةً اِنْ وَّهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ …:} یہ تیسری قسم ہے، یعنی مندرجہ بالا عورتوں کے علاوہ کوئی مومن عورت اگر اپنا آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کر دے، یعنی مہر کے بغیر نکاح میں دینے کی پیش کش کرے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے نکاح کرنا چاہیں تو آپ کے لیے ولی اور مہر کے بغیر اس سے نکاح حلال ہے۔ ثابت بنانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے انس رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، وہ اپنے آپ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پیش کر رہی تھی، تو انس رضی اللہ عنہ کی بیٹی نے کہا: اس کی حیا کتنی کم تھی؟ تو انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ تجھ سے بہتر تھی، اس نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پیش کیا تھا۔ [بخاري، الأدب، باب ما لا یستحیا من الحق للتفقہ في الدین: ۶۱۲۳]
➏ { خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ:} یعنی یہ اجازت صرف آپ کے ساتھ خاص ہے، دوسرے مسلمانوں کے لیے وہی حکم ہے جو سورۂ نساء (۲۴) میں فرمایا: «اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ» ‏‏‏‏ یعنی بن مہر نکاح جائز نہیں۔ (موضح) اسی طرح چار سے زیادہ بیویوں کی اجازت صرف آپ کے لیے ہے، دوسرے مسلمانوں کے لیے نہیں۔
➐ { قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَيْهِمْ فِيْۤ اَزْوَاجِهِمْ وَ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُمْ:} یعنی عام مسلمانوں کو نکاح کے لیے جن شرائط کا پابند کیا گیا ہے، ان کاپابند رہنا ان کے لیے ضروری ہے اور وہ یہ کہ مہر، ولی اور گواہوں کے بغیر نکاح کرنا جائز نہیں، اس کے علاوہ وہ ایک وقت میں چار سے زیادہ عورتیں نکاح میں نہیں رکھ سکتے۔ یہ مسائل سورۂ نساء (۳، ۴ اور ۲۴، ۲۵) میں گزر چکے ہیں۔
➑ { لِكَيْلَا يَكُوْنَ عَلَيْكَ حَرَجٌ:} یعنی دعوت دین کی مصلحت کے لیے آپ کو ایک وقت میں چار سے زیادہ عورتوں کے ساتھ نکاح کی اجازت اس لیے دی گئی ہے کہ آپ پر زیادہ نکاح کرنے میں کوئی تنگی نہ رہے۔ کیونکہ بہت سی مصلحتوں کی وجہ سے آپ کو زیادہ نکاح کرنے ہوں گے۔ اہلِ علم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے ہر ایک کے ساتھ نکاح میں جو مصلحتیں مدنظر تھیں ان کا تفصیل کے ساتھ ذکر فرمایا ہے اور اسلام کے مخالفین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تعددِ ازواج پر جو جو اعتراض کرتے ہیں ان کا مدلل جواب دیا ہے۔ اس مقصد کے لیے مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ کی تصنیف مقدس رسول لاجواب کتاب ہے۔ الرحیق المختوم میں بھی یہ مصلحتیں اختصار کے ساتھ بیان کی گئی ہیں۔
➒ { وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا:} یعنی ہم نے رفع حرج کے لیے آپ کو جو اجازتیں عطا فرمائی ہیں ان کا باعث ہماری مغفرت و رحمت کی صفت ہے۔ (ابن عاشور)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

50۔ 1 بعض احکام شرعیہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو امتیاز حاصل تھا جنہیں آپ کی خصوصیات کہا جاتا ہے مثلا اہل علم کی ایک جماعت کے بقول قیام اللیل (تہجد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فرض تھا صدقہ آپ پر حرام تھا، اسی طرح کی بعض خصوصیات کا ذکر قرآن کریم کے اس مقام پر کیا گیا ہے جن کا تعلق نکاح سے ہے جن عورتوں کو آپ نے مہر دیا ہے وہ حلال ہیں چاہے تعداد میں وہ کتنی ہی ہوں اور آپ نے حضرت صفیہ ؓ اور جویریہ ؓ کا مہر ان کی آزادی کو قرار دیا تھا ان کے علاوہ بصورت نقد سب کو مہر ادا کیا تھا صرف ام حبیبہ ؓ کا مہر نجاشی نے اپنے طرف سے دیا تھا۔ 50۔ 2 چناچہ حضرت صفیہ ؓ اور جویریہ ملکیت میں آئیں جنہیں آپ نے آزاد کر کے نکاح کرلیا اور رحانہ اور ماریہ قبطیہ ؓ یہ بطور لونڈی آپ کے پاس رہیں۔ 50۔ 3 اس کا مطلب ہے جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کی اسی طرح انہوں نے بھی مکہ سے مدینہ ہجرت کی۔ کیونکہ آپ کے ساتھ تو کسی عورت نے بھی ہجرت نہیں کی تھی۔ 50۔ 4 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا آپ ہبہ کرنے والی عورت، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے نکاح کرنا پسند فرمائیں تو بغیر مہر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اس اپنے نکاح میں رکھنا جائز ہے۔ 50۔ 5 یہ اجازت صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہے (دیگر مومنوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ حق مہر ادا کریں، تب نکاح جائز ہوگا۔ 50۔ 6 یعنی عقد کے جو شرائط اور حقوق ہیں جو ہم نے فرض کئے ہیں کہ مثلا چار سے زیادہ عورتیں بیک وقت کوئی شخص اپنے نکاح میں نہیں رکھ سکتا، نکاح کے لئے ولی، گواہ اور حق مہر ضروری ہے۔ البتہ لونڈیاں جتنی کوئی چاہے، رکھ سکتا ہے، تاہم آجکل لونڈیوں کا مسئلہ تو ختم ہے۔ 50۔ 7 اس کا تعلق اِ نَّا اَ حْلَلْنَا سے ہے یعنی مذکورہ تمام عورتوں کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اجازت اس لئے ہے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی تنگی محسوس نہ ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کسی کے نکاح میں گناہ نہ سمجھیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

