تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ:” اَقْسَطُ “} اسم تفضیل کا صیغہ ہے۔ یہاں ایک سوال ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ منہ بولا بیٹا بنانے والے کی طرف باپ ہونے کی نسبت کرنا بھی قسط (انصاف) ہے، ہاں، اصل باپ کی طرف نسبت زیادہ انصاف ہے۔ اس کا جواب شعراوی نے یہ دیا ہے کہ زید رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام ہوتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے باپ پر ترجیح دے کر آپ کے پاس رہنا پسند کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں بیٹے جیسی سعادت دیکھ کر اسے بیٹا بنا لیا، تو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شرف کو ملحوظ رکھتے ہوئے ناراضی کا اظہار نہیں فرمایا۔ ہاں، اصل باپ کی طرف نسبت کو {” اَقْسَطُ “} کہہ کر دوسرے کی طرف نسبت سے منع فرما دیا، کیونکہ حق یہی ہے اور اللہ تعالیٰ حق بات ہی فرماتا ہے۔
➌ {فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْۤا اٰبَآءَهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ وَ مَوَالِيْكُمْ: ”مَوَالِيْ“ ”مَوْلٰي“} کی جمع ہے، یہاں اس سے مراد دوست ہیں۔ یعنی اگر ان کے باپ معلوم نہ ہوں تو وہ دین میں تمھارے بھائی اور دوست ہیں۔ کسی کی طرف نسبت کے بجائے انھیں {”يَا أَخِيْ، يَا مَوْلَايَ“} (اے میرے بھائی، اے میرے دوست) کہہ کر پکارو۔
➍ { وَ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيْمَاۤ اَخْطَاْتُمْ بِهٖ …:} یعنی ممانعت سے پہلے تم منہ بولے بیٹوں کو ان کے پرورش کرنے والوں کا بیٹا کہتے رہے، یا کسی کو علم نہ ہونے کی وجہ سے کسی دوسرے کا بیٹا کہہ دیا، یا بلا ارادہ زبان سے کسی دوسرے کا بیٹا کہہ بیٹھے تو اس میں کوئی گناہ نہیں۔ گناہ تو اس میں ہے کہ ممانعت کے بعد دیدہ و دانستہ کسی کو اس کے باپ کے سوا دوسرے کا بیٹا کہو۔ تمھاری خطا پر گناہ اس لیے نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ اس نے خطا اور نسیان کو معاف فرما دیا ہے۔ واضح رہے کہ بعض لوگ منہ بولے بیٹے بنانے کو ان آیات کے ساتھ منسوخ قرار دیتے ہیں، مگر یہ درست نہیں، کیونکہ منسوخ تو تب ہوتا جب وہ پہلے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا۔ وہ تو اسلام سے پہلے کی ایک رسم تھی جسے اللہ تعالیٰ نے ختم فرمایا، اسے منسوخ نہیں کہا جا سکتا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
اور جیسے سیدنا صہیب رومیؓ جو اصل میں ایرانی تھے۔ مگر اہل روم نے جب فارس پر حملہ کیا تو انھیں بچپن ہی میں قیدی بنا کر روم لے گئے تھے اور دونوں صحابہ کرام کو اپنے اپنے والد کے نام تک معلوم نہ تھے۔
[5] یعنی اگر کوئی کسی کو پیار سے بیٹا یا بیٹی کہہ دے یا کسی کا احترام ملحوظ رکھ کر کسی بزرگ کو باپ یا بزرگ عورت کو ماں کہہ دے یا محض اخلاقاً یہ الفاظ استعمال کئے جائیں تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں۔ حرج اس وقت واقع ہوتا ہے کہ اگر کسی کو بیٹا یا بیٹی کہے تو حقیقی بیٹے یا بیٹی جیسے فرائض، حقوق بھی اپنے اوپر لازم کر لے۔
ہمارے ملک میں سید بننے کا یا کسی اونچی ذات سے نسبت قائم کرنے کا عام رواج ہے۔ ایسے حضرات اس حدیث کے آئینے میں اپنا انجام دیکھ سکتے ہیں۔
[7] اس کا ایک مطلب تو ہے کہ اس سلسلہ میں تم سے جو پہلے لغزشیں اور غلطیاں ہو چکی ہیں اللہ انھیں معاف کرنے والا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اگر تم نا دانستہ کوئی ایسی بات کہہ دو یا بھول چوک کہہ دو تو ایسی خطائیں بھی اللہ معاف کرنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بیان فرمایا کہ ’ یہ تو ظاہر ہے کہ کسی انسان کے دل دو نہیں ہوتے۔ اسی طرح تم سمجھ لو کہ اپنی جس بیوی کو تم ماں کہہ دو تو وہ واقعی ماں نہیں ہو جاتی۔ ٹھیک اسی طرح دوسرے کی اولاد کو اپنا بیٹا بنا لینے سے وہ سچ مچ بیٹا ہی نہیں ہو جاتا ‘۔
