تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {قَالَ الَّذِيْنَ يُرِيْدُوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا …:} وہ لوگ جن کی زندگی کا مقصد ہی دنیا اور اس کی زیب و زینت کا حصول ہے، قارون کی شان و شوکت دیکھ کر کہنے لگے، کاش! ہمیں بھی یہ سب کچھ ملا ہوتا جو قارون کو دیا گیا ہے، یقینا وہ بہت بڑے نصیب والا ہے۔ یہ لوگ بنی اسرائیل کے عوام بھی ہو سکتے ہیں، کیونکہ دنیوی خوش حالی کی خواہش ہر دل میں موجود ہے اور فرعون کی قوم کے لوگ بھی۔ ان لوگوں کی اس تمنا کی مثالیں اب بھی ہمیں ہر جگہ نظر آتی ہیں۔ مردوں کو دیکھو یا عورتوں کو، جوانوں کو دیکھو یا بوڑھوں کو، ہر ایک دنیوی ترقی کی دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ ہر ایک نے کوئی نہ کوئی تمنا پال رکھی ہے کہ کاش! میرا مکان فلاں جیسا ہو، میری سواری فلاں جیسی ہو، میرا کاروبار فلاں جیسا ہو، پھر اس تمنا کے حصول کے لیے نہ اسے حلال کی پروا ہے نہ حرام کی۔ قرآن نے یہ مثالیں صرف داستان طرازی کے لیے بیان نہیں فرمائیں، بلکہ یہ سب کچھ ہمیں ایسے رویے کے بد انجام سے آگاہ کرنے کے لیے بیان فرمایا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
علماء کرام نے ان کی یہ بات سن کر انہیں اس خیال سے روکنا چاہا اور انہیں سمجھانے لگے کہ دیکھو اللہ نے جو کچھ اپنے مومن اور نیک بندوں کے لیے اپنے ہاں تیار کر رکھا ہے وہ اس سے کروڑہا درجہ بارونق دیرپا اور عمدہ ہے۔ تمہیں ان درجات کو حاصل کرنے کے لیے اس دو روزہ زندگی کو صبر وبرداشت سے گزارنا چاہیئے جنت صابروں کا حصہ ہے یہ مطلب بھی ہے کہ ایسے پاک کلمے صبر کرنے والوں کی زبان ہی سے نکلتے ہیں جو دنیا کی محبت سے دور اور دار آخرت کی محبت میں چور ہوتے ہیں اس صورت میں ممکن ہے کہ یہ کلام ان واعظوں کا نہ ہو بلکہ ان کے کام کی اور ان کی تعریف میں یہ جملہ اللہ کی طرف سے خبر ہو۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلم يزل قارونُ مستمرًّا على عنادِهِ وبغيِهِ وعدم قَبول نصيحةِ قومِهِ، فرحاً بطراً، قد أعجبتْه نفسُه وغرَّه ما أوتيه من الأموال، {فخرج} ذات يوم {في زينتِهِ}؛ أي: بحالةٍ أرفع ما يكونُ من أحوال دُنياه، قد كان له من الأموال ما كان، وقد استعدَّ وتجمَّل بأعظم ما يمكنه، وتلك الزينةُ في العادة من مثله تكونُ هائلةً، جمعت زينة الدُّنيا وزهرتها وبهجتها وغضارتها وفخرها، فرمقتْه في تلك الحالة العيونُ، وملأت بَزَّتُه القلوب، واختلبت زينته النفوس، فانقسم فيه الناظرون قسمين، كلٌّ تكلَّم بحسب ما عنده من الهمَّة والرغبة، فَـ {قَالَ الذين يريدونَ الحياة الدنيا}؛ أي: الذين تعلَّقَتْ إرادتُهم فيها، وصارت منتهى رغبتِهِم، ليس لهم إرادةٌ في سواها: {يا ليتَ لنا مثلَ ما أوتي قارونُ}: من الدُّنيا ومتاعها وزهرتها، {إنَّه لذو حظٍّ عظيم}: وصدقوا إنَّه لذو حظٍّ عظيم لو كان الأمر منتهياً إلى رغباتهم وإنَّه ليس وراء الدُّنيا دار أخرى؛ فإنَّه قد أُعْطِيَ منها ما به غايةُ التنعم بنعيم الدنيا، واقتدر بذلك على جميع مطالبه، فصار هذا الحظُّ العظيم بحسب هِمَّتِهم، وإنَّ هِمَّةً جعلت هذا غاية مرادها ومنتهى مطلبها؛ لمن أدنى الهمم وأسفلها وأدناها، وليس لها أدنى صعود إلى المرادات العالية والمطالب الغالية.