ترجمہ و تفسیر — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 42

اِنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ مَا یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ مِنۡ شَیۡءٍ ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۴۲﴾
یقینا اللہ جانتا ہے جسے وہ اس کے سوا پکارتے ہیں کوئی بھی چیز ہو اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ En
یہ جس چیز کو خدا کے سوا پکارتے ہیں (خواہ) وہ کچھ ہی ہو خدا اُسے جانتا ہے۔ اور وہ غالب اور حکمت والا ہے
En
اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں کو جانتا ہے جنہیں وه اس کے سوا پکار رہے ہیں، وه زبردست اور ذی حکمت ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 42) ➊ {اِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا يَدْعُوْنَ …:} ممکن تھا عنکبوت کی مثال سن کر کوئی شخص تعجب کرتا کہ اللہ تعالیٰ نے سب کو مکڑی جیسا بے بس اور بے اختیار بنا دیا، کسی کو مستثنیٰ نہ کیا، بعض لوگ بتوں کو پوجتے ہیں، بعض آگ کو، بعض پانی کو جب کہ وہ لوگ بھی ہیں جو فرشتوں اور انبیاء و اولیاء کو پوجتے اور پکارتے ہیں۔ اس لیے فرمایا کہ لوگ اللہ کے سوا جس کسی کو بھی پکارتے ہیں اسے سب معلوم ہیں، اگر ان میں سے کسی کے پاس بھی کچھ قدرت یا اختیار ہوتا تو اللہ تعالیٰ سب کی سرے سے نفی نہ کرتا۔
➋ { وَ هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ:} یعنی اللہ خود سب پر غالب ہے، اسے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں اور وہ کمال حکمت والا ہے، اسے کسی کے مشورے کی ضرورت نہیں۔
➌ اس آیت کا ایک اور ترجمہ بھی ہو سکتا ہے یقینا اللہ جانتا ہے کہ یہ لوگ اس کے سوا کسی بھی چیز کو نہیں پکارتے۔ یعنی اسے چھوڑ کر جنھیں پکارتے ہیں وہ کچھ بھی نہیں اور عزیز و حکیم بس وہی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

42۔ یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر جس جس چیز کو پکارتے ہیں۔ اللہ اسے خوب جانتا [67] ہے اور وہی سب پر غالب اور حکمت [68] والا ہے۔
[67] اس آیت کے دو مطلب ہیں۔ ایک تو ترجمہ سے ہی واضح ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ جن جن چیزوں کو یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں ان کی حقیقت کچھ بھی نہیں اور محض لاشیئ ہیں۔
[68] یعنی اللہ کو نہ تو ان معبودان باطل کی رفاقت مطلوب ہے۔ کیونکہ خود ہی سب سے زبردست اور سب پر غالب ہے۔ اور نہ ہی ان سے کسی قسم کے مشورہ کی ضرورت ہے کیونکہ وہ حکیم مطلق ہے۔ اپنے ہر کام کی حکمت اور مصلحت سے خوب واقف ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
پھر اللہ تعالیٰ مشرکوں کو ڈرا رہا ہے کہ وہ ان سے ان کے شرک سے اور ان کے جھوٹے معبودوں سے خوب آگاہ ہے۔ انہیں ان کی شرارت کا ایسا مزہ چھکائے گا کہ یہ یاد کریں۔ انہیں ڈھیل دینے میں بھی اس کی مصلحت و حکمت ہے۔ نہ یہ کہ وہ علیم اللہ ان سے بے خبر ہو۔
ہم نے تو مثالوں سے بھی مسائل سمجھا دئیے۔ لیکن اس کے سوچنے سمجھنے کا مادہ، ان میں غوروفکر کرنے کی توفیق صرف باعمل علماء کو ہوتی ہے جو اپنے علم میں پورے ہیں۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ اللہ کی بیان کردہ مثالوں کو سمجھ لینا سچے علم کی دلیل ہے۔
