ترجمہ و تفسیر — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 64

وَ مَا ہٰذِہِ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَاۤ اِلَّا لَہۡوٌ وَّ لَعِبٌ ؕ وَ اِنَّ الدَّارَ الۡاٰخِرَۃَ لَہِیَ الۡحَیَوَانُ ۘ لَوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۶۴﴾
اور دنیا کی یہ زندگی نہیں ہے مگر ایک دل لگی اور کھیل، اور بے شک آخری گھر، یقینا وہی اصل زندگی ہے، اگر وہ جانتے ہوتے۔ En
اور یہ دنیا کی زندگی تو صرف کھیل اور تماشہ ہے اور (ہمیشہ کی) زندگی (کا مقام) تو آخرت کا گھر ہے۔ کاش یہ (لوگ) سمجھتے
En
اور دنیا کی یہ زندگانی تو محض کھیل تماشا ہے البتہ آخرت کے گھر کی زندگی ہی حقیقی زندگی ہے، کاش! یہ جانتے ہوتے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 64) ➊ {وَ مَا هٰذِهِ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا…: الدُّنْيَا اَلْأَدْنٰي} کی مؤنث ہے، قریب، گھٹیا۔ اس کے مقابلے میں { الْاٰخِرَةَ } ہے۔ { لَهْوٌ } وہ چیز جو ضروری کاموں سے دل کو غافل کر دے، یعنی دل لگی، جیسے گانا بجانا وغیرہ، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْتَرِيْ لَهْوَ الْحَدِيْثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ [لقمان: ۶] اور لوگوں میں سے بعض وہ ہے جو غافل کرنے والی بات خریدتا ہے، تاکہ جانے بغیر اللہ کے راستے سے گمراہ کرے۔ { لَعِبٌ } کھیل۔ اس جملے میں آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کا بے وقعت ہونا چار طرح سے بیان ہوا ہے، سب سے پہلے { هٰذِهِ } کا لفظ حقارت کے اظہار کے لیے ہے، یعنی یہ دنیا کی زندگی۔ جیسا کہ فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کی تحقیر کے لیے کہا تھا: «{ اَمْ اَنَا خَيْرٌ مِّنْ هٰذَا الَّذِيْ هُوَ مَهِيْنٌ [الزخرف: ۵۲] بلکہ میں اس شخص سے بہتر ہوں، وہ جو حقیر ہے۔ دوسرا { الدُّنْيَا} کا لفظ دنایت اور گھٹیا پن پر دلالت کر رہا ہے، تیسرا { لَهْوٌ } (دل لگی) اور چوتھا { لَعِبٌ } (کھیل)، یعنی اس حقیر دنیا کی زندگی کی حقیقت دل لگی اور کھیل کے سوا اور کچھ نہیں، جس طرح کوئی شخص کچھ وقت کے لیے گا بجا کر اور کھیل کود کر گھر چلا جائے۔ یہاں کوئی بادشاہ ہے یا وزیر، تاجر ہے یا صنعت کار، مالک ہے یا مزدور، اگر کسی بھی ایسے کام میں مصروف ہے جو قیامت کے دن کے لیے کار آمد نہیں تو سمجھ لیجیے وہ محض دل لگی اور کھیل تماشے میں مصروف ہے اور اس کے تمام ساتھی اس کھیل تماشے کا حصہ ہیں۔ اس تماشے میں کوئی بادشاہ ہے، کوئی وزیر ہے اور کوئی کچھ اور۔ انھیں عیش و عشرت کے جتنے سامان میسر ہیں، عورتیں ہوں یا بیٹے، سونے چاندی کے خزانے ہوں یا اعلیٰ نسل کے گھوڑے، ہر قسم کے چوپائے ہوں یا کھیتیاں اور باغات، سب اس کھیل کے کھلونے ہیں۔ پھر ایک وقت آتا ہے جب یہ کھیل ختم ہو جاتا ہے اور کھیل کا ہر کردار اسی بے سروسامانی کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے جس کے ساتھ وہ یہاں آیا تھا۔ ہو سکتا ہے وہ ان کھلونوں کے ساتھ ساٹھ یا ستر یا سو برس دل بہلا لے، آخر کار اسے یہ سب کچھ چھوڑ کر موت کے دروازے سے گزر کر اس جہاں میں پہنچنا ہے جہاں کی زندگی دائمی اور ابدی ہے۔ بڑا ہی بد نصیب ہے وہ شخص جو اس کھیل میں مصروف رہے اور اس دائمی زندگی کی فکر نہ کرے۔