50۔ اے نبی! ہم نے آپ پر آپ کی وہ بیویاں حلال کر دی ہیں جن کے حق مہر آپ ادا کر چکے ہیں اور وہ کنیزیں بھی جو آپکے قبضہ میں ہیں جو اللہ نے آپ کو غنیمت کے مال سے دی ہیں۔ نیز آپ کے چچا، پھوپھیوں [78]، ماموں اور خالاؤں کی بیٹیاں بھی جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہے۔ نیز وہ مسلمان عورت بھی جو اپنے آپ کو نبی کے لئے ہبہ کر دے اور نبی اس کو نکاح میں لینا چاہے یہ رعایت صرف آپ [79] کے لئے ہے دوسرے مسلمانوں کو نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم نے مومنوں پر ان کی بیویوں اور مقبوضہ کنیزوں کے بارے میں کیا فرض [80] کیا ہے۔ (اور آپ کو یہ رعایت اس لئے ہے) کہ آپ پر کوئی تنگی نہ رہے اور اللہ معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہے
[78] آپ کو چار سے زائد بیویوں کی خصوصی اجازت اور اس کی وجہ :۔
یہ دراصل ایک اعتراض کا جواب ہے۔ سیدنا زینب بنت جحش جن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے حکم سے نکاح کیا تھا یا جن کا نکاح سات آسمانوں پر ہوا تھا آپ کی پانچویں بیوی تھیں۔ اس سے پہلے چار بیویاں سیدہ عائشہؓ بنت ابی بکر، سیدہ سودہ بنت زمعۃؓ، سیدہ حفصہؓ بنت عمر اور سیدہ ام سلمہؓ موجود تھیں۔ اور عام مومنوں کے لئے چار بیویوں سے زائد کا جواز نہیں تھا۔ اس آیت کی رو سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس عام قاعدہ سے مستثنیٰ کر دیا۔ یہ اعتراض کافروں کی طرف سے تو یقیناً تھا تاہم مسلمانوں کو بھی اس کا خیال آسکتا تھا۔ لہٰذا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ وضاحت فرما دی کہ عام مومنوں کے لئے چار تک بیویوں کے جواز کا قانون بھی ہمارا ہی قانون ہے۔ اور نبی سے ہم جو کچھ کام لینا چاہتے ہیں اور جو ذمہ داریاں اس پر عائد ہوتی ہیں اس کی بنا پر ہم ہی نبی کے لئے اس عام قانون میں استثناء کرنے والے ہیں۔ نیز اس آیت کی رو سے اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مزید بھی تین قسم کی عورتوں سے نکاح کرنے کی اجازت فرما دی۔ پہلی قسم وہ عورتیں جو مال غنیمت کے طور پر آپ کی ملکیت میں آئیں۔ دوسری آپ کے چچاؤں، پھوپھیوں، ماموؤں اور خالاؤں کی بیٹیاں جو ہجرت کر کے مدینہ آچکی ہوں۔ اور سیدہ زینب بنت جحش ایسی ہی تھیں۔ تیسری قسم وہ عورتیں جو از خود اپنے آپ کو آپ سے نکاح کے لئے پیش کریں اور اگر اپنا نفس ہبہ کرنے والی کوئی عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند آجائے تو اس کا حق مہر کچھ نہیں ہو گا۔ نہ گواہوں کی ضرورت ہو گی اور نہ اس عورت کے ولی کی رضا کی۔ بس عورت کا اپنا نفس ہبہ کر دینا ہی نکاح سمجھا جائے گا۔ اس سلسلہ میں درج ذیل دو احادیث ملاحظہ فرما لیجئے۔
کون کون سی عورت نبیﷺ کی بیوی بن سکتی ہے؟
1۔ ام ہانیؓ (ابوطالب کی بیٹی اور آپ کی چچا زاد بہن) کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نکاح کا پیغام دیا مگر میں نے معذرت کر دی (کہ میرے چھوٹے چھوٹے رونے پیٹنے والے بچے ہیں) آپ نے میرا عذر قبول فرما لیا۔ پھر جب یہ آیت نازل ہوئی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں تو آپ پر حلال بھی نہیں کیونکہ میں نے ہجرت نہیں کی تھی اور فتح مکہ کے بعد اسلام لانے والوں سے تھی۔ [ترمذي كتاب التفسير]
سیدہ عائشہ کا تبصرہ :۔
2۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ مجھے ان عورتوں پر غیرت آئی تھی جو اپنے تئیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بخش دیتی تھیں میں کہتی، بھلا یہ کیا بات ہوئی کہ کوئی عورت اپنے تئیں بخش دے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی تو میں نے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے) کہا: ”میں تو یہ دیکھ رہی ہوں کہ جیسی آپ کی خواہش ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پروردگار فوراً ویسا ہی حکم دیتا ہے“ [بخاري۔ كتاب التفسير]
[79] خصائص انبیاء :۔
