ترجمہ و تفسیر — سورۃ القصص (28) — آیت 80

وَ قَالَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ وَیۡلَکُمۡ ثَوَابُ اللّٰہِ خَیۡرٌ لِّمَنۡ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ۚ وَ لَا یُلَقّٰہَاۤ اِلَّا الصّٰبِرُوۡنَ ﴿۸۰﴾
اور ان لوگوں نے کہا جنھیں علم دیا گیا تھا، افسوس تم پر! اللہ کا ثواب اس شخص کے لیے کہیں بہتر ہے جو ایمان لایا اور اس نے اچھا عمل کیا اور یہ چیز نہیں دی جاتی مگر انھی کو جو صبر کرنے والے ہیں۔ En
اور جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہنے لگے کہ تم پر افسوس۔ مومنوں اور نیکوکاروں کے لئے (جو) ثواب خدا (کے ہاں تیار ہے وہ) کہیں بہتر ہے اور وہ صرف صبر کرنے والوں ہی کو ملے گا
En
ذی علم لوگ انہیں سمجھانے لگے کہ افسوس! بہتر چیز تو وه ہے جو بطور ﺛواب انہیں ملے گی جو اللہ پر ایمان ﻻئیں اور نیک عمل کریں یہ بات انہی کے دل میں ڈالی جاتی ہے جو صبر وسہارا والے ہوں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 80) ➊ { وَ قَالَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ …:} وہ لوگ جنھیں علم دیا گیا تھا، کہنے لگے، افسوس تم پر! اللہ کی نافرمانی کے ساتھ حاصل ہونے والی اس زیب و زینت اور شان و شوکت کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ بدلا کہیں بہتر ہے جو وہ ایمان اور عمل صالح والوں کو عطا کرتا ہے۔ اس آیت میں اللہ کے ثواب سے مراد وہ رزق کریم ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکام پر قائم رہ کر محنت و کوشش کے نتیجے میں دنیا اور آخرت میں حاصل ہوتا ہے۔
➋ { وَ لَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الصّٰبِرُوْنَ:} صبر کی تین قسمیں ہیں، اللہ کے احکام پر صبر یعنی ان کا پابند رہنا، اس کی نافرمانی سے صبر یعنی اس سے بچتے رہنا اور مصیبتوں پر صبر۔ یعنی اللہ کا یہ ثواب صرف انھی لوگوں کو عطا کیا جاتا ہے جن میں اتنا صبر اور ثابت قدمی ہو کہ حلال طریقے اختیار کرنے پر مضبوطی کے ساتھ جمے رہیں، خواہ تھوڑا رزق ملے یا زیادہ، حرام سے قطعاً اجتناب کریں، خواہ اس سے کتنے فائدے مل رہے ہوں اور اس صدق و دیانت کی وجہ سے پیش آنے والی ہر مشکل اور مصیبت پر صبر کریں۔ دنیا کی تکالیف کو عارضی اور چند روزہ سمجھ کر کسی نہ کسی طرح گزار دیں اور اللہ تعالیٰ سے شکوہ شکایت کا کوئی لفظ زبان پر نہ لائیں۔ اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ثواب، جو مومن کو دنیا میں ملتا ہے، تھوڑا ہو یا زیادہ، کافر کے مال و منال سے خواہ وہ کتنا زیادہ ہو، اس لیے بہتر ہے کہ مومن کو اللہ کی فرماں برداری کی خوشی کا احساس، اس کے عطا کردہ رزق پر صبرو قناعت اور اس کی وجہ سے ملنے والی سکون و اطمینان کی دولت کے مقابلے میں کافر کے اموال و اولاد اور زیب و زینت کی کوئی حقیقت ہی نہیں، جو اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق ان کے لیے بے شمار رنج و غم اور عذاب کا باعث ہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ [التوبۃ: ۵۵] سو تجھے نہ ان کے اموال بھلے معلوم ہوں اور نہ ان کی اولاد، اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ انھیں ان کے ذریعے دنیا کی زندگی میں عذاب دے اور ان کی جانیں اس حال میں نکلیں کہ وہ کافر ہوں۔ اور آخرت میں اللہ کا ثواب کفار کی دنیوی زینت و مال سے اس لیے کہیں بہتر ہے کہ یہ عارضی ہے اور وہ باقی، اس میں بے شمار پریشانیوں اور رنج و غم کی آمیزش ہے اور وہ ہر قسم کے رنج و غم کی آمیزش سے پاک ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

