ترجمہ و تفسیر — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 65

فَاِذَا رَکِبُوۡا فِی الۡفُلۡکِ دَعَوُا اللّٰہَ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ۬ۚ فَلَمَّا نَجّٰہُمۡ اِلَی الۡبَرِّ اِذَا ہُمۡ یُشۡرِکُوۡنَ ﴿ۙ۶۵﴾
پھر جب وہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ کو پکارتے ہیں، اس حال میں کہ اسی کے لیے عبادت کو خالص کرنے والے ہوتے ہیں، پھر جب وہ انھیں خشکی کی طرف نجات دے دیتا ہے تو اچانک وہ شریک بنا رہے ہوتے ہیں۔ En
پھر جب یہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو خدا کو پکارتے (اور) خالص اُسی کی عبادت کرتے ہیں۔ لیکن جب وہ اُن کو نجات دے کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو جھٹ شرک کرنے لگے جاتے ہیں
En
پس یہ لوگ جب کشتیوں میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں اس کے لئے عبادت کو خالص کر کے پھر جب وه انہیں خشکی کی طرف بچا ﻻتا ہے تو اسی وقت شرک کرنے لگتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 65) {فَاِذَا رَكِبُوْا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ …:} اس سے پہلی آیات میں مشرکین مکہ پر ان کے اعتراف کے ساتھ حجت قائم کی تھی کہ آسمان و زمین کا خالق، سورج و چاند کو مسخر کرنے والا اور آسمان سے پانی برساکر مردہ زمین کو زندہ کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے، یعنی یہ مان کر پھر اس کے ساتھ شریک بنانے کا کیا جواز ہے؟ اس آیت میں ان پر اس بات کے ساتھ حجت قائم کی ہے کہ سمندری سفر میں جب ان کے بحری جہاز طوفان کی لپیٹ میں آتے ہیں تو وہ اپنی فطرت میں چھپی ہوئی توحید کے ہاتھوں مجبور ہو کر اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی بندگی خالص کرتے ہوئے اس اکیلے ہی کو پکارتے ہیں۔ پھر جب اللہ تعالیٰ انھیں طوفان سے بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو اپنی ہی بات کے خلاف شرک کرنے لگتے ہیں۔ بتائیے اس سے زیادہ ناشکری کی بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ ان کی ضروریاتِ زندگی تو سب اللہ مہیا کرے اور جب جان پر بن جائے تو اس مصیبت سے نجات بھی اللہ دے، لیکن جب آسودہ حالی کا وقت آئے تو انسان نہ صرف اللہ کو بھول جائے بلکہ اس کے اختیارات میں دوسروں کو شریک بنانے لگے؟ یہ نبوی دور کے مشرکوں کا حال تھا، آج کل کے مسلمان مشرک ان سے بھی بدتر ہیں کہ یہ مصیبت کے وقت بھی غیراللہ کو پکارتے اور ان کے نعرے لگاتے ہیں۔ یہ صرف مذہبی مشرکوں کا حال نہیں بلکہ بڑے بڑے دہریے جب کسی مشکل میں ہر طرف سے مایوس ہوجاتے ہیں تو اس ذات واحد کو پکارتے ہیں اور جب بچ نکلتے ہیں تو پھر مالک کا انکار کرنے لگتے ہیں، آخر اتنا بڑا تضاد کیوں ہے؟ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ انعام (۶۳، ۶۴)، یونس (۲۲، ۲۳)، بنی اسرائیل (۶۷) اور لقمان (۳۲)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