اس رعایت کا تعلق قریبی مضمون سے بھی ہو سکتا ہے اور سارے مضمون سے بھی۔ قریبی مضمون سے ہو تو مطلب یہ ہو گا کہ اگر کوئی عورت آپ کے لئے اپنا نفس ہبہ کرے تو آپ کو حق مہر نہیں دینا ہو گا۔ نہ گواہوں کی ضرورت ہے اور نہ ولی کی اجازت کی۔ اور سارے مضمون سے جوڑا جائے تو مطلب یہ ہو گا کہ چار سے زائد بیویوں کی اجازت صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے دوسرے مسلمانوں کو نہیں ہے۔ نبی کی چونکہ ذمہ داریاں عام مسلمانوں سے زیادہ ہوتی ہیں پھر ان کا عز و شرف بھی زیادہ ہوتا ہے۔ اس لئے شریعت کے کئی احکام و ارشادات ایسے ہیں جو عام مسلمانوں سے الگ ہیں۔ پھر ان کی بھی دو قسمیں ہیں۔ ایک تو ایسے امور ہیں جو تمام انبیاء سے مختص ہیں اور انھیں ہم خصائص انبیاء کہہ سکتے ہیں اور وہ درج ذیل ہیں:
1۔ نبی کا خواب بھی وحی ہوتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ میں صلح حدیبیہ سے پیشتر عمرہ کرنے کا خواب آیا تھا۔ [48: 27]
یا سیدنا ابراہیمؑ کو سیدنا اسماعیلؑ کو ذبح کرنے کا خواب آیا تھا۔ [37: 102]
2۔ انبیاء کا ترکہ وارثوں میں تقسیم نہیں ہوتا بلکہ وہ صدقہ ہوتا ہے جیسا کہ سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارا (پیغمبروں کا) کوئی وارث نہیں ہوتا۔ ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے“ [مسلم۔ کتاب الجہاد و السیر۔ باب حکم الفئی]
اور ابوہریرہؓ کی دوسری روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے وارث ایک دینار بھی بانٹ نہیں سکتے۔ میری بیویوں کے خرچ اور میرے عامل کی اجرت کے بعد جو کچھ میں چھوڑ جاؤں وہ صدقہ ہے۔ [مسلم۔ حواله ايضاً]
3۔ انبیاء کے اجسام کو مٹی نہیں کھاتی۔ اوس بن اوس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے دنوں میں سب سے افضل جمعہ کا دن ہے۔ اسی دن آدم پیدا کئے گئے، اسی دن فوت ہوئے۔ اسی دن صور پھونکا جائے گا اور اسی میں نفخہ ہے۔ اس دن مجھ پر زیادہ درود بھیجو کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارا درود آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کیسے پیش کیا جاتا ہے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہڈیاں پرانی ہو چکی ہوں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیاء کے جسموں کو کھانا حرام کر دیا ہے“ [ابو داؤد۔ نسائی۔ ابن ماجہ۔ دارمی۔ بیہقی فی دعوات الکبیر۔ بحوالہ مشکوٰۃ۔ کتاب الصلوٰۃ۔ باب الجمعۃ۔ فصل ثانی]
اس کا یہ مطلب نہیں کہ انبیاء کے علاوہ سب لوگوں کے مردہ اجسام کو مٹی کھا جاتی ہے۔ بلکہ یہ ہے کہ انبیاء کے اجسام کو تو بہرحال نہیں کھاتی اور امت میں سے بھی ایسے لوگ ہو سکتے ہیں جنہیں مدت دراز تک مٹی نہ کھائے۔ البتہ عام قاعدہ یہی ہے کہ مردہ اجسام کو زمین کھا جاتی ہے۔
4۔ موت سے پہلے اختیار۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں سنا کرتی تھی کہ کوئی پیغمبر اس وقت تک نہیں مرتا جب تک اس کو یہ اختیار نہیں دیا جاتا کہ دنیا اختیار کرے یا آخرت۔ پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مرض الموت میں سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اچھو ہوا اور فرمانے لگے۔ یا اللہ! ان لوگوں کے ساتھ جن پر تو نے انعام کیا آخر آیت تک۔ اس وقت میں سمجھ گئی کہ آپ کو وہ اختیار مل گیا۔ [بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم ووفاتہ]
5۔ ہر نبی کو مرنے سے پہلے جنت میں ٹھکانا دکھا دیا جاتا ہے۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تندرست تھے تو فرماتے تھے کہ کوئی پیغمبر اس وقت تک نہیں مرا جب تک اس کو بہشت میں اس کا مقام دکھا نہیں دیا جاتا۔ پھر اسے اختیار دیا جاتا ہے زندہ رہے چاہے آخرت اختیار کرے۔ [بخاري۔ حواله ايضاً]
6۔ سیدنا انس بن مالکؓ معراج کا قصہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں اس کے بعد آپ نے ان فرشتوں کو دوسری رات دیکھا۔ جیسے آپ دل سے دیکھا کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں سوتی تھیں اور دل نہیں سوتا تھا اور سب پیغمبروں کا یہی حال ہے کہ ان کی آنکھیں سوتی ہیں مگر دل نہیں سوتا۔ [بخاری۔ کتاب المناقب۔ باب کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم تنام عینہ ولا ینام قلبہ۔۔]
7۔ نبی جس مقام پر فوت ہو اسی مقام اور جگہ پر دفن ہوتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد یہ معاملہ زیر بحث آیا کہ آپ کو کہاں دفن کیا جائے؟ اور اس تکرار کا اسی حکم کے مطابق ہی فیصلہ ہوا اور آپ کو سیدہ عائشہؓ کے گھر میں دفن کیا گیا۔ اور استقصاء کرنے سے ان امور میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
خصائص النبیﷺ:۔
اور دوسری قسم وہ ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے احکام الگ ہیں اور آپ کی امت کے الگ۔ ایسے امور کو ہم خصائص النبی صلی اللہ علیہ وسلم کہہ سکتے ہیں اور وہ درج ذیل ہیں۔
