(آیت 18) ➊ {وَاِنْتُكَذِّبُوْافَقَدْكَذَّبَاُمَمٌمِّنْقَبْلِكُمْ:} واؤ عطف سے ظاہر ہے کہ اس سے پہلے والا جملہ، جس پر اس جملے کا عطف ہے، وہ محذوف ہے، یعنی {”فَإِنْتُصَدِّقُوْنِيْفَقَدْفُزْتُمْبِسَعَادَةِالدَّارَيْنِ“} ”سو اگر تم میری تصدیق کرو تو تم دنیا اور آخرت کی سعادت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔“ {”وَاِنْتُكَذِّبُوْا …“} اور اگر تم مجھے جھٹلا دو تو نصیحت کے لیے تمھارا یہ بات جاننا ہی کافی ہے کہ تم سے پہلے بہت سی امتوں نے اپنے انبیاء کو جھٹلایا، مثلاً قوم نوح، عاد، ثمود وغیرہ، تو ان کا انجام کیا ہوا۔ انھوں نے پیغمبروں کا کچھ بگاڑا یا اپنا انجام ہی خراب کیا؟ ➋ { وَمَاعَلَىالرَّسُوْلِاِلَّاالْبَلٰغُالْمُبِيْنُ:} اور رسول کے ذمے اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ اللہ کا پیغام اس طرح پہنچا دے کہ اس میں کوئی شک باقی نہ رہے، کسی کے ماننے یا نہ ماننے کی اس پر کوئی ذمہ داری نہیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