تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 71

وَ لَوِ اتَّبَعَ الۡحَقُّ اَہۡوَآءَہُمۡ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الۡاَرۡضُ وَ مَنۡ فِیۡہِنَّ ؕ بَلۡ اَتَیۡنٰہُمۡ بِذِکۡرِہِمۡ فَہُمۡ عَنۡ ذِکۡرِہِمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴿ؕ۷۱﴾
اور اگر حق ان کی خواہشوں کے پیچھے چلے تو یقینا سب آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہے، بگڑ جائیں، بلکہ ہم ان کے پاس ان کی نصیحت لے کر آئے ہیں تو وہ اپنی نصیحت سے منہ موڑنے والے ہیں۔ En
اور خدائے (برحق) ان کی خواہشوں پر چلے تو آسمان اور زمین اور جو ان میں ہیں سب درہم برہم ہوجائیں۔ بلکہ ہم نے ان کے پاس ان کی نصیحت (کی کتاب) پہنچا دی ہے اور وہ اپنی (کتاب) نصیحت سے منہ پھیر رہے ہیں
En
اگر حق ہی ان کی خواہشوں کا پیرو ہوجائے تو زمین وآسمان اور ان کے درمیان کی ہر چیز درہم برہم ہو جائے۔ حق تو یہ ہے کہ ہم نے انہیں ان کی نصیحت پہنچا دی ہے لیکن وه اپنی نصیحت سے منھ موڑنے والے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اگر یہ کہا جائے کہ حق ان کی خواہشات نفس کے موافق کیوں نہیں تاکہ وہ ایمان لے آتے اور جلدی سے حق کی اطاعت کرتے تو اللہ تعالیٰ نے اس کا یوں جواب عطا فرمایا: ﴿وَلَوِ اتَّ٘بَعَ الْحَقُّ اَهْوَآءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اگر حق (دین) ہی ان کی خواہشات کی پیروی کرنے لگ جائے تو آسمانوں اور زمین کا سارا نظام ہی درہم برہم ہو جائے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی خواہشات نفس ظلم، کفر اور فسادپر مبنی اخلاق و اعمال سے متعلق ہوتی ہیں۔ پس اگر حق ان کی خواہشات کی پیروی کرنے لگے تو آسمان و زمین ظلم اور عدم عدل پر مبنی تدبیر و تصرف کی وجہ سے فساد کا شکار ہو جائیں، اس لیے کہ آسمان اور زمین تو صرف حق و عدل کی بنا پر درست ہیں۔
﴿بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِذِكْرِهِمْ یعنی ہم ان کے پاس یہ قرآن لے کر آئے جو ان کو ہر قسم کی بھلائی کی نصیحت کرتا ہے۔ یہ ان کا فخر و شرف ہے۔ اگر وہ اس کو قائم کریں گے تو لوگوں کی سیادت کریں گے۔ ﴿ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُّعْرِضُوْنَ وہ اپنے ذکر (نصیحت) سے روگردانی کررہے ہیں اپنی بدبختی اور عدم توفیق کی وجہ سے ﴿ نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِیَهُمْ (التوبہ:9؍67) انھوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے بھی ان کو فراموش کر دیا۔ ﴿ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنْسٰىهُمْ اَنْفُسَهُمْ (الحشر:59؍19) انھوں نے اللہ کو بھلا دیا اور اللہ نے ان کو اپنے تئیں بھلوا دیا۔ پس قرآن عظیم اور اس کو لانے والی ہستی سب سے بڑی نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کی ہے مگر انھوں نے اس عظیم نعمت کو ٹھکرا دیا اور اس سے روگردانی کی۔ کیا اس ایمان سے محرومی کے بعد، اس سے بڑی کوئی حرماں نصیبی ہے؟ اور کیا اس کے پیچھے انتہائی درجے کا خسارہ نہیں؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فإنْ قيلَ: لِمَ لم يكنِ الحقُّ موافقاً لأهوائهم؛ لأجْل أن يؤمنوا أو يُسْرِعوا الانقيادَ؟ أجاب تعالى بقوله: {ولوِ اتَّبَعَ الحقُّ أهواءهم لَفَسَدَتِ السمواتُ والأرضُ}: ووجهُ ذلك أنَّ أهواءهم متعلِّقة بالظُّلم والكفر والفسادِ من الأخلاق والأعمال؛ فلو اتَّبع الحقُّ أهواءهم؛ لفسدتِ السماواتُ والأرضُ؛ لفساد التصرُّف والتدبير المبنيِّ على الظُّلم وعدم العدل؛ فالسماواتُ والأرض ما استقامتا إلاَّ بالحقِّ والعدل. {بل أَتيْناهم بذِكْرِهِم}؛ أي: بهذا القرآن المذكِّر لهم بكل خيرٍ، الذي به فخرُهُم وشرفُهم حين يقومون به ويكونون به سادةَ الناس. {فهم عن ذِكْرِهِم مُعْرِضون}: شقاوةً منهم وعدمَ توفيق؛ {نَسُوا الله فَنَسِيَهم}، {نَسُوا الله فأنساهم أنفُسَهم}؛ فالقرآن ومَنْ جاء به أعظمُ نعمةٍ ساقها الله إليهم، فلم يقابلوها إلا بالردِّ والإعراض؛ فهل بعد هذا الحرمان حرمانٌ؟! وهل يكون وراءَه إلاَّ نهايةُ الخسران؟!