➋ {وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ: الدَّارَ } موصوف ہے اور { الْاٰخِرَةَ } اس کی صفت، آخری گھر۔ یہاں ایک لفظ محذوف ہے، یعنی{إِنَّ حَيَاةَ الدَّارِ الْآخِرَةِ لَهِيَ الْحَيَوَانُ الْحَيَوَانُ } مصدر ہے، جس طرح { اَلْحَيَاةُ } مصدر ہے۔ { الْحَيَوَانُ } میں حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے زندگی کے مفہوم میں مبالغہ پایا جاتا ہے، پھر { الْحَيَوَانُ } پر الف لام کمال کا مفہوم ادا کر رہا ہے، اس لیے{ الْحَيَوَانُ } کا ترجمہ اصل زندگی کیا گیا ہے۔ یعنی یقینا آخری گھر کی زندگی ہی اصل زندگی ہے، جسے کبھی زوال نہیں، اس لیے آدمی کو چاہیے کہ یہاں کی چند روزہ زندگی سے زیادہ آخری زندگی کی فکر کرے، کیونکہ وہ اصل اور دائمی ہے۔ دنیا کے کھیل تماشے میں غرق ہو کر عاقبت کو بھول نہ بیٹھے، بلکہ یہاں رہ کر وہاں کی تیاری کرے۔
➌ {لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ:} اگر وہ جانتے ہوتے تو فانی کو باقی پر ترجیح نہ دیتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کی قدر و قیمت بیان کرتے ہوئے فرمایا: [لَوْ كَانَتِ الدُّنْيَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللَّهِ جَنَاحَ بَعُوْضَةٍ مَا سَقٰی كَافِرًا مِنْهَا شَرْبَةَ مَاءٍ] [ترمذي، الزھد، باب ما جاء في ھوان الدنیا علی اللہ عزوجل: ۲۳۲۰، عن سھل بن سعد رضی اللہ عنہ، وقال الترمذي و الألباني صحیح] اگر دنیا اللہ تعالیٰ کے ہاں مچھر کے پر کے برابر ہوتی، تو اللہ تعالیٰ کسی کافر کو اس میں سے پانی کا ایک گھونٹ نہ پلاتا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

64-1یعنی جس دنیا نے انھیں آخرت سے اندھا اور اس کے لیے توشہ جمع کرنے سے غافل رکھا ہے وہ ایک کھیل سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی، کافر دنیا کے کاروبار میں مشغول رہتا ہے، اس کے لیے شب وروز محنت کرتا ہے لیکن جب مرتا ہے تو خالی ہاتھ ہوتا ہے۔ جس طرح بچے سارا دن مٹی کے گھروندوں سے کھیلتے ہیں پھر خالی ہاتھ گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔ سوائے تھکاوٹ کے انھیں کچھ حاصل نہیں ہوتا۔64-2اس لئے ایسے عمل صالح کرنے چاہئیں جن سے آخرت کا یہ گھر سنور جائے۔ 64-3کیونکہ اگر وہ یہ بات جان لیتے تو آخرت سے بےپرواہ ہو کر دنیا میں مگن نہ ہوتے۔ اس لئے ان کا علاج علم ہے، علم شریعت۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

64۔ یہ دنیا کی زندگی ایک کھیل تماشے کے سوا کچھ نہیں [97]۔ اصل زندگی تو آخرت کا گھر ہے۔ کاش! وہ لوگ یہ بات جانتے ہوتے۔
[97] دنیا کن لوگوں کے لیے کھیل تماشا ہے؟ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا میں سرے سے کوئی سنجیدگی اور حقیقت ہے ہی نہیں۔ اللہ کے فرمانبرداروں اور اسے آخرت کے مقابلہ میں حقیر سمجھنے والوں کے لئے اس دنیا کی زندگی کا ایک ایک لمحہ نہایت قیمتی ہوتا ہے اور وہ اس زندگی سے فائدہ اٹھا کر آخرت کماتے ہیں۔ دنیا کی زندگی محض کھیل تماشا آخرت کے مقابلہ میں ہے۔ اور ان لوگوں کے لئے ہے جو دنیا کی محبت میں مستغرق رہتے اور اللہ اور آخرت کی یاد سے غافل رہتے ہیں۔ انھیں واقعی یہ دنیا ایک کھیل تماشا ہی معلوم ہو گی۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے کوئی بازی گر کٹھ پتلیوں کا تماشا دکھاتا ہے۔ ایک بادشاہ ہوتا ہے کچھ وزیر اور کچھ دوسرے کردار ہوتے ہیں۔ اور ڈرامہ مکمل ہونے کے بعد سب لوگوں کے سامنے تماشا دکھا کر غائب ہو جاتے ہیں۔ بالکل یہی صورت حال دنیا کے بادشاہوں اور دوسرے لوگوں کی ہوتی ہے۔ لہٰذا کسی شخص کو بھی دنیا کی دلفریبیوں اور رعنائیوں میں پھنس کر اللہ کی یاد سے غافل نہیں رہنا چاہئے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

