تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحج (22) — آیت 36

وَ الۡبُدۡنَ جَعَلۡنٰہَا لَکُمۡ مِّنۡ شَعَآئِرِ اللّٰہِ لَکُمۡ فِیۡہَا خَیۡرٌ ٭ۖ فَاذۡکُرُوا اسۡمَ اللّٰہِ عَلَیۡہَا صَوَآفَّ ۚ فَاِذَا وَجَبَتۡ جُنُوۡبُہَا فَکُلُوۡا مِنۡہَا وَ اَطۡعِمُوا الۡقَانِعَ وَ الۡمُعۡتَرَّ ؕ کَذٰلِکَ سَخَّرۡنٰہَا لَکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۳۶﴾
اور قربانی کے بڑے جانور، ہم نے انھیں تمھارے لیے اللہ کی نشانیوں سے بنایا ہے، تمھارے لیے ان میں بڑی خیر ہے۔ سو ان پر اللہ کا نام لو، اس حال میں کہ گھٹنا بندھے کھڑے ہوں، پھر جب ان کے پہلو گر پڑیں تو ان سے کچھ کھائو اور قناعت کرنے والے کو کھلاؤ اور مانگنے والے کو بھی۔ اسی طرح ہم نے انھیں تمھارے لیے مسخر کر دیا، تاکہ تم شکر کرو۔ En
اور قربانی کے اونٹوں کو بھی ہم نے تمہارے لئے شعائر خدا مقرر کیا ہے۔ ان میں تمہارے لئے فائدے ہیں۔ تو (قربانی کرنے کے وقت) قطار باندھ کر ان پر خدا کا نام لو۔ جب پہلو کے بل گر پڑیں تو ان میں سے کھاؤ اور قناعت سے بیٹھ رہنے والوں اور سوال کرنے والوں کو بھی کھلاؤ۔ اس طرح ہم نے ان کو تمہارے زیرفرمان کردیا ہے تاکہ تم شکر کرو
En
قربانی کے اونٹ ہم نے تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کی نشانیاں مقرر کر دی ہیں ان میں تمہیں نفع ہے۔ پس انہیں کھڑا کر کے ان پر اللہ کا نام لو، پھر جب ان کے پہلو زمین سے لگ جائیں اسے (خود بھی) کھاؤ اور مسکین سوال سے رکنے والوں اور سوال کرنے والوں کو بھی کھلاؤ، اسی طرح ہم نے چوپایوں کو تمہارے ماتحت کردیا ہے کہ تم شکر گزاری کرو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ شعائر دین کی تمام ظاہری علامات میں عام ہے۔ گزشتہ صفحات میں بیان کیا جا چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے شعائر کی تعظیم کرتا ہے تو یہ دلوں کا تقویٰ ہے۔ یہاں آگاہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جملہ شعائر میں (البدن) بھی داخل ہیں۔ ایک قول کے مطابق بدن وہ اونٹ اور گائے وغیرہ ہیں جن کو قربانی کے لیے بڑا اور موٹا کیا جائے اور ان کو اچھا جانا جائے۔ ﴿ لَكُمْ فِیْهَا خَیْرٌ یعنی قربانی دینے والے کے لیے اس میں بھلائی ہے یعنی اس میں سے کھانا، صدقہ کرنا، اس سے متمتع ہونا اور اجروثواب، سب بھلائی ہے ﴿ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا یعنی ذبح کرتے وقت بسم اللہ پڑھ کر ان کو ذبح کیا کرو۔ ﴿ صَوَآفَّ یعنی کھڑے ہونے کی حالت میں ان کو ذبح کرو۔ ان کو چاروں پاؤں پہ کھڑا کرو پھر ان کا اگلا بایاں پاؤں باندھ دو اور پھر ان کو نحر کرو۔
﴿فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُهَا جب ان کے پہلو زمین پر ٹک جائیں، پھر قصاب ان کو زمین پر گرا کر اس کی کھال وغیرہ اتار دے تب یہ جانور کھائے جانے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ ﴿ فَكُلُوْا مِنْهَا پس تم کھاؤ اس سے۔ یہ قربانی کرنے والے سے خطاب ہے۔ پس اس کا اپنی قربانی کا گوشت کھانا جائز ہے۔ ﴿وَاَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ یعنی اس محتاج کو بھی گوشت کھلاؤ جو قناعت اور عفت پسندی کی بنا پر سوال نہیں کرتا اور اس فقیر کو بھی قربانی کا گوشت دو جو اس کا سوال کرتا ہے۔ ہر ایک کا حق ہے۔
﴿ كَذٰلِكَ سَخَّرْنٰهَا لَكُمْ یعنی ہم نے ان قربانیوں کو تمھارے لیے مسخر کیا ﴿ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ تاکہ ان کی تسخیر پر تم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان کو تمھارے لیے مسخر نہ کیا ہوتا تو تم میں ان کو مسخر کرنے کی طاقت نہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو تمھارا مطیع بنایا، تم پر رحم اور احسان کرتے ہوئے ان کو تمھارے لیے مسخر کر دیا۔ پس اسی کی حمدوثنا بیان کرو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذا دليل على أن الشعائر عامٌّ في جميع أعلام الدين الظاهرة، وتقدَّم أنَّ الله أخبر أنَّ مَنْ عَظَّمَ شعائِرَه؛ فإنَّ ذلك من تقوى القلوب، وهنا أخبر أن من جُملة شعائرِهِ البُدْنَ؛ أي: الإبل والبقر على أحد القولين، فَتُعَظَّمُ وتستسمن وتُستحسن. {لكم فيها خيرٌ}؛ أي: المهدي وغيره من الأكل والصدقة والانتفاع والثواب والأجر. {فاذكُروا اسم الله عليها}؛ أي: عند ذبحها، قولوا: بسم الله، واذْبَحوها {صَوَافَّ}؛ أي: قائماتٍ؛ بأنْ تُقام على قوائمها الأربع، ثم تُعْقَلُ يدُها اليُسرى، ثم تُنْحَر. {فإذا وَجَبَتْ جُنوبها}؛ أي: سقطت في الأرض جُنوبها حين تُسلخ ثم يسقِطُ الجزارُ جنوبَها على الأرض؛ فحينئذٍ قد استعدَّتْ لأن يُؤْكَلَ منها؛ {فكلوا منها}: وهذا خطابٌ للمهدي، فيجوز له الأكل من هديِهِ، {وأطعِموا القانعَ والمعتَرَّ}؛ أي: الفقير الذي لا يسأل تقنُّعاً وتعففاً، والفقير الذي يسألُ؛ فكلٌّ منهما له حقٌّ فيهما. {كذلك سخَّرْناها لكم}؛ أي: البدن، {لعلَّكم تشكرونَ}: الله على تسخيرها؛ فإنَّه لولا تسخيرُه لها؛ لم يكنْ لكم بها طاقةٌ، ولكنَّه ذلَّلها لكم وسخَّرها رحمةً بكم وإحساناً إليكم؛ فاحْمَدوه.