تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { بَلْ جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ وَ اَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ:} جب یہ بات بھی نہیں تو نتیجہ یہی ہے کہ جو دعوت اس رسول نے پیش کی ہے وہ حق ہے، جب کہ ان کے اکثر حق بات کو ناپسند کرتے ہیں، کیونکہ وہ ان کی شتر بے مہار خواہشات اور حیوانی خصلتوں کے خلاف ہے۔ چنانچہ وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے یہ سچی بات قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ فرمایا: ”ان میں سے اکثر حق کو ناپسند کرتے ہیں۔“ کیونکہ جو حق پسند تھے وہ ایمان لے آئے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[71] پھر جب یہ سب باتیں نا ممکن ہیں۔ تو اس کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ جو دعوت یہ رسول پیش کر رہا ہے وہ حق اور درست ہو، اور ان کے انکار اور بدکنے کی وجہ صرف یہ ہو سکتی ہے کہ انھیں سچی بات سے چڑ ہو گئی ہے اور وہ اپنی ضد، تعصب اور ہٹ دھرمی کی بنا پر یہ سچی بات قبول کرنے کو تیار نہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{أم يقولونَ به جِنَّةٌ}؛ أي: جنون؛ فلهذا قال ما قال! والمجنونُ غيرُ مسموع منه، ولا عبرة بكلامه؛ لأنَّه يهذي بالباطل والكلام السخيف! قال الله في الردِّ عليهم في هذه المقالة: {بل جاءهم بالحقِّ}؛ أي: بالأمر الثابت الذي هو صدقٌ وعدلٌ لا اختلافَ فيه ولا تناقُضَ؛ فكيفَ يكونُ مَنْ جاء به، به جِنَّةٌ؟! وهلاَّ يكون إلاَّ في أعلى درج الكمال من العلم والعقل ومكارم الأخلاق! وأيضاً؛ فإنَّ في هذا الانتقال مما تقدَّم؛ أي: بل الحقيقة التي منعتهم من الإيمان أنَّه {جاءَهُم بالحقِّ وأكثرُهم للحقِّ كارهون}، وأعظمُ الحقِّ الذي جاءهم به: إخلاصُ العبادة للَّه وحده، وترك ما يُعْبَد من دون اللَّه، وقد علم كراهتهم لهذا الأمر وتعجُّبهم منه؛ فكونُ الرسول أتى بالحقِّ، وكونُهم كارهين للحقِّ بالأصل، هو الذي أوجب لهم التكذيب بالحقِّ؛ لا شكًّا ولا تكذيباً للرسول؛ كما قال تعالى: {فإنَّهم لا يكذِّبونَك ولكنَّ الظالمينَ بآياتِ الله يَجْحَدون}.