تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ: ” الدَّارَ “} موصوف ہے اور {” الْاٰخِرَةَ “} اس کی صفت، آخری گھر۔ یہاں ایک لفظ محذوف ہے، یعنی{”إِنَّ حَيَاةَ الدَّارِ الْآخِرَةِ لَهِيَ الْحَيَوَانُ“ ” الْحَيَوَانُ “} مصدر ہے، جس طرح {” اَلْحَيَاةُ “} مصدر ہے۔ {” الْحَيَوَانُ “} میں حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے ”زندگی“ کے مفہوم میں مبالغہ پایا جاتا ہے، پھر {” الْحَيَوَانُ “} پر ”الف لام “ کمال کا مفہوم ادا کر رہا ہے، اس لیے{” الْحَيَوَانُ “} کا ترجمہ ”اصل زندگی“ کیا گیا ہے۔ یعنی یقینا آخری گھر کی زندگی ہی اصل زندگی ہے، جسے کبھی زوال نہیں، اس لیے آدمی کو چاہیے کہ یہاں کی چند روزہ زندگی سے زیادہ آخری زندگی کی فکر کرے، کیونکہ وہ اصل اور دائمی ہے۔ دنیا کے کھیل تماشے میں غرق ہو کر عاقبت کو بھول نہ بیٹھے، بلکہ یہاں رہ کر وہاں کی تیاری کرے۔
➌ {لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ:} اگر وہ جانتے ہوتے تو فانی کو باقی پر ترجیح نہ دیتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کی قدر و قیمت بیان کرتے ہوئے فرمایا: [لَوْ كَانَتِ الدُّنْيَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللَّهِ جَنَاحَ بَعُوْضَةٍ مَا سَقٰی كَافِرًا مِنْهَا شَرْبَةَ مَاءٍ] [ترمذي، الزھد، باب ما جاء في ھوان الدنیا علی اللہ عزوجل: ۲۳۲۰، عن سھل بن سعد رضی اللہ عنہ، وقال الترمذي و الألباني صحیح] ”اگر دنیا اللہ تعالیٰ کے ہاں مچھر کے پر کے برابر ہوتی، تو اللہ تعالیٰ کسی کافر کو اس میں سے پانی کا ایک گھونٹ نہ پلاتا۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پھر فرمایا کہ مشرکین بےکسی اور بےبسی کے وقت تو اللہ وحدہ لاشریک لہ کو ہی پکارنے لگتے ہیں۔ پھر مصیبت کے ہٹ جانے اور مشکل کے ٹل جانے کے بعد اس کے ساتھ دوسروں کا نام کیوں لیتے ہیں؟
جیسے اور جگہ ارشاد ہے: «وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِيَّاهُ فَلَمَّا نَجّٰىكُمْ اِلَى الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الْاِنْسَانُ كَفُوْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:67] یعنی ’ جب سمندر میں مشکل میں پھنستے ہیں، اس وقت اللہ کے سوا سب کو بھول جاتے ہیں اور جب وہاں سے نجات پاکر خشکی میں آ جاتے ہیں تو فوراً ہی منہ پھیر لیتے ہیں۔ ‘
«لِيَكْفُرُوا» اور «وَلِيَتَمَتَّعُوا» میں لام جو ہے، اسے لام عافیت کہتے ہیں۔ اس لیے کہ ان کا قصد دراصل یہ نہیں ہوتا اور فی الواقع ان کی طرف نظریں ڈالنے سے بات بھی یہی ہے۔ ہاں اللہ تعالیٰ کی نسبت سے تو یہ لام تعلیل ہے۔ اس کی پوری تقریر ہم آیت «فَالْتَقَطَهٗٓ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِيَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّحَزَنًا اِنَّ فِرْعَوْنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِـــــِٕيْنَ» ۱؎ [28-القصص:8] میں کر چکے ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن حالة الدُّنيا والآخرة، وفي ضمن ذلك التزهيد في الدنيا والتشويق للأخرى، فقال: {وما هذه الحياةُ الدُّنيا}: في الحقيقة {إلاَّ لهوٌ ولعبٌ}: تلهو بها القلوبُ، وتلعبُ بها الأبدانُ؛ بسبب ما جعلَ الله فيها من الزينة واللذَّات والشهواتِ الخالبة للقلوب المعرضة، الباهجة للعيون الغافلة، المفرِحة للنفوس المبطِلة الباطلة، ثم تزول سريعاً وتنقضي جميعاً ولم يحصل منها محبُّها إلاَّ على الندم والحسرة والخسران. وأما الدارُ الآخرةُ؛ فإنها دار {الحيوان}؛ أي: الحياة الكاملة، التي من لوازمها أن تكونَ أبدانُ أهلها في غاية القوَّة، وقواهم في غاية الشدَّة؛ لأنَّها أبدانٌ وقوى خُلِقَتْ للحياة، وأن يكون موجوداً فيها كلُّ ما تَكْمُلُ به الحياة، وتتمُّ به اللذَّة من مفرحات القلوب وشهوات الأبدان من المآكل والمشارب والمناكح وغير ذلك، ممَّا لا عينٌ رأتْ ولا أذنٌ سمعتْ ولا خطر على قلب بشر.
{لو كانوا يعلمون}: لما آثروا الدُّنيا على الآخرة، ولو كانوا يعقِلونَ؛ لما رغبوا عن دار الحيوان، ورغبوا في دار اللهو واللعب. فدلَّ ذلك: أنَّ الذين يعلمون لا بدَّ أن يؤثِروا الآخرة على الدُّنيا؛ لما يعلمونه من حالة الدارين.