ترجمہ و تفسیر — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 43

وَ تِلۡکَ الۡاَمۡثَالُ نَضۡرِبُہَا لِلنَّاسِ ۚ وَ مَا یَعۡقِلُہَاۤ اِلَّا الۡعٰلِمُوۡنَ ﴿۴۳﴾
اور یہ مثالیں ہیں جو ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں اور انھیں صرف جاننے والے ہی سمجھتے ہیں۔ En
اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے بیان کرتے ہیں اور اُسے تو اہلِ دانش ہی سمجھتے ہیں
En
ہم ان مثالوں کو لوگوں کے لیے بیان فرما رہے ہیں انہیں صرف علم والے ہی سمجھتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 43) ➊ {وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ:} یہ کفار کے اس سوال کا جواب ہے کہ مکڑی، مچھر اور مکھی وغیرہ جیسی حقیر چیزوں کی مثال کی کیا ضرورت تھی؟ جیسا کہ فرمایا: «{ وَ اَمَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَيَقُوْلُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا [البقرۃ: ۲۶]اور رہے وہ جنھوں نے کفر کیا تو وہ کہتے ہیں اللہ نے اس کے ساتھ مثال دینے سے کیا ارادہ کیا؟ جواب دیا کہ مثال کا مقصد بات کو سمجھانا ہوتا ہے، کیونکہ مثال سے بات اچھی طرح ذہن نشین ہو جاتی ہے، مگر ان مثالوں کو صرف علم والے سمجھتے ہیں۔
➋ { وَ مَا يَعْقِلُهَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ: الْعٰلِمُوْنَ } (جاننے والوں) سے مراد ایسے لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کتاب اور زمین و آسمان میں پھیلی ہوئی بے شمار نشانیوں پر سوچ بچار کرتے ہیں، ایسے لوگ ہی راسخ فی العلم کہلانے کے حق دار ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

43-1یعنی انھیں خواب غفلت سے بیدار کرنے، شرک کی حقیقت سے آگاہ کرنے اور ہدایت کا راستہ سجھانے کے لئے۔ 43-2اس علم سے مراد اللہ کا، اس کی شریعت کا اور ان آیات و دلائل کا علم ہے جن پر غور و فکر کرنے سے انسان کو اللہ کی معرفت حاصل ہوتی اور ہدایت کا راستہ ملتا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

