تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ میں نے شیخ عبد الرحمن السعدی کا کلام اس لیے نقل کیا ہے کہ عام طور پر اس آیت میں {” لَهْوَ الْحَدِيْثِ “} سے مراد صرف گانا بجانا لیا جاتا ہے، جب کہ آیت کا مفہوم اس سے بہت وسیع ہے، اگرچہ حرام غنا (ناجائز گانا) بھی اس میں شامل ہے۔ طبری میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے جو حسن سند کے ساتھ ثابت ہے کہ انھوں نے قسم کھا کر فرمایا کہ اس سے مراد غنا (گانا) ہے، تو یہ {” لَهْوَ الْحَدِيْثِ “} کی ایک جزئی کا بیان ہے۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ اس کا مصداق ایسے گانے بجانے والے ہوں گے جو دین سے روکنے والے، اللہ تعالیٰ کی آیات کو مذاق بنانے والے اور انھیں سن کر تکبر سے منہ پھیرنے والے ہوں، کیونکہ ان اوصاف کی ان آیات میں صراحت ہے، اور یہ اوصاف کفار کے ہیں مسلمانوں کے نہیں اور انھی کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔ مسلمان کو ہونے والا عذاب تو اسے گناہوں سے پاک کرنے کے لیے ہو گا۔ البتہ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ مسلمان کہلانے والے لوگ جو حرام عشقیہ گانے بجانے کو اپنا پیشہ یا شغل بنا لیتے ہیں، اس کے نتیجے میں ان کے دلوں میں بدترین نفاق پیدا ہو جاتا ہے اور اللہ کی آیات کو سن کر ان کے ساتھ ان کا رویہ بھی بعینہٖ وہی ہوتا ہے جو ان آیات میں مذکور ہے۔ یہ لوگ اللہ کی آیات کا مذاق اڑانے کے لیے مولوی کا مذاق اڑاتے اور اسے گالی دیتے ہیں، جب کہ ظاہر ہے کہ مولوی بے چارے کا قصور یہ ہے کہ وہ اللہ کی آیات سناتا ہے۔ ایسی صورت میں صرف نام کے مسلمان ہونے کا اللہ تعالیٰ کے ہاں کچھ فائدہ نہ ہو گا۔ اللہ کی آیات کے انکار، ان سے استکبار اور ان کو مذاق بنانے کے ساتھ مسلمانی کے دعوے پر اصرار قیامت کے دن ان کے کسی کام نہ آئے گا۔ افسوس! اس وقت یہ بیماری بری طرح امتِ مسلمہ میں پھیل چکی ہے۔ ریڈیو، ٹیلی ویژن، موبائل فون، انٹرنیٹ، غرض ہر ذریعے سے کفار اور ان کے نام نہاد مسلم گماشتوں نے اسے اس قدر پھیلا دیا ہے کہ کم ہی کوئی خوش نصیب اس سے بچا ہو گا۔ حالانکہ دین کے کمال و زوال کے علاوہ دنیوی عروج و زوال میں بھی اس کا بہت بڑا حصہ ہے۔ اقبال نے چند لفظو ں میں اس کا نقشہ کھینچا ہے:
میں تجھ کو بتاتا ہوں تقدیر امم کیا ہے
شمشیر و سناں اول، طاؤس و رباب آخر
کوئی شخص اگر حرام گانے بجانے کا عمل گناہ سمجھ کر کرے، اس پر نادم ہو تو پھر بھی معافی کی امید ہے، مگر جب کوئی قوم فنون لطیفہ یا روح کی غذا کا نام دے کر اسے حلال ہی کرلے، تو اس کے لیے اللہ کے عذاب کے کوڑے سے بچنا بہت ہی مشکل ہے۔ ابو عامر یا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَيَكُوْنَنَّ مِنْ أُمَّتِيْ أَقْوَامٌ يَسْتَحِلُّوْنَ الْحِرَ وَالْحَرِيْرَ وَالْخَمْرَ وَالْمَعَازِفَ، وَلَيَنْزِلَنَّ أَقْوَامٌ إِلٰی جَنْبِ عَلَمٍ يَرُوْحُ عَلَيْهِمْ بِسَارِحَةٍ لَّهُمْ، يَأْتِيْهِمْ، يَعْنِي الْفَقِيْرَ، لِحَاجَةٍ فَيَقُوْلُوْا ارْجِعْ إِلَيْنَا غَدًا فَيُبَيِّتُهُمُ اللّٰهُ وَيَضَعُ الْعَلَمَ، وَيَمْسَخُ آخَرِيْنَ قِرَدَةً وَخَنَازِيْرَ إِلٰی يَوْمِ الْقِيَامَةِ] [بخاري، الأشربۃ، باب ما جاء فیمن یستحل الخمر…: ۵۵۹۰] ”میری امت میں کئی لوگ ہوں گے جو شرم گاہ (زنا) اور ریشم اور شراب اور باجوں کو حلال کر لیں گے اور کئی لوگ ایک پہاڑ کے پہلو میں اتریں گے، ان کے چرواہے شام کو ان کے چرنے والے مویشی لایا کریں گے، ان کے پاس فقیر اپنی حاجت کے لیے آئے گا، وہ کہیں گے کل آنا۔ تورات ہی کو اللہ تعالیٰ ان پر اپنا عذاب بھیجے گا اور وہ پہاڑ ان پر گرا دے گا اور کئی دوسروں کی شکلیں قیامت تک کے لیے بندروں اور خنزیروں کی شکل میں بدل دے گا۔“ ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَيَشْرَبَنَّ نَاسٌ مِّنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ يُسَمُّوْنَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا، يُعْزَفُ عَلٰی رُؤُوْسِهِمْ بِالْمَعَازِفِ وَالْمُغَنِّيَاتِ يَخْسِفُ اللّٰهُ بِهِمُ الْأَرْضَ وَيَجْعَلُ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيْرَ] [ابن ماجہ، الفتن، باب العقوبات: ۴۰۲۰، و قال الألباني صحیح] ”میری امت کے کچھ لوگ شراب پییں گے، اس کا نام اصل نام کے بجائے اور رکھ لیں گے، ان کے سامنے باجے بجائے جائیں گے اور گانے والیاں گائیں گی۔ اللہ تعالیٰ انھیں زمین میں دھنسا دے گا اور ان میں سے بعض کو بندر اور خنزیر بنا دے گا۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
(1) حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ قسم کھا کر کہا کرتے تھے کہ قرآن میں ﴿لهو الحديث﴾ کا لفظ گانا اور موسیقی کے لئے آیا ہے۔ نیز آپ فرمایا کرتے کہ گانا بجانا دل میں یوں نفاق پیدا کرتا ہے جیسے پانی سے گھاس اور سبزہ اگ آتا ہے [فتاويٰ ابن باز۔ اردو ترجمه ج 1 ص 313]
(2) حضرت ابو امامہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھے رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا ہے اور میرے پروردگار عزوجل نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں باجوں گاجوں، ساز و مضراب، بتوں، صلیبوں اور امر جاہلیت کو ختم کروں“ [احمد بحواله مشكوة۔ كتاب الحدود۔ باب بيان الخمرو وعيد شاربها فصل ثالث]
(3) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گانا بجانا کرنے والی عورتوں کو نہ بیچو، نہ خریدو اور نہ انھیں یہ کلام سکھلاؤ اور ان کی اجرت حرام ہے“ [ترمذی۔ ابواب البیوع۔ باب کراہیۃ المغنیات]
(4) ابو مالک اشعری کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو زنا کو، ریشم کو، شراب کو اور معازف یعنی آلات ساز و مضراب اور گانے بجانے کو حلال کر لیں گے۔ [بخاری۔ کتاب الاشربہ باب ما جاء فیمن یستحل الخمرو يسمیہ بغير اسمہ]
یعنی ان چیزوں کے دوسرے نام رکھ کر انھیں جائز بنا لیں گے۔
[5] بغیر علم کی نسبت اللہ کی راہ کی طرف بھی ہو سکتی ہے اور ﴿لهو الحديث﴾ کی طرف بھی۔ پہلی صورت تو ترجمہ سے واضح ہے۔ یعنی اس کا اللہ کی راہ سے بہکانا محض بغض و عناد اور ضد پر مبنی ہے۔ اس کے لئے اس کے پاس کوئی عملی دلیل نہیں ہے۔ اور دوسری صورت میں مطلب یہ ہو گا کہ وہ اس قدر جاہل ہے جو اللہ کی سیدھی راہ اور ہدایت جیسی قیمتی چیز کے عوض تباہ کن چیز خرید رہا ہے۔
[7] اس کے جرم اور اس کی سزا میں مناسبت یہ ہے کہ وہ اللہ کی آیات اور اس کے رسول کی تذلیل کرنا چاہتا ہے تو اس کو عذاب بھی ذلیل کرنے والا دیا جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
چنانچہ اس آیت کی تفسیر میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”قسم اللہ کی اس سے مراد گانا اور راگ ہے۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:127/20:صحیح]
