تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {فَلَاُقَطِّعَنَّ اَيْدِيَكُمْ …:} شبہ پیدا کرنے کے بعد اوپر سے دھمکی بھی دے دی، تاکہ ان کو ایمان پر قائم رہنے سے پھیر دیا جائے اور دوسرے لوگ بھی مرعوب ہو جائیں۔
➌ {فِيْ جُذُوْعِ النَّخْلِ: ” جُذُوْعِ “ ”جِذْعٌ“} (جیم کے کسرہ کے ساتھ) کی جمع ہے ”تنے۔“ سولی دینے کے لیے اونچے سے اونچا میسر کھمبا اس وقت کھجور کا تنا تھا۔ ظاہر ہے کہ سولی تنے کے اوپر دی جاتی ہے، مگر یہاں {” فِيْ جُذُوْعِ النَّخْلِ “} (کھجوروں کے تنوں میں) فرمایا۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ یہاں لفظ {” فِيْ “ ”عَلٰي“} کے معنی میں ہے، مگر {” فِيْ “} کا لفظ اس لیے استعمال کیا کہ تمھیں کھجوروں کے تنوں کے اوپر لے جا کر کیلوں یا رسیوں کے ساتھ تنوں میں پیوست کر دوں گا اور اس طرح تم عبرت ناک انجام کو پہنچو گے۔ سولی کی تفصیل سورۂ اعراف (۱۱۵ تا ۱۲۶) میں دیکھیں۔
➍ { وَ لَتَعْلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّ اَبْقٰى:} یعنی وہ عذاب جس سے موسیٰ(علیہ السلام) نے تمھیں مقابلے سے پہلے ڈرایا تھا کہ {”وَيْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ “} وہ زیادہ سخت اور دیرپا ہے یا میرا عذاب؟ فرعون حقیقت ِحال سے واقف تھا، مگر اپنی شکست فاش پر پردہ ڈالنے کے لیے یہ دھمکیاں دے رہا تھا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پہلے تو جادوگروں کے اس مسلم گروہ سے کہنے لگا کہ میری اجازت کے بغیر تم اس پر ایمان کیوں لائے؟ پھر ایسا بہتان باندھا جس کا جھوٹ ہونا بالکل واضح ہے کہ موسیٰ علیہ السلام تو تمہارے استاد ہیں انہی سے تم نے جادو سیکھا ہے۔ تم سب آپس میں ایک ہی ہو، مشورہ کر کے ہمیں تاراج کرنے کے لیے تم نے پہلے انہیں بھیجا پھر اس کے مقابلے میں خود آئے اور اپنے اندرونی سمجھوتے کے مطابق سامنے ہار گئے۔ اور اسے جتا دیا اور پھر اس کا دین قبول کر لیا تاکہ تمہاری دیکھا دیکھی میری رعایا بھی اس چکر میں پھنس جائے مگر تمہیں اپنی اس ساز باز کا انجام بھی معلوم ہو جائے گا۔ میں الٹی سیدھی طرف سے تمہارے ہاتھ پاؤں کاٹ کر تم کو کھجور کے تنوں پر سولی دوں گا اور اس بری طرح تمہاری جان لوں گا کہ دوسروں کے لیے عبرت ہو۔
اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ جملہ قسم ہو یعنی اس اللہ کی قسم جس نے ہمیں اولاً پیدا کیا ہے، ہم ان واضح دلیلوں پر تیری گمراہی کو ترجیح دے ہی نہیں سکتے خواہ تو ہمارے ساتھ کچھ ہی کر لے۔ مستحق عبادت وہ ہے جس نے ہمیں بنایا نہ کہ تو، جو خود اسی کا بنایا ہوا ہے۔ تجھے جو کرنا ہو اس میں کمی نہ کر، تو تو ہمیں اسی وقت تک سزا دے سکتا ہے جب تک ہم اس دنیا کی حیات کی قید میں ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ اس کے بعد ابدی راحت اور غیر فانی خوشی ومسرت نصیب ہو گی۔ ہم اپنے رب پر ایمان لائے ہیں ہمیں امید ہے کہ وہ ہمارے اگلے قصوروں سے درگزر فرمالے گا بالخصوص یہ قصور جو ہم سے اللہ کے سچے نبی کے مقابلے پر جادو بازی کرنے کا سرزد ہوا ہے۔
اسی کے عذاب دائمی ہیں اور سخت خطرناک ہیں، اگر اس کی نافرمانی کی جائے۔ پس فرعون نے بھی ان کے ساتھ یہ کیا۔ سب کے ہاتھ پاؤں الٹی سیدھی طرف سے کاٹ کرسولی پر چڑھا دیا۔ وہ جماعت جو سورج کے نکلنے کے وقت کافر تھی، وہی جماعت سورج ڈوبنے سے پہلے مومن اور شہید تھی رحمتہ اللہ علیہم اجمعین۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فقال فرعون للسحرة: {آمنتُم له قبلَ أن آذَنَ لكم}؛ أي: كيف أقدمتُم على الإيمان من دون مراجعة منِّي ولا إذن، استغرب ذلك منهم لأدبهم معه وذلِّهم وانقيادهم له في كلِّ أمر من أمورهم، وجعل هذا من ذاك، ثم استلجَّ فرعونُ في كفره وطغيانه بعد هذا البرهان، واستخفَّ بقوله قومَهُ، وأظهر لهم أنَّ هذه الغلبة من موسى للسحرة ليس لأنَّ الذي معه الحقُّ، بل لأنَّه تمالأ هو والسحرة ومكروا ودبَّروا أن يخرجوا فرعونَ وقومَه من بلادهم، فقبل قومُه هذا المكرَ منه، وظنُّوه صدقاً، {فاستخفَّ قومَه فأطاعوه إنَّهم كانوا قوماً فاسقين}؛ مع أنَّ هذه المقالة التي قالها لا تدخُلُ عقلَ من له أدنى مُسْكة من عقل ومعرفةٍ بالواقع؛ فإنَّ موسى أتى من مَدْيَنَ وحيداً، وحين أتى؛ لم يجتمع بأحدٍ من السحرة ولا غيرهم، بل بادَرَ إلى دعوة فرعون وقومه، وأراهم الآيات، فأراد فرعونُ أن يعارِضَ ما جاء به موسى، فسعى ما أمكنه، وأرسل في مدائنه من يجمعُ له كلَّ ساحر عليم، فجاؤوا إليه، ووعدهم الأجر والمنزلة عند الغلبة، وهم حرصوا غاية الحرص وكادوا أشدَّ الكيد على غلبتهم لموسى، وكان منهم ما كان؛ فهل يمكن أو يُتَصَوَّر مع هذا أن يكونوا دبَّروا هم وموسى واتَّفقوا على ما صدر؟! هذا من أمحل المحال. ثم توعَّد فرعونُ السحرة فقال: لأقَطِّعَنَّ {أيدِيَكم وأرجُلَكم من خلافٍ}: كما يفعل بالمحاربِ الساعي بالفساد؛ يَقْطَعُ يده اليمنى ورجله اليسرى. {ولأصَلِّبَنَّكُم في جذوع النخل}؛ أي: لأجل أن تشتهروا وتختزوا. {وَلَتَعْلَمُنَّ أيُّنا أشدُّ عذاباً وأبقى}؛ يعني: بزعمه هو وأمته وأنَّه أشدُّ عذاباً من الله وأبقى؛ قلباً للحقائق، وترهيباً لمن لا عقل له.