65-1مشرکین کے اس تناقض کو بھی قرآن کریم میں متعدد جگہ بیان فرمایا گیا ہے۔ اس منافقت کو حضرت عکرمہ سمجھ گئے تھے جس کی وجہ سے انھیں قبول اسلام کی توفیق حاصل ہوگئی۔ ان کے متعلق آتا ہے کہ فتح مکہ کے بعد یہ مکہ سے فرار ہوگئے تاکہ نبی کی گرفت سے بچ جائیں۔ یہ حبشہ جانے کے لئے ایک کشتی میں بیٹھے، کشتی گرداب میں پھنس گئی، تو کشتی میں سوار لوگوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ پورے خلوص کے ساتھ رب سے دعائیں کرو، اس لئے کہ یہاں اس کے علاوہ کوئی نجات دینے والا نہیں۔ حضرت عکرمہ نے یہ سن کر کہا کہ اگر سمندر میں اس کے سوا کوئی نجات نہیں دے سکتا تو خشکی میں بھی اس کے سوا کوئی نجات نہیں دے سکتا۔ اسی وقت اللہ سے عہد کرلیا کہ اگر میں یہاں سے بخیریت ساحل پر پہنچ گیا تو میں محمد کے ہاتھ پر بیعت کر لونگا۔ یعنی مسلمان ہوجاؤ گا چناچہ یہاں سے نجات پا کر انہوں نے اسلام قبول کرلیا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

65۔ پھر جب یہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ کی مکمل حاکمیت کو تسلیم کرتے ہوئے خالصتاً اسے ہی پکارتے ہیں اور جب وہ انھیں بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو اس وقت پھر شرک کرنے لگتے ہیں

