ترجمہ و تفسیر — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 62

اَللّٰہُ یَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖ وَ یَقۡدِرُ لَہٗ ؕ اِنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۶۲﴾
اللہ رزق فراخ کر دیتا ہے اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہے اور اس کے لیے تنگ کر دیتا ہے۔ بے شک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔ En
خدا ہی اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے روزی فراخ کر دیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے بیشک خدا ہر چیز سے واقف ہے
En
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے فراخ روزی دیتا ہے اور جسے چاہے تنگ۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز کا جاننے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 62) ➊ { اَللّٰهُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ …:} یعنی ہجرت کی وجہ سے کسی کا رزق کم نہیں ہوتا۔ رزق کا فراخ ہونا یا تنگ ہونا اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے، وہی جانتا ہے کہ کس کو کتنا رزق دینا چاہیے۔ اور اگر خطاب مشرکین سے ہو تو مطلب یہ ہے کہ رزق کھول دینا یا بند کر دینا تمھارے بنائے ہوئے داتاؤں اور دستگیروں کے ہاتھ میں نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا پوری طرح علم رکھنے والا ہے۔
اللہ رزق فراخ کر دیتا ہے اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہے اور اس کے لیے تنگ کر دیتا ہے کا ایک مطلب تویہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کا رزق چاہتا ہے فراخ کردیتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے، لیکن {يَقْدِرُ } کے بعد{ لَهٗ } کی وجہ سے ایک مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے رزق فراخ کر دیتا ہے اور اسی کے لیے کبھی تنگ بھی کر دیتا ہے۔ یہ اس کی مشیت پر موقوف ہے، جب چاہے کسی کا رزق کھول دے اور جب چاہے اس کا رزق تنگ کر دے، اس کا ہجرت کرنے یا نہ کرنے سے کوئی تعلق نہیں۔
➌ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہے رزق فراخ کر دیتا ہے اور اس کے لیے تنگ کر دیتا ہے، مگر بند نہیں کرتا۔
➍ { اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ:} یعنی اللہ کی مشیت اندھے کی لاٹھی کی طرح نہیں کہ بلا وجہ کسی کا رزق فراخ کر دے یا تنگ کر دے، بلکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے، وہ اپنے بندوں کی مصلحتوں سے خوب واقف ہے کہ کس کے حق میں فراخی سے روزی دینا بہتر ہے اور کس کے حق میں تنگی سے روزی دینا، یا ایک ہی بندے کو کب فراخی سے روزی دینا بہتر ہے اور کب تنگی سے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

62-1یہ مشرکین کے اعتراض کا جواب ہے جو وہ مسلمانوں پر کرتے تھے کہ اگر تم حق پر ہو تو پھر غریب اور کمزور کیوں ہو؟ اللہ نے فرمایا کہ رزق کی کشادگی اور کمی اللہ کے اختیار میں ہے وہ اپنی حکمت و مشیت کے مطابق جس کو چاہتا کم یا زیادہ دیتا ہے، اس کا تعلق اس کی رضامندی یا غضب سے نہیں ہے۔ 62-2اس کو بھی وہی جانتا ہے کہ زیادہ رزق کس کے لئے بہتر ہے اور کس کے لئے نہیں؟

