تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ بعض اہلِ علم نے اس آیت میں مذکور حقیقت کی مثال بیان فرمائی: ”یعنی سود (بیاج) سے گو بظاہر مال بڑھتا دکھائی دیتا ہے لیکن حقیقت میں گھٹ رہا ہے۔ جیسے کسی آدمی کا بدن ورم سے پھول جائے، وہ بیماری یا پیام موت ہے اور زکوٰۃ نکالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مال کم ہو گا، فی الحقیقت وہ بڑھتا ہے۔ جیسے کسی مریض کا بدن مسہل و تَنقِیَہ سے گھٹتا دکھائی دے مگر انجام اس کا صحت ہو، سود اور زکوٰۃ کا حال بھی انجام کے اعتبار سے ایسا ہی سمجھ لو۔“
➌ { وَ مَاۤ اٰتَيْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِيْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ …:} جیسا کہ فرمایا: «{ مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضْعَافًا كَثِيْرَةً }» [البقرۃ: ۲۴۵] ”کون ہے وہ جو اللہ کو قرض دے، اچھا قرض، پس وہ اسے اس کے لیے بہت زیادہ گنا بڑھا دے۔“ (مزید دیکھیے بقرہ: ۲۶۱) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَا يَتَصَدَّقُ أَحَدٌ بِتَمْرَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ إِلَّا أَخَذَهَا اللّٰهُ بِيَمِيْنِهِ فَيُرَبِّيْهَا كَمَا يُرَبِّيْ أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ أَوْ قَلُوْصَهُ حَتّٰی تَكُوْنَ مِثْلَ الْجَبَلِ أَوْ أَعْظَمَ] [مسلم، الزکاۃ، باب قبول الصدقۃ من الکسب الطیب و تربیتھا: ۶۴ /۱۰۱۴] ”کوئی شخص پاکیزہ کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ بھی کرتا ہے تو رحمان اسے اپنے دائیں ہاتھ میں لے لیتا ہے اور اس کے مالک کے لیے اس کو پالتا بڑھاتا ہے، جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنے گھوڑی کے بچے کو یا اونٹنی کے بچے کو پالتا بڑھاتا ہے، حتیٰ کہ وہ کھجور پہاڑ کے برابر ہو جاتی ہے یا اس سے بھی بڑی۔“ اور دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۷۶)۔
➍ اس آیت کی ایک اور تفسیر بھی کی گئی ہے، ابن کثیر فرماتے ہیں: ”یعنی جو شخص کوئی ہدیہ دے جس سے اس کا ارادہ یہ ہو کہ لوگ اسے اس کے ہدیے سے زیادہ دیں گے تو اللہ کے ہاں اس میں کوئی ثواب نہیں۔“ ابن عباس، مجاہد، ضحاک، قتادہ، عکرمہ، محمد بن کعب اور شعبی نے یہی تفسیر کی ہے۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یہ کام مباح (جائز) ہے، اگرچہ اس میں ثواب نہیں، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے خاص طور پر منع کیا گیا ہے۔ یہ ضحاک کا قول ہے اور انھوں نے اللہ کے اس فرمان سے دلیل پکڑی ہے: «{ وَ لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ }» [المدثر: ۶] ”اور (اس نیت سے) احسان نہ کر کہ زیادہ لے۔“ یعنی کوئی عطیہ نہ دے جس سے تو زیادہ حاصل کرنے کا ارادہ کرتا ہو۔“ ابن عباس رضی اللہ عنھما کے اس قول کے متعلق ابن کثیر کے محقق نے فرمایا: ”اسے طبری نے بیان کیا ہے، سند اس کی ضعیف ہے۔“ حافظ ابن کثیر نے اسی مفہوم کا ابن عباس رضی اللہ عنھما کا ایک اور قول نقل فرمایا ہے کہ ”ربا“ دو طرح کا ہے، ایک ربا جو صحیح نہیں، یعنی بیع میں ربا اور ایک ربا جس میں کوئی حرج نہیں۔ وہ یہ ہے کہ آدمی کوئی ہدیہ دے، جس سے زیادہ حاصل کرنے کا ارادہ ہو، پھر یہ آیت پڑھی۔ ابن کثیر کے محقق حکمت بن بشیر نے فرمایا: ”سیوطی نے ”در منثور“ میں اسے ابن ابی حاتم کی طرف منسوب کیا ہے، جس میں آیت پڑھنے کا ذکر نہیں۔“ لیکن میں نے ابن ابی حاتم میں اسے تلاش کیا تو اس میں ہے کہ مخطوطہ سے سورۂ روم کا حصہ ساقط ہے۔ [وَ اللّٰہُ أَعْلَمُ بِصِحَّتِہٖ]
