ترجمہ و تفسیر — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 41

مَثَلُ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اَوۡلِیَآءَ کَمَثَلِ الۡعَنۡکَبُوۡتِ ۖۚ اِتَّخَذَتۡ بَیۡتًا ؕ وَ اِنَّ اَوۡہَنَ الۡبُیُوۡتِ لَبَیۡتُ الۡعَنۡکَبُوۡتِ ۘ لَوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۴۱﴾
ان لوگوں کی مثال جنھوں نے اللہ کے سوا اور مددگار بنا رکھے ہیں مکڑی کی مثال جیسی ہے، جس نے ایک گھر بنایا، حالانکہ بے شک سب گھروں سے کمزور تو مکڑی کا گھر ہے، اگر وہ جانتے ہوتے۔ En
جن لوگوں نے خدا کے سوا (اوروں کو) کارساز بنا رکھا ہے اُن کی مثال مکڑی کی سی ہے کہ وہ بھی ایک (طرح کا) گھر بناتی ہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ تمام گھروں سے کمزور مکڑی کا گھر ہے کاش یہ (اس بات کو) جانتے
En
جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کارساز مقرر کر رکھے ہیں ان کی مثال مکڑی کی سی ہے کہ وه بھی ایک گھر بنا لیتی ہے، حاﻻنکہ تمام گھروں سے زیاده بودا گھر مکڑی کا گھر ہی ہے، کاش! وه جان لیتے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 41) {مَثَلُ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِيَآءَ …:} اللہ کے عذاب کے ساتھ ہلاک ہونے والی تمام اقوام اور تمام افراد کا اصل جرم اور اپنی جان پر ظلم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک تھا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا اور مددگار اور مشکل کشا بنا رکھے تھے، اب مکہ کے مشرکوں نے بھی انھی کی روش اپنا رکھی تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے مثال دے کر واضح فرمایا کہ اللہ کے سوا کسی کو مددگار سمجھنے والوں کی مثال مکڑی کی ہے جو گھر بناتی ہے، گھر کا فائدہ یہ ہے کہ وہ سردی، گرمی،بارش، آندھی اور حملہ آور سے بچاتا ہے، مگر مکڑی کا گھر نہ اسے سردی سے بچاتا ہے نہ گرمی سے، نہ بارش یا طوفان سے نہ ہی کسی حملہ آور سے، بلکہ اتنا بودا اور ناپائیدار ہوتا ہے کہ ہاتھ کے معمولی سے اشارے سے نیست و نابود ہو جاتا ہے۔ اللہ کے سوا کسی دوسرے کو معبود، حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنا بالکل ایسے ہی بے فائدہ ہے، کیونکہ وہ کسی کے کام نہیں آسکتے۔ اللہ کے سوا تمام سہارے بیکار ہیں، اگر وہ کوئی مدد کر سکتے تو گزشتہ اقوام کو تباہی سے بچا لیتے، مگر دنیا نے دیکھ لیا کہ وہ انھیں نہیں بچا سکے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

41-1یعنی جس طرح مکڑی کا جالا (گھر) نہایت، کمزور اور ناپائیدار ہوتا ہے، ہاتھ کے معمولی اشارے سے وہ نابود ہوجاتا ہے۔ اللہ کے سوا دوسروں کو معبود، حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنا بھی بالکل ایسا ہی ہے، یعنی بےفائدہ ہے کیونکہ وہ بھی کسی کے کام نہیں آسکتے۔ اس لئے غیر اللہ کے سہارے بھی مکڑی کے جالے کی طرح یکسر ناپائیدار ہیں۔ اگر یہ پائیدار یا نفع بخش ہوتے تو یہ معبود گزشتہ اقوام کو تباہی سے بچا لیتے۔ لیکن دنیا نے دیکھ لیا کہ وہ انھیں نہیں بچا سکے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