1۔ امتی کے لئے زیادہ سے زیادہ چار بیویاں جائز ہیں۔ جبکہ آپ کو چار سے زائد بیویوں کی خصوصی اجازت دی گئی جیسا کہ اسی حاشیہ کی ابتدا میں ذکر ہو چکا ہے۔
2۔ آپ پر بیویوں کا حق مہر اور نان و نفقہ واجب نہیں تھا۔ تفصیل اسی سورۃ کے حاشیہ نمبر 80 میں دیکھئے۔
3۔ بیویوں کی باری کے سلسلہ میں بھی آپ سے یہ پابندی اٹھا لی گئی۔ تفصیل اسی سورۃ کے حاشیہ نمبر 81 میں دیکھئے۔
4۔ آپ پر نماز تہجد فرض تھی جبکہ امت کے لئے اس کی حیثیت سنت موکدہ کی ہے۔ تفصیل سورۃ بنی اسرائیل کے حاشیہ 98، 99 میں دیکھئے۔
وصلی روزوں کی ممانعت :۔
5۔ آپ خود وصلی روزے رکھتے ہیں لیکن امت کو وصلی روزے سے منع فرمایا۔ چنانچہ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو وصلی روزے رکھنے سے، ان پر رحم کی بنا پر منع فرمایا (یعنی روزہ پر روزہ رکھنے سے جن کے درمیان افطار نہ کیا جائے) صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ تو وصل کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ میری صورت حال تمہارے جیسی نہیں ہے۔ مجھے تو میرا پروردگار کھلا اور پلا دیتا ہے۔ [مسلم۔ كتاب الصيام۔ باب النهي عن الوصال، بخاري۔ كتاب التمني۔ باب مايجوز من اللَّو۔۔۔]
بُو دار اشیاء کے استعمال سے متعلق حکم :۔
6۔ لہسن یا بو والی چیزوں کا حکم۔ جابر بن عبد اللہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ جو شخص لہسن یا پیاز (کچی) کھائے وہ ہم سے الگ رہے یا یوں فرمایا کہ ہماری مسجد سے الگ رہے اور اپنے گھر میں بیٹھا رہے (جب تک اس کے منہ میں بو رہے) نیز جابرؓ نے کہا کہ بدر کے مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے طباق لایا گیا جس میں کچھ سبزی ترکاری تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں بو محسوس ہوئی۔ آپ نے اس کے متعلق پوچھا تو لوگوں نے بتایا کہ اس میں فلاں فلاں ترکاری ہے۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں کھایا اور) فرمایا کہ اسے فلاں صحابی (ابو ایوب انصاری) کے پاس لے جاؤ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے۔ ابو ایوب انصاری نے جب یہ معاملہ دیکھا تو انہوں نے بھی اسے کھانے میں کراہت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں فرمایا: تم کھا لو۔ کیونکہ میں تو ان (فرشتوں) سے سرگوشی کرتا ہوں جن سے تم نہیں کرتے۔ [بخاری۔ کتاب الاعتصام۔ باب الاحکام التی تعرف بالدلائل۔۔]
7۔ آپ نے صدقہ کے متعلق امت کو حکم دیا کہ افضل الصدقۃ ما کان عن ظھر غنی یعنی بہتر صدقہ وہ ہے کہ صدقہ کرنے کے بعد انسان خود محتاج نہ ہو جائے۔ [بخاری۔ کتاب النفقات۔ باب وجوب النفقۃ علی الاہل والعیال]
لیکن آپ خود قرض اٹھا کر بھی صدقہ کر دیا کرتے تھے۔ حتیٰ کہ زکوٰۃ جو آپ پر بھی فرض تھی، اس کے ادا کرنے کا کبھی موقعہ ہی نہ آیا۔
8۔ آپ اور آپ کے اہل خانہ کوئی نیکی کا کام کریں تو دگنا اجر اور نافرمانی پر دگنی سزا قرآن سے ثابت ہے۔ حتیٰ کہ آپ کو بخار بھی دوگنی شدت سے چڑھتا تھا۔ چنانچہ عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ میں آپ کے ہاں گیا۔ آپ کا جسم بخار سے جل رہا تھا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کو بخار بہت سخت آیا ہے۔ فرمایا: مجھ پر اتنی سخت تپ آتی ہے جیسے تم میں دو آدمیوں کی تپ ملائی جائے۔ میں نے عرض کیا آپ کو اجر بھی دوگنا ملے گا۔ فرمایا: ہاں! پھر فرمایا: جس شخص کو کوئی تکلیف بیماری وغیرہ ہو اللہ اس کے گناہ ایسے جھاڑ دیتا ہے جیسے درخت (موسم خزاں میں) اپنے پتے جھاڑ دیتا ہے۔ [بخاری۔ کتاب المرضیٰ۔ باب وضع الید علی المریض]
9۔ آپ کی وفات کے بعد کوئی شخص آپ کی بیویوں سے نکاح نہیں کر سکتا۔ کیونکہ وہ مسلمانوں کی مائیں ہیں اور یہ اعزاز صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج سے مخصوص ہے کوئی امتی اس اعزاز میں شریک نہیں ہو سکتا۔ کیا نکاح کا مقصد صرف جنسی خواہش کی تکمیل یا حصول اولاد ہی ہے؟ یہاں ایک شبہ کا ازالہ ضروری ہے۔ عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ نکاح کا مقصد شہوت رانی یا زیادہ سے زیادہ اولاد کا حصول ہے۔ یہ نظریہ کسی حد تک درست ہے مگر انتہائی تنگ نظری پر مبنی ہے۔ کسی حد تک ہم نے اس لئے کہا ہے کہ نکاح سے شریعت کا اصل مقصد معاشرہ کو فحاشی اور بے حیائی سے پاک و صاف رکھنا ہے۔ اسی لئے شریعت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ بلوغت کے بعد کوئی مرد یا عورت بے زوج نہ رہے۔ اگر زوج فوت ہو جائے یا شوہر طلاق دے دے تو ہر ایک کے لئے مستحب یہی ہے کہ وہ نکاح کر لے۔ (ملاحظہ ہو سورۃ نور کی آیت نمبر 32 کا حاشیہ) حالانکہ جو انی کے انحطاط کے بعد انسان کی شہوت میں معتدبہ حد تک کمی واقع ہو جاتی ہے اور اگر اولاد ہو تو اسے اللہ کی قدرت ہی سمجھا جاتا ہے۔ بڑھاپے میں اولاد کا ہونا کوئی عادی امر نہیں ہے۔ البتہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اصل مقصد یعنی معاشرہ کی پاکیزگی کا ایک ثمرہ اولاد کا حصول بھی ہے۔ جو کبھی حاصل ہوتا ہے کبھی نہیں ہوتا۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ زوجین کے بالغ اور بظاہر صحت مند ہونے کے باوجود ان کے ہاں ساری عمر اولاد نہیں ہوتی۔ اور صرف اولاد کے حصول کو تنگ نظری پر محمول ہم نے اس لئے کہا ہے کہ نکاح سے اور کئی مقاصد اور فوائد حاصل کئے جا سکتے ہیں مثلاً نکاح کا دوسرا مقصد قریبی رشتہ داروں میں قرابت کے تعلق کو برقرار رکھنا اور مودت بڑھانا ہے۔ تیسرا مقصد دینی اخوت کا قیام اور اس میں اضافہ ہے چوتھا مقصد کئی طرح کے دینی، سیاسی، معاشی فوائد کا حصول ہے اور بعض دفعہ ایسے مقاصد حصول اولاد سے بھی زیادہ اہمیت اختیار کر جاتے ہیں آپ ذرا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر نظر ڈالئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے نکاح کئے؟ کس عمر میں کئے؟ کس قسم کی عورتوں سے کئے اور کن کن مقاصد کے تحت کئے تو یہ حقیقت از خود منکشف ہو جائے گی کہ نکاح کا مقصد صرف جنسی خواہشات کی تکمیل یا حصول اولاد ہی نہیں ہوتا بلکہ اس سے بلند تر مقاصد بھی حاصل ہو سکتے ہیں۔
آپ نے کتنی شادیاں کی اور کن کن اغراض کے تحت کیں :۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پہلا نکاح 25 سال کی عمر میں سیدہ خدیجہؓ سے ہوا جو اس وقت چالیس سال کی تھیں اور ان کو پہلے دو مرتبہ طلاق ہو چکی تھی۔ ان کی وفات 10 نبوی میں ہوئی جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر پچاس سال تھی۔ ماسوائے سیدنا ابراہیم کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری اولاد سیدہ خدیجہؓ ہی کے بطن سے پیدا ہوئی۔ یعنی جوانی کا پورا زمانہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہؓ ایک ہی بیوی کے ساتھ گزارا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ سودہ بنت زمعہؓ سے نکاح کیا جو ایک بوڑھی، بھاری بھر کم اور مطلقہ عورت تھیں اور اس نکاح سے آپ کا مقصد اولاد کی تربیت تھی۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نبوت کی ذمہ داریوں کی وجہ سے اولاد کی تربیت پر توجہ نہیں دے سکتے تھے۔ سیدنا ابو بکر صدیقؓ اور سیدنا عمرؓ کی بیٹیوں سے آپ نے نکاح اس غرض سے کیا کہ یہ شیخین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا و آخرت میں رفیق اور وزیر ہیں۔ اور تعلقات میں مزید محبت اور خوشگواری پیدا کرنے کے لئے آپ نے یہ نکاح کئے تھے۔ یہ بھی ملحوظ رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری بیویوں میں سے سیدہ عائشہؓ ہی کنواری تھیں جن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کیا باقی سب بیویاں مطلقہ تھیں یا بیوہ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ذمہ داری یہ بھی تھی کہ قبائلی جاہلی نظام اور اس کی عصبیت کو ختم کر کے اسلامی نظام قائم کریں۔ اور سابقہ عداوتوں کو ختم کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ سے نکاح کیا جو اس خاندان کی بیٹی تھی جس سے ابو جہل اور خالد بن ولیدؓ کا تعلق تھا۔ سیدہ ام حبیبہؓ ابو سفیان کی بیٹی تھیں۔ ان شادیوں نے بڑی حد تک ان خاندانوں کی دشمنی کا زور توڑ دیا۔ سیدہ صفیہؓ، سیدہ جویریہؓ اور ریحانہؓ یہودی خاندانوں سے تعلق رکھتی تھیں۔ انھیں آزاد کر کے جب آپ نے ان سے نکاح کئے تو یہود کی معاندانہ سرگرمیاں ٹھنڈی پڑ گئیں۔ کیونکہ عرب روایات کے مطابق کسی شخص کا داماد اس شخص کے پورے قبیلے کا داماد سمجھا جاتا تھا۔ اور اس سے لڑنا یا عداوت رکھنا بڑے عار کی بات تھی۔ پھر آپ کی نبوت کا ایک مقصد جاہلانہ رسوم کا قلع قمع بھی تھا۔ سیدہ زینب بنت جحش سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی مقصد کے تحت نکاح کیا تھا۔ پھر ہر خاندان اور ہر عمر کی عورتوں سے نکاح کا ایک اہم مقصد دینی تعلیم بھی تھا۔ شریعت کے احکام کے کئی گوشے ایسے بھی ہیں جو صرف عورتیں ہی عورتوں کو سمجھا سکتی ہیں یا صرف بیویاں ہی اپنے شوہر کے اوصاف و خصائل اور ان کی پرائیویٹ زندگی امت کو بتا سکتی ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں سے چند ایک فقیہ بھی تھیں حتیٰ کہ بڑے بڑے صحابہؓ آپ سے مسائل پوچھنے آتے تھے یہ تھے وہ مقاصد جن کی تکمیل کے لئے اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تعدد ازواج پر پابندی نہیں لگائی اور فرما دیا کہ ایسے مقاصد کی تکمیل میں آپ پر تعدد ازواج کی پابندی کہیں تنگی اور رکاوٹ کا سبب نہ بن جائے۔