جمال الدین قاسمی فرماتے ہیں: ”اس تفسیر میں کئی لحاظ سے نظر ہے، پہلی یہ کہ یہ آیت سورۂ بقرہ کی آیت (۲۷۶): «{ يَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَ يُرْبِي الصَّدَقٰتِ }» کے مشابہ ہے، جو بیع میں سود کے بارے میں ہے، جو اہلِ مکہ میں اس بری طرح پھیلا ہوا تھا کہ ان کا مزاج بن چکا تھا، جس کے ساتھ وہ تنگ دستوں کا مال اس برے طریقے سے چوس رہے تھے جس کا رحم، نرم دلی اور انسانی ہمدردی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس حال کی مذمت فرمائی، تاکہ وہ توبہ کر کے پاک ہوجائیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ربا کا حقیقی معنی سود ہی ہے، جسے سب لوگ جانتے ہیں۔ اس حقیقی معنی کو چھوڑ کر مجازی معنی مراد لینے کے لیے شرع یا عقل کی کوئی دلیل ہونی چاہیے جو یہاں موجود نہیں۔ تیسری وجہ یہ کہ آیت سے ہبہ و الا معنی مراد لے کر پھر ایسے ہبہ کو مباح قرار دینا محل نظر ہے، کیونکہ آیت کا اسلوب تو اس سے ڈرانے کا اور اس سے بچنے کی ترغیب کا ہے، جو اسے ناجائز چیزوں میں شامل کر رہا ہے اور انداز بیان کی دلالت بہت قوی دلالت ہوتی ہے۔ چوتھی وجہ یہ کہ سورۂ مدثر کی آیت (۶): «{ وَ لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ }» (اور اس نیت سے احسان نہ کر کہ زیادہ حاصل کرے) کی رو سے یہ دعویٰ کہ ایسا ہبہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حرام تھا، محلِ نظر ہے۔ کیونکہ اگرچہ لفظوں میں خطاب صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے مگر حکم عام ہے۔ سورۂ مدثر کے شروع سے دیکھ لیجیے: «{ يٰۤاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ (1) قُمْ فَاَنْذِرْ (2) وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ (3) وَ ثِيَابَكَ فَطَهِّرْ }» یہ تمام احکام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پوری امت کے لیے بھی ہیں۔“ خلاصہ یہ کہ اس آیت کی پہلی تفسیر ہی قابل اعتماد ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
﴿يَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَيُرْبِي الصَّدَقٰتِ﴾ [276:2] یعنی جس معاشرہ میں سود کا رواج ہو گا اس میں برکت نہیں رہے گی وہ بالآخر قلاش ہو جائے گا۔ غریب طبقہ کی تعداد دن بدن بڑھتی جائے گی اور وہ اپنا پیٹ پالنے کی خاطر امیر طبقہ پر جائز اور ناجائز طریقوں سے حملہ آور ہو کر ان کا مال ان سے چھین لے اور اس غرض کے لئے اگر اس کا کام چوری اور ڈاکہ، لوٹ مار سے چلتا ہے تو ٹھیک ورنہ وہ قتل و غارت سے بھی کبھی دریغ نہ کرے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
مسافر جس کا خرچ کم پڑ گیا ہو اور سفر خرچ پاس نہ رہا ہو اس کے ساتھ بھی بھلائی کرنے کا ارشاد ہوتا ہے۔ یہ ان کے لیے بہتر ہے جو چاہتے ہیں کہ قیامت کے دن دیدار اللہ کریں حقیقت میں انسان کے لیے اس سے بڑی نعمت کوئی نہیں۔ دنیا اور آخرت میں نجات ایسے ہی لوگوں کو ملے گی۔
