فَخَسَفۡنَا بِہٖ وَ بِدَارِہِ الۡاَرۡضَ ۟ فَمَا کَانَ لَہٗ مِنۡ فِئَۃٍ یَّنۡصُرُوۡنَہٗ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ٭ وَ مَا کَانَ مِنَ الۡمُنۡتَصِرِیۡنَ ﴿۸۱﴾
تو ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا، پھر نہ اس کے لیے کوئی جماعت تھی جو اللہ کے مقابلے میں اس کی مدد کرتی اور نہ وہ اپنا بچاؤ کرنے والوں سے تھا۔
En
پس ہم نے قارون کو اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا تو خدا کے سوا کوئی جماعت اس کی مددگار نہ ہوسکی۔ اور نہ وہ بدلہ لے سکا
En
(آخرکار) ہم نے اسے اس کے محل سمیت زمین میں دھنسا دیا اور اللہ کے سوا کوئی جماعت اس کی مدد کے لیے تیار نہ ہوئی نہ وه خود اپنے بچانے والوں میں سے ہو سکا
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 81) ➊ { فَخَسَفْنَا بِهٖ وَ بِدَارِهِ الْاَرْضَ:} اللہ تعالیٰ کو اس کے تکبر کے اس مظاہرے پر ایسی غیرت آئی کہ اس نے اسے اور اس کے گھر کو جس میں اس کے اہل و عیال، نوکر چاکر اور خزانے تھے، سب کو زمین میں دھنسا دیا۔ قارون کی اس حالت پر وہ حدیث منطبق ہوتی ہے جو ابن عمر رضی اللہ عنھما نے بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [بَيْنَمَا رَجُلٌ يَجُرُّ إِزَارَهُ مِنَ الْخُيَلاَءِ خُسِفَ بِهِ، فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِي الْأَرْضِ إِلٰي يَوْمِ الْقِيَامَةِ] [بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب: ۳۴۸۵] ”ایک آدمی اپنی چادر تکبر سے گھسیٹتا جا رہا تھا، تو اسی حالت میں اسے زمین میں دھنسا دیا گیا اور وہ قیامت کے دن تک زمین میں دھنستا چلا جا رہا ہے۔“ علمائے تفسیر کا رجحان یہ ہے کہ اس سے مراد قارون ہے۔
➋ اس آیت اور حدیث سے معلوم ہوا کہ تکبر سے چادر لٹکانا بھی اللہ تعالیٰ کو اس قدر ناپسند ہے کہ اگر اس کی رحمت نہ ہو تو ایسے آدمی کو زمین میں دھنسا دیا جائے۔ اس میں شک نہیں کہ کپڑا خود بخود ڈھلک جائے تو وہ تکبر نہیں، جیسا کہ ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کا کپڑا ڈھلک جاتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ تم تکبر سے ایسا نہیں کرتے، مگر بعض لوگ جان بوجھ کر کپڑا لٹکاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تکبر سے ایسا نہیں کرتے۔ ان کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سنیے، جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ نے ایک لمبی حدیث میں بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں فرمایا: [وَارْفَعْ إِزَارَكَ إِلٰی نِصْفِ السَّاقِ فَإِنْ أَبَيْتَ فَإِلَی الْكَعْبَيْنِ وَ إِيَّاكَ وَ إِسْبَالَ الْإِزَارِ فَإِنَّهَا مِنَ الْمَخِيْلَةِ وَ إِنَّ اللّٰهَ لاَ يُحِبُّ الْمَخِيْلَةَ] [أبو داوٗد، اللباس، باب ما جاء في إسبال الإزار: ۴۰۸۴، و صححہ الألباني] ”اپنی چادر نصف پنڈلی تک اٹھاؤ، اگر نہیں مانتے تو ٹخنوں تک اٹھاؤ، اور چادر لٹکانے سے بچو، کیونکہ یہ تکبر سے ہے اور یقینا اللہ تعالیٰ تکبر کو پسند نہیں کرتا۔“ اس سے ثابت ہوا کہ جان بوجھ کر کپڑا لٹکانا ہی تکبر ہے۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سننے کے بعد اسے نہ ماننا اور جان بوجھ کر کپڑا لٹکانا صاف تکبر ہے۔ جان بوجھ کر چادر لٹکانا اتنا بڑا گناہ ہے کہ ابوذر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَا يُزَكِّيْهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيْمٌ، قَالَ فَقَرَأَهَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، قَالَ أَبُوْ ذَرٍّ خَابُوْا وَخَسِرُوْا مَنْ هُمْ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ!؟ قَالَ الْمُسْبِلُ إِزَارَهُ وَالْمَنَّانُ وَ الْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ] [مسلم، الإیمان، باب بیان غلظ تحریم إسبال الإزار…: ۱۰۶]”تین آدمی ایسے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نہ ان سے کلام کرے گا، نہ ان کی طرف نگاہ کرے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔“ تین دفعہ فرمایا تو ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”وہ تو ناکام اور نامراد ہو گئے، یا رسول اللہ! وہ کون ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی چادر (ٹخنوں سے نیچے) لٹکانے والا اور احسان جتلانے والا اور اپنا سامان جھوٹی قسم کے ساتھ بیچنے والا۔“
➌ قرآن مجید کے بیان سے ظاہر ہے کہ اسے زمین میں دھنسانے کا باعث اس کا تکبر اور اس کے اظہار کے لیے اس کا اپنی زینت اور شان و شوکت کے ساتھ نکلنا تھا۔ مگر بعض مفسرین نے اس کی بغاوت اور سرکشی کے اور واقعات بھی بیان کیے ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ قارون نے ایک فاحشہ عورت کو اس شرط پر کچھ مال دیا کہ وہ موسیٰ علیہ السلام پر بدکاری کی تہمت لگائے، جب وہ بنی اسرائیل میں کھڑے ہو کر کتاب اللہ کی تلاوت کر رہے ہوں تو یہ عورت کہے کہ موسیٰ! تم نے میرے ساتھ ایسے ایسے کیا ہے۔ لہٰذا جب اس نے مجلس میں موسیٰ علیہ السلام کو یہ بات کہی تو وہ ڈر کر کانپ اٹھے اور دو رکعتیں پڑھ کر اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”میں تمھیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے سمندر کو پھاڑا اور تمھیں فرعون سے نجات دی اور فلاں فلاں احسانات کیے کہ تم ہر صورت وہ شخص بتاؤ جس نے تمھیں اس بات پر آمادہ کیا ہے جو تم نے کہی۔“ اس نے کہا، جب آپ نے مجھ سے قسم دے کر پوچھا ہے تو قارون نے مجھے اتنا مال دیا ہے، اس شرط پر کہ میں آپ کو اس اس طرح کہوں اور میں اللہ سے معافی مانگتی ہوں اور توبہ کرتی ہوں۔ اس پر موسیٰ علیہ السلام سجدے میں گر گئے اور قارون کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں وحی کی کہ میں نے زمین کو حکم دے دیا ہے کہ اس کے متعلق تمھارا حکم مانے تو موسیٰ علیہ السلام نے زمین کو حکم دیا کہ اسے نگل جائے، تو ایسا ہی ہوا۔ ابن کثیر نے یہ واقعہ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے نقل کیا ہے۔ سند اس کی اچھی بھی ہو تو یہ ان کا قول ہے، انھوں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل نہیں فرمایا اور ظاہر ہے کہ اس واقعہ کے وقت ابن عباس رضی اللہ عنھما موجود نہیں تھے، بلکہ درمیان میں سیکڑوں ہزاروں سال کا فاصلہ ہے۔ اس لیے اس کے اسرائیلی روایت ہونے میں کوئی شک نہیں، جس پر یقین ممکن نہیں۔ خصوصاً اس لیے کہ اس میں قارون کا سمندر سے پار ہونا بھی مذکور ہے، جب کہ سورۂ مومن میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو فرعون، ہامان اور قارون کی طرف بھیجنے اور ان تینوں کے آپ کو جھٹلانے کا ذکر فرمایا ہے، پھر فرعون اور اس کے ساتھیوں کے متعلق فرمایا: «{ وَ حَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْٓءُ الْعَذَابِ (45) اَلنَّارُ يُعْرَضُوْنَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَّ عَشِيًّا }» [المؤمن: ۴۵، ۴۶] ”اور آلِ فرعون کو برے عذاب نے گھیر لیا۔ جو آگ ہے، وہ اس پر صبح و شام پیش کیے جاتے ہیں۔“ اسی طرح سورۂ عنکبوت (۳۹، ۴۰) میں ان تینوں کے تکبر کی وجہ سے ایمان نہ لانے اور اپنے گناہوں میں پکڑے جانے کا ذکر ہے۔ غرض قرآن مجید سے قارون کے ایمان لانے یا سمندر سے پار جانے کا کوئی اشارہ نہیں ملتا، بلکہ اس کے مسلسل جھٹلانے، تکبر کرنے اور اس کی پاداش میں زمین کے اندر دھنس جانے کا ذکر ہی ملتا ہے۔ ابن کثیر نے فرمایا: ”یہاں بہت سی اسرائیلیات ذکر کی گئی ہیں جن سے ہم نے پہلو تہی کی ہے۔“ کاش! ابن کثیر یہ اسرائیلیات بھی ذکر نہ کرتے جو انھوں نے ذکر کی ہیں۔
