تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ وہ علم جو قارون کو دیا گیا تھا، کیا تھا؟ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ علم کیمیا تھا، جس کے ساتھ وہ سونا بنا لیتا تھا، مگر اس کی کوئی دلیل نہیں۔ اللہ تعالیٰ بندے کو تجارت، صنعت، زراعت، غرض جس ذریعے سے بھی رزق دے وہ اس ذریعے کو رزق کا باعث قرار دے لیتا ہے اور اس مالک کو بھول جاتا ہے جس نے اس کے لیے اس علم و ہنر کو ذریعہ بنایا۔
➌ {اَوَ لَمْ يَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَهْلَكَ …:} یعنی یہ شخص جو اپنے علم و ہنر پر اس قدر مغرور تھا، کیا اسے معلوم نہیں ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے اس سے زیادہ قوت اور زیادہ جمع شدہ مال اور زیادہ جماعتوں والے لوگوں کو ہلاک کر دیا؟ ان کا علم و ہنر انھیں ہلاک ہونے سے نہ روک سکا، تو اس کا وہ علم جس پر اسے ناز ہے اسے ہلاک ہونے سے کیسے بچا سکے گا؟ اور اگر دنیا میں زیادہ مال و دولت اور زیادہ طرف داروں کا ہونا اللہ تعالیٰ کے خوش ہونے کی دلیل ہے تو پھر ان لوگوں پر عذاب کیوں آیا جو اس سے زیادہ قوت والے اور زیادہ تعداد والے تھے؟
➍ { وَ لَا يُسْـَٔلُ عَنْ ذُنُوْبِهِمُ الْمُجْرِمُوْنَ:} یعنی مجرم تو یہی دعویٰ کیا کرتے ہیں کہ ہم بہت اچھے لوگ ہیں، مگر جب ان پر جرم ثابت ہو جاتا ہے اور اللہ کا عذاب آتا ہے تو ان سے پوچھ کر انھیں نہیں پکڑا جاتا کہ تمھارے گناہ کیا ہیں۔
➎ دوسرے مقام پر جو فرمایا ہے: «{ فَوَرَبِّكَ لَنَسْـَٔلَنَّهُمْ اَجْمَعِيْنَ (92) عَمَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ }» [الحجر: ۹۲، ۹۳] (سو تیرے رب کی قسم ہے! یقینا ہم ان سب سے ضرور سوال کریں گے، اس کے بارے میں جو وہ کیا کرتے تھے) تو وہ اس آیت کے منافی نہیں، کیونکہ قیامت کا دن بہت لمبا ہے۔ مجرموں کو ہلاک کرنے کے وقت ان سے ان کے گناہوں کے بارے میں نہیں پوچھا جاتا، ہاں دوسرے مقامات اور مواقع پر ان سے سوال کیا جاتا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[106] یعنی مجرموں کے تمام اعمال و اقوال کا ریکارڈ اللہ کے ہاں پہلے سے ہی موجود ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ مجرموں سے ان کے گناہوں کے سوال کیا جائے اور اگر وہ ان کا اعتراف کر لیں تو تب ہی ان کے جرم ثابت ہوں گے۔ اور قیامت کے دن ان سے پوچھا بھی جائے گا تو ان کو خلق خدا کے سامنے ذلیل و رسوا کرنے اور زجر و توبیخ کے طور پر پوچھا جائے گا۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے مجرموں کے اعمال کے اچھا یا برا ہونے کا معیار مجرموں کے اپنے خیال پر منحصر نہیں۔ مجرم تو ہمیشہ یہی دعویٰ کریں گے کہ وہ بڑے اچھے لوگ ہیں اور ان میں کوئی برائی نہیں۔ جیسے کہ قارون بھی اپنے آپ کو درست ہی سمجھتا تھا۔ لہٰذا مجرموں کو جو سزا ملے گی اسی کا انحصار اس بات پر نہیں ہو گا کہ آیا مجرم خود بھی اس کام کو جرم سمجھتا ہے یا نہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بعض انسانوں کا یہ خاصہ ہوتا ہے جیسے قرآن میں ہے کہ «فَإِذَا مَسَّ الْإِنسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا ثُمَّ إِذَا خَوَّلْنَاهُ نِعْمَةً مِّنَّا قَالَ إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَىٰ عِلْمٍ بَلْ هِيَ فِتْنَةٌ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ» [39-الزمر:49] جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تب بڑی عاجزی سے ہمیں پکارتا ہے اور جب انسان کو کوئی نعمت و راحت اسے ہم دے دیتے ہیں تو کہہ دیتا ہے کہ آیت «قَالَ اِنَّمَآ اُوْتِيْتُهٗ عَلٰي عِلْمٍ عِنْدِيْ اَوَلَمْ يَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَهْلَكَ مِنْ قَبْلِهٖ مِنَ الْقُرُوْنِ مَنْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَّاَكْثَرُ جَمْعًا وَلَا يُسْـَٔــلُ عَنْ ذُنُوْبِهِمُ الْمُجْرِمُوْنَ» ۱؎ [28-القصص:78] یعنی ’ اللہ جانتا تھا کہ میں اسی کا مستحق ہوں اس لیے اس نے مجھے یہ دیا ہے ‘۔
