اس آیت کی تفسیر آیت 4 میں تا آیت 6 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
5-1فلاح کے مفہوم کے لئے دیکھئے سورة بقرہ اور مومنون کا آغاز۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
5۔ یہی لوگ اپنے پروردگار کی طرف سے سیدھی راہ پر ہیں [3] اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں
[3] اس مقام پر محسنین کی اور سورۃ بقرہ میں متقین کی ان ہی تین صفات کا ذکر فرمایا جو یہاں مذکور ہیں یعنی اقامت صلوٰۃ، ایتائے زکوٰۃ اور ایمان بالآخرت یعنی جس شخص میں کم از کم یہ تین صفات پائی جائیں۔ نہ ان کے راہ راست پر ہونے میں کوئی شک ہو سکتا ہے اور نہ فلاح پانے میں۔ [تفصيل كے لئے ديكهئے سورة بقره كي ابتدائي پانچ آيات]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یہ نیکوکار لوگ جو علم کامل اور عمل کے جامع ہیں ﴿عَلٰىهُدًى ﴾”ہدایت پر ہیں“ جو بہت عظیم ہے جیسا کہ ”ہدایت“ کو نکرہ استعمال کرنے سے مستفاد ہوتا ہے۔ ﴿مِّنْرَّبِّهِمْ ﴾”اپنے رب کی طرف سے۔“ جو اپنی نعمتوں کے ذریعے سے ان پر اپنی ربوبیت کا فیضان کرتا اور ان سے تکلیف دہ امور کو دور کرتا رہتا ہے۔ یہ ہدایت، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو سرفراز فرمایا ہے، اس خاص ربوبیت سے ہے جو اس نے اپنے اولیاء پر کی ہے اور یہ ربوبیت کی بہترین قسم ہے۔ ﴿وَاُولٰٓىِٕكَهُمُالْمُفْلِحُوْنَ ﴾”اور یہی لوگ فلاح سے بہرہ ور ہیں“ جنھوں نے اپنے رب کی رضا، اس کے دنیاوی اور اخروی ثواب کو پا لیا اور اس کی ناراضی اور اس کے عذاب سے بچ گئے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ فلاح کے راستے پر گامزن ہوئے، جس کے سوا فلاح کا کوئی اور راستہ نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فَـ {أولئك}: المحسنون الجامعون بين العلم التامِّ والعمل {على هدىً}؛ أي: عظيم كما يفيدُه التنكيرُ، وذلك الهدى حاصلٌ لهم وواصلٌ إليهم {من ربِّهم}: الذي لم يَزَلْ يربِّيهم بالنعم ويدفَعُ عنهم النِّقَمَ، وهذا الهدى الذي أوصله إليهم من تربيتِهِ الخاصَّة بأوليائه، وهو أفضلُ أنواع التربية. {وأولئك هم المفلحونَ}: الذين أدركوا رضا ربِّهم وثوابَه الدنيوي والأخروي، وسلموا من سَخَطِهِ وعقابه، وذلك لسلوكهم طريقَ الفلاح، الذي لا طريقَ له غيرها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