تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿اَمْتَسْـَٔلُهُمْخَرْجًا﴾ اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم کیا ان کو آپ کی اتباع سے اس چیز نے روکا ہے کہ آپ ان سے اس کام پر کوئی اجرت طلب کرتے ہیں؟ ﴿فَهُمْمِّنْمَّغْرَمٍمُّثْقَلُوْنَ﴾ (الطور:52؍40) ”کہ ان پر تاوان کا بوجھ پڑ رہا ہے “ اور اس طرح آپ کی اطاعت سے ان کو تکلیف پہنچتی ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے اجرت اور خراج طلب کرتے ہیں؟ معاملہ یوں نہیں بلکہ ﴿فَخَرَاجُرَبِّكَخَیْرٌ١ۖ ۗ وَّهُوَخَیْرُالرّٰزِقِیْنَ﴾”آپ کے رب کی اجرت بہت بہتر ہے اور وہ بہترین روزی رساں ہے۔“ یہ اسی طرح کا قول ہے جس طرح انبیاء کرام علیہم السلام نے اپنی اپنی قوم سے فرمایا: ﴿ یٰقَوْمِلَاۤاَسْـَٔؔلُكُمْعَلَیْهِاَجْرًا﴾ (ہود:11؍51) ”اے میری قوم! میں اس پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا“﴿ اِنْاَجْرِیَاِلَّاعَلَىاللّٰهِ ﴾ (ہود:11؍29) ”میرا صلہ تو اللہ کے پاس ہے۔“ یعنی انبیائے کرام علیہم السلام کی طرف سے لوگوں کو دعوت دینے میں یہ لالچ نہیں ہوتا کہ انھیں لوگوں کی طرف سے مال و دولت حاصل ہوگا۔ وہ تو صرف خیرخواہی اور ان کے اپنے فائدے کی خاطر ان کو دعوت دیتے ہیں بلکہ انبیاء و مرسلین مخلوق کے لیے، خود ان سے بھی زیادہ خیر خواہ ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ ان کو ان کی امتوں کی طرف سے جزائے خیر عطا کرے اور تمام احوال میں ہمیں بھی ان کی اقتداء سے بہرہ مند کرے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: أَوَ مَنَعَهم من اتِّباعك يا محمد أنَّك تسألُهم على الإجابة أجراً؛ {فهم من مَغْرَم مُثْقَلون}: يتكلَّفون من اتِّباعك بسبب ما تأخُذُ منهم من الأجرِ والخراج، ليس الأمر كذلك. {فخراجُ ربِّك خيرٌ وهو خير الرازقينَ}: وهذا كما قال الأنبياءُ لأممهم: {يا قوم لا أسألُكُم عليه أجراً إنْ أجرِيَ إلاَّ على الله}؛ أي: ليسوا يدعون الخلق طمعاً فيما يُصيبهم منهم من الأموال، وإنَّما يدعونَهم نُصحاً لهم وتحصيلاً لمصالحهم، بل كان الرسلُ أنصحَ للخلق من أنفسهم، فجزاهُم اللهُ عن أممهم خيرَ الجزاءِ، ورزَقَنا الاقتداء بهم في جميع الأحوال.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