43۔ ہم یہ مثالیں لوگوں [69] (کو سمجھانے) کے لیے بیان کرتے ہیں۔ مگر انھیں سمجھتے وہی ہیں جو اہل علم ہے
[69] کس قسم کی مثال درست ہوتی ہے؟ اس آیت کے بھی دو مطلب ہیں ایک یہ کہ اقوام عالم کے یہ واقعات اس لئے بیان کرتے ہیں کہ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ انبیاء کی تکذیب اور اللہ کی نافرمانی کرنے والوں کا کیا انجام ہوتا ہے۔ اور اللہ اپنے فرمانبرداروں کو ظالموں سے نجات دینے کی کیسی کیسی صورتیں پیدا کر دیتا ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ کفار مکہ کو ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ اللہ کی شان اس بات سے بہت بلند تر ہے کہ مکھی، مچھر اور مکڑی جیسی حقیر مخلوق کی مثالیں بیان کرے۔ ایسا اعتراض جاہل قسم کے لوگ ہی کر سکتے ہیں اہل علم نہیں کر سکتے۔ اہل علم تو صرف یہ دیکھتے ہیں کہ آیا ممثل اور ممثل لہ میں جو شبیہ بیان کی جا رہی ہے وہ درست ہے؟ اگر وہ درست ہے تو پھر مثال بھی درست ہے وہ یہ نہیں دیکھتے کہ مثال بیان کرنے والی ہستی کوئی بڑی ہستی ہے یا چھوٹی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
پھر اللہ تعالیٰ مشرکوں کو ڈرا رہا ہے کہ وہ ان سے ان کے شرک سے اور ان کے جھوٹے معبودوں سے خوب آگاہ ہے۔ انہیں ان کی شرارت کا ایسا مزہ چھکائے گا کہ یہ یاد کریں۔ انہیں ڈھیل دینے میں بھی اس کی مصلحت و حکمت ہے۔ نہ یہ کہ وہ علیم اللہ ان سے بے خبر ہو۔
ہم نے تو مثالوں سے بھی مسائل سمجھا دئیے۔ لیکن اس کے سوچنے سمجھنے کا مادہ، ان میں غوروفکر کرنے کی توفیق صرف باعمل علماء کو ہوتی ہے جو اپنے علم میں پورے ہیں۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ اللہ کی بیان کردہ مثالوں کو سمجھ لینا سچے علم کی دلیل ہے۔
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: { میں نے ایک ہزار مثالیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھی سمجھی ہیں۔ } (‏‏‏‏مسند احمد) ۱؎ [مسند احمد:203/4:ضعیف]‏‏‏‏ اس سے آپ کی فضیلت اور آپ کی علمیت ظاہر ہے۔
عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کلام اللہ شریف کی جو آیت میری تلاوت میں آئے اور اس کا تفصیلی معنوں کامطلب میری سمجھ میں نہ آئے تو میرا دل دکھتا ہے مجھے سخت تکلیف ہوتی ہے اور میں ڈرنے لگتا ہوں کہ کہیں اللہ کے نزدیک میری گنتی جاہلوں میں تو نہیں ہو گئی کیونکہ فرمان اللہ یہی ہے کہ ہم ان مثالوں کو لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں لیکن سوائے عالموں کے انہیں دوسرے سمجھ نہیں سکتے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَتِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ مثالیں لوگوں کے فائدے اور ان کی تعلیم کی خاطر بیان کی ہیں کیونکہ ضرب الامثال علوم کو توضیح کے ساتھ بیان کرنے کا طریقہ ہے۔ ضرب الامثال کے ذریعے سے امور عقلیہ کو امور حسیہ کے قریب لایا جاتا ہے اور مثالوں کے ذریعے سے معانئ مطلوبہ واضح ہو جاتے ہیں۔ ﴿ وَمَا یَعْقِلُهَاۤ مگر اس میں غوروفکر کے بعد اس میں وہی لوگ فہم حاصل کرتے ہیں اور پھر اپنے قلب میں عقل کے ساتھ وہی لوگ اس کی تطبیق کرتے ہیں۔ ﴿ اِلَّا الْ٘عٰلِمُوْنَ جو حقیقی اہل علم ہیں اور علم ان کے قلب کی گہرائیوں میں جاگزیں ہے۔ یہ ضرب الامثال کی مدح و توصیف ہے نیزان میں تدبر کرنے اور ان کو سمجھنے کی ترغیب اورجو کوئی ان میں سمجھ پیدا کرتا ہے اس کی مدح و ثنا ہے اور اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ضرب الامثال استعمال کرنے والا شخص اہل علم میں سے ہے اور نیز جو ان کو نہیں سمجھتا وہ اہل علم میں شمار نہیں ہوتا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جو امثال بیان کی ہیں وہ بڑے بڑے امور، مطالب عالیہ اور مسائل جلیلہ میں بیان کی ہیں، اہل علم جانتے ہیں کہ ضرب الامثال دیگر اسالیبِ بیان سے زیادہ اہم ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود ان کو درخوراعتنا قرار دیا ہے اور اپنے بندوں کو ترغیب دی ہے کہ وہ ان میں غوروفکر کریں اور ان کی معرفت حاصل کرنے کی پوری کوشش کریں۔
رہا وہ شخص جو ضرب الامثال کی اہمیت کے باوجود، ان کو نہیں سمجھتا تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اہل علم میں سے نہیں ہے کیونکہ جب وہ نہایت اہم مسائل کی معرفت نہیں رکھتا تو غیر اہم مسائل میں اس کی عدم معرفت زیادہ اولیٰ ہے، بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے زیادہ تر اصول دین وغیرہ میں ضرب الامثال استعمال کی ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وتلك الأمثالُ نَضْرِبُها للناس}؛ أي: لأجلهم ولانتفاعهم وتعليمهم؛ لكونِها من الطرق الموضحة للعلوم؛ لأنَّها تُقَرِّبُ الأمور المعقولة بالأمور المحسوسة، فيتَّضح المعنى المطلوب بسببها؛ فهي مصلحة لعموم الناس. {و} لكن {مَا يَعقِلُهَا}: لفهمها وتدبرها وتطبيقها على ما ضُرِبَتْ له وَعَقَلَها في القلب {إلاَّ العالمونَ}؛ أي: إلاَّ أهلُ العلم الحقيقي، الذين وصل العلمُ إلى قلوبهم. وهذا مدحٌ للأمثال التي يضرِبُها، وحثٌّ على تدبُّرها وتعقُّلها، ومدحٌ لمن يَعْقِلها، وأنَّه عنوانٌ على أنَّه من أهل العلم، فعُلِمَ أنَّ مَنْ لم يَعْقِلْها ليس من العالمين.

والسببُ في ذلك أنَّ الأمثال التي يضرِبها الله في القرآن إنَّما هي للأمور الكبار والمطالب العالية والمسائل الجليلة، فأهلُ العلم يعرِفون أنَّها أهمُّ من غيرها؛ لاعتناء الله بها، وحثِّه عبادَه على تعقُّلها وتدبُّرها، فيبذلون جهدَهم في معرفتها، وأمّا من لم يَعْقِلْها مع أهميِّتها؛ فإنَّ ذلك دليلٌ على أنَّه ليس من أهل العلم؛ لأنَّه إذا لم يعرف المسائل المهمَّة، فعدم معرفتِهِ غيرَها من باب أولى وأحرى، ولهذا أكثرُ ما يضرِبُ اللهُ الأمثالَ في أصول الدين ونحوها.