➍ { فَمَا كَانَ لَهٗ مِنْ فِئَةٍ يَّنْصُرُوْنَهٗ …:} یعنی اس وقت نہ کوئی جماعت تھی جو اس کی مدد کو پہنچتی، نہ وہ خود اپنے آپ کو بچا سکا۔ اس کے نوکر چاکر، ساتھی اور دوست اس کے کسی کام نہ آ سکے۔
➋ اس آیت اور حدیث سے معلوم ہوا کہ تکبر سے چادر لٹکانا بھی اللہ تعالیٰ کو اس قدر ناپسند ہے کہ اگر اس کی رحمت نہ ہو تو ایسے آدمی کو زمین میں دھنسا دیا جائے۔ اس میں شک نہیں کہ کپڑا خود بخود ڈھلک جائے تو وہ تکبر نہیں، جیسا کہ ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کا کپڑا ڈھلک جاتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ تم تکبر سے ایسا نہیں کرتے، مگر بعض لوگ جان بوجھ کر کپڑا لٹکاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تکبر سے ایسا نہیں کرتے۔ ان کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سنیے، جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ نے ایک لمبی حدیث میں بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں فرمایا: [وَارْفَعْ إِزَارَكَ إِلٰی نِصْفِ السَّاقِ فَإِنْ أَبَيْتَ فَإِلَی الْكَعْبَيْنِ وَ إِيَّاكَ وَ إِسْبَالَ الْإِزَارِ فَإِنَّهَا مِنَ الْمَخِيْلَةِ وَ إِنَّ اللّٰهَ لاَ يُحِبُّ الْمَخِيْلَةَ] [أبو داوٗد، اللباس، باب ما جاء في إسبال الإزار: ۴۰۸۴، و صححہ الألباني] ”اپنی چادر نصف پنڈلی تک اٹھاؤ، اگر نہیں مانتے تو ٹخنوں تک اٹھاؤ، اور چادر لٹکانے سے بچو، کیونکہ یہ تکبر سے ہے اور یقینا اللہ تعالیٰ تکبر کو پسند نہیں کرتا۔“ اس سے ثابت ہوا کہ جان بوجھ کر کپڑا لٹکانا ہی تکبر ہے۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سننے کے بعد اسے نہ ماننا اور جان بوجھ کر کپڑا لٹکانا صاف تکبر ہے۔ جان بوجھ کر چادر لٹکانا اتنا بڑا گناہ ہے کہ ابوذر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَا يُزَكِّيْهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيْمٌ، قَالَ فَقَرَأَهَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، قَالَ أَبُوْ ذَرٍّ خَابُوْا وَخَسِرُوْا مَنْ هُمْ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ!؟ قَالَ الْمُسْبِلُ إِزَارَهُ وَالْمَنَّانُ وَ الْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ] [مسلم، الإیمان، باب بیان غلظ تحریم إسبال الإزار…: ۱۰۶]”تین آدمی ایسے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نہ ان سے کلام کرے گا، نہ ان کی طرف نگاہ کرے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔“ تین دفعہ فرمایا تو ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”وہ تو ناکام اور نامراد ہو گئے، یا رسول اللہ! وہ کون ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی چادر (ٹخنوں سے نیچے) لٹکانے والا اور احسان جتلانے والا اور اپنا سامان جھوٹی قسم کے ساتھ بیچنے والا۔“
