تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یہ نیکوکار لوگ جو علم کامل اور عمل کے جامع ہیں ﴿عَلٰىهُدًى ﴾”ہدایت پر ہیں“ جو بہت عظیم ہے جیسا کہ ”ہدایت“ کو نکرہ استعمال کرنے سے مستفاد ہوتا ہے۔ ﴿مِّنْرَّبِّهِمْ ﴾”اپنے رب کی طرف سے۔“ جو اپنی نعمتوں کے ذریعے سے ان پر اپنی ربوبیت کا فیضان کرتا اور ان سے تکلیف دہ امور کو دور کرتا رہتا ہے۔ یہ ہدایت، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو سرفراز فرمایا ہے، اس خاص ربوبیت سے ہے جو اس نے اپنے اولیاء پر کی ہے اور یہ ربوبیت کی بہترین قسم ہے۔ ﴿وَاُولٰٓىِٕكَهُمُالْمُفْلِحُوْنَ ﴾”اور یہی لوگ فلاح سے بہرہ ور ہیں“ جنھوں نے اپنے رب کی رضا، اس کے دنیاوی اور اخروی ثواب کو پا لیا اور اس کی ناراضی اور اس کے عذاب سے بچ گئے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ فلاح کے راستے پر گامزن ہوئے، جس کے سوا فلاح کا کوئی اور راستہ نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فَـ {أولئك}: المحسنون الجامعون بين العلم التامِّ والعمل {على هدىً}؛ أي: عظيم كما يفيدُه التنكيرُ، وذلك الهدى حاصلٌ لهم وواصلٌ إليهم {من ربِّهم}: الذي لم يَزَلْ يربِّيهم بالنعم ويدفَعُ عنهم النِّقَمَ، وهذا الهدى الذي أوصله إليهم من تربيتِهِ الخاصَّة بأوليائه، وهو أفضلُ أنواع التربية. {وأولئك هم المفلحونَ}: الذين أدركوا رضا ربِّهم وثوابَه الدنيوي والأخروي، وسلموا من سَخَطِهِ وعقابه، وذلك لسلوكهم طريقَ الفلاح، الذي لا طريقَ له غيرها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