41۔ جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اوروں کو سرپرست بنا رکھا ہے ان کی مثال مکڑی جیسی ہے جس نے اپنا گھر بنایا ہو اور سب گھروں سے کمزور گھر مکڑی [66] کا گھر ہی ہوتا ہے۔ کاش! یہ لوگ کچھ جانتے
[66] مشرکوں کے معبودوں کی مثال جیسے مکڑی کا گھر ہو:۔
یعنی اوپر جن جن اقوام کا ذکر آیا ہے یہ سب ہی شرک اور بت پرستی میں مبتلا تھیں۔ انھیں چیزوں کو انہوں نے اپنا مشکل کشا سمجھ رکھا تھا اور ان کی خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر ان کے سامنے قربانیاں بھی پیش کی جائیں اور نذروں و نیازوں کے چڑھاوے بھی چڑھائے جاتے تھے، اس امید پر کہ ہمارے یہ سرپرست حضرات ہم سے خوش رہیں۔ اور مصیبت کے وقت ہمارے کام آئیں مگر ان مشرکوں کے معبودوں یا سرپرستوں کی مثال تو لکڑی کے گھر جیسی ہے جو اس قدر کمزور ہوتا ہے کہ انگلی کی ایک ہلکی سی جنبش سے تار تار ہو جاتا ہے اور گر پڑتا ہے۔ اسی طرح ان مشرکوں پر جب اللہ کا عذاب آیا تو اس عذاب کی پہلی اور ہلکی سی ضرب سے ہی ان کی تمام تر توقعات کا قصر تار تار ہو گیا اور ان کے معبود جہاں تھے وہیں پڑے کے پڑے رہ گئے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مکڑی کا جالا ٭٭
جو لوگ اللہ تعالیٰ رب العالمین کے سوا اوروں کی پرستش اور پوجاپاٹ کرتے ہیں ان کی کمزوری اور بےعلمی کا بیان ہو رہا ہے۔ یہ ان سے مدد، روزی اور سختی میں کام آنے کے امیدوار رہتے ہیں۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی مکڑی کے جالے میں بارش اور دھوپ اور سردی سے پناہ چاہے۔ اگر ان میں علم ہوتا تو یہ خالق کو چھوڑ کر مخلوق سے امیدیں وابستہ نہ کرتے۔ پس ان کا حال ایمانداروں کے حال کے بالکل برعکس ہے۔ وہ ایک مضبوط کڑے کو تھامے ہوئے ہیں اور یہ مکڑی کے جالے میں اپنا سرچھپائے ہوئے ہیں۔ اس کا دل اللہ کی طرف، اس کا جسم اعمال صالحہ کی طرف مشغول ہے اور اس کا دل مخلوق کی طرف اور جسم اس کی پرستش کی طرف جھکا ہوا ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ مثال، اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس شخص کے لیے بیان کی ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسری ہستیوں کی عبادت بھی کرتا ہے اور اس کا مقصد ان سے عزت، قوت اور منفعت کا حصول ہے، حالانکہ حقیقت اس کے مقصود کے بالکل برعکس ہے۔اس شخص کی مثال اس مکڑی کی سی ہے جس نے جالے کا گھر بنایا ہو تاکہ گرمی، سردی اور دیگر آفات سے محفوظ رہے۔ ﴿وَاِنَّ اَوْهَنَ الْبُیُوْتِ مگر سب سے کمزور گھر ﴿ لَبَیْتُ الْعَنْكَبُوْتِ مکڑی کا گھر ہوتا ہے۔ مکڑی سب سے کمزور حیوان اور اس کا گھر سب سے کمزور گھر ہے اور وہ گھر بنا کر اس میں کمزوری کے سوا کچھ اضافہ نہیں کرتی۔ اسی طرح یہ مشرکین جو اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے سرپرست بنا رہے ہیں۔ ہر لحاظ سے محتاج اور عاجز ہیں۔ یہ لوگ غیر اللہ کی اس لیے عبادت کرتے ہیں تاکہ ان کے ذریعے سے عزت اور فتح و نصرت حاصل کریں مگر وہ اپنی کمزوری اور بے بسی میں اضافہ ہی کرتے ہیں۔ انھوں نے اپنے بہت سے مصالح کو ان پر بھروسہ کرتے ہوئے، ان پر چھوڑ دیا اوران سے الگ ہوگئے کہ عنقریب ان کے معبود ذمہ داری اٹھالیں گے تو ان کے معبودوں نے ان کو چھوڑ دیا۔ پس انھیں ان سے کوئی فائدہ اور کوئی ادنیٰ سی مدد بھی حاصل نہیں ہو سکی۔ اگر انھیں اپنے حال کے بارے میں حقیقی علم ہوتا اور انھیں ان ہستیوں کی بے بسی کا حال بھی معلوم ہوتا تو وہ انھیں کبھی معبود نہ بناتے، ان سے بیزاری کااظہار کرتے اور رب قادر و رحیم کو اپنا والی و مددگار بناتے۔ بندہ جب اس قادر و رحیم کو اپنا سرپرست بنا کر اس پر بھروسہ کرتا ہے تو وہ اس کے دین و دنیا کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ اس کے قلب و بدن اور حال و اعمال میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذا مثلٌ ضربه الله لمن عَبَدَ معه غيرَه يقصدُ به التعزُّز والتقوِّي والنفع، وأنَّ الأمر بخلاف مقصوده؛ فإنَّ مَثَلَه كمثل العنكبوت اتَّخذت بيتاً يقيها من الحرِّ والبرد والآفات، {وإنَّ أوهنَ البيوتِ}: أضعفها وأوهاها {لبيتُ العنكبوتِ}: فالعنكبوت من الحيوانات الضعيفة، وبيتُها من أضعف البيوت؛ فما ازدادتْ باتِّخاذه إلاَّ ضعفاً.

كذلك هؤلاء الذين يتَّخذون من دونه أولياء فقراء عاجزون من جميع الوجوه، وحين اتَّخذوا الأولياء من دونه يتعزَّزون بهم ويستَنْصِرونهم؛ ازدادوا ضَعْفاً إلى ضعفهم ووهناً إلى وهنهم؛ فإنَّهم اتَّكلوا عليهم في كثير من مصالحهم، وألْقَوْها عليهم، وتخلَّوْا هم عنها؛ على أنَّ أولئك سيقومون بها، فخذلوهم، فلم يحصُلوا منهم على طائل، ولا أنالوهم من معونتهم أقلَّ نائل؛ فلو كانوا يعلمون حقيقة العلم حالهم وحال مَن اتَّخذوهم؛ لم يَتَّخِذوهم، ولتبرؤوا منهم، ولتولَّوا الربَّ القادر الرحيم، الذي إذا تولاَّه عبدُه وتوكَّل عليه؛ كفاه مؤونة دينه ودنياه، وازداد قوَّة إلى قوَّته في قلبه وبدنه وحاله وأعماله.