➌ قرآن مجید کے بیان سے ظاہر ہے کہ اسے زمین میں دھنسانے کا باعث اس کا تکبر اور اس کے اظہار کے لیے اس کا اپنی زینت اور شان و شوکت کے ساتھ نکلنا تھا۔ مگر بعض مفسرین نے اس کی بغاوت اور سرکشی کے اور واقعات بھی بیان کیے ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ قارون نے ایک فاحشہ عورت کو اس شرط پر کچھ مال دیا کہ وہ موسیٰ علیہ السلام پر بدکاری کی تہمت لگائے، جب وہ بنی اسرائیل میں کھڑے ہو کر کتاب اللہ کی تلاوت کر رہے ہوں تو یہ عورت کہے کہ موسیٰ! تم نے میرے ساتھ ایسے ایسے کیا ہے۔ لہٰذا جب اس نے مجلس میں موسیٰ علیہ السلام کو یہ بات کہی تو وہ ڈر کر کانپ اٹھے اور دو رکعتیں پڑھ کر اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”میں تمھیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے سمندر کو پھاڑا اور تمھیں فرعون سے نجات دی اور فلاں فلاں احسانات کیے کہ تم ہر صورت وہ شخص بتاؤ جس نے تمھیں اس بات پر آمادہ کیا ہے جو تم نے کہی۔“ اس نے کہا، جب آپ نے مجھ سے قسم دے کر پوچھا ہے تو قارون نے مجھے اتنا مال دیا ہے، اس شرط پر کہ میں آپ کو اس اس طرح کہوں اور میں اللہ سے معافی مانگتی ہوں اور توبہ کرتی ہوں۔ اس پر موسیٰ علیہ السلام سجدے میں گر گئے اور قارون کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں وحی کی کہ میں نے زمین کو حکم دے دیا ہے کہ اس کے متعلق تمھارا حکم مانے تو موسیٰ علیہ السلام نے زمین کو حکم دیا کہ اسے نگل جائے، تو ایسا ہی ہوا۔ ابن کثیر نے یہ واقعہ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے نقل کیا ہے۔ سند اس کی اچھی بھی ہو تو یہ ان کا قول ہے، انھوں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل نہیں فرمایا اور ظاہر ہے کہ اس واقعہ کے وقت ابن عباس رضی اللہ عنھما موجود نہیں تھے، بلکہ درمیان میں سیکڑوں ہزاروں سال کا فاصلہ ہے۔ اس لیے اس کے اسرائیلی روایت ہونے میں کوئی شک نہیں، جس پر یقین ممکن نہیں۔ خصوصاً اس لیے کہ اس میں قارون کا سمندر سے پار ہونا بھی مذکور ہے، جب کہ سورۂ مومن میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو فرعون، ہامان اور قارون کی طرف بھیجنے اور ان تینوں کے آپ کو جھٹلانے کا ذکر فرمایا ہے، پھر فرعون اور اس کے ساتھیوں کے متعلق فرمایا: «{ وَ حَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْٓءُ الْعَذَابِ (45) اَلنَّارُ يُعْرَضُوْنَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَّ عَشِيًّا }» [المؤمن: ۴۵، ۴۶] ”اور آلِ فرعون کو برے عذاب نے گھیر لیا۔ جو آگ ہے، وہ اس پر صبح و شام پیش کیے جاتے ہیں۔“ اسی طرح سورۂ عنکبوت (۳۹، ۴۰) میں ان تینوں کے تکبر کی وجہ سے ایمان نہ لانے اور اپنے گناہوں میں پکڑے جانے کا ذکر ہے۔ غرض قرآن مجید سے قارون کے ایمان لانے یا سمندر سے پار جانے کا کوئی اشارہ نہیں ملتا، بلکہ اس کے مسلسل جھٹلانے، تکبر کرنے اور اس کی پاداش میں زمین کے اندر دھنس جانے کا ذکر ہی ملتا ہے۔ ابن کثیر نے فرمایا: ”یہاں بہت سی اسرائیلیات ذکر کی گئی ہیں جن سے ہم نے پہلو تہی کی ہے۔“ کاش! ابن کثیر یہ اسرائیلیات بھی ذکر نہ کرتے جو انھوں نے ذکر کی ہیں۔
➍ { فَمَا كَانَ لَهٗ مِنْ فِئَةٍ يَّنْصُرُوْنَهٗ …:} یعنی اس وقت نہ کوئی جماعت تھی جو اس کی مدد کو پہنچتی، نہ وہ خود اپنے آپ کو بچا سکا۔ اس کے نوکر چاکر، ساتھی اور دوست اس کے کسی کام نہ آ سکے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
81-1یعنی قارون کو اس کے تکبر کی وجہ سے اس کے محل اور خزانوں سمیت زمین میں دھنسا دیا۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ایک آدمی اپنی ازار زمین پر لٹکائے جا رہا تھا (اللہ کو اس کا یہ تکبر پسند نہیں آیا) اور اسے زمین میں دھنسا دیا گیا، پس وہ قیامت تک زمین میں دھنستا چلا جائے گا،۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
81۔ پھر ہم نے قارون اور اس کے گھر کو (سب کچھ) زمین میں دھنسا دیا [110] تو اس کے حامیوں کی کوئی جماعت ایسی نہ تھی جو اللہ کے مقابلہ میں اس کی مدد کرتی اور نہ ہی وہ خود بدلہ لے سکا۔
