تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ:} یعنی اللہ تعالیٰ ان سب شیاطین کو خوب جانتا ہے جو انبیاء کی تمناؤں کی راہ میں روڑے اٹکاتے ہیں، یا انبیاء کے آیات کی تلاوت کے وقت لوگوں کے دلوں میں شکوک و شبہات ڈالتے ہیں اور ان شکوک و شبہات کو اور ان کے دفاع کے طریقوں کو بھی خوب جانتا ہے اور وہ کمال حکمت والا بھی ہے جس کے پیش نظر اس نے شیاطین کو مہلت دے رکھی ہے کہ خود بھی گمراہ رہیں اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں۔
➌ بعض مفسرین نے اس آیت کے شان نزول میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورۂ نجم کی تلاوت کر رہے تھے، جب آپ آیت (۲۰): «{ وَ مَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰى }» پر پہنچے تو لا شعوری کے عالم میں شیطان نے آپ کی زبان پر یہ کلمات جاری کر دیے، یا آپ کے لہجے اور آواز میں پڑھ دیے: {” تِلْكَ الْغَرَانِيْقُ الْعُلٰي وَ إِنَّ شَفَاعَتَهُنَّ لَتُرْتَجَي“} ”یہ عالی مقام دیویاں ہیں اور ان کی شفاعت کی امید کی جاتی ہے۔“ اس پر کفار قریش بہت خوش ہوئے کہ آج ہمارے بتوں کی بھی تعریف ہوئی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت غم لاحق ہوا، چنانچہ سورۂ حج کی یہ آیت اتری اور آپ کو تسلی دی گئی کہ پہلے انبیاء کی وحی میں بھی شیطان اس قسم کی دخل اندازیاں کرتا رہا ہے، مگر شیطان کے یہ حربے کامیاب نہیں ہوتے وغیرہ۔ یہ قصہ ان آیات کے صریح متصادم ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ پیغمبروں کے چاروں طرف زبردست پہرا اس وقت تک رکھتا ہے جب تک وہ اللہ کے پیغامات لوگوں تک نہ پہنچا دیں (اتنے کڑے پہرے میں ممکن ہی نہیں کہ شیطان کسی طرح بھی اثر انداز ہو سکے)۔ دیکھیے سورۂ جن کی آخری آیات {” عٰلِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ “} سے آخر سورت تک۔ محقق علماء نے اس قصے کی پر زور تردید کی ہے۔ بیہقی رحمہ اللہ کہتے ہیں، یہ قصہ من گھڑت ہے۔ ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ یہ قصہ زنادقہ (ملحد و بے دین لوگوں) نے گھڑا ہے۔ قاضی عیاض نے ”الشفاء“ میں اس کی تردید کی ہے۔ رازی نے فرمایا کہ یہ قصہ باطل ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے تین مرسل روایات کی بنا پر اس واقعے کا کچھ اصل ثابت کرنے اور اس کی توجیہ کی کوشش کی ہے مگر محدث البانی رحمہ اللہ نے اپنے رسالہ {”نَصْبُ الْمَجَانِيْقِ لِنَسْفِ قِصَّةِ الْغَرَانِيْقِ“} میں مضبوط علمی بحث کے ساتھ اس قصے کا بالکل بے اصل ہونا ثابت کیا ہے اور قدیم و جدید محدثین و فقہاء کا حوالہ دیا ہے، جنھوں نے اس واقعہ کی دلائل کے ساتھ تردید فرمائی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[81] تمنی کے معنی تمنا یا آرزو کرنا بھی لغوی لحاظ سے درست ہیں اور تلاوت کرنا بھی۔ ترجمہ میں پہلے معنی کو اختیار کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہو گا کہ نبی یا رسول جب کوئی آرزو کرتا ہے (اور نبی یا رسول کی بڑی سے بڑی خواہش یہی ہوتی ہے کہ لوگ اس کی دعوت کو قبول کر لیں اور اس دعوت کو فروغ اور قبول عام حاصل ہو) تو شیطان اس کی خواہش کی تکمیل میں کئی طرح سے رکاوٹیں کھڑی کر دیتا ہے۔ اور ایسا وسوسہ بعض دفعہ تو شیطان نبی اور اس کے پیروکاروں کے دلوں میں ڈالتا ہے۔ جیسے کفار کے کسی حسی معجزہ کے مطالبہ پر خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے دل میں یہ خیال آنے لگا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ کوئی ایسا معجزہ دکھلا دے تو اس سے کئی فائدے حاصل ہو سکتے ہیں یا مثلاً رؤسائے قریش نے آپ سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ اگر آپ ان ناتواں اور حقیر لوگوں (یعنی کمزور مسلمانوں) کو اپنی مجلس سے کسی وقت اٹھا دیں تو ہم آپ کے پاس بیٹھ کر آپ کی دعوت غور سے سننے کو تیار ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کی عدم مخالفت اور اسلام کے غلبہ کی خاطر کافروں کے اس مطالبہ پر غور کرنے کے لئے تیار بھی ہو گئے تھے تو ایسے موقع پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بروقت تنبیہ ہو جاتی تھی اور اللہ تعالیٰ ایسی آیات نازل فرما دیتا جو خود اسے منظور ہوتا تھا اور اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ شیطان نبی یا رسول کی خواہش کی تکمیل کی راہ میں دوسرے لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالنا شروع کر دیتا ہے۔ جو اللہ کی آیات کی تکذیب کرتے، اسلام کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتے اور اس کے خلاف سازشیں کرنے لگتے ہیں اور یہ لوگ دو ہی قسم کے ہو سکتے ہیں ایک منافقین اور دوسرے وہ لوگ جن کے دل قبول حق کے سلسلہ میں پتھر کی طرح سخت ہو چکے ہوں۔ لیکن اللہ تعالیٰ بالآخر ایسے لوگوں کی تمام تر سازشوں اور کوششوں کو ناکام بنا دیتا ہے۔ اور جس مقصد کی تکمیل کے لئے وہ کسی نبی یا رسول کو مبعوث فرماتا ہے اسے پختہ سے پختہ تر بنا دیتا ہے۔
1۔ ان تمام روایات کی اسناد مرسل اور منقطع ہیں۔ لہٰذا یہ روایات ساقط الاعتبار ہیں۔ اسی وجہ سے صحاح ستہ میں اس قسم کی کوئی روایت مذکور نہیں۔
2۔ ان آیات میں ”اس شیطانی وسوسہ“ سے پہلے ہی بتوں اور دیویوں کی مذمت مذکور ہے اور بعد میں بھی۔ لہٰذا درمیان میں بتوں کا یہ ذکر خیر کسی لحاظ سے بھی فٹ نہیں بیٹھتا۔
3۔ تاریخی لحاظ سے یہ روایات اس لئے غلط ہیں کہ ہجرت کا واقعہ 5 نبوی میں پیش آیا تھا اور جو مہاجر اس غلط افواہ کی بنا پر واپس مکہ آئے تھے وہ صرف تین ماہ بعد آئے تھے۔ جبکہ یہ سورت مدنی ہے اور ہجرت حبشہ سے واپسی اور اس سورۃ کے نزول کے درمیان کم از کم آٹھ نو سال کا وقفہ ہے۔
1۔ شکوک میں مبتلا صرف وہی لوگ ہوتے ہیں جو منافق ہوں یا ہٹ دھرم کے کافر۔
2۔ ایسی آیات سے ہی ایمانداروں کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے اور برحق ہے۔
3۔ ایسی آیات در اصل سب لوگوں کے لئے ایک آزمائش اور جانچ ہوتی ہیں۔ جن سے یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ کون کس مقام پر کھڑا ہے؟ آیا وہ منافقوں سے تعلق رکھتا ہے یا اللہ پر ایمان لانے والوں سے؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
چنانچہ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ شریف میں سورۃ النجم کی تلاوت فرمائی جب یہ آیتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھ رہے تھے آیت «أَفَرَأَيْتُمْ اللَّاتَ وَالْعُزَّى وَمَنَاة الثَّالِثَة الْأُخْرَى» ۱؎ [53-النجم:19] تو شیطان نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک پر یہ الفاظ ڈالے کہ ( «تِلْكَ الْغَرَانِيق الْعُلَى وَإِنَّ شَفَاعَتهنَّ تُرْتَجَى» ) پس مشرکین خوش ہو گئے کہ آج تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے معبودوں کی تعریف کی جو اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی نہیں کی۔ چنانچہ ادھر حضور نے سجدہ کیا ادھر وہ سب بھی سجدے میں گر پڑے اس پر یہ آیت اتری «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّىٰ أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ» } ۱؎ [22-الحج:52] الخ، اسے ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ نے بھی روایت کیا ہے یہ مرسل ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:25331:مرسل و ضعیف]