جب عکرمہ طوفان میں گھر گئے ٭٭
دنیا کی حقارت و ذلت، اس کے زوال و فنا کا ذکر ہو رہا ہے کہ اسے کوئی دوام نہیں، اس کا کوئی ثبات نہیں۔ یہ تو صرف لہو و لعب ہے۔ البتہ دار آخرت کی زندگی دوام و بقا کی زندگی ہے۔ وہ زوال و فنا سے، قلت و ذلت سے دور ہے۔ اگر انہیں علم ہوتا تو اس بقا والی چیز پر اس فانی چیز کو ترجیح نہ دیتے۔
پھر فرمایا کہ مشرکین بےکسی اور بےبسی کے وقت تو اللہ وحدہ لاشریک لہ کو ہی پکارنے لگتے ہیں۔ پھر مصیبت کے ہٹ جانے اور مشکل کے ٹل جانے کے بعد اس کے ساتھ دوسروں کا نام کیوں لیتے ہیں؟
جیسے اور جگہ ارشاد ہے: «وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِيَّاهُ فَلَمَّا نَجّٰىكُمْ اِلَى الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الْاِنْسَانُ كَفُوْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:67]‏‏‏‏ یعنی ’ جب سمندر میں مشکل میں پھنستے ہیں، اس وقت اللہ کے سوا سب کو بھول جاتے ہیں اور جب وہاں سے نجات پاکر خشکی میں آ جاتے ہیں تو فوراً ہی منہ پھیر لیتے ہیں۔ ‘
سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ { جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو عکرمہ ابن ابی جہل یہاں سے بھاگ نکلا اور حبشہ جانے کے ارادے سے کشتی میں بیٹھ گیا۔ اتفاقاً سخت طوفان آیا اور کشتی ادھر ادھر ہونے لگی۔ جتنے مشرکین کشتی میں تھے، سب کہنے لگے: یہ موقعہ صرف اللہ ہی کو پکارنے کا ہے۔ اٹھو اور خلوص کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرو۔ اس وقت نجات اسی کے ہاتھ ہے۔ یہ سنتے ہی عکرمہ نے کہا: سنو اللہ کی قسم! اگر سمندر کی اس بلا سے سوائے اللہ کے کوئی نجات نہیں دے سکتا تو خشکی کی مصیبتوں کا ٹالنے والا بھی وہی ہے۔ اللہ میں تجھ سے عہد کرتا ہوں کہ اگر میں یہاں سے بچ گیا تو سیدھا جا کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ہاتھ رکھ دوں گا اور آپ کا کلمہ پڑھ لوں گا۔ مجھے یقین ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میری خطاؤں سے درگزر فرما لیں گے اور مجھ پر رحم و کرم فرمائیں گے۔ چنانچہ یہی ہوا بھی۔ } ۱؎ [سیرة ابن اسحاق،حاکم:241/3:ضعیف]‏‏‏‏
«لِيَكْفُرُوا» اور «وَلِيَتَمَتَّعُوا» میں لام جو ہے، اسے لام عافیت کہتے ہیں۔ اس لیے کہ ان کا قصد دراصل یہ نہیں ہوتا اور فی الواقع ان کی طرف نظریں ڈالنے سے بات بھی یہی ہے۔ ہاں اللہ تعالیٰ کی نسبت سے تو یہ لام تعلیل ہے۔ اس کی پوری تقریر ہم آیت «فَالْتَقَطَهٗٓ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِيَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّحَزَنًا اِنَّ فِرْعَوْنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِـــــِٕيْنَ» ۱؎ [28-القصص:8]‏‏‏‏ میں کر چکے ہیں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ دنیا و آخرت کے احوال کی خبر دیتا ہے اور اس ضمن میں دنیا سے بے رغبتی رکھنے کی ترغیب اور آخرت کا شوق پیدا کرتا ہے، اس لیے فرمایا: ﴿وَمَا هٰؔذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اور نہیں ہے یہ دنیا کی زندگی یعنی اس دنیاوی زندگی کی حقیقت ﴿اِلَّا لَهْوٌ وَّلَعِبٌ مگر کھیل کود۔ جس کی بنا پر دل غافل اور بدن کھیل میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو زیب و زینت اور ان لذات و شہوات سے لبریز کر دیا ہے جو دلوں کو کھینچ لیتی ہیں، آنکھوں کو خوبصورت نظر آتی ہیں اور نفوس باطلہ کو فرحت عطا کرتی ہیں، پھر دنیا کی یہ زینت و زیبائش جلد ہی زائل ہو کر سب ختم ہو جائے گی اور اس دنیا سے محبت کرنے والے کو ندامت اور خسارے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
رہا آخرت کا گھر تو وہی ﴿الْحَیَوَانُ حقیقی زندگی ہے، یعنی آخرت کی زندگی درحقیقت کامل زندگی ہے جس کے لوازم میں سے ہے کہ آخرت کے لوگوں کے بدن نہایت طاقتور اور ان کے قویٰ نہایت سخت ہوں، کیونکہ وہ ایسے ابدان اور قویٰ ہوں گے جو آخرت کی زندگی کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ اس زندگی میں ہر وہ چیز موجود ہو گی جو اس زندگی کی تکمیل کے لیے ضروری ہے اور جس سے لذت پوری ہوتی ہے، مثلاً: دلوں کو تازگی اور فرحت بخشنے والی چیزیں اور جسموں کی خواہشات کی تکمیل کے لیے ماکولات، مشروبات اور پاک بدن بیویاں وغیرہ ہوں گی جن کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی بشر کے خیال میں کبھی ان کا گزر ہوا ہے۔ ﴿لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ اگر وہ جانتے ہوتے۔ تو وہ کبھی دنیا کو آخرت پر ترجیح نہ دیتے اور اگر انھیں عقل ہوتی تو آخرت کی کامل زندگی کو چھوڑ کر لہوولعب کی زندگی کی طرف مائل نہ ہوتے۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ جنھیں علم ہے انھیں آخرت کو دنیا پر ترجیح دینی چاہیے کیونکہ انھیں دونوں جہانوں کی حالت معلوم ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى عن حالة الدُّنيا والآخرة، وفي ضمن ذلك التزهيد في الدنيا والتشويق للأخرى، فقال: {وما هذه الحياةُ الدُّنيا}: في الحقيقة {إلاَّ لهوٌ ولعبٌ}: تلهو بها القلوبُ، وتلعبُ بها الأبدانُ؛ بسبب ما جعلَ الله فيها من الزينة واللذَّات والشهواتِ الخالبة للقلوب المعرضة، الباهجة للعيون الغافلة، المفرِحة للنفوس المبطِلة الباطلة، ثم تزول سريعاً وتنقضي جميعاً ولم يحصل منها محبُّها إلاَّ على الندم والحسرة والخسران. وأما الدارُ الآخرةُ؛ فإنها دار {الحيوان}؛ أي: الحياة الكاملة، التي من لوازمها أن تكونَ أبدانُ أهلها في غاية القوَّة، وقواهم في غاية الشدَّة؛ لأنَّها أبدانٌ وقوى خُلِقَتْ للحياة، وأن يكون موجوداً فيها كلُّ ما تَكْمُلُ به الحياة، وتتمُّ به اللذَّة من مفرحات القلوب وشهوات الأبدان من المآكل والمشارب والمناكح وغير ذلك، ممَّا لا عينٌ رأتْ ولا أذنٌ سمعتْ ولا خطر على قلب بشر.

{لو كانوا يعلمون}: لما آثروا الدُّنيا على الآخرة، ولو كانوا يعقِلونَ؛ لما رغبوا عن دار الحيوان، ورغبوا في دار اللهو واللعب. فدلَّ ذلك: أنَّ الذين يعلمون لا بدَّ أن يؤثِروا الآخرة على الدُّنيا؛ لما يعلمونه من حالة الدارين.