[110] قارون کا انجام:۔
کہتے ہیں کہ قارون جب موسیٰؑ کا مخالف بن کر فرعون سے جا ملا تو اس نے حضرت موسیٰؑ کو بدنام کرنے کے لئے ایک سازش تیار کی اور ایک فاحشہ عورت کو کچھ دے دلا کر اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ آپ پر زنا کی تہمت لگا دے۔ چنانچہ جب حضرت موسیٰؑ نے اسے قسم دے کر سچ سچ بات بتلانے کو کہا تو اس نے بتلا دیا کہ اس نے قارون کے بہکانے سے یہ حرکت کی تھی اور اصل مجرم قارون تھا۔ حضرت موسیٰؑ کو اس کی اس حرکت پر سخت غصہ آیا۔ آپ نے اس کے لئے بددعا کی۔ یہ اسی بددعا کا اثر تھا کہ قارون اپنے محل، اپنے خزانوں اور خادموں سمیت زمین میں دھنسا دیا۔ زمین کا اتنا ٹکڑا ہی سارے کا سارا عام سطح زمین سے بہت نیچے چلا گیا اور حب اس پر یہ قہر الٰہی نازل ہوا تو اس وقت نہ اس کے خزانے کچھ کام آسکے نہ اس کے خدام اور نہ ہی فرعون اور اس کی درباری اس کی مدد کو پہنچ سکے کہ وہ اسے زمین دھنس جانے سے بچا لیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ایک بالشت کا آدمی؟ ٭٭
اوپر قارون کی سرکشی بے ایمانی کا ذکر ہو چکا یہاں اس کے انجام کا بیان ہو رہا ہے۔ ایک حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ایک شخص اپنا تہبند لٹکائے فخر سے جا رہا تھا کہ اللہ نے زمین کو حکم دیا کہ اسے نگل جا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5790]
کتاب العجائب میں نوفل بن مساحق کہتے ہیں کہ نجران کی مسجد میں میں نے ایک نوجوان کو دیکھا بڑا لمبا چوڑا بھرپور جوانی کے نشہ میں چور گٹھے ہوئے بدن والا بانکا ترچھا اچھے رنگ ورغن، والا خوبصورت، شکیل۔ میں نگاہیں جماکر اس کے جمال وکمال کو دیکھنے لگا تو اس نے کہا کیا دیکھ رہے ہو؟ میں نے کہا آپ کے حسن و جمال کامشاہدہ کر رہا ہوں اور تعجب معلوم ہو رہا ہے۔ اس نے جواب دیا کہ تو ہی کیا خود اللہ تعالیٰ کو بھی تعجب ہے۔ نوفل کہتے ہیں کہ اس کلمہ کے کہتے ہی وہ گھٹنے لگا اور اس کا رنگ روپ اڑنے لگا اور قد پست ہونے لگا یہاں تک کہ بے قدر ایک بالشت کے رہ گیا۔ آخرکار اس کا کوئی قریبی رشتہ دار اپنی آستین میں ڈال کر لے گیا۔
یہ بھی مذکور ہے کہ قارون کی ہلاکت موسیٰ علیہ السلام کی بدعا سے ہوئی تھی اور اس کے سبب میں بہت کچھ اختلاف ہے۔ ایک سبب تو یہ بیان کیا جاتا ہے کہ قارون ملعون نے ایک فاحشہ عورت کو بہت کچھ مال ومتاع دے کر اس بات پر آمادہ کیا کہ عین اس وقت جب موسیٰ کلیم اللہ بنی اسرائیل میں کھڑے خطبہ کہہ رہے ہوں وہ آئے اور آپ علیہ السلام سے کہے کہ تو وہی ہے نا جس نے میرے ساتھ ایسا ایسا کیا۔ اس عورت نے یہی کیا موسیٰ علیہ السلام کانپ اٹھے اور اسی وقت نماز کی نیت باندھ لی اور دو رکعت ادا کر کے اس عورت کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمانے لگے تجھے اس اللہ کی قسم جس نے سمندر میں سے راستہ دیا اور تیری قوم کو فرعون کے مظالم سے نجات دی اور بھی بہت سے احسانات کئے تو جو سچا واقعہ ہے اسے بیان کر۔
یہ سن کر اس عورت کا رنگ بدل گیا اور اس نے صحیح واقعہ سب کے سامنے بیان کر دیا اور اللہ سے استغفار کیا اور سچے دل سے توبہ کر لی۔ موسیٰ علیہ السلام پھر سجدہ میں گر گئے اور قارون کی سزا چاہی۔ اللہ کی طرف سے وحی نازل ہوئی کہ میں نے زمین کو تیرے تابع کر دیا ہے۔ آپ علیہ السلام نے سجدے سے سر اٹھایا اور زمین سے کہا کہ تو اسے اور اس کے محل کو نگل لے۔ زمین نے یہی کیا۔