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: { میں نے ایک ہزار مثالیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھی سمجھی ہیں۔ } (‏‏‏‏مسند احمد) ۱؎ [مسند احمد:203/4:ضعیف]‏‏‏‏ اس سے آپ کی فضیلت اور آپ کی علمیت ظاہر ہے۔
عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کلام اللہ شریف کی جو آیت میری تلاوت میں آئے اور اس کا تفصیلی معنوں کامطلب میری سمجھ میں نہ آئے تو میرا دل دکھتا ہے مجھے سخت تکلیف ہوتی ہے اور میں ڈرنے لگتا ہوں کہ کہیں اللہ کے نزدیک میری گنتی جاہلوں میں تو نہیں ہو گئی کیونکہ فرمان اللہ یہی ہے کہ ہم ان مثالوں کو لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں لیکن سوائے عالموں کے انہیں دوسرے سمجھ نہیں سکتے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے مشرکین کے معبودان باطل کی کمزوری بیان کرنے کے بعد اس سے زیادہ بلیغ اسلوب کی طرف ارتقا کیا، فرمایا کہ ان معبودان کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں بلکہ یہ تو مجرد نام ہیں جو انھوں نے گھڑ لیے ہیں اور محض وہم و گمان ہے جس کو انھوں نے عقیدہ بنا لیا ہے۔ تحقیق کے وقت ایک عقل مند شخص پر اس کا بطلان واضح ہو جائے گا بنابریں فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ یعنی اللہ تعالیٰ جانتا ہے … اور وہ غائب و موجود کا علم رکھنے والا ہے … کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا جس چیز کو پکارتے ہیں ان کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں، ان کا کوئی وجود ہے نہ وہ حقیقت میں الٰہ ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿اِنْ هِیَ اِلَّاۤ اَسْمَآءٌ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَاٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰ٘نٍ (النجم:53؍23) یہ صرف نام ہیں جن کو تم نے اور تمھارے آباء و اجداد نے گھڑ لیا ہے جس پر اللہ نے کوئی سند نہیں اتاری۔ اور فرمایا: ﴿وَمَا یَتَّ٘بِـعُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُ٘رَؔكَآءَ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّ٘نَّ وَاِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ (یونس:10؍66) اور وہ لوگ جو اللہ کے سوا کچھ خود ساختہ شریکوں کو پکارتے ہیں وہ صرف وہم و گمان کے پیرو ہیں اور وہ محض قیاس آرائیاں کررہے ہیں۔
﴿ وَهُوَ الْ٘عَزِیْزُ جو تمام قوت کا مالک اور جو تمام مخلوق پر غالب ہے ﴿ الْحَكِیْمُ جو تمام چیزوں کو ان کے لائق مقام پر رکھتا ہے، جس نے ہر چیز کو بہترین تخلیق سے نوازا اور اس نے جو حکم دیا بہترین حکم دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولمَّا بيَّن نهايةَ ضَعْف آلهة المشركين؛ ارتقى من هذا إلى ما هو أبلغ منه، وأنَّها ليس بشيء، بل هي مجرَّدُ أسماء سمَّوْها وظنونٍ اعتقدوها، وعند التحقيق يتبيَّن للعاقل بطلانها وعدمها، ولهذا قال: {إنَّ الله يعلمُ ما يَدعونَ من دونِهِ من شيءٍ}؛ أي: إنَّه تعالى يعلم ـ وهو عالم الغيب والشهادة ـ أنَّهم ما يدعون من دون الله شيئاً موجوداً ولا إلهاً له حقيقةً؛ كقوله تعالى: {إنْ هي إلاَّ أسماءٌ سَمَّيْتُوها أنتُم وآباؤكم ما أنْزَلَ الله بها من سلطانٍ}، وقوله: {وما يَتَّبِعُ الذين يَدْعون مِن دون الله شركاءَ إنْ يَتَّبِعون إلا الظنَّ}. {وهو العزيزُ}: الذي له القوَّة جميعاً، التي قهر بها جميع الخلق. {الحكيم}: الذي يضع الأشياء مواضِعَها، الذي أحسن كلَّ شيء خَلَقَه وأتقنَ ما أمره.