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

جب عکرمہ طوفان میں گھر گئے ٭٭
دنیا کی حقارت و ذلت، اس کے زوال و فنا کا ذکر ہو رہا ہے کہ اسے کوئی دوام نہیں، اس کا کوئی ثبات نہیں۔ یہ تو صرف لہو و لعب ہے۔ البتہ دار آخرت کی زندگی دوام و بقا کی زندگی ہے۔ وہ زوال و فنا سے، قلت و ذلت سے دور ہے۔ اگر انہیں علم ہوتا تو اس بقا والی چیز پر اس فانی چیز کو ترجیح نہ دیتے۔
پھر فرمایا کہ مشرکین بےکسی اور بےبسی کے وقت تو اللہ وحدہ لاشریک لہ کو ہی پکارنے لگتے ہیں۔ پھر مصیبت کے ہٹ جانے اور مشکل کے ٹل جانے کے بعد اس کے ساتھ دوسروں کا نام کیوں لیتے ہیں؟
جیسے اور جگہ ارشاد ہے: «وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِيَّاهُ فَلَمَّا نَجّٰىكُمْ اِلَى الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الْاِنْسَانُ كَفُوْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:67]‏‏‏‏ یعنی ’ جب سمندر میں مشکل میں پھنستے ہیں، اس وقت اللہ کے سوا سب کو بھول جاتے ہیں اور جب وہاں سے نجات پاکر خشکی میں آ جاتے ہیں تو فوراً ہی منہ پھیر لیتے ہیں۔ ‘
سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ { جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو عکرمہ ابن ابی جہل یہاں سے بھاگ نکلا اور حبشہ جانے کے ارادے سے کشتی میں بیٹھ گیا۔ اتفاقاً سخت طوفان آیا اور کشتی ادھر ادھر ہونے لگی۔ جتنے مشرکین کشتی میں تھے، سب کہنے لگے: یہ موقعہ صرف اللہ ہی کو پکارنے کا ہے۔ اٹھو اور خلوص کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرو۔ اس وقت نجات اسی کے ہاتھ ہے۔ یہ سنتے ہی عکرمہ نے کہا: سنو اللہ کی قسم! اگر سمندر کی اس بلا سے سوائے اللہ کے کوئی نجات نہیں دے سکتا تو خشکی کی مصیبتوں کا ٹالنے والا بھی وہی ہے۔ اللہ میں تجھ سے عہد کرتا ہوں کہ اگر میں یہاں سے بچ گیا تو سیدھا جا کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ہاتھ رکھ دوں گا اور آپ کا کلمہ پڑھ لوں گا۔ مجھے یقین ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میری خطاؤں سے درگزر فرما لیں گے اور مجھ پر رحم و کرم فرمائیں گے۔ چنانچہ یہی ہوا بھی۔ } ۱؎ [سیرة ابن اسحاق،حاکم:241/3:ضعیف]‏‏‏‏
«لِيَكْفُرُوا» اور «وَلِيَتَمَتَّعُوا» میں لام جو ہے، اسے لام عافیت کہتے ہیں۔ اس لیے کہ ان کا قصد دراصل یہ نہیں ہوتا اور فی الواقع ان کی طرف نظریں ڈالنے سے بات بھی یہی ہے۔ ہاں اللہ تعالیٰ کی نسبت سے تو یہ لام تعلیل ہے۔ اس کی پوری تقریر ہم آیت «فَالْتَقَطَهٗٓ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِيَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّحَزَنًا اِنَّ فِرْعَوْنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِـــــِٕيْنَ» ۱؎ [28-القصص:8]‏‏‏‏ میں کر چکے ہیں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے خلاف الزامی دلیل دیتے ہوئے فرمایا کہ جب وہ سمندر میں کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو موجوں کے تلاطم اور انتہائی شدت کے وقت ہلاکت کے خوف سے اپنے خود ساختہ معبودوں کو پکارنا چھوڑ دیتے ہیں اور خالص اللہ تعالیٰ کو پکارنے لگتے ہیں جو ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔ جب یہ شدت اور مصیبت ختم ہو جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ، جس کو انھوں نے اخلاص کے ساتھ پکارا تھا، ان کو بچا کر ساحل پر لے آتا ہے تو وہ ان ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا دیتے ہیں جنھوں نے ان کو طوفان کی مصیبت سے نجات دی نہ ان سے مشقت کو دور کیا۔ وہ سختی اور نرمی، تنگی اور آسانی دونوں حالتوں میں خالص اللہ تعالیٰ کو کیوں نہیں پکارتے تاکہ وہ حقیقی مومنین کے زمرے میں شامل ہو کر اللہ تعالیٰ کے ثواب کے مستحق بن سکیں اور اس کے عذاب سے بچ سکیں؟ مگر سمندر سے نجات کی نعمت کے بعد ان کا شرک کرنا ہماری عنایات کے مقابلے میں کفر اور ہماری نعمت کے مقابلے میں برائی کا ارتکاب ہے۔ تو وہ اس دنیا سے خوب فائدہ اٹھا لیں جیسے چوپائے فائدہ اٹھاتے ہیں جن کا مطمح نظر بطن و فرج کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ ﴿فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ عنقریب ان کو معلوم ہوجائے گا۔ جب وہ اس دنیا سے آخرت کی طرف منتقل ہوں گے اس وقت انھیں معلوم ہو گا کہ شدت غم اور دردناک عذاب کیا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم ألزم تعالى المشركين بإخلاصهم لله في حال الشدَّة عند ركوب البحر وتلاطُم أمواجه وخوفِهِم الهلاك؛ يتركون إذاً أندادَهم، ويخلِصون الدُّعاء لله وحدَه لا شريك له، فلمَّا زالتْ عنهم الشدةُ - ونجَّاهم من أخلصوا له الدُّعاء إلى البرِّ - أشركوا به مَنْ لا نجَّاهم من شدَّة، ولا أزال عنهم مشقَّة؛ فهلاَّ أخلصوا لله الدعاءَ في حال الرخاء والشدة واليُسر والعُسر؛ ليكونوا مؤمنين به حقًّا، مستحقِّين ثوابه، مندفعاً عنهم عقابه، ولكن شركهم هذا بعد نعمتنا عليهم بالنجاة من البحر ليكونَ عاقبتُهُ كفر ما آتيناهم، ومقابلة النعمة بالإساءة، وليكملوا تمتُّعهم في الدُّنيا، الذي هو كتمتُّع الأنعام، ليس لهم همٌّ إلا بطونُهم وفروجُهم. {فسوف يعلمونَ}: حين ينتقِلون من الدُّنيا إلى الآخرة شدَّة الأسف وأليم العقوبة.