تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الروم (30) — آیت 39

وَ مَاۤ اٰتَیۡتُمۡ مِّنۡ رِّبًا لِّیَرۡبُوَا۠ فِیۡۤ اَمۡوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرۡبُوۡا عِنۡدَ اللّٰہِ ۚ وَ مَاۤ اٰتَیۡتُمۡ مِّنۡ زَکٰوۃٍ تُرِیۡدُوۡنَ وَجۡہَ اللّٰہِ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُضۡعِفُوۡنَ ﴿۳۹﴾
اور جو کوئی سودی قرض تم اس لیے دیتے ہو کہ لوگوں کے اموال میں بڑھ جائے تو وہ اللہ کے ہاں نہیں بڑھتا اور جو کچھ تم زکوٰۃ سے دیتے ہو، اللہ کے چہرے کا ارادہ کرتے ہو، تو وہی لوگ کئی گنا بڑھانے والے ہیں۔ En
اور جو تم سود دیتے ہو کہ لوگوں کے مال میں افزائش ہو تو خدا کے نزدیک اس میں افزائش نہیں ہوتی اور جو تم زکوٰة دیتے ہو اور اُس سے خدا کی رضا مندی طلب کرتے ہو تو (وہ موجبِ برکت ہے اور) ایسے ہی لوگ (اپنے مال کو) دو چند سہ چند کرنے والے ہیں
En
تم جو سود پر دیتے ہو کہ لوگوں کے مال میں بڑھتا رہے وه اللہ تعالیٰ کے ہاں نہیں بڑھتا۔ اور جو کچھ صدقہ زکوٰة تم اللہ تعالیٰ کا منھ دیکھنے (اورخوشنودی کے لئے) دو تو ایسے لوگ ہی اپنا دو چند کرنے والے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے انفاق فی سبیل اللہ وغیرہ، ان اعمال کا ذکر فرمایا جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہے، پھر ان اعمال کا ذکر کیا جو دنیاوی مقاصد کے تحت کیے جاتے ہیں، چنانچہ فرمایا: ﴿وَمَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاۡ فِیْۤ اَمْوَالِ النَّاسِ اور جو تم سود دیتے ہو کہ لوگوں کے مالوں میں افزائش ہو۔ یعنی اپنی ضروریات سے زائد مال، جو تم عطا کرتے ہو اور اس سے تمھارا مقصد یہ ہوتا ہے کہ تمھارے مال میں اضافہ ہو جائے۔ تم انھی لوگوں کو مال عطاکرتے ہو جن سے تمھیں عطا کردہ مال سے زیادہ معاوضے کی امید ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس عمل کے اجر میں اضافہ نہیں ہوتا کیونکہ اس میں اخلاص کی شرط معدوم ہے۔ اس قسم کے اعمال کے زمرے میں وہ اعمال آتے ہیں جو لوگوں کے ہاں عزت و جاہ اور ریا کے لیے کیے جائیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان اعمال کے اجر میں اضافہ نہیں ہوتا۔ ﴿وَمَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَؔكٰوةٍ اور جو کچھ تم زکاۃ دیتے ہو۔ وہ مال تمھیں اخلاق رذیلہ سے پاک کرتا ہے اور زکاۃ کے ذریعے سے تمھارے مال کو بخل سے پاک کرتا ہے اور حاجت مند کی حاجت پوری کرنے کی بنا پر اس میں اضافہ کرتا ہے۔ ﴿تُرِیْدُوْنَ تم چاہتے ہو زکاۃ کی ادائیگی سے ﴿وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْ٘مُضْعِفُوْنَ اللہ کا چہرہ، تو وہی لوگ اپنے مال کو دگنا چوگنا کررہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کا خرچ کیا ہوا مال کئی گنا ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس مال کو ان کے لیے بڑھاتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد: ﴿وَمَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَؔكٰوةٍ دلالت کرتا ہے کو وہ صدقہ جس کا دینے والا اضطرار سے دو چار ہو، یا صدقہ دینے والے کے ذمہ قرض ہو جو اس نے ادا نہیں کیا اور اس کی بجائے صدقے کو مقدم رکھا تو اس زکاۃ پر بندے کو اجر نہیں ملے گا اور اس کا یہ تصرف شرعاً مردود ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿الَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَهٗ یَتَزَؔكّٰى (اللیل:92؍18) جو پاک ہونے کے لیے اللہ کے راستے میں اپنا مال عطا کرتا ہے۔ مجرد مال عطاکرنا بھلائی نہیں جب تک کہ وہ وصف مذکور کے ساتھ نہ ہو یعنی عطا کرنے والے کا مقصد پاک ہونا ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولمَّا ذكر العمل الذي يُقْصَدُ به وجهُه من النفقات؛ ذكر العمل الذي يُقْصَدُ به مَقْصِدٌ دنيويٌّ، فقال: {وما آتيتُم من ربا لِيَرْبُوا في أموال الناس}؛ أي: ما أعطيتم من أموالكم الزائدة عن حوائجكم، وقصدُكم بذلك أن يَرْبُوَ؛ أي: يزيد في أموالكم؛ بأن تُعطوها لمن تطمعون أن يعاوِضكم عنها بأكثر منها؛ فهذا العمل لا يربو أجرُهُ عند الله؛ لكونه معدومُ الشرط الذي هو الإخلاص.

ومثل ذلك العملُ الذي يُراد به الزيادة في الجاه والرياء عند الناس؛ فهذا كلُّه لا يربو عند الله. {وما آتيتُم من زكاةٍ}؛ أي: مال يطهِّرِكم من الأخلاق الرَّذيلة، ويطهِّر أموالكم من البُخل بها، ويزيدُ في دفع حاجة المعطى؛ {تريدونَ}: بذلك {وجهَ الله فأولئك هم المُضْعِفونَ}؛ أي: المضاعَف لهم الأجر، الذين تربو نفقاتُهم عند الله، ويُربيها اللهُ لهم، حتى تكونَ شيئاً كثيراً، ودلَّ قولُه: {وما آتَيْتُم من زكاةٍ}: أنَّ الصدقة مع اضطرارِ من يَتَعَلَّق بالمنفق أو مع دَيْنٍ عليه لم يَقْضِهِ ويقدِّمُ عليه الصدقَة؛ أنَّ ذلك ليس بزكاةٍ يؤجَر عليه العبد، ويُرَدُّ تصرُّفُه شرعاً؛ كما قال تعالى في الذي يُمْدَحُ: {الذي يؤتي ماله يتزكَّى}؛ فليس مجردُ إيتاءِ المال خيراً، حتى يكون بهذه الصفة، وهو أن يكونَ على وجهٍ يَتَزَكَّى به المؤتي.