اللہ وہ ہے جس نے تمھیں پیدا کیا، پھر تمھیں رزق دیا، پھر تمھیں موت دے گا، پھر تمھیں زندہ کرے گا، کیا تمھارے شریکوں میں سے کوئی ہے جو ان کاموں میں سے کچھ بھی کرے؟ وہ پاک ہے اور بہت بلند ہے اس سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں۔
En
خدا ہی تو ہے جس نے تم کو پیدا کیا پھر تم کو رزق دیا پھر تمہیں مارے گا۔ پھر زندہ کرے گا۔ بھلا تمہارے (بنائے ہوئے) شریکوں میں بھی کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کچھ کر سکے۔ وہ پاک ہے اور (اس کی شان) ان کے شریکوں سے بلند ہے
اللہ تعالیٰ وه ہے جس نے تمہیں پیدا کیا پھر روزی دی پھر مار ڈالے گا پھر زنده کر دے گا بتاؤ تمہارے شریکوں میں سے کوئی بھی ایسا ہے جو ان میں سے کچھ بھی کر سکتا ہو۔ اللہ تعالیٰ کے لئے پاکی اور برتری ہے ہر اس شریک سے جو یہ لوگ مقرر کرتے ہیں
En
(آیت 40) ➊ { اَللّٰهُالَّذِيْخَلَقَكُمْثُمَّرَزَقَكُمْ …:} یہاں سے کفار و مشرکین کو سمجھانے کے لیے پھر سلسلۂ کلام توحید اور آخرت کی طرف پھر گیا ہے۔ ➋ { هَلْمِنْشُرَكَآىِٕكُمْمَّنْيَّفْعَلُمِنْذٰلِكُمْمِّنْشَيْءٍ:} کیا تمھارے شریکوں میں سے کوئی ہے جو اس میں سے کچھ بھی کر سکے؟ ظاہر ہے کہ نہیں کر سکتے تو پھر انھیں پوجنے اور ان کے آستانوں پر نذریں ماننے اور چڑھاوے چڑھانے کا کیا فائدہ؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
40۔ اللہ وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، روزی دی، پھر تمہیں موت دے گا، پھر تمہیں زندہ کرے گا۔ کیا تمہارے شریکوں میں بھی کوئی ایسا ہے جو ان میں سے کوئی بھی کام کر سکتا ہو [46]۔ وہ پاک ہے اور جو کچھ وہ شریک ٹھہراتے ہیں ان سے بالاتر ہے۔
[46] یعنی جب تمہارے بنائے ہوئے معبودوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس نے تمہیں پیدا کیا ہو یا تمہارے رزق کا ذمہ دار ہو یا تمہیں مار سکتا ہو یا تمہیں دوبارہ زندگی بخش سکتا ہو تو پھر آخر یہ ہیں کس کام کے؟ اور کس لحاظ سے تم انھیں اللہ کے شریک بناتے ہو؟ واضح رہے کہ مشرکین مکہ ان چار باتوں میں سے پہلی تین باتوں کے قائل تھے کہ جو امور اس آیت میں مذکور ہوئے ہیں۔ یہ صرف اللہ ہی کے کارنامے ہیں اور ان میں ان کے معبودوں کا کوئی حصہ نہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ تمھاری تخلیق، تمھیں رزق عطا کرنے، تمھیں مارنے اور تمھیں زندہ کرنے میں اللہ تعالیٰ یکتا ہے اور یہ خود ساختہ الٰہ، جن کو مشرکین نے اللہ تعالیٰ کے شریک قرار دے رکھا ہے ان افعال میں کچھ بھی شریک نہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ، جو ان امور میں یکتا ہے، ایسی ہستیوں کو شریک ٹھہراتے ہیں، جو کسی طرح بھی ان امور میں تصرف کی قدرت نہیں رکھتیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے شرک سے بالاتر، پاک اور منزہ ہے اور ان کے شرک سے اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا اس کا وبال انھی پر ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى أنَّه وحده المنفرد بخلقكم ورزقكم وإماتتكم وإحيائكم، وأنه ليس أحدٌ من الشركاء التي يدعوها المشركون مَنْ يشارِكُ الله في شيءٍ من هذه الأشياء؛ فكيف يشرِكون بِمَنِ انفردَ بهذه الأمور من ليس له تصرُّفٌ فيها بوجهٍ من الوجوه؟ فسبحانَه وتعالى، وتقدَّس، وتنزَّه، وعلا عن شِرْكِهِم؛ فلا يضرُّه ذلك، وإنَّما وبالُه عليهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