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

62۔ اللہ ہی اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہے رزق کشادہ کر دیتا ہے اور جس کے لئے چاہے کم کر دیتا ہے [94] اور وہ یقیناً ہر بات سے خوب [95] واقف ہے۔
[94] مال کی محبت انسان کی فطرت میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے اور ہر انسان چاہتا ہے کہ اسے زیادہ سے زیادہ مال و دولت ملے۔ لیکن اللہ اتنا ہی دیتا ہے جتنا وہ خود چاہتا ہے۔ کسی کو زیادہ، کسی کو کم۔ لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ کسی کو کچھ بھی نہ دے، دیتا ضرور ہے۔ اور اس میں بھی اس کی کئی حکمتیں اور بندوں کی مصلحتیں مضمر ہیں۔
[95] کسی کو کم یا زیادہ رزق دینے میں اللہ کی حکمتیں اور بندوں کے مصالح:۔
وہ یہ بات خوب جانتا ہے کہ فلاں بندے کو اگر رزق زیادہ دیا گیا تو وہ اس سے خیر اور بھلائی ہی کمائے گا اور فلاں کو زیادہ دیا گیا تو وہ میری یاد سے غافل اور سرکش اور متکبر بن جائے گا اور کہیں کسی کو مال کو زیادہ دے کر اسے ابتلاء میں ڈال دیتا ہے۔ غرض یہ کہ مال سے جتنی انسان کو محبت ہے اتنا ہی وہ مال اس کے حق میں فتنہ بھی بن سکتا ہے۔ سیدنا ابوہریرہؓ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک شخص جنگل میں کھڑا تھا۔ اس نے بادل سے آواز سنی۔ (کسی نے آواز دی) کہ فلاں آدمی کے باغ کو پانی پلاؤ۔ چنانچہ بادل ایک طرف چلا۔ اور اپنا پانی ایک سنگلاخ زمین پر انڈیل دیا۔ اچانک نالیوں میں سے ایک نالے نے سارا پانی جمع کر لیا۔ وہ آدمی پانی کے پیچھے چلا دیکھا کہ ایک شخص اپنے باغ میں کھڑا ہے۔ اور اپنے بیلچے سے پانی ادھر ادھر کر رہا ہے۔ اس آدمی نے کہا: ”اللہ کے بندے تمہارا نام کیا ہے؟“ اس نے کہا ’فلاں‘ وہی نام ہے جو اس نے بادل سے سنا تھا۔ پھر اس نے دریافت کیا کہ اے اللہ کے بندے تو نام کیوں پوچھتا ہے؟ اس نے کہا ”میں نے اس بادل سے جس کا یہ پانی ہے آواز سنی تھی کہ فلاں کے باغ کو پانی پلا اور تیرا نام لیا“ پس تو اپنے باغ میں کیا کرتا ہے؟ اس نے کہا جب تو نے پوچھا ہے تو میں بتا دیتا ہوں کہ جو کچھ میرے باغ میں پیدا ہوتا ہے۔ اس کا تہائی حصہ صدقہ کر دیتا ہوں اور ایک تہائی میں اور میرا عیال کھاتا ہے۔ اور ایک تہائی اس باغ میں لگا دیتا ہوں۔ [صحیح مسلم۔ کتاب الزھد۔ باب فضل انفاق علی المساکین وابن السبیل]
ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ کا کچھ مال تقسیم فرما رہے تھے۔ آپ نے سب کو نہیں دیا، کسی کو دیا اور کسی کو چھوڑ دیا۔ پھر آپ نے اس تقسیم کی وضاحت فرماتے ہوئے کہا میں اس شخص کو مال دیتا ہوں جس کے دل میں بے چینی اور بوکھلا پن پاتا ہوں۔ حالانکہ جن لوگوں کو نہیں دیتا وہ مجھے ان سے زیادہ محبوب ہوتے ہیں جنہیں میں یہ مال دیتا ہوں اور جن محبوب لوگوں کو نہیں دیتا تو اس وجہ سے کہ اللہ نے ان کے دلوں میں سیر چشمی اور بھلائی رکھی ہوتی ہے۔ ایسے ہی لوگوں میں سے ایک عمرو بن تغلب ہے۔ عمرو بن تغلب کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! کہ جو خوشی مجھے آپ کی اس بات سے ہوئی اگر مجھے سرخ اونٹ بھی ملتے تو اتنی خوشی نہ ہوتی۔ [بخاری۔ کتاب الجمعه۔ باب من قال فی الخطبة بعد الثناء اما بعد]
ان واقعات سے معلوم ہو جاتا ہے کہ کسی کو کم یا زیادہ دینے میں اللہ کی کیا کچھ حکمتیں پوشیدہ ہوتی ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

توحید ربویت توحید الوہیت ٭٭
اللہ تعالیٰ ثابت کرتا ہے کہ معبود برحق صرف وہی ہے۔ خود مشرکین بھی اس بات کے قائل ہیں کہ آسمان و زمین کا پیدا کرنے والا، سورج کو مسخر کرنے والا، دن رات کو پے در پے لانے والا، خالق، رازق، موت و حیات پر قادر صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ غنا کے لائق کون ہے اور فقر کے لائق کون ہے؟ اپنے بندوں کی مصلحتیں اس کو پوری طرح معلوم ہیں۔
پس جبکہ مشرکین خود مانتے ہیں کہ تمام چیزوں کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے، سب پر قابض صرف وہی ہے۔ پھر اس کے سوا دوسروں کی عبادت کیوں کرتے ہیں؟ اور اس کے سوا دوسروں پر توکل کیوں کرتے ہیں؟
جبکہ ملک کا مالک وہ تنہا ہے تو عبادتوں کے لائق بھی وہ اکیلا ہے۔ توحید ربوبیت کو مان کر پھر توحید الوہیت سے انحراف عجیب چیز ہے۔ قرآن کریم میں توحید ربوبیت کے ساتھ ہی توحید الوہیت کا ذکر بکثرت ہے۔ اس لیے کہ توحید ربویت کے قائل مشرکین مکہ تو تھے ہی، انہیں قائل معقول کر کے پھر توحید الوہیت کی طرف دعوت دی جاتی ہے۔
{ مشرکین حج و عمرے میں لبیک پکارتے ہوئے بھی اللہ کے لاشریک ہونے کا اقرار کرتے تھے، کہتے تھے: «لَبَیْکَ لَاشَرِیْکَ لَکَ اِلَّا شَرِیْکًا ھُوَ لَکَ تَمْلِکُہُ وَمَا مَلَکَ» یعنی یا اللہ! ہم حاضر ہوئے، تیرا کوئی شریک نہیں مگر ایسے شریک جن کا مالک اور جن کے ملک کا مالک بھی تو ہی ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:1185]‏‏‏‏

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس آیت کی تفسیر آیت 61 میں تا آیت 64 میں گزر چکی ہے۔