مسند بزار میں بھی اس کے ذکر کے بعد ہے کہ صرف اسی سند سے ہی یہ متصلاً مروی ہے۔ صرف امیہ بن خالد ہی اسے وصل کرتے ہیں وہ مشہور ثقہ ہیں۔ یہ صرف طریق کلبی سے ہی مروی ہے۔ [ضعیف] ابن ابی حاتم نے اسے دو سندوں سے لیا ہے لیکن دونوں مرسل ہیں، ابن جریر میں بھی مرسل ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ { سورۃ النجم نازل ہوئی اور مشرکین کہہ رہے تھے کہ اگر یہ شخص ہمارے معبودوں کا اچھے لفظوں میں ذکر کرے تو ہم اسے اور اس کے ساتھیوں کو چھوڑیں مگر اس کا تو یہ حال ہے کہ یہود ونصاری اور جو لوگ اس کے مخالف ہیں اس سب سے زیادہ گالیوں اور برائی سے ہمارے معبودوں کا ذکر کرتا ہے۔
اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم پر سخت مصائب توڑے جا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی ہدایت کی لالچ تھی جب سورۃ النجم کی تلاوت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع کی اور «أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنثَىٰ» ۱؎ [53-النجم:21] تک پڑھا تو، شیطان نے بتوں کے ذکر کے وقت یہ کلمات ڈال دئیے ( «وَإِنَّهُنَّ لَهُنَّ الْغَرَانِيق الْعُلَى وَإِنَّ شَفَاعَتهنَّ لَهِيَ الَّتِي تُرْتَجَى» ) یہ شیطان کی مقفی عبارت تھی۔
ہر مشرک کے دل میں یہ کلمے بیٹھ گئے اور ایک ایک کو یاد ہو گئے یہاں تک کہ یہ مشہور ہو گیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ کے خاتمے پر سجدہ کیا تو سارے مسلمان اور مشرکین بھی سجدے میں گر پڑے، ہاں ولید بن مغیرہ چونکہ بہت ہی بوڑھا تھا اس لیے اس نے ایک مٹھی مٹی کی بھر کر اونچی لے جا کر اس کو اپنے ماتھے سے لگا لیا۔
اب ہر ایک کو تعجب معلوم ہونے لگا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دونوں فریق سجدے میں شامل تھے۔ مسلمانوں کو تعجب تھا کہ یہ لوگ ایمان تو لائے نہیں، یقین نہیں، پھر ہمارے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدے پر سجدہ انہوں کیسے کیا؟ شیطان نے جو الفاظ مشرکوں کے کانوں میں پھونکے تھے وہ مسلمانوں نے سنے ہی نہ تھے ادھر ان کے دل خوش ہو رہے تھے کیونکہ شیطان نے اس طرح آواز میں آواز ملائی کہ مشرکین اس میں کوئی تمیز ہی نہ کر سکتے تھے }۔
شیطان نے اس واقعہ کو اتنا پھیلا دیا کہ مہاجرین حبشہ کے کانوں میں بھی یہ بات پہنچی۔ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے جب سنا کہ اہل مکہ مسلمان ہو گئے ہیں بلکہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی اور ولید بن مغیرہ سجدہ نہ کرسکا تو اس نے مٹی کی ایک مٹھی اٹھا کر اس پر سرٹکالیا۔ مسلمان اب پورے امن اور اطمینان سے ہیں تو انہوں نے وہاں سے واپسی کی ٹھانی اور خوشی خوشی مکے پہنچے۔
ان کے پہنچنے سے پہلے شیطان کے ان الفاظ کی قلعی کھل چکی تھی اللہ نے ان الفاظ کو ہٹا دیا تھا اور اپنا کلام محفوظ کر دیا تھا یہاں مشرکین کی آتش عداوت اور بھڑک اٹھی تھی اور انہوں نے مسلمانوں پر نئے مصائب کے بادل برسانے شروع کردئے تھے یہ روایت بھی مرسل ہے۔
بیہقی کی کتاب دلائل النبوۃ میں بھی یہ روایت ہے امام محمد ابن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ بھی اسے اپنی سیرت میں لائے ہیں لیکن یہ سندیں مرسلات اور منقطعات ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اور بھی اسی قسم کے بہت سے جواب متکلمین نے دئے ہیں۔ قاضی عیاض رحمتہ اللہ علیہ نے بھی شفاء میں اسے چھیڑا ہے اور ان کے جواب کا ماحصل یہ ہے کہ اللہ کا اپنا فرمان اس بات کا ثبوت ہے کہ شیطان کا تصرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ناممکن ہے۔ مگر جب کہ وہ آرزو کرتا ہے الخ۔
اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی فرمائی گئی ہے کہ ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر پریشان خاطر نہ ہوں اگلے نبیوں رسولوں علیہم السلام پر بھی ایسے اتفاقات آئے ‘۔
بخاری میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ { اس کی آرزو میں جب نبی بات کرتا ہے تو شیطان اس کی بات میں بول شامل کر دیتا ہے پس شیطان کے ڈالے ہوئے کو باطل کر کے پھر اللہ تعالیٰ اپنی آیات کو محکم کرتا ہے }۔
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں «تَمَنَّىٰ» کا معنی «قَالَ» کے ہیں «أُمْنِيَّتِهِ» کے معنی «قَرَائَتِهِ» کے ہیں «إِلَّا أَمَانِيَّ» کا مطلب یہ ہے کہ پڑھتے ہیں لکھتے نہیں۔
بغوی رحمتہ اللہ علیہ اور اکثر مفسیرین کہتے ہیں «تَمَنَّىٰ» کے معنی «تَلَا» کے ہیں یعنی جب کتاب اللہ پڑھتا ہے تو شیطان اس کی تلاوت میں کچھ ڈال دیتا ہے۔ چنانچہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی مدح میں شاعر نے کہا ہے۔ شعر «تَمَنَّى كِتَابَ اللَّهِ أَوَّلَ لَيْلَةٍ وَآخِرَهَا لَاقَى حِمَامَ الْمَقَادِرِ» ۔ یہاں بھی لفظ «تَمَنَّىٰ» پڑھنے کے معنی میں ہے۔
چنانچہ مشرکین نے اسے اللہ کی طرف سے مان لیا حالانکہ وہ الفاظ شیطانی تھے۔ لہٰذا بیمار دل والوں سے مراد منافق ہیں اور سخت دل والوں سے مراد مشرک ہیں۔ یہ بھی قول ہے کہ مراد یہود ہیں۔ ظالم حق سے بہت دور نکل گئے ہیں۔ وہ سیدھے راستے سے گم ہو گئے ہیں اور جنہیں صحیح علم دیا گیا ہے جس سے وہ حق و باطل میں تمیز کرلیتے ہیں انہیں اس بات کے بالکل حق ہونے کا اور منجانب اللہ ہونے کا صحیح یقین ہو جائے اور وہ کامل الایمان بن جائیں اور سمجھ لیں کہ بیشک یہ اللہ کا کلام ہے جبھی تو اس قدر اس کی حفاظت دیانت اور نگہداشت ہے۔ کہ کسی جانب سے کسی طریق سے اس میں باطل کی آمیزش نہیں ہو سکتی۔ حکیم وحمید اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے پس ان کے دل تصدیق سے پر ہو جاتے ہیں، جھک کر رغبت سے متوجہ ہو جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ایمان داروں کی رہبری دنیا میں حق اور ہدایت کی طرف کرتا ہے صراط مستقیم سجھا دیتا ہے اور آخرت میں عذابوں سے بچا کر بلند درجوں میں پہنچاتا ہے اور نعمتیں نصیب فرماتا ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى بحكمته البالغة واختيارِهِ لعبادِهِ وأنَّ الله ما أرسل قبل محمدٍ {من رسول ولا نبيٍّ إلاَّ إذا تمنَّى}؛ أي: قرأ قراءته التي يذكِّر بها الناسَ ويأمرُهم وينهاهم، {ألقَى الشَّيطَانُ في أُمْنِيَّتِهِ}؛ أي: في قراءته من طرقه ومكايده ما هو مناقض لتلك القراءة مع أنَّ الله تعالى قد عَصَمَ الرسل بما يبلِّغون عن الله وحَفِظَ وحيَه أن يشتبِهَ أو يختلطَ بغيرِهِ، ولكنْ هذا إلقاءٌ من الشيطان غير مستقرٍّ ولا مستمرٍّ، وإنَّما هو عارضٌ يعرِضُ ثم يزول، وللعوارض أحكامٌ، ولهذا قال: {فينسخُ الله ما يُلْقي الشيطانُ}؛ أي: يزيله، ويذهبهُ، ويبطلُه، ويبيِّنُ أنه ليس من آياته. و {يُحْكِمُ الله آياتِهِ}؛ أي: يتقنها، ويحرِّرها، ويحفظها، فتبقى خالصةً من مخالطة إلقاء الشيطان. {واللَّه [عزيزٌ] }؛ أي: كامل القوة والاقتدار؛ فبكمال قوَّته يحفظ وحيَه، ويزيل ما تلقيه الشياطين. {حكيمٌ}: يضعُ الأشياء مواضعَها.