تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القصص (28) — آیت 80

وَ قَالَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ وَیۡلَکُمۡ ثَوَابُ اللّٰہِ خَیۡرٌ لِّمَنۡ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ۚ وَ لَا یُلَقّٰہَاۤ اِلَّا الصّٰبِرُوۡنَ ﴿۸۰﴾
اور ان لوگوں نے کہا جنھیں علم دیا گیا تھا، افسوس تم پر! اللہ کا ثواب اس شخص کے لیے کہیں بہتر ہے جو ایمان لایا اور اس نے اچھا عمل کیا اور یہ چیز نہیں دی جاتی مگر انھی کو جو صبر کرنے والے ہیں۔ En
اور جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہنے لگے کہ تم پر افسوس۔ مومنوں اور نیکوکاروں کے لئے (جو) ثواب خدا (کے ہاں تیار ہے وہ) کہیں بہتر ہے اور وہ صرف صبر کرنے والوں ہی کو ملے گا
En
ذی علم لوگ انہیں سمجھانے لگے کہ افسوس! بہتر چیز تو وه ہے جو بطور ﺛواب انہیں ملے گی جو اللہ پر ایمان ﻻئیں اور نیک عمل کریں یہ بات انہی کے دل میں ڈالی جاتی ہے جو صبر وسہارا والے ہوں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَقَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اور جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہنے لگے۔ وہ لوگ جو اشیاء کے حقائق کی معرفت رکھتے تھے اور جب وہ دنیا کے ظاہری روپ کو دیکھتے تھے تو اس کے باطن پر بھی ان کی نظر جاتی تھی۔ ﴿ وَیْلَكُمْ تم پر افسوس ان کے حال کو دیکھتے، ان کی تمناؤں پر دکھ محسوس کرتے اور ان کی بات پر نکیر کرتے ہوئے کہا: ﴿ ثَوَابُ اللّٰهِ ثواب عاجل یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت، اس کی محبت کی لذت، اس کی طرف انابت، اس کی طرف اقبال اور ثواب آخرت یعنی جنت کی نعمتیں اور جو کچھ اس میں ہے کہ نفس جن کی خواہش کرتے اور آنکھیں لذت حاصل کرتی ہیں ﴿ خَیْرٌ بہتر ہے اس چیز سے جس کی تم تمنا کر رہے ہو اور جس کی طرف تم رغبت رکھتے ہو۔
یہ تو ہے معاملے کی اصل حقیقت مگر اس حقیقت کا علم رکھنے والے سب لوگ تو اس کی طرف توجہ نہیں کرتے ﴿ اِلَّا الصّٰؔبِرُوْنَ اس کی توفیق صرف ان لوگوں کو عطا کی گئی ہے جو صبر سے بہرہ ور ہیں اور جن لوگوں نے نافرمانی کو چھوڑ کر اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا پابند کر رکھا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی تکلیف دہ قضاوقدر پر صبر کرتے ہیں، جو اپنے رب کو فراموش کر کے دنیا کی پرکشش لذات و شہوات میں مشغول ہوتے ہیں نہ یہ لذات شہوات ان کے ان مقاصد کی راہ میں حائل ہوتی ہیں جن کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے… یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ثواب کو اس دنیائے فانی پر ترجیح دیتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وقال الذين أوتوا العلم}: الذين عرفوا حقائقَ الأشياء ونظروا إلى باطن الدنيا حين نظر أولئك إلى ظاهرها: {ويلَكُم}: متوجِّعين من ما تمنَّوا لأنفسهم، راثين لحالهم، منكرين لمقالهم، {ثوابُ الله}: العاجلُ من لذَّة العبادة ومحبَّته والإنابة إليه والإقبال عليه، والآجلُ من الجنَّة وما فيها ممَّا تشتهيه الأنفس وتلذُّ الأعينُ خير من هذا الذي تمنَّيْتُم ورغبتُم فيه؛ فهذه حقيقة الأمر، ولكنْ ما كلُّ مَنْ يعلم ذلك يؤثر الأعلى على الأدنى، فما يُلَقَّى ذلك ويوفَّقُ له {إلاَّ الصابِرونَ}: الذين حبسوا أنفسَهم على طاعة الله وعن معصيتِهِ وعلى أقدارِهِ المؤلمةِ وصبروا على جواذب الدُّنيا وشهواتِها أن تَشْغَلَهم عن ربِّهم وأن تحولَ بينهم وبينَ ما خُلِقوا له؛ فهؤلاء الذين يؤثرون ثوابَ الله على الدُّنيا الفانية.