کتاب العجائب میں نوفل بن مساحق کہتے ہیں کہ نجران کی مسجد میں میں نے ایک نوجوان کو دیکھا بڑا لمبا چوڑا بھرپور جوانی کے نشہ میں چور گٹھے ہوئے بدن والا بانکا ترچھا اچھے رنگ ورغن، والا خوبصورت، شکیل۔ میں نگاہیں جماکر اس کے جمال وکمال کو دیکھنے لگا تو اس نے کہا کیا دیکھ رہے ہو؟ میں نے کہا آپ کے حسن و جمال کامشاہدہ کر رہا ہوں اور تعجب معلوم ہو رہا ہے۔ اس نے جواب دیا کہ تو ہی کیا خود اللہ تعالیٰ کو بھی تعجب ہے۔ نوفل کہتے ہیں کہ اس کلمہ کے کہتے ہی وہ گھٹنے لگا اور اس کا رنگ روپ اڑنے لگا اور قد پست ہونے لگا یہاں تک کہ بے قدر ایک بالشت کے رہ گیا۔ آخرکار اس کا کوئی قریبی رشتہ دار اپنی آستین میں ڈال کر لے گیا۔
یہ بھی مذکور ہے کہ قارون کی ہلاکت موسیٰ علیہ السلام کی بدعا سے ہوئی تھی اور اس کے سبب میں بہت کچھ اختلاف ہے۔ ایک سبب تو یہ بیان کیا جاتا ہے کہ قارون ملعون نے ایک فاحشہ عورت کو بہت کچھ مال ومتاع دے کر اس بات پر آمادہ کیا کہ عین اس وقت جب موسیٰ کلیم اللہ بنی اسرائیل میں کھڑے خطبہ کہہ رہے ہوں وہ آئے اور آپ علیہ السلام سے کہے کہ تو وہی ہے نا جس نے میرے ساتھ ایسا ایسا کیا۔ اس عورت نے یہی کیا موسیٰ علیہ السلام کانپ اٹھے اور اسی وقت نماز کی نیت باندھ لی اور دو رکعت ادا کر کے اس عورت کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمانے لگے تجھے اس اللہ کی قسم جس نے سمندر میں سے راستہ دیا اور تیری قوم کو فرعون کے مظالم سے نجات دی اور بھی بہت سے احسانات کئے تو جو سچا واقعہ ہے اسے بیان کر۔
یہ سن کر اس عورت کا رنگ بدل گیا اور اس نے صحیح واقعہ سب کے سامنے بیان کر دیا اور اللہ سے استغفار کیا اور سچے دل سے توبہ کر لی۔ موسیٰ علیہ السلام پھر سجدہ میں گر گئے اور قارون کی سزا چاہی۔ اللہ کی طرف سے وحی نازل ہوئی کہ میں نے زمین کو تیرے تابع کر دیا ہے۔ آپ علیہ السلام نے سجدے سے سر اٹھایا اور زمین سے کہا کہ تو اسے اور اس کے محل کو نگل لے۔ زمین نے یہی کیا۔
دوسرا سبب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ جب قارون کی سواری اس طمطراق سے نکلی سفید قیمتی خچر پر بیش بہا پوشاک پہنے سوار تھا، اس کے غلام بھی سب کے سب ریشمی لباسوں میں تھے۔ ادھر موسیٰ علیہ السلام خطبہ پڑھ رہے تھے بنو اسرائیل کا مجمع تھا۔ یہ جب وہاں سے نکلا تو سب کی نگاہیں اس پر اور اس کی دھوم دھام پر لگ گئیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے اسے دیکھ کر پوچھا آج اس طرح کیسے نکلے؟ اس نے کہا بات یہ ہے کہ ایک بات اللہ نے تمہیں دے رکھی ہے اور ایک فضیلت مجھے دے رکھی ہے اگر تمہارے پاس نبوت ہے تو میرے پاس یہ جاہ وحشم ہے اور اگر آپ کو میری فضیلت پر شک ہو تو میں تیار ہوں کہ آپ اور میں چلیں اور اللہ سے دعا کریں۔ دیکھ لیجئے کہ اللہ کس کی دعا قبول فرماتا ہے۔
آپ علیہ السلام اس بات پر آمادہ ہو گئے اور اس کو لے کر چلے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ پہلے تو دعا کرتا ہے یا میں کروں؟ اس نے کہا نہیں میں کرونگا اب اس نے دعا مانگنی شروع کر دی اور ختم ہو گئی لیکن دعا قبول نہ ہوئی۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا اب دعا میں کرتا ہوں اس نے کہا ہاں کیجئے۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یا اللہ زمین کو حکم دے کہ جو میں کہوں مان لے اللہ نے آپ کی دعا قبول فرمائی اور وحی آئی کہ میں نے زمین کو تیری اطاعت کا حکم دے دیا ہے۔