80-1یعنی جن کے پاس دین کا علم تھا اور دنیا اور اس کے مظاہر کی اصل حقیقت سے باخبر تھے، انہوں نے کہا کہ یہ کیا ہے؟ کچھ بھی نہیں۔ اللہ نے اہل ایمان اور اعمال صالح بجا لانے والوں کے لئے جو اجر وثواب رکھا ہے وہ اس سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔ جیسے حدیث قدسی میں ہے۔ اللہ فرماتا ہے ' میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے ایسی ایسی چیزیں تیار کر رکھی ہیں جنہیں کسی آنکھ نے نہیں دیکھا، کسی کان نے نہیں سنا اور نہ کسی کے وہم و گمان میں ان کا ذکر ہوا ' (البخاری کتاب التوحید) 80-2یعنی یلقاھا میں ھا کا مرجع، کلمہ ہے اور یہ قول اللہ کا ہے۔ اور اگر اسے اہل علم ہی کے قول کا تتمہ قرار دیا جائے تو ھا کا مرجع جنت ہوگی یعنی جنت کے مستحق وہ صابر ہی ہوں گے جو دنیاوی لذتوں سے کنارہ کش اور آحرت کی زندگی میں رغبت رکھنے والے ہوں گے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

80۔ مگر جن لوگوں کو علم [108] دیا گیا تھا وہ کہنے لگے: جو شخص ایمان لائے اور نیک عمل کرے تو اس کے لئے اللہ کے ہاں جو ثواب ہے وہ (اس سے) بہتر ہے۔ اور وہ ثواب صبر کرنے والوں کو ہی [109] ملے گا۔
[108] علم سے مراد علم شریعت ہے:۔
یعنی جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آخرت کی کامیابی کے مقابلہ میں دنیا کا ساز و سامان جتنا بھی ہو وہ کچھ حقیقت رکھا۔ ایسے عالم لوگوں نے قارون اور اس کے ٹھاٹھ باٹھ پر رہنے والوں سے کہا، تمہاری دنیا سے یہ محبت تمہاری خطرناک بھول غلطی ہے۔ اصل کامیابی دنیا کی نہیں بلکہ آخرت کی کامیابی اور وہ اجر ہے جو ایماندار نیک لوگوں کو ملے گا۔
[109] صبر کے مفہوم کی وسعت :۔
یہاں صبر بڑے وسیع معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ اپنے آپ کو صرف حلال کمائی کی پابند بنائے رکھنا بھی صبر ہے۔ اللہ کی راہ میں پیش آنے والی مشکلات کو خندہ پیشانی سے برداشت کر لینا بھی صبر ہے۔ دنیوی جاہ و حشمت کو دیکھ کر اس پر فریفتہ نہ ہونا بھی صبر ہے۔ اور اخروی نجات اور کامیابی کو مطمح نظر بنا کر اپنے آپ کو احکام الٰہی کا پابند بنانا بھی صبر ہے۔ یعنی آخرت کا ثواب اور کامیابی انھیں لوگوں کا نصیب ہو گا جنہوں نے اس دنیا میں صبر، استقلال اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہو گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

سامان تعیش کی فروانی ٭٭
قارون ایک دن نہایت قیمتی پوشاک پہن کر زرق برق عمدہ سواری پرسوار ہو کر اپنے غلاموں کو آگے پیچھے بیش بہا پوشاکیں پہنائے ہوئے لے کر بڑے ٹھاٹھ سے اتراتا ہوا اکڑتا ہوا نکلا اس کا یہ ٹھاٹھ اور یہ زینت وتجمل دیکھ کر دنیا داروں کے منہ میں پانی بھر آیا اور کہنے لگے کاش کہ ہمارے پاس بھی اس جتنا مال ہوتا۔ یہ تو بڑا خوش نصیب ہے اور بڑی قسمت والا ہے۔
