تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ ان آیات میں کسی کو منہ بولا بیٹا بنانے سے منع کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں اسے حقیقی بیٹے کی طرح سمجھا جاتا تھا، وہ بیٹا بنانے والے کی ولدیت کے ساتھ مشہور ہوتا اور اس کا وارث قرار پاتا تھا، البتہ محبت اور شفقت کے اظہار کے لیے کسی کو بیٹا کہہ کر پکارا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انس رضی اللہ عنہ کو {”يَا بُنَيَّ“ } کہہ کر پکارا۔ [دیکھیے مسلم، الآداب، باب جواز قولہ لغیر ابنہ یا بنيّ …: ۲۱۵۱] اور ابن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ کی رات ہم بنی عبد المطلب کے چھوٹے لڑکوں کو گدھیوں پر سوار کرکے آگے بھیج دیا تھا، تو اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہماری رانوں پر تھپکیاں دے کر فرمانے لگے: [أُبَيْنِيَّ! لاَ تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ] [أبوداوٗد، المناسک، باب التعجیل من جمع: ۱۹۴۰] ”میرے پیارے بیٹو! جب تک سورج طلوع نہ ہو جمرات کو کنکر نہ مارو۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[3] اس آیت میں اسی اصلاحی اقدام کی چند جزئیات بیان فرمائی جا رہی ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ ہر شخص کو اس کے حقیقی باپ کی نسبت سے پکارا جائے۔ چنانچہ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زید کو اپنا متبنّیٰ بنا لیا تو ہم لوگ انھیں زید بن محمد کہہ کر پکارتے تھے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو پھر زید بن حارثہ کہنا شروع کر دیا۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی انھیں زید بن حارثہ ہی کہنے لگے۔ ضمناً اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عیسیٰ کا باپ نہیں تھا۔ ورنہ اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام، بن مریم کبھی نہ فرماتے۔ سیدنا عیسیٰ ابن مریم کی معجزانہ پیدائش کے منکرین کے لئے یہ لمحہ فکریہ اس لحاظ سے ہے کہ قرآن نے اور کسی مرد یا عورت کا نام ابنیت سمیت ذکر نہیں کیا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بیان فرمایا کہ ’ یہ تو ظاہر ہے کہ کسی انسان کے دل دو نہیں ہوتے۔ اسی طرح تم سمجھ لو کہ اپنی جس بیوی کو تم ماں کہہ دو تو وہ واقعی ماں نہیں ہو جاتی۔ ٹھیک اسی طرح دوسرے کی اولاد کو اپنا بیٹا بنا لینے سے وہ سچ مچ بیٹا ہی نہیں ہو جاتا ‘۔
اپنی بیوی سے اگر کسی نے بحالت غضب وغصہ کہد دیا کہ تو مجھ پر ایسی ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ تو اس کہنے سے وہ سچ مچ ماں نہیں بن جاتی۔ جیسے فرمایا «مَا هُنَّ أُمَّهَاتِهِمْ إِنْ أُمَّهَاتُهُمْ إِلَّا اللَّائِي وَلَدْنَهُمْ وَإِنَّهُمْ لَيَقُولُونَ مُنْكَرًا مِنَ الْقَوْلِ وَزُورًا» ۱؎ [58-المجادلة:3] ’ ایسا کہہ دینے سے وہ مائیں نہیں بن جاتیں، مائیں تو وہ ہیں جن کے بطن سے یہ پیدا ہوئے ہیں ‘۔ ان دونوں باتوں کے بیان کے بعد اصل مقصود کو بیان فرمایا کہ ’ تمہارے لے پالک لڑکے بھی درحقیقت تمہارے لڑکے نہیں ‘۔
یہ آیت زید بن حارث رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ تھے انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت سے پہلے اپنا متبنی بنا رکھا تھا۔ انہیں زید بن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہا جاتا تھا۔
