ترجمہ و تفسیر — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 70

اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ بِہٖ جِنَّۃٌ ؕ بَلۡ جَآءَہُمۡ بِالۡحَقِّ وَ اَکۡثَرُہُمۡ لِلۡحَقِّ کٰرِہُوۡنَ ﴿۷۰﴾
یا کہتے ہیں کہ اسے کوئی جنون ہے، بلکہ وہ ان کے پاس حق لے کر آیا ہے اور ان میں سے اکثر حق کو برا جاننے والے ہیں۔ En
کیا یہ کہتے ہیں کہ اسے سودا ہے (نہیں) بلکہ وہ ان کے پاس حق کو لے کر آئے ہیں اور ان میں سے اکثر حق کو ناپسند کرتے ہیں
En
یا یہ کہتے ہیں کہ اسے جنون ہے؟ بلکہ وه تو ان کے پاس حق ﻻیا ہے۔ ہاں ان میں اکثر حق سے چڑنے والے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 70) ➊ {اَمْ يَقُوْلُوْنَ بِهٖ جِنَّةٌ …: جِنَّةٌ } پر تنوین تنکیر کی ہے، یعنی یہ کہتے ہیں کہ اس کو کسی قسم کا جنون ہے۔ چوتھی وجہ ان کے انکار کی یہ ہو سکتی ہے کہ وہ کہتے ہوں کہ اسے کسی قسم کا جنون ہے اور واقعی وہ آپ کو کسی قسم کا دیوانہ یا پاگل سمجھتے ہوں۔ ظاہر ہے کہ یہ بھی اصل وجہ نہیں ہے، کیونکہ وہ ہٹ دھرمی سے اپنی زبان سے جو چاہیں کہتے رہیں، مگر دل سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کمال دانائی کے قائل ہیں، کیونکہ خود انھوں نے صادق اور امین کا لقب دیا ہے۔ بھلا پاگلوں کو یہ لقب دیا جاتا ہے، پھر وہ کیسا دیوانہ ہے (یا مستشرقین کی ہرزہ سرائی کے مطابق مرگی کے دورے کا مریض ہے) کہ دیوانگی یا مرگی کے دورے کے وقت اس کی زبان سے قرآن جیسا کلام نکلتا ہے، جس کی سب سے چھوٹی سورت کا جواب پیش کرنے سے پوری کائنات قاصر ہے اور جس نے تیئیس (۲۳) برس کے مختصر عرصے میں ساری دنیا کی کایا پلٹ کر رکھ دی۔
➋ { بَلْ جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ وَ اَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ:} جب یہ بات بھی نہیں تو نتیجہ یہی ہے کہ جو دعوت اس رسول نے پیش کی ہے وہ حق ہے، جب کہ ان کے اکثر حق بات کو ناپسند کرتے ہیں، کیونکہ وہ ان کی شتر بے مہار خواہشات اور حیوانی خصلتوں کے خلاف ہے۔ چنانچہ وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے یہ سچی بات قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ فرمایا: ان میں سے اکثر حق کو ناپسند کرتے ہیں۔ کیونکہ جو حق پسند تھے وہ ایمان لے آئے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

70-1یہ بھی زجر و توبیخ کے طور پر ہی ہے یعنی اس پیغمبر نے ایسا قرآن پیش کیا جس کی نظیر پیش کرنے سے دنیا قاصر ہے۔ اسی طرح اس کی تعلیمات نوع انسانی کے لئے رحمت اور امن و سکون کا باعث ہیں۔ کیا ایسا قرآن اور ایسی تعلیمات ایسا شخص بھی پیش کرسکتا ہے جو دیوانہ اور مجنون ہو۔ 70-2یعنی ان کے اعراض اور استکبار کی اصل وجہ حق سے ان کی کراہت (ناپسدیدگی) ہے جو عرصہ دراز سے باطل کو اختیار کئے رکھنے کی وجہ سے ان کے اندر پیدا ہوگئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