موسیٰ علیہ السلام نے یہ سن کر زمین سے فرمایا اے زمین! اسے اور اس کے لوگوں کو پکڑ لے وہیں یہ لوگ اپنے قدموں تک زمین میں دھنس گئے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا اور پکڑے لے۔ یہ اپنے گھٹنوں تک دھنس گئے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا اور پکڑ یہ مونڈھوں تک زمین میں دھنس گئے۔ پھر فرمایا ان کے خزانے اور مال بھی یہیں لے آ۔ اسی وقت ان کے کل خزانے اور مال وہاں آ گئے اور انہوں نے اپنی آنکھوں سے ان سب کو دیکھ لیا پھر آپ علیہ السلام نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ ان کو ان کے خزانوں سمیت اپنے اندر کر لے اسی وقت یہ سب غارت ہوگئے اور زمین جیسی تھی ویسی ہوگئی۔
آپ علیہ السلام اس بات پر آمادہ ہو گئے اور اس کو لے کر چلے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ پہلے تو دعا کرتا ہے یا میں کروں؟ اس نے کہا نہیں میں کرونگا اب اس نے دعا مانگنی شروع کر دی اور ختم ہو گئی لیکن دعا قبول نہ ہوئی۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا اب دعا میں کرتا ہوں اس نے کہا ہاں کیجئے۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یا اللہ زمین کو حکم دے کہ جو میں کہوں مان لے اللہ نے آپ کی دعا قبول فرمائی اور وحی آئی کہ میں نے زمین کو تیری اطاعت کا حکم دے دیا ہے۔
موسیٰ علیہ السلام نے یہ سن کر زمین سے فرمایا اے زمین! اسے اور اس کے لوگوں کو پکڑ لے وہیں یہ لوگ اپنے قدموں تک زمین میں دھنس گئے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا اور پکڑے لے۔ یہ اپنے گھٹنوں تک دھنس گئے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا اور پکڑ یہ مونڈھوں تک زمین میں دھنس گئے۔ پھر فرمایا ان کے خزانے اور مال بھی یہیں لے آ۔ اسی وقت ان کے کل خزانے اور مال وہاں آ گئے اور انہوں نے اپنی آنکھوں سے ان سب کو دیکھ لیا پھر آپ علیہ السلام نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ ان کو ان کے خزانوں سمیت اپنے اندر کر لے اسی وقت یہ سب غارت ہوگئے اور زمین جیسی تھی ویسی ہوگئی۔
مروی ہے کہ ساتوں زمین تک یہ لوگ بقدر انسان دھنستے جا رہے ہیں قیامت تک اسی عذاب میں رہیں گے۔ یہاں پر بنی اسرائیل کی اور بہت سی روایتیں ہیں لیکن ہم نے ان کا ذکر یہاں چھوڑ دیا ہے۔
نہ تو مال ان کے کام آیا نہ جاہ و حشم نہ دولت وتمکنت نہ کوئی ان کی مدد کے لیے اٹھا نہ یہ خود اپنا کوئی بچاؤ کر سکے۔ تباہ ہو گئے بینشان ہو گئے مٹ گئے اور مٹادئیے گئے «اعاذنا الله» اس وقت تو ان لوگوں کی بھی آنکھیں کھل گئی جو قارون کی دولت کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتے تھے۔ اور اسے نصیب دار سمجھ کر لمبے سانس لیا کرتے تھے اور رشک کیا کرتے تھے کہ کاش ہم ایسے دولت مند ہوتے۔ وہ کہنے لگے اب دیکھ لیا کہ واقعی سچ ہے دولت مند ہونا کچھ اللہ کی رضا مندی کا سبب نہیں۔ یہ اللہ کی حکمت ہے جسے چاہے زیادہ دے جسے چاہے کم دے۔ جس پر چاہے وسعت کرے جس پر چاہے تنگ کرے۔ اس کی حکمتیں وہی جانتا ہے۔
ایک حدیث میں بھی ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے تم میں اخلاق کی بھی اسی طرح تقسیم کی ہے جس طرح روزی کی۔ مال تو اللہ کی طرف سے اس کے دوستوں کو بھی ملتا ہے اور اس کے دشمنوں کو بھی۔ البتہ ایمان اللہ کی طرف سے اسی کو ملتا ہے جسے اللہ چاہتا ہو }۔ ۱؎ [مسند احمد:387/1:صحیح موقوف فی حکم المرفوع]
قارون کے اس دھنسائے جانے کو دیکھ کر وہ جو اس جیسا بننے کی امیدیں کر رہے تھے کہنے لگے اگر اللہ کا لطف واحسان ہم پر نہ ہوتا تو ہماری اس تمناکے بدلے جو ہمارے دل میں تھی کہ کاش ہم بھی ایسے ہی ہوتے۔ آج اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس کے ساتھ دھنسا دیتا۔ وہ کافر تھا اور کافر اللہ کے ہاں فلاح کے لائق نہیں ہوتے۔ نہ انہیں دنیا میں کامیابی ملے نہ آخرت میں ہی وہ چھٹکارا پائیں۔