[80] آپ پر حق مہر یا نان و نفقہ واجب نہیں تھا :۔
عام مسلمانوں پر اپنی بیویوں کو حق مہر ادا کرنا بھی واجب ہے اور نان و نفقہ کی ادائیگی بھی۔ اگر کوئی عورت اپنا نفس ہبہ کرے تب بھی اس سے حق مہر ساقط نہیں ہو گا۔ اور نبی پر اپنی بیویوں کا نان و نفقہ اس طرح واجب نہیں جس طرح عام مسلمانوں پر ہے۔ بلکہ نبی جو کچھ اور جتنا کچھ اپنی بیویوں کو دے یا دے سکے اس پر انھیں صابر و شاکر رہنا ہو گا جیسا کہ پہلے واقعہ ایلاء میں وضاحت سے گزر چکا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

حق مہر اور بصورت علیحدگی کے احکامات ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرما رہا ہے کہ ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جن بیویوں کو مہر ادا کیا ہے وہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حلال ہیں ‘۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات کا مہر ساڑھے بارہ اوقیہ تھا جس کے پانچ سو درہم ہوتے ہیں۔ ہاں ام المؤمنین حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا کا مہر نجاشی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے پاس سے چار سو دینار دیا تھا۔ اور اسی طرح ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کا مہر صرف ان کی آزادی تھی۔ خیبر کے قیدیوں میں آپ رضی اللہ عنہا بھی تھیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر دیا اور اور اسی آزادی کو مہر قرار دیا اور نکاح کر لیا، اور ام المؤمنین سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا بنت حارث مصطلقیہ نے جتنی رقم پر مکاتبہ کیا تھا وہ پوری رقم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کو ادا کر کے ان سے عقد باندھا تھا۔ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات پر اپنی رضا مندی نازل فرمائے۔
اسی طرح جو لونڈیاں غنیمت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبضے میں آئیں وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حلال ہیں۔ صفیہ رضی اللہ عنہا اور جویریہ رضی اللہ عنہا کے مالک آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہوگئے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر کے ان سے نکاح کر لیا۔ ریحانہ بنت شمعون نصریہ اور ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملکیت میں آئی تھیں۔ ماریہ رضی اللہ عنہا سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرزند بھی ہوا۔ جن کا نام ابراہیم رضی اللہ عنہ تھا۔
چونکہ نکاح کے بارے میں نصرانیوں نے افراط اور یہودیوں نے تفریط سے کام لیا تھا اس لیے اس عدل و انصاف والی سہل اور صاف شریعت نے درمیانہ راہ حق کو ظاہر کر دیا۔ نصرانی تو سات پشتوں تک جس عورت مرد کا نسب نہ ملتا ہو، ان کا نکاح جائز جانتے تھے اور یہودی بہن اور بھائی کی لڑکی سے بھی نکاح کر لیتے تھے۔ پس اسلام نے بھانجی بھتیجی سے نکاح کرنے کو روکا۔ اور چچا کی لڑکی پھوپھی کی لڑکی ماموں کی لڑکی اور خالہ کی لڑکی سے نکاح کو مباح قرار دیا۔
اس آیت کے الفاظ کی خوبی پر نظر ڈالئے کہ عم اور خال چچا اور ماموں کے لفظ کو تو واحد لائے اور عمات اور خلات یعنی پھوپھی اور خالہ کے لفظ کو جمع لائے۔ جس میں مردوں کی ایک قسم کی فضیلت عورتوں پر ثابت ہو رہی ہے۔
جیسے «اللَّـهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ» ۱؎ [2-البقرة:257]‏‏‏‏ اور جیسے «وَجَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَالنُّوْرَ» ۱؎ [6-الأنعام:1]‏‏‏‏ یہاں بھی چونکہ ظلمات اور نور یعنی اندھیرے اور اجالے کا ذکر تھا اور اجالے کو اندھیرے پر فضیلت ہے اس لیے وہ لفظ ظلمات جمع لائے، اور لفظ نور مفرد لائے، اس کی اور بھی بہت سی نظیریں دی جا سکتی ہیں۔
پھر فرمایا ’ جنہوں نے تیرے ساتھ ہجرت کی ہے ‘۔ سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مانگا آیا تو میں نے اپنی معذوری ظاہر کی جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تسلیم کر لیا، اور یہ آیت اتری میں ہجرت کرنے والیوں میں نہ تھی بلکہ فتح مکہ کے بعد ایمان لانے والیوں میں تھی۔‏‏‏‏ ۱؎ [سنن ترمذي:3214، قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