70۔ یا وہ یہ کہہ دیتے ہیں کہ اسے جنون ہے [70]۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ان کے اس سچی بات لایا ہے لیکن ان میں [71] سے اکثر لوگ حق کو پسند ہی نہیں کرتے
[70] انکار کی ایک تیسری وجہ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ لوگ اپنے رسول کو دیوانہ سمجھ کر اس کی باتوں کو درخور اعتناء نہ سمجھیں۔ اگر وہ اسے دیوانہ کہہ بھی دیں تو ان کے دل ہرگز اس بات کو تسلیم نہیں کرتے۔ چنانچہ جب دعوت توحید کا چرچا عام ہونے لگا تو قریش سرداروں کو بہت فکر لاحق ہو گئی۔ وہ اس دعوت کو روکنے کے لئے مشورہ کی خاطر ولید بن مغیرہ کے پاس جمع ہوئے۔ ولید بن مغیرہ ابو جہل کا چچا تھا اور حرب بن امیہ کی وفات کے بعد قریش کی سیادت اسی کے ہاتھ آئی تھی۔ ولید بن مغیرہ ایک سمجھدار آدمی تھا۔ کہنے لگا اس سلسلہ میں اپنی اپنی تجاویز پیش کرو انھیں پیش کردہ تجاویز میں سے ایک سردار نے یہ تجویز بھی پیش کی تھی کہ ہم لوگوں کو کہیں گے کہ ”وہ تو ایک مجنون آدمی ہے“ یہ سن کر ولید بن مغیرہ کہنے لگا: ”اللہ کی قسم! وہ دیوانہ نہیں ہے۔ ہم نے دیوانوں کو بارہا دیکھا ہے۔ اس کے اندر نہ دیوانوں جیسی دم گھٹنے کی کیفیت ہے، نہ الٹی سیدھی حرکتیں ہیں اور نہ ہی ان جیسی بہکی بہکی باتیں ہیں“ [الرحيق المختومص 121] (نیز رسول اور مجنون میں فرق کے لئے دیکھئے سورۃ اعراف آیت نمبر 184)
[71] پھر جب یہ سب باتیں نا ممکن ہیں۔ تو اس کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ جو دعوت یہ رسول پیش کر رہا ہے وہ حق اور درست ہو، اور ان کے انکار اور بدکنے کی وجہ صرف یہ ہو سکتی ہے کہ انھیں سچی بات سے چڑ ہو گئی ہے اور وہ اپنی ضد، تعصب اور ہٹ دھرمی کی بنا پر یہ سچی بات قبول کرنے کو تیار نہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِهٖ جِنَّةٌ یا وہ کہتے ہیں کہ اسے جنون لاحق ہے اس لیے وہ ایسی باتیں کررہا ہے اور مجنون کی باتوں پر کان دھرا جاتا ہے نہ اس کی باتوں کا اعتبار ہی کیا جاتا ہے کیونکہ وہ باطل اور احمقانہ باتیں منہ سے نکالتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی بات کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ بَلْ جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس حق (امر ثابت) لے کر آئے ہیں جو سراسر صدق و عدل پر مبنی ہے جس میں کوئی اختلاف ہے نہ تناقض۔ تب وہ شخص جو یہ چیز لے کر آیا ہو وہ کیسے پاگل ہے؟… بلکہ وہ تو علم و عقل اور مکارم اخلاق کے اعتبار سے درجہ کمال پر فائز ہے۔ اس میں گزشتہ مضمون سے انتقال ہے یعنی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کو ایمان لانے سے صرف اس چیز نے منع کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ﴿ بَلْ جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ وَاَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ ان کے پاس حق لے کر آئے ہیں لیکن ان کی اکثریت حق کو ناپسند کرنے والی ہے۔ اور سب سے بڑا حق جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس لے کر آئے ہیں، اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص اور غیر اللہ کی عبادت کو ترک کرنا ہے اور ان کا اس بات کو ناپسند کرنا اور اس سے تعجب کرنا معلوم ہے۔
پس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حق لے کر آنا اور ان کا حق کو ناپسند کرنا دراصل حق کی تکذیب کرنا ہے۔ یہ کسی شک کی بنا پر ہے نہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کی وجہ سے بلکہ یہ انکار حق ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ فَاِنَّهُمْ لَا یُكَذِّبُوْنَكَ وَلٰكِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ (الانعام:6؍33) یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں جھٹلا رہے بلکہ ظالم اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کررہے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{أم يقولونَ به جِنَّةٌ}؛ أي: جنون؛ فلهذا قال ما قال! والمجنونُ غيرُ مسموع منه، ولا عبرة بكلامه؛ لأنَّه يهذي بالباطل والكلام السخيف! قال الله في الردِّ عليهم في هذه المقالة: {بل جاءهم بالحقِّ}؛ أي: بالأمر الثابت الذي هو صدقٌ وعدلٌ لا اختلافَ فيه ولا تناقُضَ؛ فكيفَ يكونُ مَنْ جاء به، به جِنَّةٌ؟! وهلاَّ يكون إلاَّ في أعلى درج الكمال من العلم والعقل ومكارم الأخلاق! وأيضاً؛ فإنَّ في هذا الانتقال مما تقدَّم؛ أي: بل الحقيقة التي منعتهم من الإيمان أنَّه {جاءَهُم بالحقِّ وأكثرُهم للحقِّ كارهون}، وأعظمُ الحقِّ الذي جاءهم به: إخلاصُ العبادة للَّه وحده، وترك ما يُعْبَد من دون اللَّه، وقد علم كراهتهم لهذا الأمر وتعجُّبهم منه؛ فكونُ الرسول أتى بالحقِّ، وكونُهم كارهين للحقِّ بالأصل، هو الذي أوجب لهم التكذيب بالحقِّ؛ لا شكًّا ولا تكذيباً للرسول؛ كما قال تعالى: {فإنَّهم لا يكذِّبونَك ولكنَّ الظالمينَ بآياتِ الله يَجْحَدون}.