اور آیت میں ہے «وَلَئِنْ أَذَقْنَاهُ رَحْمَةً مِّنَّا مِن بَعْدِ ضَرَّاءَ مَسَّتْهُ لَيَقُولَنَّ هَـٰذَا لِي» ۱؎ [41-فصلت:50] کہ ’ اگر ہم اسے کوئی رحمت چکھائیں اس کے بعد جب اسے مصیبت پہنچی ہو تو کہہ اٹھتا ہے کہ «هَـٰذَا لِي» اس کا حقدار تو میں تھا ہی ‘۔
بعض لوگوں نے کہا ہے کہ قارون علم کیمیا جانتا تھا لیکن یہ قول بالکل ضعیف ہے۔ بلکہ کیمیا کا علم فی الواقع ہے ہی نہیں۔ کیونکہ کسی چیز کے عین کو بدل دینا یہ اللہ ہی کی قدرت کی بات ہے جس پر کوئی اور قادر نہیں۔ فرمان الٰہی ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ لَن يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ» ۱؎ [22-الحج:73] کہ ’ اگر تمام مخلوق بھی جمع ہو جائے تو ایک مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتی ‘۔
صحیح حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ’ اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو کوشش کرتا ہے کہ میری طرح پیدائش کرے۔ اگر وہ سچا ہے تو ایک ذرہ یا ایک جو ہی بنا دے ‘ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5953] یہ حدیث ان کے بارے میں ہے جو تصویریں اتارتے ہیں اور صرف ظاہر صورت کو نقل کرتے ہیں۔
ان کے لیے تو یہ فرمایا پھر جو دعویٰ کرے کہ وہ کیمیا جانتا ہے اور ایک چیز کی کایا پلٹ کر سکتا ہے ایک ذات سے دوسری ذات بنا دیتا ہے مثلا لوہے کو سونا وغیرہ تو صاف ظاہر ہے کہ یہ محض جھوٹ ہے اور بالکل محال ہے اور جہالت وضلالت ہے۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ رنگ وغیرہ بدل کر دھوکے بازی کرے۔ لیکن حقیقتاً یہ ناممکن ہے۔ یہ کیمیا گر جو محض جھوٹے جاہل فاسق اور مفتری ہیں یہ محض دعوے کر کے مخلوق کو دھوکے میں ڈالنے والے ہیں۔
ہاں یہ خیال رہے کہ بعض اولیاء کے ہاتھوں جو کرامتیں سرزد ہو جاتی ہیں اور کبھی کبھی چیزیں بدل جاتی ہے ان کا ہمیں انکار نہیں۔ وہ اللہ کی طرف سے ان پر ایک خاص فضل ہوتا ہے اور وہ بھی ان کے بس کا نہیں ہوتا، نہ ان کے قبضے کا ہوتا ہے، نہ کوئی کاری گری، صنعت یا علم ہے۔ وہ محض اللہ کے فرمان کا نتیجہ ہے جو اللہ اپنے فرمانبردار نیک کار بندوں کے ہاتھوں اپنی مخلوق کو دکھا دیتا ہے۔
بعض کا قول ہے کہ قارون اسم اعظم جانتا تھا جسے پڑھ کر اس نے اپنی مالداری کی دعا کی تو اس قدر دولت مند ہو گیا۔ قارون کے اس جواب کی رد میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ یہ غلط ہے کہ میں جس پر مہربان ہوتا ہوں اسے دولت مند کر دیتا ہوں نہیں اس سے پہلے اس سے زیادہ دولت اور آسودہ حال لوگوں کو میں نے تباہ کر دیا ہے تو یہ سمجھ لینا کہ مالداری میری محبت کی نشانی ہے، محض غلط ہے۔ جو میرا شکر ادانہ کریں کفر پر جما رہے اس کا انجام بد ہوتا ہے ‘۔
گناہ گاروں کے کثرت گناہ کی وجہ سے پھر ان سے ان کے گناہوں کا سوال بھی عبث ہوتا۔ اس کا خیال تھا کہ مجھ میں خیریت ہے اس لیے اللہ کا یہ فضل مجھ پر ہوا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ میں اس مالداری کا اہل ہوں اگر مجھ سے خوش نہ ہوتا اور مجھے اچھا آدمی نہ جانتا تو مجھے اپنی یہ نعمت بھی نہ دیتا۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فَـ {قَالَ} قارونُ رادًّا لنصيحتِهِم كافراً لنعمةِ ربِّه: {إنَّما أوتيتُهُ على علم عندي}؛ أي: إنَّما أدركتُ هذه الأموالَ بكسبي ومعرفتي بوجوه المكاسب وحِذْقي. أو: على علم من اللهِ بحالي؛ يعلمُ أنِّي أهلٌ لذلك؛ فلم تنصحوني على ما أعطاني الله؟! قال تعالى مبيِّناً أنَّ عطاءَه ليس دليلاً على حسنِ حالةِ المُعْطَى: {أوَلَمْ يعلمْ أنَّ الله قد أهْلَكَ من قبلِهِ من القرونِ مَنْ هو أشدُّ منه قوَّةً وأكثرُ جمعاً}: فما المانعُ من إهلاك قارون مع مضيِّ عادتِنا وسنَّتِنا بإهلاك مَن هُو مثلُه وأعظمُ منه إذا فَعَلَ ما يوجِب الهلاك؟! {ولا يُسْألُ عن ذنوبِهِمُ المجرمونَ}: بل يعاقِبُهم الله ويعذِّبهم على ما يعلمُه منهم؛ فهم وإن أثْبتوا لأنفسِهِم حالةً حسنةً وشهِدوا لها بالنَّجاة؛ فليس قولُهم مقبولاً، وليس ذلك رادًّا عنهم من العذاب شيئاً؛ لأنَّ ذنوبَهم غيرُ خفيةٍ؛ فإنكارُهم لها لا محلَّ له.