مفسرین نے بھی یہی کہا ہے کہ مراد ہے کہ جنہوں نے مدینے کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی ہو۔ قتادہ رحمہ اللہ سے ایک روایت میں اس سے مراد اسلام لانا بھی مروی ہے۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «وَاللَّاتِي هَاجَرْنَ مَعَكَ» ہے۔ پھر فرمایا ’ اور وہ مومنہ عورت جو اپنا نفس اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہبہ کر دے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس سے نکاح کرنا چاہیں، تو بغیر مہر دیے اسے نکاح میں لا سکتے ہیں ‘۔ پس یہ حکم دو شرطوں کے ساتھ ہے جیسے آیت «وَلَا يَنْفَعُكُمْ نُصْحِيْٓ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَكُمْ اِنْ كَان اللّٰهُ يُرِيْدُ اَنْ يُّغْوِيَكُمْ هُوَ رَبُّكُمْ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» [11-ھود:34]‏‏‏‏ میں۔ یعنی ’ نوح علیہ السلام اپنی قوم سے فرماتے ہیں اگر میں تمہیں نصیحت کرنا چاہوں اور اگر اللہ تمہیں اس نصیحت سے مفید کرنا نہ چاہے تو میری نصیحت تمہیں کوئی نفع نہیں دے سکتی ‘۔
اور جیسے موسیٰ علیہ السلام کے اس فرمان میں «يَا قَوْمِ إِنْ كُنْتُمْ آمَنْتُمْ بِاللَّهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُوا إِنْ كُنْتُمْ مُسْلِمِينَ» ۱؎ [10-یونس:84]‏‏‏‏ یعنی ’ اے میری قوم اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو، اور اگر تم مسلمان ہو گئے ہو تو تمہیں اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیئے ‘۔
پس جیسے ان آیتوں میں دو دو شرائط ہیں اسی طرح اس آیت میں بھی دو شرائط ہیں۔ ایک تو اس کا اپنا نفس ہبہ کرنا دوسرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی اسے اپنے نکاح میں لانے کا ارادہ کرنا۔
مسند احمد میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی اور کہا کہ میں اپنا نفس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہبہ کرتی ہوں۔ پھر وہ دیر تک کھڑی رہیں۔ تو ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے نکاح کا ارادہ نہ رکھتے ہوں تو میرے نکاح میں دے دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تمہارے پاس کچھ ہے؟ جو انہیں مہر میں دیں؟ } جواب دیا کہ اس تہمد کی سوا اور کچھ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ اگر تم انہیں دے دو گے تو خود بغیر تہمد کے رہ جاؤ گے کچھ اور تلاش کرو }۔ اس نے کہا میں اور کچھ نہیں پاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تلاش تو کرو گو لوہے کی انگوٹھی ہی مل جائے }۔ انہوں نے ہر چند دیکھ بھال کی لیکن کچھ نہ پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { قرآن کی کچھ سورتیں بھی تمہیں یاد ہیں؟ } اس نے کہا فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بس انہی سورتوں پر میں نے انہیں تمہارے نکاح میں دیا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2310]‏‏‏‏ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے۔
{ سیدنا انس رضی اللہ عنہ جب یہ واقعہ بیان کرنے لگے تو ان کی صاحبزادی بھی سن رہی تھیں۔ کہنے لگیں اس عورت میں بہت ہی کم حیاء تھی۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم سے وہ بہتر تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی رغبت کر رہی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنا نفس پیش کر رہی تھیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5120]‏‏‏‏
مسند احمد میں ہے کہ { ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور اپنی بیٹی کی بہت سی تعریفیں کرکے کہنے لگیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم میری مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے نکاح کرلیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرما لیا اور وہ پھر بھی تعریف کرتی رہیں۔ یہاں تک کہ کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نہ وہ کبھی وہ بیمار پڑیں نہ سر میں درد ہوا یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { پھر مجھے اس کی کوئی حاجت نہیں } }۔ ۱؎ [مسند احمد:155/3:ضعیف]‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ { اپنے نفس کو ہبہ کرنے والی بیوی صاحبہ سیدہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا تھیں }۔ ۱؎ [بیهقی فی السنن الکبری:55/7]‏‏‏‏
اور روایت میں ہے یہ قبلہ بنو سلیم میں سے تھیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23/22:]‏‏‏‏ اور روایت میں ہے یہ بڑی نیک بخت عورت تھیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:23/22:]‏‏‏‏ ممکن ہے ام سلیم ہی خولہ ہوں رضی اللہ عنہا۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ دوسری کوئی عورت ہوں۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرہ عورتوں سے نکاح کیا جن میں سے چھ تو قریشی تھیں۔ خدیجہ، عائشہ، حفصہ، ام حبیبہ، سودہ و ام سلمہ رضی اللہ عنہن اجمعین اور تین بنو عامر بن صعصعہ کے قبیلے میں سے تھیں اور دو عورتیں قبیلہ بنوہلال بن عامر میں سے تھیں اور میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا، یہی وہ ہیں جنہوں نے اپنا نفس رسول اللہ کوہبہ کیا تھا اور زینب رضی اللہ عنہا جن کی کنیت ام المساکین تھی۔ اور ایک عورت بنو ابی بکرین کلاب سے۔ یہ وہی ہے جس نے دنیا کو اختیار کیا تھا اور بنو جون میں سے ایک عورت جس نے پناہ طلب کی تھی، اور ایک عورت اسدیہ جن کا نام زینب بنت جحش ہے رضی اللہ عنہا۔ دو کنزیں تھیں۔ صفیہ بنت حی بن اخطب اور جویریہ بنت حارث بن عمرو بن مصطلق خزاعیہ }۔ ۱؎ [ابن ابی شیبة:270/5:مرسل و ضعیف]‏‏‏‏