اپنی بیوی سے اگر کسی نے بحالت غضب وغصہ کہد دیا کہ تو مجھ پر ایسی ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ تو اس کہنے سے وہ سچ مچ ماں نہیں بن جاتی۔ جیسے فرمایا «مَا هُنَّ أُمَّهَاتِهِمْ إِنْ أُمَّهَاتُهُمْ إِلَّا اللَّائِي وَلَدْنَهُمْ وَإِنَّهُمْ لَيَقُولُونَ مُنْكَرًا مِنَ الْقَوْلِ وَزُورًا» ۱؎ [58-المجادلة:3] ’ ایسا کہہ دینے سے وہ مائیں نہیں بن جاتیں، مائیں تو وہ ہیں جن کے بطن سے یہ پیدا ہوئے ہیں ‘۔ ان دونوں باتوں کے بیان کے بعد اصل مقصود کو بیان فرمایا کہ ’ تمہارے لے پالک لڑکے بھی درحقیقت تمہارے لڑکے نہیں ‘۔
یہ آیت زید بن حارث رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ تھے انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت سے پہلے اپنا متبنی بنا رکھا تھا۔ انہیں زید بن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہا جاتا تھا۔
یہاں فرمایا ’ یہ تو صرف تمہاری ایک زبانی بات ہے جو تم کسی کے لڑکے کو کسی کا لڑکا کہو اس سے حقیقت بدل نہیں سکتی۔ واقعی میں اس کا باپ وہ ہے جس کی پیٹھ سے یہ نکلا۔ یہ ناممکن ہے کہ ایک لڑکے کے دو باپ ہوں جیسے یہ ناممکن ہے کہ ایک سینے میں دو دل ہوں۔ اللہ تعالیٰ حق فرمانے والا اور سیدھی راہ دکھانے والا ہے ‘۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ خطرہ گزرا اس پر جو منافق نماز میں شامل تھے وہ کہنے لگے دیکھو اس کے دو دل ہیں ایک تمہارے ساتھ ایک ان کے ساتھ۔ اس پر یہ آیت اتری کہ اللہ تعالیٰ نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں بنائے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3199، قال الشيخ الألباني:ضعیف الاسناد]
زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ تو صرف بطور مثال کے فرمایا گیا ہے یعنی جس طرح کسی شخص کے دو دل نہیں ہوتے اسی طرح کسی بیٹے کے دو باپ نہیں ہو سکتے۔“ اسی کے مطابق ہم نے بھی اس آیت کی تفسیر کی ہے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس آیت کے اترنے سے پہلے ہم زید کو زید بن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے لیکن اس کے نازل ہونے کے بعد ہم نے یہ کہنا چھوڑ دیا۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:4782]
بلکہ پہلے تو ایسے لے پالک کے وہ تمام حقوق ہوتے تھے جو سگی اور صلبی اولاد کے ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس آیت کے اترنے کے بعد سہلہ بنت سہل رضی اللہ عنہا حاضر خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر عرض کرتی ہیں کہ { یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے سالم کو منہ بولا بیٹا بنا رکھا تھا اب قرآن نے ان کے بارے میں فیصلہ کر دیا۔ میں اس سے اب تک پردہ نہیں کرتی وہ آ جاتے ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ میرے خاوند حذیفہ رضی اللہ عنہ ان کے اس طرح آنے سے کچھ بیزار ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { پھر کیا ہے جاؤ سالم کو اپنا دودھ پلا اس پر حرام ہو جاؤگی } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1453]
اسی کا لحاظ رکھتے ہوئے۔ جہاں حرام عورتوں کو ذکر کیا وہاں فرمایا آیت «وَحَلَاىِٕلُ اَبْنَاىِٕكُمُ الَّذِيْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْ» [4-النساء:23] یعنی ’ تمہاری اپنی صلب سے جو لڑکے ہوں ان کی بیویاں تم پر حرام ہیں ‘۔ ہاں رضاعی لڑکا نسبی اور صلبی لڑکے کے حکم میں ہے۔
جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ { رضاعت سے وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہو جاتے ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2645] یہ بھی خیال رہے کہ پیار سے کسی کو بیٹا کہدینا یہ اور چیز ہے یہ ممنوع نہیں۔
صحیح مسلم شریف میں مروی ہے کہ { انس رضی اللہ تعالیٰ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا بیٹا کہہ کر بلایا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2151]
پھر فرماتا ہے کہ ’ اگر تمہیں ان کے باپوں کا علم نہ ہو تو وہ تمہارے دینی بھائی اور اسلامی دوست ہیں ‘۔
{ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب عمرۃ القضاء والے سال مکہ شریف سے واپس لوٹے تو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی چچا چچا کہتی ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دوڑیں۔ علی رضی اللہ عنہ نے انہیں لے کر سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کو دے دیا اور فرمایا ”یہ تمہاری چچازاد بہن ہے انہیں اچھی طرح رکھو۔“ سیدنا زید اور سیدنا جعفر رضی اللہ عنہم فرمانے لگے ”اس بچی کے حقدار ہم ہیں ہم انہیں پالیں گے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”نہیں یہ میرے ہاں رہیں گی“، سیدنا علی رضی اللہ عنہا نے تو یہ دلیل دی کہ میرے چچا کی لڑکی ہیں۔ سیدنا زید رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ”میرے بھائی کی لڑکی ہے۔“ جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہنے لگے ”میرے چچا کی لڑکی ہیں اور ان کی چچی میرے گھر میں ہیں“ یعنی سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا۔ آخر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ کیا کہ { صاحبزادی تو اپنی خالہ کے پاس رہیں کیونکہ خالہ ماں کے قائم مقام ہے }۔ سیدنا علی رضی اللہ سے فرمایا: { تو میرا ہے اور میں تیرا ہوں }۔ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: { تو صورت سیرت میں میرے مشابہ ہے }، حضرت زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: { تو ہمارا بھائی اور ہمارا مولیٰ ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4251] اس حدیث میں بہت سے احکام ہیں۔
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اسی آیت کے ماتحت میں تمہارا بھائی ہوں۔“ ابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”واللہ!اگر یہ بھی معلوم ہوتا کہ ان کے والد کوئی ایسے ویسے ہی تھے تو بھی یہ ان کی طرف منسوب ہوتے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:3508]
حدیث شریف میں ہے کہ { جو شخص جان بوجھ کر اپنی نسبت اپنے باپ کی طرف سے دوسرے کی طرف کرے اس نے کفر کیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:35080] اس سے سخت وعید پائی جاتی ہے اور ثابت ہوتا ہے کہ صحیح نسب سے اپنے آپ کو ہٹانا بہت بڑا کبیرہ گناہ ہے۔
چنانچہ خود پروردگار نے ہمیں ایسی دعا تعلیم دی کہ ہم اس کی جناب میں ہیں کہیں «رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ اِنْ نَّسِيْنَآ اَوْ اَخْطَاْنَا» ۱؎ [2-البقرة:286] ’ اے اللہ! ہماری بھول چوک اور غلطی پر ہمیں نہ پکڑ ‘۔
صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ { جب مسلمانوں نے یہ دعا پڑھی جناب باری عزاسمہ نے فرمایا ’ میں نے یہ دعاقبول فرمائی ‘ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:126]
