ترجمہ و تفسیر — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 34

اِنَّا مُنۡزِلُوۡنَ عَلٰۤی اَہۡلِ ہٰذِہِ الۡقَرۡیَۃِ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا کَانُوۡا یَفۡسُقُوۡنَ ﴿۳۴﴾
بے شک ہم اس بستی والوں پر آسمان سے ایک عذاب اتارنے والے ہیں، اس وجہ سے جو وہ نافرمانی کیا کرتے تھے۔ En
ہم اس بستی کے رہنے والوں پر اس سبب سے کہ یہ بدکرداری کرتے رہے ہیں آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں
En
ہم اس بستی والوں پر آسمانی عذاب نازل کرنے والے ہیں اس وجہ سے کہ یہ بےحکم ہو رہے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 33 میں تا آیت 35 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

34-1اس آسمانی عذاب سے وہی عذاب مراد ہے جس کے ذریعے سے قوم لوط کو ہلاک کیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ جبرائیل ؑ ان کی بستیوں کو زمین سے اکھیڑا آسمان کی بلندیوں تک لے گئے پھر ان ہی پر الٹا دیا گیا، اس کے بعد کھنگر پتھروں کی بارش ان پر ہوئی اور اس جگہ کو سخت بدبو دار بیحرہ (جھیل) میں تبدیل کردیا گیا (ابن کثیر)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

34۔ ہم اسی بستی کے رہنے والوں پر آسمان سے عذاب [52] نازل کرنے والے ہیں کیونکہ یہ بد کاری کر رہے تھے۔
[52] اللہ کا عذاب صبح دم ان پر نازل ہونے والا ہے۔ لہٰذا تم دیر نہ کرو۔ اور اپنے ہمراہیوں کو لے کر صبح ہونے سے پہلے پہلے ہی اس بستی سے کافی فاصلہ تک پہنچ جانا چاہئے ہم اس بد کار قوم پر شدید ترین عذاب نازل کرنے کے لئے آئے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس آیت کی تفسیر آیت 30 میں تا آیت 36 میں گزر چکی ہے۔