یہاں فرمایا ’ یہ تو صرف تمہاری ایک زبانی بات ہے جو تم کسی کے لڑکے کو کسی کا لڑکا کہو اس سے حقیقت بدل نہیں سکتی۔ واقعی میں اس کا باپ وہ ہے جس کی پیٹھ سے یہ نکلا۔ یہ ناممکن ہے کہ ایک لڑکے کے دو باپ ہوں جیسے یہ ناممکن ہے کہ ایک سینے میں دو دل ہوں۔ اللہ تعالیٰ حق فرمانے والا اور سیدھی راہ دکھانے والا ہے ‘۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ خطرہ گزرا اس پر جو منافق نماز میں شامل تھے وہ کہنے لگے دیکھو اس کے دو دل ہیں ایک تمہارے ساتھ ایک ان کے ساتھ۔ اس پر یہ آیت اتری کہ اللہ تعالیٰ نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں بنائے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3199، قال الشيخ الألباني:ضعیف الاسناد]
زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ تو صرف بطور مثال کے فرمایا گیا ہے یعنی جس طرح کسی شخص کے دو دل نہیں ہوتے اسی طرح کسی بیٹے کے دو باپ نہیں ہو سکتے۔“ اسی کے مطابق ہم نے بھی اس آیت کی تفسیر کی ہے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس آیت کے اترنے سے پہلے ہم زید کو زید بن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے لیکن اس کے نازل ہونے کے بعد ہم نے یہ کہنا چھوڑ دیا۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:4782]
بلکہ پہلے تو ایسے لے پالک کے وہ تمام حقوق ہوتے تھے جو سگی اور صلبی اولاد کے ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس آیت کے اترنے کے بعد سہلہ بنت سہل رضی اللہ عنہا حاضر خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر عرض کرتی ہیں کہ { یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے سالم کو منہ بولا بیٹا بنا رکھا تھا اب قرآن نے ان کے بارے میں فیصلہ کر دیا۔ میں اس سے اب تک پردہ نہیں کرتی وہ آ جاتے ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ میرے خاوند حذیفہ رضی اللہ عنہ ان کے اس طرح آنے سے کچھ بیزار ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { پھر کیا ہے جاؤ سالم کو اپنا دودھ پلا اس پر حرام ہو جاؤگی } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1453]
اسی کا لحاظ رکھتے ہوئے۔ جہاں حرام عورتوں کو ذکر کیا وہاں فرمایا آیت «وَحَلَاىِٕلُ اَبْنَاىِٕكُمُ الَّذِيْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْ» [4-النساء:23] یعنی ’ تمہاری اپنی صلب سے جو لڑکے ہوں ان کی بیویاں تم پر حرام ہیں ‘۔ ہاں رضاعی لڑکا نسبی اور صلبی لڑکے کے حکم میں ہے۔
جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ { رضاعت سے وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہو جاتے ہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2645] یہ بھی خیال رہے کہ پیار سے کسی کو بیٹا کہدینا یہ اور چیز ہے یہ ممنوع نہیں۔
صحیح مسلم شریف میں مروی ہے کہ { انس رضی اللہ تعالیٰ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا بیٹا کہہ کر بلایا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2151]
پھر فرماتا ہے کہ ’ اگر تمہیں ان کے باپوں کا علم نہ ہو تو وہ تمہارے دینی بھائی اور اسلامی دوست ہیں ‘۔
{ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب عمرۃ القضاء والے سال مکہ شریف سے واپس لوٹے تو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی چچا چچا کہتی ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دوڑیں۔ علی رضی اللہ عنہ نے انہیں لے کر سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کو دے دیا اور فرمایا ”یہ تمہاری چچازاد بہن ہے انہیں اچھی طرح رکھو۔“ سیدنا زید اور سیدنا جعفر رضی اللہ عنہم فرمانے لگے ”اس بچی کے حقدار ہم ہیں ہم انہیں پالیں گے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”نہیں یہ میرے ہاں رہیں گی“، سیدنا علی رضی اللہ عنہا نے تو یہ دلیل دی کہ میرے چچا کی لڑکی ہیں۔ سیدنا زید رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ”میرے بھائی کی لڑکی ہے۔“ جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہنے لگے ”میرے چچا کی لڑکی ہیں اور ان کی چچی میرے گھر میں ہیں“ یعنی سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا۔ آخر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ کیا کہ { صاحبزادی تو اپنی خالہ کے پاس رہیں کیونکہ خالہ ماں کے قائم مقام ہے }۔ سیدنا علی رضی اللہ سے فرمایا: { تو میرا ہے اور میں تیرا ہوں }۔ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: { تو صورت سیرت میں میرے مشابہ ہے }، حضرت زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: { تو ہمارا بھائی اور ہمارا مولیٰ ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4251] اس حدیث میں بہت سے احکام ہیں۔
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اسی آیت کے ماتحت میں تمہارا بھائی ہوں۔“ ابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”واللہ!اگر یہ بھی معلوم ہوتا کہ ان کے والد کوئی ایسے ویسے ہی تھے تو بھی یہ ان کی طرف منسوب ہوتے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:3508]
حدیث شریف میں ہے کہ { جو شخص جان بوجھ کر اپنی نسبت اپنے باپ کی طرف سے دوسرے کی طرف کرے اس نے کفر کیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:35080] اس سے سخت وعید پائی جاتی ہے اور ثابت ہوتا ہے کہ صحیح نسب سے اپنے آپ کو ہٹانا بہت بڑا کبیرہ گناہ ہے۔
چنانچہ خود پروردگار نے ہمیں ایسی دعا تعلیم دی کہ ہم اس کی جناب میں ہیں کہیں «رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ اِنْ نَّسِيْنَآ اَوْ اَخْطَاْنَا» ۱؎ [2-البقرة:286] ’ اے اللہ! ہماری بھول چوک اور غلطی پر ہمیں نہ پکڑ ‘۔
صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ { جب مسلمانوں نے یہ دعا پڑھی جناب باری عزاسمہ نے فرمایا ’ میں نے یہ دعاقبول فرمائی ‘ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:126]
صحیح بخاری شریف میں ہے { جب حاکم اپنی کوشش میں کامیاب ہو جائے اپنے اجتہاد میں صحت کو پہنچ جائے تو اسے دوہرا اجر ملتا ہے اور اگر خطا کرجائے تو اسے ایک اجر ملتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7352]
اور حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے میری امت کو ان کی خطائیں بھول چوک اور جو کام ان سے زبردستی کرائے جائیں ان سے در گزر فرما لیا ہے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:2043، قال الشيخ الألباني:صحیح]
یہاں بھی یہ فرما کر ارشاد فرمایا کہ ’ ہاں جو کام تم قصد قلب سے عمداً کرو وہ بیشک قابل گرفت ہیں ‘۔ قسموں کے بارے میں بھی یہی حکم ہے اوپر جو حدیث بیان ہوئی کہ نسب بدلنے والا کفر کا مرتکب ہے وہاں بھی یہ لفظ ہیں کہ { باوجود جاننے کے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3508]