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اپنے نفس کو ہبہ کرنے والی عورت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا تھیں لیکن اس میں انقطاع ہے۔ اور یہ روایت مرسل ہے۔ یہ مشہور بات ہے کہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا جن کی کنیت ام المساکین تھی، یہ زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا تھیں، فبیلہ انصار میں سے تھیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں ہی انتقال کر گئیں۔ رضی اللہ عنہا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ عورتیں جنہوں نے اپنے نفس کا اختیار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا تھا۔
چنانچہ صحیح بخاری شریف میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ { میں ان عورتوں پر غیرت کیا کرتی تھی جو اپنا نفس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کر دیتی تھیں اور مجھے بڑا تعجب معلوم ہوتا تھا کہ عورتیں اپنا نفس ہبہ کرتی ہیں۔ جب یہ آیت اتری کہ «تُرْجِيْ مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَ تُـــــْٔوِيْٓ اِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَنْ تَقَرَّ اَعْيُنُهُنَّ وَلَا يَحْزَنَّ وَيَرْضَيْنَ بِمَآ اٰتَيْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ مَا فِيْ قُلُوْبِكُمْ وَكَان اللّٰهُ عَلِــيْمًا حَلِــيْمًا» ۱؎ [33-الأحزاب:51]‏‏‏‏، ’ تو ان میں سے جسے چاہے اس سے نہ کر اور جسے چاہے اپنے پاس جگہ دے اور جن سے تو نے یکسوئی کر لی ہے انہیں بھی اگر تم لے آؤ تو تم پر کوئی حرج نہیں ‘۔ تو میں نے کہا بس اب تو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر خوب وسعت و کشادگی کردی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1464]‏‏‏‏
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { کوئی عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہ تھی جس نے اپنا نفس آپ کو ہبہ کیا ہو }۔
یونس بن بکیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں گو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ مباح تھا کہ جو عورت اپنے تئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سونپ دے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنے گھر میں رکھ لیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا نہیں۔ کیونکہ یہ امر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی پر رکھا گیا تھا۔ یہ بات کسی اور کے لیے جائز نہیں ہاں مہر ادا کر دے تو بیشک جائز ہے۔‏‏‏‏
چنانچہ بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے بارے میں جنہوں نے اپنا نفس سونپ دیا تھا جب ان کے شوہر انتقال کر گئے تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فیصلہ کیا تھا کہ ان کے خاندان کی اور عورتوں کے مثل انہیں مہر دیا جائے۔ جس طرح موت مہر کو مقرر کر دیتی ہے اسی طرح صرف دخول سے بھی مہر واجب ہو جاتا ہے۔ ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس حکم سے مستثنیٰ تھے۔ ایسی عورتوں کو کچھ دینا آپ پر واجب نہ تھا گو اسے شرف بھی حاصل ہو چکا ہو۔ اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بغیر مہر کے اور بغیر ولی کے اور بغیر گواہوں کے نکاح کر لینے کا اختیار تھا جیسا کہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے قصے میں ہے۔
حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کسی عورت کو یہ جائز نہیں کہ اپنے آپ کو بغیر ولی اور بغیر مہر کے کسی کے نکاح میں دیدے۔ ہاں صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ تھا۔‏‏‏‏
’ اور مومنوں پر جو ہم نے مقرر کر دیا ہے اسے ہم خوب جانتے ہیں ‘ یعنی وہ چار سے زیادہ بیویاں ایک ساتھ رکھ نہیں سکتے۔ ہاں ان کے علاوہ لونڈیاں رکھ سکتے ہیں۔ اور ان کی کوئی تعداد مقرر نہیں۔
اسی طرح ولی کی مہر کی گواہوں کی بھی شرط ہے۔ پس امت کا تو یہ حکم ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کی پابندیاں نہیں۔ تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی حرج نہ ہو۔ اللہ بڑا غفور ورحیم ہے۔