صحیح بخاری شریف میں ہے { جب حاکم اپنی کوشش میں کامیاب ہو جائے اپنے اجتہاد میں صحت کو پہنچ جائے تو اسے دوہرا اجر ملتا ہے اور اگر خطا کرجائے تو اسے ایک اجر ملتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7352]
اور حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے میری امت کو ان کی خطائیں بھول چوک اور جو کام ان سے زبردستی کرائے جائیں ان سے در گزر فرما لیا ہے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:2043، قال الشيخ الألباني:صحیح]
یہاں بھی یہ فرما کر ارشاد فرمایا کہ ’ ہاں جو کام تم قصد قلب سے عمداً کرو وہ بیشک قابل گرفت ہیں ‘۔ قسموں کے بارے میں بھی یہی حکم ہے اوپر جو حدیث بیان ہوئی کہ نسب بدلنے والا کفر کا مرتکب ہے وہاں بھی یہ لفظ ہیں کہ { باوجود جاننے کے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3508]
آیت قرآن جو اب تلاوتاً منسوخ ہے اس میں تھا «أَنْ لاَ تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ، فَإِنَّهُ كُفْرٌ بِكُمْ أَنْ تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ، أَوْ إِنَّ كُفْرًا بِكُمْ أَنْ تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ» یعنی ’ تمہارا اپنے باپ کی طرف نسبت ہٹانا کفر ہے ‘۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کتاب نازل فرمائی اس میں رجم کی بھی آیت تھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی رجم کیا (یعنی شادی شدہ زانیوں کو سنگسار کیا) اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد رجم کیا۔ ہم نے قرآن میں یہ آیت بھی پڑھی ہے کہ اپنے باپوں سے اپنا سلسلہ نسب نہ ہٹاؤ یہ کفر ہے۔“
{ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے { مجھے تم میری تعریفوں میں اس طرح بڑھا چڑھا نہ دینا جیسے عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے ساتھ ہوا۔ میں تو صرف اللہ کا بندہ ہوں تو تم مجھے اللہ کا بندہ اور رسول اللہ کہنا } }۔ ۱؎ [مسند احمد:47/1:صحیح] ایک روایت میں صرف ابن مریم ہے۔
اور حدیث میں ہے { تین خصلتیں لوگوں میں ہیں جو کفر ہیں، نسب میں طعنہ زنی، میت پر نوحہ، ستاروں سے باران طلبی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:934]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم صرح لهم بترك الحالة الأولى المتضمِّنة للقول الباطل، فقال: {ادْعوهُم}؛ أي: الأدعياء {لآبائِهِم}: الذين ولدوهم {هو أقسطُ عند الله}؛ أي: أعدلُ وأقوم وأهدى، {فإن لم تَعلَموا آباءَهم}: الحقيقيين {فإخوانكم في الدين وَمَواليكُم}؛ أي: إخوتكم في دين الله ومواليكم في ذلك؛ فادْعوهم بالأخوة الإيمانيَّة الصادقة والموالاة على ذلك؛ فترك الدعوة إلى من تبنَّاهم حَتْمٌ لا يجوز فعلها، وأما دعاؤهم لآبائهم؛ فإنْ علموا؛ دعوا إليهم، وإن لم يعلموا؛ اقتُصِر على ما يُعْلَمُ منهم، وهو أخوة الدين والموالاة؛ فلا تظنُّوا أنَّ حالة عدم علمكم بآبائهم عذرٌ في دعوتهم إلى مَن تبنَّاهم؛ لأن المحذور لا يزول بذلك.
{وليس عليكم جُناحٌ فيما أخطأتُم به}: بأنْ سَبَقَ على لسان أحدِكم دعوتُهُ إلى مَنْ تبنَّاه؛ فهذا غير مؤاخذٍ به، أو علم أبوه ظاهراً فدعوتُموه إليه، وهو في الباطن غير أبيه ؛ فليس عليكم في ذلك حَرَجٌ إذا كان خطأ. {ولكنْ} يؤاخِذُكُم بما تعمَّدَتْ قلوبُكُم من الكلام بما لا يجوزُ. {وكان الله غفوراً رحيماً}: غفر لكم ورحمكم؛ حيث لم يعاقِبْكم بما سَلَفَ، وسمح لكم بما أخطأتُم به، ورحِمَكُم؛ حيث بين لكم أحكامَه التي تُصْلِحُ دينَكم ودُنياكم؛ فله الحمد تعالى.