(آیت 66) {لِيَكْفُرُوْابِمَاۤاٰتَيْنٰهُمْ …:} یعنی نجات پانے کے بعد شرک کرنے سے انھیں اس کے سوا کچھ حاصل نہیں کہ ہماری عطا کردہ نعمتوں کی ناشکری کرتے رہیں اور صرف دنیا کی لذتوں سے فائدہ اٹھاتے رہیں، جبکہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں۔ سو بہت جلد وہ اپنے اس کام کا انجام جان لیں گے۔ (بغوی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
66-1یہ لام کئی ہے جو علت کے لیے ہے۔ یعنی نجات کے بعد ان کا شرک کرنا اس لئے ہے کہ وہ کفران نعمت کریں اور دنیا کی لذتوں سے لطف اندوز ہوتے رہیں۔ کیونکہ اگر وہ ناشکری نہ کرتے تو اخلاص پر قائم رہتے اور صرف اللہ واحد کو ہی ہمیشہ پکارتے۔ گو ان کا مقصد کفر کرنا نہیں ہے لیکن دوبارہ شرک کے ارتکاب کا نتیجہ بہرحال کفر ہی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
66۔ تاکہ ہم نے جو کچھ انھیں دے رکھا ہے اس کی ناشکری کریں [98] اور مزے اڑاتے رہیں۔ جلد ہی انھیں (اس کا انجام) معلوم ہو جائے گا
[98] غیروں سے استمداد:۔
یعنی اس سے زیادہ نا شکری کی بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ ان کی ضروریات زندگی تو سب اللہ تعالیٰ مہیا کرے اور جب جان پر بن جائے تو اس مصیبت سے نجات بھی اللہ ہی دے۔ لیکن جب آسودہ حالی کا وقت آئے تو انسان نہ صرف یہ کہ اللہ کو بھول جائے۔ بلکہ اس کے اختیارات میں دوسروں کو بھی شریک بنانے لگے۔ اس آیت میں دور نبوی کے مشرکوں کا ذکر ہے جو کم از کم آڑے وقتوں میں تو اکیلے اللہ کو پکارتے تھے۔ مگر آج کا مشرک ان مشرکوں سے بازی لے گیا ہے۔ جو عقیدہ ہی یہ رکھتا ہے کہ اس کا پیر اس کے ہر کام اور اس کے سارے احوال سے واقف ہوتا ہے اور مشکل وقت میں اس سے فریاد کرنے پر فوراً وہ مدد کو پہنچ جاتا ہے۔ اور موت سامنے کھڑی دیکھ کر بھی ”یا بہاء الحق بیڑا بنے دھک“ جیسے نعرے لگاتا اور اپنے پیر کو فریاد رسی کے لئے پکارتا ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس کی وجہ کے لئے سورۃ یونس کا حاشیہ نمبر 34 ملاحظہ فرمائیے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس آیت کی تفسیر آیت 65 میں تا آیت 67 میں گزر چکی ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