آیت قرآن جو اب تلاوتاً منسوخ ہے اس میں تھا «أَنْ لاَ تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ، فَإِنَّهُ كُفْرٌ بِكُمْ أَنْ تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ، أَوْ إِنَّ كُفْرًا بِكُمْ أَنْ تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ» یعنی ’ تمہارا اپنے باپ کی طرف نسبت ہٹانا کفر ہے ‘۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کتاب نازل فرمائی اس میں رجم کی بھی آیت تھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی رجم کیا (یعنی شادی شدہ زانیوں کو سنگسار کیا) اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد رجم کیا۔ ہم نے قرآن میں یہ آیت بھی پڑھی ہے کہ اپنے باپوں سے اپنا سلسلہ نسب نہ ہٹاؤ یہ کفر ہے۔“
{ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے { مجھے تم میری تعریفوں میں اس طرح بڑھا چڑھا نہ دینا جیسے عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے ساتھ ہوا۔ میں تو صرف اللہ کا بندہ ہوں تو تم مجھے اللہ کا بندہ اور رسول اللہ کہنا } }۔ ۱؎ [مسند احمد:47/1:صحیح] ایک روایت میں صرف ابن مریم ہے۔
اور حدیث میں ہے { تین خصلتیں لوگوں میں ہیں جو کفر ہیں، نسب میں طعنہ زنی، میت پر نوحہ، ستاروں سے باران طلبی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:934]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يعاتِبُ تعالى عبادَه عن التكلُّم بما لا حقيقةَ له من الأقوال، ولم يجعلْه الله تعالى كما قالوا؛ فإنَّ ذلك القول منكم كذبٌ وزورٌ يترتَّب عليه منكراتٌ من الشرع، وهذه قاعدةٌ عامةٌ في التكلُّم في كلِّ شيء والإخبار بوقوع ووجود ما لَمْ يَجْعَلْه الله تعالى، ولكن خصَّ هذه الأشياء المذكورة لوقوعها وشدة الحاجة إلى بيانها، فقال: {ما جَعَلَ الله لرجل مِن قَلْبَيْنِ في جَوْفِهِ}: هذا لا يوجد؛ فإيَّاكم أن تقولوا عن أحدٍ: إنَّ له قلبينِ في جوفه، فتكونوا كاذبين على الخلقة الإلهية، {وما جعل أزواجَكم اللاَّئي تظاهِرون منهنَّ}: بأن يقولَ أحدكم لزوجتِهِ أنتِ عليَّ كظهر أمي أو كأمي؛ فما جعلهنَّ الله {أمَّهاتِكم}: أمُّك مَنْ وَلَدَتْكَ وصارتْ أعظم النساءِ عليك حرمةً وتحريماً، وزوجتُك أحلُّ النساء لك؛ فكيف تشبِّه أحد المتناقضين بالآخر؟! هذا أمرٌ لا يجوز؛ كما قال تعالى: {الذين يُظاهِرون منكم مِن نسائِهِم ما هنَّ أمَّهاتِهم إنْ أمهاتُهم إلا اللاَّئي وَلَدْنَهُمْ وإنَّهم ليقولون مُنكراً من القول وزوراً}.
{وما جَعَلَ أدْعِياءَكم أبناءَكم}: والأدعياء: الولد الذي كان الرجل يدَّعيه وهو ليس له، أو يُدعى إليه بسبب تبنِّيه إيَّاه؛ كما كان الأمر في الجاهلية وأول الإسلام، فأراد الله تعالى أن يُبْطِلَه ويزيلَه، فقدَّم بين يدي ذلك بيانَ قُبحه، وأنَّه باطلٌ وكذبٌ، وكل باطلٍ وكذبٍ لا يوجد في شرع الله ولا يتَّصف به عبادُ الله، يقول تعالى: فالله لم يجعل الأدعياءَ الذين تَدَّعونَهم أو يُدعونَ إليكم أبناءكم؛ فإنَّ أبناءكم في الحقيقة مَنْ وَلَدْتُموهم وكانوا منكم، وأمَّا هؤلاء الأدعياء من غيركم؛ فلا جعل الله هذا كهذا، {ذلكم}: القول الذي تقولون في الدَّعِيِّ: إنَّه ابنُ فلان الذي ادَّعاه، أو والده فلان، {قولُكم بأفواهِكم}؛ أي: قولٌ لا حقيقةَ له ولا معنى له، {واللهُ يقولُ الحقَّ}؛ أي: اليقين والصدق؛ فلذلك أمركم باتِّباعه على قوله وشرعِهِ؛ فقولُه حقٌّ، وشرعُهُ حقٌّ، والأقوال والأفعال الباطلة لا تُنسب إليه بوجه من الوجوه، وليست من هدايته؛ لأنه لا يَهْدي إلاَّ إلى السبيل المستقيمة والطرق الصادقة، وإنْ كان ذلك واقعاً بمشيئتِهِ؛ فمشيئته عامَّةٌ لكلِّ ما وجد من خيرٍ وشرٍّ.