تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { بَلْ اَتَيْنٰهُمْ بِذِكْرِهِمْ …:} ذکر کے دو معنی ہیں، ایک نصیحت اور ایک عز و شرف اور ناموری، یہاں دونوں درست ہیں۔ نصیحت اس لیے کہ کفار مکہ کہہ سکتے تھے: «لَوْ اَنَّاۤ اُنْزِلَ عَلَيْنَا الْكِتٰبُ لَكُنَّاۤ اَهْدٰى مِنْهُمْ» [الأنعام: ۱۵۷] ”اگر ہم پر کتاب نازل کی جاتی تو ہم پہلی امتوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوتے۔“ اللہ تعالیٰ نے ان کو شکوے کا موقع ہی نہیں دیا اور خود ہی وہ کتاب نازل فرما دی جو ان کے لیے نصیحت ہے، مگر چونکہ اس میں ان کے عیوب اور خامیوں کی اصلاح کی بات تھی، اس لیے تکبر اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے وہ اسے تسلیم کرنے کے بجائے اپنی ہی نصیحت اور خیر خواہی کی بات سے منہ موڑنے والے بن گئے۔ فعل ماضی {”أَعْرَضُوْا“} کے بجائے اسم فاعل {” مُعْرِضُوْنَ “} کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے صرف ایک دو بار ہی منہ نہیں موڑا، بلکہ پکے منہ موڑنے والے بن گئے۔ ذکر کا دوسرا معنی عز و شرف اور شہرت و ناموری ہے، یعنی یہ قرآن ایمان لانے والوں، خصوصاً عرب کے لیے تمام دنیا میں قیامت تک کے لیے عز و شرف اور ناموری کا باعث ہے، مگر یہ ایسے بدنصیب ہیں کہ انھیں اپنی ناموری اور اپنا عز و شرف بھی راس نہیں آتا۔ یہ دوسرا مطلب یہاں زیادہ موزوں معلوم ہوتا ہے۔ (واللہ اعلم)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
پھر جب ذکر ان کے پاس آگیا تو بجائے اس کے کہ اسے قبول کر لیتے اس سے اعراض کرنے لگے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ یہاں ذکر سے مراد عز و شرف ہے اور یہ معنی بھی اکثر مفسرین نے اختیار کیا ہے یعنی ہم نے یہ ذکر تمہاری ہی زبان میں نازل کیا تاکہ تم اسے خوب سمجھ سکو پھر رسول نے تمہیں واضح طور پر بتلا دیا کہ اگر تم اس کی تعلیم پر عمل کرو گے تو تم عرب و عجم کے حکمران بن جاؤ گے اور اس کی تائید اس واقعہ سے بھی ہوتی ہے کہ ایک دفعہ عتبہ بن ربیعہ، جو ایک معزز قریش سردار، نہایت بہادر اور فطرتاً نیک دل انسان تھا۔ حرم میں بیٹھ کر اپنے دوسرے ساتھیوں سے کہنے لگا کہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ باتیں کہنا چاہتا ہوں۔ امید ہے وہ ان میں سے ایک نہ ایک ضرور قبول کرے گا اور اگر اس نے قبول کر لی تو ہم اس مصیبت سے نجات حاصل کر سکیں گے۔ مشرکوں نے کہا: ابو الولید! ضرور یہ کام کرو۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اگر چند باتیں پیش کیں۔ جن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں۔ ان سب باتوں کے جواب میں آپ نے سورۃ حم السجدہ کی چند آیات پڑھیں جنہیں عتبہ چپ چاپ سنتا رہا۔ جب آپ اس آیت پر پہنچے: ﴿فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ﴾ یعنی اگر یہ لوگ اعراض کریں تو آپ کہہ دیجئے کہ میں تمہیں عاد و ثمود کی کڑک جیسی ایک کڑک کے خطرہ سے آگاہ کر رہا ہوں۔ تو عتبہ کے آنسو بہنے لگے اور آپ کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔ قرآن کی یہ آیات اس کے دل کو خوب متاثر کر رہی تھیں اور اسے یہ خطرہ محسوس ہونے لگا کہ کہیں ایسا عذاب اسی وقت نہ آن پڑے۔ وہ چپ چاپ وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا۔ مگر اب وہ پہلا عتبہ نہ رہا تھا۔ جا کر قریشیوں سے کہنے لگا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو کلام پیش کرتا ہے وہ شاعری نہیں کچھ اور ہی چیز ہے تم اسے اس کے حال پر چھوڑ دو۔ اگر وہ عرب پر غالب آ گیا تو اس میں تمہاری ہی عزت ہے اور اگر وہ خود ہی ختم ہو گیا تو یہی کچھ تم چاہتے ہو۔ وہ کہنے لگے: ”ابو الولید! معلوم ہوتا ہے تم پر بھی اس کا جادو چل گیا۔“ [تفسير ابن كثير، ج 6 ص 159 تا 161] مگر جب یہ عز و شرف بخشنے والا ذکر آگیا تو انہوں نے اس سے اعراض اور نفرت کا اظہار شروع کر دیا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فإنْ قيلَ: لِمَ لم يكنِ الحقُّ موافقاً لأهوائهم؛ لأجْل أن يؤمنوا أو يُسْرِعوا الانقيادَ؟ أجاب تعالى بقوله: {ولوِ اتَّبَعَ الحقُّ أهواءهم لَفَسَدَتِ السمواتُ والأرضُ}: ووجهُ ذلك أنَّ أهواءهم متعلِّقة بالظُّلم والكفر والفسادِ من الأخلاق والأعمال؛ فلو اتَّبع الحقُّ أهواءهم؛ لفسدتِ السماواتُ والأرضُ؛ لفساد التصرُّف والتدبير المبنيِّ على الظُّلم وعدم العدل؛ فالسماواتُ والأرض ما استقامتا إلاَّ بالحقِّ والعدل. {بل أَتيْناهم بذِكْرِهِم}؛ أي: بهذا القرآن المذكِّر لهم بكل خيرٍ، الذي به فخرُهُم وشرفُهم حين يقومون به ويكونون به سادةَ الناس. {فهم عن ذِكْرِهِم مُعْرِضون}: شقاوةً منهم وعدمَ توفيق؛ {نَسُوا الله فَنَسِيَهم}، {نَسُوا الله فأنساهم أنفُسَهم}؛ فالقرآن ومَنْ جاء به أعظمُ نعمةٍ ساقها الله إليهم، فلم يقابلوها إلا بالردِّ والإعراض؛ فهل بعد هذا الحرمان حرمانٌ؟! وهل يكون وراءَه إلاَّ نهايةُ الخسران؟!