پس وہ اپنی قوم کے سامنے اپنی زینت میں نکلا۔ ان لوگوں نے کہا جو دنیا کی زندگی چاہتے تھے، اے کاش! ہمارے لیے اس جیسا ہوتا جو قارون کو دیا گیا ہے، بلاشبہ وہ یقینا بہت بڑے نصیب والا ہے۔
En
تو (ایک روز) قارون (بڑی) آرائش (اور ٹھاٹھ) سے اپنی قوم کے سامنے نکلا۔ جو لوگ دنیا کی زندگی کے طالب تھے کہنے لگے کہ جیسا (مال ومتاع) قارون کو ملا ہے کاش ایسا ہی ہمیں بھی ملے۔ وہ تو بڑا ہی صاحب نصیب ہے
پس قارون پوری آرائش کے ساتھ اپنی قوم کے مجمع میں نکلا، تو دنیاوی زندگی کے متوالے کہنے لگے کاش کہ ہمیں بھی کسی طرح وه مل جاتا جو قارون کو دیا گیا ہے۔ یہ تو بڑا ہی قسمت کا دھنی ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
قارون اپنے عناد اور سرکشی پر جما رہا اس نے تکبر اور غرور کی بنا پر اپنی قوم کی خیرخواہی کو قبول نہ کیا، وہ خودپسندی میں مبتلا تھا، جو مال و دولت اسے عطا کیا گیا تھا اس نے اسے دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔ ﴿ فَخَرَجَ ﴾ ایک روز باہر آیا ﴿ عَلٰىقَوْمِهٖفِیْزِیْنَتِهٖ﴾”اپنی قوم کے لوگوں کے سامنے بڑی ٹھاٹھ باٹھ یعنی وہ اپنے بہترین دنیاوی حال میں اپنی قوم کے سامنے آیا، اس کے پاس بہت زیادہ مال و دولت تھا وہ پوری طرح تیار ہو کر اور پوری سج دھج کے ساتھ، اپنی قوم کے سامنے آیا۔ اس قسم کے لوگوں کی یہ سج دھج، عام طور پر بہت ہی مرعوب کن ہوتی ہے جس میں دنیاوی زیب و زینت، اس کی خوبصورتی، اس کی شان و شوکت، اس کی آسودگی اور اس کا تفاخر سب شامل ہوتے ہیں۔
قارون کو اس حالت میں آنکھوں نے دیکھا، اس کے لباس کی ہیئت نے دلوں کو لبریز کر دیا اور اس کی سج دھج نے نفوس کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ دیکھنے والے دو گروہوں میں منقسم ہو گئے ہر گروہ نے اپنے اپنے عزم و ہمت اور اپنی اپنی رغبت کے مطابق تبصرہ کیا۔ ﴿ قَالَالَّذِیْنَیُرِیْدُوْنَالْحَیٰوةَالدُّنْیَا ﴾ یعنی وہ لوگ جن کے ارادے صرف دنیاوی شان و شوکت ہی سے متعلق ہیں، دنیا ہی ان کی منتہائے رغبت ہے اور دنیا کے سوا ان کا کوئی مقصد نہیں انھوں نے کہا: ﴿ یٰؔلَیْتَلَنَامِثْلَمَاۤاُوْتِیَقَارُوْنُ﴾”کاش ہمیں بھی وہ (دنیاوی سازوسامان اور اس کی خوبصورتی) عطا کر دی جاتی، جس سے قارون کو نوازا گیا ہے۔“
﴿ اِنَّهٗلَذُوْحَظٍّعَظِیْمٍ ﴾”بے شک وہ تو بڑا ہی صاحب نصیب ہے۔“ اگر ان کی رغبتوں کا منتہائے مقصود یہی ہے کہ اس دنیا کی زندگی کے بعد کوئی اور زندگی نہیں تو وہ کہنے میں حق بجانب تھے کہ وہ تو بڑے نصیبے والا ہے کیونکہ وہ دنیا کی بہترین نعمتوں سے بہرہ ور ہے جن کے ذریعے سے وہ اپنی زندگی کے مطالب و مقاصد کے حصول پر قادر تھا۔ یہ بہرہ وافر لوگوں کے ارادوں کے مطابق تھا۔ یہ ان لوگوں کے ارادے اور ان کے مقاصد و مطالب ہیں جو نہایت گھٹیا ہمتوں کے مالک ہیں، جن کے ارادے اعلیٰ مقاصد و مطالب کی طرف ترقی کرنے سے قاصر ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلم يزل قارونُ مستمرًّا على عنادِهِ وبغيِهِ وعدم قَبول نصيحةِ قومِهِ، فرحاً بطراً، قد أعجبتْه نفسُه وغرَّه ما أوتيه من الأموال، {فخرج} ذات يوم {في زينتِهِ}؛ أي: بحالةٍ أرفع ما يكونُ من أحوال دُنياه، قد كان له من الأموال ما كان، وقد استعدَّ وتجمَّل بأعظم ما يمكنه، وتلك الزينةُ في العادة من مثله تكونُ هائلةً، جمعت زينة الدُّنيا وزهرتها وبهجتها وغضارتها وفخرها، فرمقتْه في تلك الحالة العيونُ، وملأت بَزَّتُه القلوب، واختلبت زينته النفوس، فانقسم فيه الناظرون قسمين، كلٌّ تكلَّم بحسب ما عنده من الهمَّة والرغبة، فَـ {قَالَ الذين يريدونَ الحياة الدنيا}؛ أي: الذين تعلَّقَتْ إرادتُهم فيها، وصارت منتهى رغبتِهِم، ليس لهم إرادةٌ في سواها: {يا ليتَ لنا مثلَ ما أوتي قارونُ}: من الدُّنيا ومتاعها وزهرتها، {إنَّه لذو حظٍّ عظيم}: وصدقوا إنَّه لذو حظٍّ عظيم لو كان الأمر منتهياً إلى رغباتهم وإنَّه ليس وراء الدُّنيا دار أخرى؛ فإنَّه قد أُعْطِيَ منها ما به غايةُ التنعم بنعيم الدنيا، واقتدر بذلك على جميع مطالبه، فصار هذا الحظُّ العظيم بحسب هِمَّتِهم، وإنَّ هِمَّةً جعلت هذا غاية مرادها ومنتهى مطلبها؛ لمن أدنى الهمم وأسفلها وأدناها، وليس لها أدنى صعود إلى المرادات العالية والمطالب الغالية.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