تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ مَا يَعْقِلُهَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ: ” الْعٰلِمُوْنَ “} (جاننے والوں) سے مراد ایسے لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کتاب اور زمین و آسمان میں پھیلی ہوئی بے شمار نشانیوں پر سوچ بچار کرتے ہیں، ایسے لوگ ہی راسخ فی العلم کہلانے کے حق دار ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ہم نے تو مثالوں سے بھی مسائل سمجھا دئیے۔ لیکن اس کے سوچنے سمجھنے کا مادہ، ان میں غوروفکر کرنے کی توفیق صرف باعمل علماء کو ہوتی ہے جو اپنے علم میں پورے ہیں۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ اللہ کی بیان کردہ مثالوں کو سمجھ لینا سچے علم کی دلیل ہے۔
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: { میں نے ایک ہزار مثالیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھی سمجھی ہیں۔ } (مسند احمد) ۱؎ [مسند احمد:203/4:ضعیف] اس سے آپ کی فضیلت اور آپ کی علمیت ظاہر ہے۔
عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کلام اللہ شریف کی جو آیت میری تلاوت میں آئے اور اس کا تفصیلی معنوں کامطلب میری سمجھ میں نہ آئے تو میرا دل دکھتا ہے مجھے سخت تکلیف ہوتی ہے اور میں ڈرنے لگتا ہوں کہ کہیں اللہ کے نزدیک میری گنتی جاہلوں میں تو نہیں ہو گئی کیونکہ فرمان اللہ یہی ہے کہ ہم ان مثالوں کو لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں لیکن سوائے عالموں کے انہیں دوسرے سمجھ نہیں سکتے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وتلك الأمثالُ نَضْرِبُها للناس}؛ أي: لأجلهم ولانتفاعهم وتعليمهم؛ لكونِها من الطرق الموضحة للعلوم؛ لأنَّها تُقَرِّبُ الأمور المعقولة بالأمور المحسوسة، فيتَّضح المعنى المطلوب بسببها؛ فهي مصلحة لعموم الناس. {و} لكن {مَا يَعقِلُهَا}: لفهمها وتدبرها وتطبيقها على ما ضُرِبَتْ له وَعَقَلَها في القلب {إلاَّ العالمونَ}؛ أي: إلاَّ أهلُ العلم الحقيقي، الذين وصل العلمُ إلى قلوبهم. وهذا مدحٌ للأمثال التي يضرِبُها، وحثٌّ على تدبُّرها وتعقُّلها، ومدحٌ لمن يَعْقِلها، وأنَّه عنوانٌ على أنَّه من أهل العلم، فعُلِمَ أنَّ مَنْ لم يَعْقِلْها ليس من العالمين.
والسببُ في ذلك أنَّ الأمثال التي يضرِبها الله في القرآن إنَّما هي للأمور الكبار والمطالب العالية والمسائل الجليلة، فأهلُ العلم يعرِفون أنَّها أهمُّ من غيرها؛ لاعتناء الله بها، وحثِّه عبادَه على تعقُّلها وتدبُّرها، فيبذلون جهدَهم في معرفتها، وأمّا من لم يَعْقِلْها مع أهميِّتها؛ فإنَّ ذلك دليلٌ على أنَّه ليس من أهل العلم؛ لأنَّه إذا لم يعرف المسائل المهمَّة، فعدم معرفتِهِ غيرَها من باب أولى وأحرى، ولهذا أكثرُ ما يضرِبُ اللهُ الأمثالَ في أصول الدين ونحوها.