ترجمہ و تفسیر — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 73

وَ اِنَّکَ لَتَدۡعُوۡہُمۡ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۷۳﴾
اور بے شک تو یقینا انھیں سیدھے راستے کی طرف بلاتا ہے۔ En
اور تم تو ان کو سیدھے راستے کی طرف بلاتے ہو
En
یقیناً آپ تو انہیں راه راست کی طرف بلا رہے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 73){ وَ اِنَّكَ لَتَدْعُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ:} یعنی ان پانچوں باتوں میں سے ایک کا وجود بھی نہیں، جس کی وجہ سے یہ آپ کو جھٹلا سکیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ انھیں بالکل سیدھے راستے کی طرف دعوت دیتے ہیں، جسے کوئی الٹی سمجھ والا ہی ٹھکرا سکتا ہے۔ صراط مستقیم سے مراد اسلام ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

73۔ اور بلا شبہ آپ انہیں [75] سیدھی راہ کی طرف بلاتے ہیں۔
[75] سیدھی راہ سے مراد:۔
یعنی وہ ایسی موٹی موٹی باتیں ہیں جو ہر پیغمبر پر وحی کی جاتی رہی ہیں۔ ان میں کوئی ایچ پیچ نہیں۔ کوئی پیچیدگی اور ابہام نہیں۔ ان کے دلائل نہایت سادہ اور عام فہم ہیں۔ جو ایک دیہاتی اور بدو کو بھی متاثر کر دیتے ہیں۔ ان کے سمجھنے کے لئے کسی لمبی چوڑی تعلیم کی بھی ضرورت نہیں۔ مثلاً ایک بدو سے کسی نے پوچھا کہ کیا اللہ تعالیٰ کی ہستی موجود ہے؟ کہنے لگا ”ہاں ہے!“ پوچھنے والے نے دوبارہ سوال کیا: ”بھلا کیسے؟“ بدو کہنے لگا: ”اگر ہم راہ میں کوئی اونٹ کی مینگنی پڑی دیکھیں تو ہم اندازہ لگا لیتے ہیں کہ یہاں سے یقیناً کوئی اونٹ گزرا ہے۔ اسی طرح جب ہم یہ کائنات کا اتنا وسیع کارخانہ دیکھتے ہیں لازماً اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ اس کا کوئی بنانے والا ضرور ہونا چاہئے“ اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ایک گھر میں دو حاکم ہوں تو اس کا نظام کبھی درست نہیں رہتا پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کائنات میں اللہ کے سوا کچھ اور بھی مالک و مختار ہوں؟ اگر ایسی صورت ہو تو کائنات کا نظام تو ایک دن بھی نہ چل سکے۔ اسی طرح ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر وقت اور ہر زمانہ میں مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ پیدا کرتا رہتا ہے۔ انسان جو غذائیں کھاتا ہے سب بے جان ہیں۔ کئی مراحل کے بعد انھیں غذاؤں سے نطفہ بنتا ہے۔ پھر اسی نطفہ سے ایک جیتا جاگتا انسان پیدا ہو جاتا ہے۔ جس میں اس کے ماں باپ کے خصائل و عادات اور نقش وغیرہ تک کی جھلک موجود ہوتی ہے۔ اسی سے بآسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ جو کام اس دنیا میں ہر آن ہمارے سامنے ہو رہے ہیں وہ آخر انسان کی موت کے بعد کیوں نا ممکن ہیں۔ غرض دین کی اصولی تعلیمات پر غور فرمائیے تو سب باتیں سیدھی، سادہ اور عام فہم نظر آئیں گی اور یہی اصولی باتیں ہی اللہ کی سیدھی راہ ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں ان تمام اسباب کا ذکر کیا ہے جو ایمان کے موجب ہیں اسی طرح تمام موانع ایمان کا ذکر کیا ہے اور فرداً فرداً ان کے فساد کو واضح کیا ہے۔ پس موانع ایمان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ منکرین حق کے دل غفلت اور جہالت میں ڈوبے ہوئے ہیں، انھوں نے قرآن میں غور و فکر نہیں کیا، وہ اپنے آباء و اجداد کی تقلید پر جمے ہوئے ہیں اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ انھیں جنون لاحق ہے جیسا کہ گزشتہ صفحات میں اس کا ذکر ہو چکا ہے۔
اور اللہ تعالیٰ نے ان امور کا بھی ذکر کیا، جو موجب ایمان ہیں اور وہ ہیں قرآن میں تدبر کرنا، اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کو قبول کرنا، رسول مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال اور آپ کے کمال صدق و امانت کی معرفت حاصل کرنا، نیز یہ کہ آپ ان سے کسی قسم کے اجر و صلہ کے طلب گار نہیں آپ کی کوشش تو صرف لوگوں کے فائدے اور مصالح کے لیے ہے اور جس راستے کی طرف آپ لوگوں کو دعوت دیتے ہیں وہ سیدھا راستہ ہے۔ سیدھا ہونے کی بنا پر تمام لوگوں کے لیے نہایت آسان اور منزل مقصود تک پہنچانے کے لیے قریب ترین راستہ ہے۔ نرمی اور آسانی پر مبنی دین حنیف ہے، یعنی توحید میں حنیفیت اور اعمال میں آسانی۔
پس آپ کا ان کو صراط مستقیم کی طرف دعوت دینا، اس شخص کے لیے جو حق کا ارادہ رکھتا ہے، اس بات کا موجب ہے کہ وہ آپ کی اتباع کرے کیونکہ یہ ایسا راستہ ہے جس کے اچھا اور انسانی مصالح کے موافق ہونے کی شہادت عقل صحیح اور فطرت سلیم بھی دیتی ہے… اگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع نہیں کرتے تو کہاں جائیں گے کیونکہ ان کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس کو اختیار کرکے آپ کی اتباع سے مستغنی ہو جائیں کیونکہ ﴿عَنِ الصِّرَاطِ لَنٰكِبُوْنَ وہ صراط مستقیم سے، جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے، انحراف کرنے والے ہیں ان کے پاس ضلالت و جہالت کے سوا کچھ نہیں۔ یہی معاملہ ہر اس شخص کا ہے جو حق کی مخالفت کرتا ہے، وہ لازمی طور پر تمام معاملات میں راہ راست سے منحرف ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ فَاِنْ لَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكَ فَاعْلَمْ اَنَّمَا یَتَّبِعُوْنَ اَهْوَآءَهُمْ١ؕ وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّ٘بَعَ هَوٰىهُ بِغَیْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ (القصص:28؍50) اور اب اگر وہ آپ کی بات نہیں مانتے۔ تو سمجھ لیجیے کہ وہ اپنی خواہشات نفس کی پیروی کررہے ہیں اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہو سکتا ہے جو اللہ کی طرف سے کسی ہدایت کے بغیر اپنی خواہش نفس کی پیروی کرے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ذكر الله تعالى في هذه الآيات الكريمات كلَّ سببٍ موجبٍ للإيمان، وذَكَرَ الموانع، وبيَّن فسادها واحداً بعد واحدٍ، فذكر من الموانع: أنَّ قلوبَهم في غَمْرةٍ، وأنهم لم يَدَّبَّروا القول، وأنَّهم اقتدَوْا بآبائهم، وأنَّهم قالوا: برسولهم جِنَّةٌ؛ كما تقدم الكلام عليها.

