اَمۡ تَسۡـَٔلُہُمۡ خَرۡجًا فَخَرَاجُ رَبِّکَ خَیۡرٌ ٭ۖ وَّ ہُوَ خَیۡرُ الرّٰزِقِیۡنَ ﴿۷۲﴾
یاتو ان سے کسی آمدنی کا مطالبہ کرتا ہے تو تیرے رب کی آمدنی بہتر ہے اور وہ سب رزق دینے والوں سے بہتر ہے۔
En
کیا تم ان سے (تبلیغ کے صلے میں) کچھ مال مانگتے ہو، تو تمہارا پروردگار کا مال بہت اچھا ہے اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے
En
کیا آپ ان سے کوئی اجرت چاہتے ہیں؟ یاد رکھیئے کہ آپ کے رب کی اجرت بہت ہی بہتر ہے اور وه سب سے بہتر روزی رساں ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 72){ اَمْ تَسْـَٔلُهُمْ خَرْجًا …: ”خَرْجٌ“} اور {”خَرَاجٌ“} کسی شخص کو ادا کیا جانے والا روزانہ، ماہانہ یا سالانہ عطیہ۔ یہ ان کے انکار کی پانچویں وجہ ہے، جو ممکن ہو سکتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، یا پھر یہ وجہ ہو سکتی ہے کہ آپ ان سے روزانہ، ماہانہ یا سالانہ کسی تنخواہ کا سوال کرتے ہوں، جسے وہ بوجھ محسوس کرتے ہوں، تو ان سے کہہ دیجیے کہ مجھے تم سے کسی اجرت کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ ان کا دیا ہوا تو ختم ہو جائے گا مگر دنیا اور آخرت میں آپ کے رب کی طرف سے عطا کیا جانے والا رزق کبھی ختم ہونے والا نہیں اور اس سے بہتر روزی دینے والا کوئی نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب آپ دعوت حق کا یہ کام بالکل بے لوث ہو کر کر رہے ہیں اور ان سے کوئی حق الخدمت طلب نہیں کرتے تو ان کا آپ کی دعوت کو ٹھکرانا سراسر حماقت اور عاقبت نااندیشی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کئی جگہ صاف اعلان کرنے کا حکم دیا ہے کہ میں تم سے کسی اجرت یا بدلے کا مطالبہ نہیں کرتا۔ مثلاً سورۂ ص (۸۶) وغیرہ۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
72۔ یا آپ ان سے کچھ مال مانگتے ہیں؟ تو آپ کے لئے آپ کے پروردگار کا دیا [74] ہی بہتر ہے اور وہی بہترین رازق ہے۔
[74] آپ کی دعوت سے ان لوگوں کے انکار کی ایک چوتھی وجہ یہ بھی ہو سکتی تھی کہ آپ ان سے اپنی اس محنت تبلیغ کا معاوضہ مانگتے ہوں اور وہ اسے تاوان سمجھ کر اس سے انکار کر دیں۔ یہ بات بھی نہ تھی۔ نہ صرف یہ کہ آپ بے لوث ہو کر دعوت دین کا کام سرانجام دے رہے تھے بلکہ اس سے کئی مسائل پیدا ہو گئے۔ نبوت سے پہلے آپ تجارت کرتے تھے۔ نبوت کے بعد یہ شغل چھوٹ گیا۔ پہلے آپ مالدار تھے، بعد میں افلاس میں مبتلا ہو گئے۔ پہلے آپ اپنی قوم کی آنکھوں کا تارا تھے۔ بعد میں وہی قوم آپ کی دشمن بن گئی۔ قوم نے آپ سے سمجھوتہ کی خاطر بے شمار مال و دولت قدموں میں ڈھیر کرنے کا لالچ دیا مگر آپ نے اسے ٹھکرا دیا۔ اس سے ان لوگوں کو اتنا بھی پتہ نہیں چل سکتا کہ جو شخص کئی طرح مصیبتیں سہہ کر اور بغیر معاوضہ کے ایسی خدمت سرانجام دے رہا ہے اس کی کوئی غرض دنیا سے وابستہ نہیں ہو سکتی۔ اور جس ہستی کے لئے وہ اتنی مشقتیں برداشت کر رہا ہے اس کا معاوضہ بھی اسی کے ذمہ ہے اور وہ ایسے ذرائع سے رزق مہیا کرتا ہے جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتے۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿اَمْ تَسْـَٔلُهُمْ خَرْجًا﴾ اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم کیا ان کو آپ کی اتباع سے اس چیز نے روکا ہے کہ آپ ان سے اس کام پر کوئی اجرت طلب کرتے ہیں؟ ﴿فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَ﴾ (الطور:52؍40) ”کہ ان پر تاوان کا بوجھ پڑ رہا ہے “ اور اس طرح آپ کی اطاعت سے ان کو تکلیف پہنچتی ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے اجرت اور خراج طلب کرتے ہیں؟ معاملہ یوں نہیں بلکہ ﴿فَخَرَاجُ رَبِّكَ خَیْرٌ١ۖ ۗ وَّهُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ﴾ ”آپ کے رب کی اجرت بہت بہتر ہے اور وہ بہترین روزی رساں ہے۔“ یہ اسی طرح کا قول ہے جس طرح انبیاء کرام علیہم السلام نے اپنی اپنی قوم سے فرمایا: ﴿ یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْـَٔؔلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا﴾ (ہود:11؍51) ”اے میری قوم! میں اس پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا“ ﴿ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ ﴾ (ہود:11؍29) ”میرا صلہ تو اللہ کے پاس ہے۔“ یعنی انبیائے کرام علیہم السلام کی طرف سے لوگوں کو دعوت دینے میں یہ لالچ نہیں ہوتا کہ انھیں لوگوں کی طرف سے مال و دولت حاصل ہوگا۔ وہ تو صرف خیرخواہی اور ان کے اپنے فائدے کی خاطر ان کو دعوت دیتے ہیں بلکہ انبیاء و مرسلین مخلوق کے لیے، خود ان سے بھی زیادہ خیر خواہ ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ ان کو ان کی امتوں کی طرف سے جزائے خیر عطا کرے اور تمام احوال میں ہمیں بھی ان کی اقتداء سے بہرہ مند کرے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: أَوَ مَنَعَهم من اتِّباعك يا محمد أنَّك تسألُهم على الإجابة أجراً؛ {فهم من مَغْرَم مُثْقَلون}: يتكلَّفون من اتِّباعك بسبب ما تأخُذُ منهم من الأجرِ والخراج، ليس الأمر كذلك. {فخراجُ ربِّك خيرٌ وهو خير الرازقينَ}: وهذا كما قال الأنبياءُ لأممهم: {يا قوم لا أسألُكُم عليه أجراً إنْ أجرِيَ إلاَّ على الله}؛ أي: ليسوا يدعون الخلق طمعاً فيما يُصيبهم منهم من الأموال، وإنَّما يدعونَهم نُصحاً لهم وتحصيلاً لمصالحهم، بل كان الرسلُ أنصحَ للخلق من أنفسهم، فجزاهُم اللهُ عن أممهم خيرَ الجزاءِ، ورزَقَنا الاقتداء بهم في جميع الأحوال.