اس دوسری آیت کی تفسیر تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما مجاہد، ضحاک، قتادۃ، عکرمہ، محمد بن کعب اور شعبی رحمہ اللہ علیہم سے یہ مروی ہے کہ جو شخص کوئی عطیہ اس ارادے سے دے کہ لوگ اسے اس سے زیادہ دیں۔ تو گو اس ارادے سے ہدیہ دینا ہے تو مباح لیکن ثواب سے خالی ہے۔ اللہ کے ہاں اس کا بدلہ کچھ نہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے بھی روک دیا اس معنی میں یہ حکم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص ہوگا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”سود یعنی نفع کی دوصورتیں ہیں ایک تو بیوپار تجارت میں سود یہ تو حرام محض ہے۔ دوسرا سود یعنی زیادتی جس میں کوئی حرج نہیں وہ کسی کو اس ارادہ سے ہدیہ تحفہ دینا ہے کہ یہ مجھے اس سے زیادہ دے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا کہ اللہ کے پاس ثواب تو زکوٰۃ کے ادا کرنے کا ہے۔ زکوٰۃ دینے والوں کو بہت برکتیں ہوتی ہیں۔“
صحیح حدیث میں ہے کہ { جو شخص ایک کھجور بھی صدقے میں دے لیکن حلال طور سے حاصل کی ہوئی ہو تو اسے اللہ تعالیٰ رحمن و رحیم اپنے دائیں ہاتھ میں لیتا ہے اور اسطرح پالتا اور بڑھاتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے یا اونٹ کے بچے کی پرورش کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہی ایک کھجور احد پہاڑ سے بھی بڑی ہو جاتی ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1410]
اللہ ہی خالق ورازق ہے۔ انسان اپنی ماں کے پیٹ سے ننگا، بےعلم، بے کان، بےآنکھ، بےطاقت نکلتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اسے سب چیزیں عطا فرماتا ہے۔ مال، ملکیت، کمائی، تجارت غرض بےشمار نعمتیں عطا فرماتا ہے۔
اس حیات کے بعد تمہیں مار ڈالے گا پھر قیامت کے دن زندہ کرے گا۔ اللہ کے سوا تم جن جن کی عبادت کر رہے ہو ان میں سے ایک بھی ان باتوں میں سے کسی ایک پر قابو نہیں رکھتا۔ ان کاموں میں سے ایک بھی کوئی نہیں کر سکتا۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہی تنہا خالق رازق اور موت زندگی کا مالک ہے۔ وہی قیامت کے دن تمام مخلوق کو جلا دے گا۔ اس کی مقدس، منزہ، معظم اور عزت وجلال والی ذات اس سے پاک ہے کہ کوئی اس کا شریک ہو یا اس جیسا ہو یا اس کے برابر ہو یا اس کی اولاد ہو یا ماں باپ ہوں وہ «احد» ہے، «صمد» ہے، فرد ہے، ماں باپ اولاد سے پاک ہے اس کا کفو کوئی نہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولمَّا ذكر العمل الذي يُقْصَدُ به وجهُه من النفقات؛ ذكر العمل الذي يُقْصَدُ به مَقْصِدٌ دنيويٌّ، فقال: {وما آتيتُم من ربا لِيَرْبُوا في أموال الناس}؛ أي: ما أعطيتم من أموالكم الزائدة عن حوائجكم، وقصدُكم بذلك أن يَرْبُوَ؛ أي: يزيد في أموالكم؛ بأن تُعطوها لمن تطمعون أن يعاوِضكم عنها بأكثر منها؛ فهذا العمل لا يربو أجرُهُ عند الله؛ لكونه معدومُ الشرط الذي هو الإخلاص.
ومثل ذلك العملُ الذي يُراد به الزيادة في الجاه والرياء عند الناس؛ فهذا كلُّه لا يربو عند الله. {وما آتيتُم من زكاةٍ}؛ أي: مال يطهِّرِكم من الأخلاق الرَّذيلة، ويطهِّر أموالكم من البُخل بها، ويزيدُ في دفع حاجة المعطى؛ {تريدونَ}: بذلك {وجهَ الله فأولئك هم المُضْعِفونَ}؛ أي: المضاعَف لهم الأجر، الذين تربو نفقاتُهم عند الله، ويُربيها اللهُ لهم، حتى تكونَ شيئاً كثيراً، ودلَّ قولُه: {وما آتَيْتُم من زكاةٍ}: أنَّ الصدقة مع اضطرارِ من يَتَعَلَّق بالمنفق أو مع دَيْنٍ عليه لم يَقْضِهِ ويقدِّمُ عليه الصدقَة؛ أنَّ ذلك ليس بزكاةٍ يؤجَر عليه العبد، ويُرَدُّ تصرُّفُه شرعاً؛ كما قال تعالى في الذي يُمْدَحُ: {الذي يؤتي ماله يتزكَّى}؛ فليس مجردُ إيتاءِ المال خيراً، حتى يكون بهذه الصفة، وهو أن يكونَ على وجهٍ يَتَزَكَّى به المؤتي.