اس آیت کی تفسیر آیت 3 میں تا آیت 5 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
4-1نماز زکوٰۃ اور آخرت پر یقین۔ یہ تینوں نہایت اہم ہیں، اس لئے ان کا بطور خاص ذکر کیا، ورنہ محسنین و متقین تمام فرائض و سنت رسول کے مطابق پابندی سے کرتے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
4۔ یعنی وہ لوگ جو نماز قائم کرتے، زکوٰۃ ادا کرتے اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تعالیٰ نے ان ”محسنین“ کا وصف بیان فرمایا کہ وہ علم کامل یعنی یقین محکم رکھتے ہیں جو عمل اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کے خوف کا موجب ہے اس لیے وہ اس کی نافرمانیوں کو ترک کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو عمل سے موصوف کیا ہے اور عمل کے ضمن میں دو بہترین اعمال کا ذکر فرمایا: وہ نماز کی پابندی کرتے ہیں جو اخلاص، اللہ تعالیٰ سے مناجات، قلب و زبان اور جوارح کے تعبُّد عام کو شامل ہے اور باقی اعمال میں معاون ہے۔ نیز زکاۃ کا بھی تذکرہ فرمایا کہ اسے ادا کرنے والا تمام صفات رذیلہ سے پاک ہوجاتا ہے۔ وہ زکاۃ کے ذریعے سے اپنے مسلمان بھائی کو نفع پہنچاتا ہے، اس کی ضرورت پوری کرتا ہے، زکاۃ سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ بندۂ مومن اللہ تعالیٰ کی محبت کو مال کی محبت پر ترجیح دیتا ہے۔ وہ اپنے محبوب مال کو اس کی خاطر خرچ کرتا ہے جو اسے اپنے مال سے کہیں زیادہ محبوب ہے... اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی رضا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم وَصَفَ المحسنين بالعلم التامِّ، وهو اليقين الموجب للعمل والخوف من عقاب الله، فيتركون معاصيه، ووصَفَهم بالعمل، وخصَّ من العمل عملين فاضلينِ: {الصلاة} المشتمِلَة على الإخلاص، ومناجاة الله تعالى، والتعبُّد العامِّ للقلب واللسان والجوارح المعينة على سائر الأعمال. {والزَّكاة}: التي تُزَكِّي صاحبها من الصفات الرذيلة، وتنفعُ أخاه المسلمَ وتسدُّ حاجته، ويَبينُ بها أنَّ العبدَ يُؤْثِرُ محبَّةَ الله على محبَّتِهِ للمال، فيخرِجُ محبوبَه من المال لما هو أحبُّ إليه، وهو طلب مرضاة الله.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