نحوی کہتے ہیں «وَیْکَاَنَّ» کے معنی «وَیْلَكَ اِعْلَمْ اَنَّ» ہیں لیکن مخفف کر کے «وَیْکَ» رہ گیا اور «اَنْ» کے فتح نے «اِعْلَمْ» کے محذوف ہونے پر دلالت کر دی۔ لیکن اس قول کو امام ابن جریر نے ضعیف بتایا ہے۔ مگر میں کہتا ہوں یہ ضعیف کہنا ٹھیک نہیں۔ قرآن کریم میں اس کی کتابت کا ایک ساتھ ہونا اس کے ضعیف ہونے کی وجہ نہیں بن سکتا۔ اس لیے کہ کتابت کا طریقہ تو اختراعی امر ہے جو رواج پا گیا وہی معتبر سمجھا جاتا ہے۔ اس سے معنی پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
دوسرے معنی اس کے «اَلَمْ تَرَاَنَّ» کے لیے گئے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس طرح یہ دو لفظ ہیں «وَیْ» اور «کَاَنَّ» ۔ حرف «وَیْ» تعجب کے لیے ہیں اور یا تنبیہہ کے لیے اور «کَاَنَّ» معنی میں «اَظُنُّ» کے ہے۔ ان تمام اقوال میں قوی قول یہ ہے کہ یہ معنی میں «اَلَمْ تَرَ» کے ہے یعنی کیا نہ دیکھا تو نے جیسے کہ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے اور یہی معنی عربی شعر میں بھی مراد لیے گئے ہیں۔
نہ تو مال ان کے کام آیا نہ جاہ و حشم نہ دولت وتمکنت نہ کوئی ان کی مدد کے لیے اٹھا نہ یہ خود اپنا کوئی بچاؤ کر سکے۔ تباہ ہو گئے بینشان ہو گئے مٹ گئے اور مٹادئیے گئے «اعاذنا الله» اس وقت تو ان لوگوں کی بھی آنکھیں کھل گئی جو قارون کی دولت کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتے تھے۔ اور اسے نصیب دار سمجھ کر لمبے سانس لیا کرتے تھے اور رشک کیا کرتے تھے کہ کاش ہم ایسے دولت مند ہوتے۔ وہ کہنے لگے اب دیکھ لیا کہ واقعی سچ ہے دولت مند ہونا کچھ اللہ کی رضا مندی کا سبب نہیں۔ یہ اللہ کی حکمت ہے جسے چاہے زیادہ دے جسے چاہے کم دے۔ جس پر چاہے وسعت کرے جس پر چاہے تنگ کرے۔ اس کی حکمتیں وہی جانتا ہے۔
ایک حدیث میں بھی ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے تم میں اخلاق کی بھی اسی طرح تقسیم کی ہے جس طرح روزی کی۔ مال تو اللہ کی طرف سے اس کے دوستوں کو بھی ملتا ہے اور اس کے دشمنوں کو بھی۔ البتہ ایمان اللہ کی طرف سے اسی کو ملتا ہے جسے اللہ چاہتا ہو }۔ ۱؎ [مسند احمد:387/1:صحیح موقوف فی حکم المرفوع]
قارون کے اس دھنسائے جانے کو دیکھ کر وہ جو اس جیسا بننے کی امیدیں کر رہے تھے کہنے لگے اگر اللہ کا لطف واحسان ہم پر نہ ہوتا تو ہماری اس تمناکے بدلے جو ہمارے دل میں تھی کہ کاش ہم بھی ایسے ہی ہوتے۔ آج اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس کے ساتھ دھنسا دیتا۔ وہ کافر تھا اور کافر اللہ کے ہاں فلاح کے لائق نہیں ہوتے۔ نہ انہیں دنیا میں کامیابی ملے نہ آخرت میں ہی وہ چھٹکارا پائیں۔
نحوی کہتے ہیں «وَیْکَاَنَّ» کے معنی «وَیْلَكَ اِعْلَمْ اَنَّ» ہیں لیکن مخفف کر کے «وَیْکَ» رہ گیا اور «اَنْ» کے فتح نے «اِعْلَمْ» کے محذوف ہونے پر دلالت کر دی۔ لیکن اس قول کو امام ابن جریر نے ضعیف بتایا ہے۔ مگر میں کہتا ہوں یہ ضعیف کہنا ٹھیک نہیں۔ قرآن کریم میں اس کی کتابت کا ایک ساتھ ہونا اس کے ضعیف ہونے کی وجہ نہیں بن سکتا۔ اس لیے کہ کتابت کا طریقہ تو اختراعی امر ہے جو رواج پا گیا وہی معتبر سمجھا جاتا ہے۔ اس سے معنی پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
دوسرے معنی اس کے «اَلَمْ تَرَاَنَّ» کے لیے گئے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس طرح یہ دو لفظ ہیں «وَیْ» اور «کَاَنَّ» ۔ حرف «وَیْ» تعجب کے لیے ہیں اور یا تنبیہہ کے لیے اور «کَاَنَّ» معنی میں «اَظُنُّ» کے ہے۔ ان تمام اقوال میں قوی قول یہ ہے کہ یہ معنی میں «اَلَمْ تَرَ» کے ہے یعنی کیا نہ دیکھا تو نے جیسے کہ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے اور یہی معنی عربی شعر میں بھی مراد لیے گئے ہیں۔