وذكر من الأمور الموجبة لإيمانهم: تدبُّرُ القرآن، وتلقِّي نعمة الله بالقَبول، ومعرفة حال الرسول محمدٍ - صلى الله عليه وسلم - وكمال صدقِهِ وأمانتِهِ، وأنَّه لا يسألُهم عليه أجراً، وإنَّما سعيُهُ لنفعهم ومصلحتهم، وأنَّ الذي يَدْعوهم إليه صراطٌ مستقيمٌ، سهلٌ على العاملين لاستقامتِهِ، موصلٌ إلى المقصودِ من قرب، حنيفيَّةٌ سمحةٌ؛ حنيفيَّةٌ في التوحيد، سمحةٌ في العمل؛ فدعوتُك إيَّاهم إلى الصراط المستقيم موجب لمن يريد الحقَّ أن يَتَّبِعَك؛ لأنَّه مما تشهدُ العقول والفطر بحسنِهِ وموافقتِهِ للمصالح؛ فأين يذهبونَ إنْ لم يتابِعوك؟ فإنَّهم ليس عندهم ما يُغنيهم ويكفيهم عن متابعتِكَ؛ لأنَّهم {عن الصراط}: ناكِبون، متجنِّبون، منحرِفون عن الطريق الموصل إلى الله وإلى دار كرامته، ليس في أيديهم إلاَّ ضلالاتٌ وجهالاتٌ، وهكذا كلُّ من خالَفَ الحقَّ؛ لا بدَّ أن يكونَ منحرفاً في جميع أمورِهِ؛ قال تعالى: {فإن لم يَسْتَجيبوا لك فاعْلَمْ أنَّما يَتَّبِعون أهواءهم ومَنْ أضَلُّ مِمَّنِ اتَّبع هواه بغير هدىً من الله}.