ایک اور جگہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ سے اس آیت کا مطلب پوچھا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے تین دفعہ قسم کھا کر فرمایا کہ ”اس سے مقصد گانا اور راگ اور راگنیاں ہیں۔“ یہی قول سیدنا ابن عباس عنہما، سیدنا جابر رضی اللہ عنہم، عکرمہ، سعید بن جیبر، مجاہد مکحول، عمرو بن شعیب، علی بن بذیمہ رحمہ اللہ علیہم کا ہے۔
امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”یہ آیت گانے بجانے باجوں گاجوں کے بارے میں اتری ہے۔“ قتادۃ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اس سے مراد صرف وہی نہیں جو اس لہو ولعب میں پیسے خرچے یہاں مراد خرید سے اسے محبوب رکھنا اور پسند کرنا ہے۔“ انسان کو یہی گمراہی کافی ہے کہ باطل کی بات کو حق پر پسند کرلے۔ اور نقصان کی چیز کو نفع پر مقدم کر لے۔ ایک اور قول یہ بھی ہے کہ لغو بات خریدنے سے مراد گانے والی لونڈیوں کی خریداری ہے۔
چنانچہ ابن ابی حاتم وغیرہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { گانے والیوں کی خرید و فروخت حلال نہیں اور ان کی قیمت کا کھانا حرام ہے انہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3195،قال الشيخ الألباني:حسن] امام ترمذی بھی اس حدیث کو لائے ہیں اور اسے غریب کہا ہے اور اس کے ایک راوی علی بن یزید کو ضعیف کہا ہے۔ میں کہتا ہوں خود علی ان کے استاد اور ان کے تمام شاگرد ضعیف ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ایک قرأت میں «لِیَضِلَّ» ہے تو لام لام عاقبت ہو گا یا لام تعلیل ہوگا۔ یعنی امر تقدیری ان کی اس کار گزاری سے ہو کر رہے گا۔ ایسے لوگ اللہ کی راہ کو ہنسی بنا لیتے ہیں۔ آیات اللہ کو بھی مذاق میں اڑاتے ہیں۔ اب ان کا انجام بھی سن لو کہ جس طرح انہوں نے اللہ کی راہ کی کتاب اللہ کی اہانت کی قیامت کے دن ان کی اہانت ہو گی اور خطرناک عذاب میں ذلیل ورسوا ہونگے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: {ومن الناس من}: هو محرومٌ مخذولٌ {يشتري}؛ أي: يختارُ ويرغب رغبة من يبذُلُ الثمن في الشيء، {لهو الحديث}؛ أي: الأحاديث الملهية للقلوب، الصادَّة لها عن أجلِّ مطلوب، فدخل في هذا كلُّ كلام محرَّم وكلُّ لغوٍ وباطل وهَذَيان؛ من الأقوال المرغِّبة في الكفر والفسوق والعصيان، ومن أقوال الرادِّين على الحقِّ المجادلين بالباطل لِيُدْحِضوا به الحقَّ، ومن غيبةٍ ونميمةٍ وكذبٍ وشتم وسبٍّ، ومن غناء ومزامير شيطان. ومن الماجرياتِ الملهيةِ التي لا نفع فيها في دين ولا دُنيا؛ فهذا الصنف من الناس {يشتري لهو الحديث} عن هدي الحديث {ليضلَّ} الناس {بغير علم}؛ أي: بعد ما ضلَّ في فعله أضلَّ غيرَه؛ لأنَّ الإضلال ناشئٌ عن الضَّلال، وإضلالُه في هذا الحديث صدُّه عن الحديث النافع والعمل النافع والحقِّ المُبين والصراطِ المستقيم، ولا يتمُّ له هذا حتى يقدحَ في الهدى والحقِّ، ويتَّخذ آيات الله هُزواً، يَسْخَرُ بها وبِمَنْ جاء بها؛ فإذا جمع بين مدح الباطل والترغيب فيه والقدح في الحقِّ والاستهزاء به وبأهله؛ أضلَّ مَنْ لا علم عندَه، وخَدَعَه بما يوحيه إليه من القول الذي لا يميِّزه ذلك الضالُّ، ولا يعرف حقيقته، {أولئك لهم عذابٌ (مهينٌ)}: بما ضلُّوا، وأضلُّوا، واستهزؤوا بآيات الله، وكذَّبوا الحقَّ الواضح.