علماء کرام نے ان کی یہ بات سن کر انہیں اس خیال سے روکنا چاہا اور انہیں سمجھانے لگے کہ دیکھو اللہ نے جو کچھ اپنے مومن اور نیک بندوں کے لیے اپنے ہاں تیار کر رکھا ہے وہ اس سے کروڑہا درجہ بارونق دیرپا اور عمدہ ہے۔ تمہیں ان درجات کو حاصل کرنے کے لیے اس دو روزہ زندگی کو صبر وبرداشت سے گزارنا چاہیئے جنت صابروں کا حصہ ہے یہ مطلب بھی ہے کہ ایسے پاک کلمے صبر کرنے والوں کی زبان ہی سے نکلتے ہیں جو دنیا کی محبت سے دور اور دار آخرت کی محبت میں چور ہوتے ہیں اس صورت میں ممکن ہے کہ یہ کلام ان واعظوں کا نہ ہو بلکہ ان کے کام کی اور ان کی تعریف میں یہ جملہ اللہ کی طرف سے خبر ہو۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَقَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اور جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہنے لگے۔ وہ لوگ جو اشیاء کے حقائق کی معرفت رکھتے تھے اور جب وہ دنیا کے ظاہری روپ کو دیکھتے تھے تو اس کے باطن پر بھی ان کی نظر جاتی تھی۔ ﴿ وَیْلَكُمْ تم پر افسوس ان کے حال کو دیکھتے، ان کی تمناؤں پر دکھ محسوس کرتے اور ان کی بات پر نکیر کرتے ہوئے کہا: ﴿ ثَوَابُ اللّٰهِ ثواب عاجل یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت، اس کی محبت کی لذت، اس کی طرف انابت، اس کی طرف اقبال اور ثواب آخرت یعنی جنت کی نعمتیں اور جو کچھ اس میں ہے کہ نفس جن کی خواہش کرتے اور آنکھیں لذت حاصل کرتی ہیں ﴿ خَیْرٌ بہتر ہے اس چیز سے جس کی تم تمنا کر رہے ہو اور جس کی طرف تم رغبت رکھتے ہو۔
یہ تو ہے معاملے کی اصل حقیقت مگر اس حقیقت کا علم رکھنے والے سب لوگ تو اس کی طرف توجہ نہیں کرتے ﴿ اِلَّا الصّٰؔبِرُوْنَ اس کی توفیق صرف ان لوگوں کو عطا کی گئی ہے جو صبر سے بہرہ ور ہیں اور جن لوگوں نے نافرمانی کو چھوڑ کر اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا پابند کر رکھا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی تکلیف دہ قضاوقدر پر صبر کرتے ہیں، جو اپنے رب کو فراموش کر کے دنیا کی پرکشش لذات و شہوات میں مشغول ہوتے ہیں نہ یہ لذات شہوات ان کے ان مقاصد کی راہ میں حائل ہوتی ہیں جن کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے… یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ثواب کو اس دنیائے فانی پر ترجیح دیتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وقال الذين أوتوا العلم}: الذين عرفوا حقائقَ الأشياء ونظروا إلى باطن الدنيا حين نظر أولئك إلى ظاهرها: {ويلَكُم}: متوجِّعين من ما تمنَّوا لأنفسهم، راثين لحالهم، منكرين لمقالهم، {ثوابُ الله}: العاجلُ من لذَّة العبادة ومحبَّته والإنابة إليه والإقبال عليه، والآجلُ من الجنَّة وما فيها ممَّا تشتهيه الأنفس وتلذُّ الأعينُ خير من هذا الذي تمنَّيْتُم ورغبتُم فيه؛ فهذه حقيقة الأمر، ولكنْ ما كلُّ مَنْ يعلم ذلك يؤثر الأعلى على الأدنى، فما يُلَقَّى ذلك ويوفَّقُ له {إلاَّ الصابِرونَ}: الذين حبسوا أنفسَهم على طاعة الله وعن معصيتِهِ وعلى أقدارِهِ المؤلمةِ وصبروا على جواذب الدُّنيا وشهواتِها أن تَشْغَلَهم عن ربِّهم وأن تحولَ بينهم وبينَ ما خُلِقوا له؛ فهؤلاء الذين يؤثرون ثوابَ الله على الدُّنيا الفانية.