ترجمہ و تفسیر — سورۃ طه (20) — آیت 71

قَالَ اٰمَنۡتُمۡ لَہٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَکُمۡ ؕ اِنَّہٗ لَکَبِیۡرُکُمُ الَّذِیۡ عَلَّمَکُمُ السِّحۡرَ ۚ فَلَاُقَطِّعَنَّ اَیۡدِیَکُمۡ وَ اَرۡجُلَکُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ وَّ لَاُصَلِّبَنَّکُمۡ فِیۡ جُذُوۡعِ النَّخۡلِ ۫ وَ لَتَعۡلَمُنَّ اَیُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّ اَبۡقٰی ﴿۷۱﴾
کہا تم اس پر اس سے پہلے ایمان لے آئے کہ میں تمھیں اجازت دوں، یقینا یہ تو تمھارا بڑا ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے، پس یقینا میں ہر صورت تمھارے ہاتھ اور تمھارے پائوں مخالف سمت سے بری طرح کاٹوں گا اور ضرور ہر صورت تمھیں کھجور کے تنوں پر بری طرح سولی دوں گا اور یقینا تم ضرور جان لو گے کہ ہم میں سے کون عذاب دینے میں زیادہ سخت اور زیادہ باقی رہنے والا ہے۔ En
(فرعون) بولا کہ پیشتر اس کے میں تمہیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔ بےشک وہ تمہارا بڑا (یعنی استاد) ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔ سو میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں (جانب) خلاف سے کٹوا دوں گا اور کھجور کے تنوں پر سولی چڑھوا دوں گا (اس وقت) تم کو معلوم ہوگا کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیر تک رہنے والا ہے
En
فرعون کہنے لگا کہ کیا میری اجازت سے پہلے ہی تم اس پرایمان لے آئے؟ یقیناً یہی تمہارا وه بڑا بزرگ ہے جس نے تم سب کو جادو سکھایا ہے، (سن لو) میں تمہارے پاؤں الٹے سیدھے کٹوا کر تم سب کو کھجور کے تنوں میں سولی پر لٹکوا دوں گا، اور تمہیں پوری طرح معلوم ہوجائے گا کہ ہم میں سے کس کی مار زیاده سخت اور دیرپا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 71) ➊ { اِنَّهٗ لَكَبِيْرُكُمُ الَّذِيْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ:} یعنی یہ تمھارا گرو ہے اور تم اس کے چیلے ہو۔ معلوم ہوتا ہے کہ تم آپس میں طے کرکے آئے ہو کہ پہلے چیلے ایک شعبدہ دکھائیں گے، پھر وہ سب کے سامنے گرو سے شکست کھا لیں گے، تاکہ دیکھنے والے ان کے گرو کا کہنا مان لیں اور اس کے معتقد بن جائیں۔ فرعون نے یہ شبہ اسی وقت پیدا کر دیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ عوام بھی ان کے متبع ہو جائیں۔
➋ {فَلَاُقَطِّعَنَّ اَيْدِيَكُمْ …:} شبہ پیدا کرنے کے بعد اوپر سے دھمکی بھی دے دی، تاکہ ان کو ایمان پر قائم رہنے سے پھیر دیا جائے اور دوسرے لوگ بھی مرعوب ہو جائیں۔
➌ {فِيْ جُذُوْعِ النَّخْلِ: جُذُوْعِ جِذْعٌ} (جیم کے کسرہ کے ساتھ) کی جمع ہے تنے۔ سولی دینے کے لیے اونچے سے اونچا میسر کھمبا اس وقت کھجور کا تنا تھا۔ ظاہر ہے کہ سولی تنے کے اوپر دی جاتی ہے، مگر یہاں { فِيْ جُذُوْعِ النَّخْلِ } (کھجوروں کے تنوں میں) فرمایا۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ یہاں لفظ { فِيْ عَلٰي} کے معنی میں ہے، مگر { فِيْ } کا لفظ اس لیے استعمال کیا کہ تمھیں کھجوروں کے تنوں کے اوپر لے جا کر کیلوں یا رسیوں کے ساتھ تنوں میں پیوست کر دوں گا اور اس طرح تم عبرت ناک انجام کو پہنچو گے۔ سولی کی تفصیل سورۂ اعراف (۱۱۵ تا ۱۲۶) میں دیکھیں۔
➍ { وَ لَتَعْلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّ اَبْقٰى:} یعنی وہ عذاب جس سے موسیٰ(علیہ السلام) نے تمھیں مقابلے سے پہلے ڈرایا تھا کہ {وَيْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ } وہ زیادہ سخت اور دیرپا ہے یا میرا عذاب؟ فرعون حقیقت ِحال سے واقف تھا، مگر اپنی شکست فاش پر پردہ ڈالنے کے لیے یہ دھمکیاں دے رہا تھا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

71۔ 1 مِنْ خِلَافِ (الٹے سیدھے) کا مطلب ہے سیدھا ہاتھ تو بایاں پاؤں یا بایاں ہاتھ تو سیدھا پاؤں

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

71۔ فرعون بول اٹھا: ”تم میری اجازت کے بغیر ہی اس پر ایمان لے آئے، یقیناً موسیٰ تمہارا بڑا گروہ ہے جس نے تمہیں جادو سکھلایا [50] ہے۔ اب میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں میں کٹوا دوں گا اور کھجور کے تنوں میں تمہیں سولی چڑھاؤں گا اور تمہیں خوب معلوم ہو جائے گا کہ ہم دونوں (میں اور موسیٰ) میں سے کس کی سزا شدید تر اور دیرپا ہے“
[50] فرعون نے ایمان لانے والے جادوگروں کو اتنی سخت دھمکی کیوں دی؟
ایک تو فرعون اور اس کے حواری میدان میں مقابلہ میں مات کھا چکے تھے جسے لوگوں کی ایک کثیر تعداد نے بچشم خود دیکھ لیا تھا۔ دوسرے یہ ستم ہوا کہ جن جادوگروں کے بل بوتے یہ مقابلہ رچایا گیا تھا وہ کوئی عذر معذرت کرنے کے بجائے خود ایمان لے آئے۔ تو اس دوہری شکست نے فرعون کو سیخ پا کر دیا۔ اور لوگوں کو مزید کچھ عرصہ کے لئے الو بنائے رکھنے اور موسیٰؑ کی دعوت سے بچائے رکھنے کے لئے یہ تدبیر سوچی کہ ان جادوگروں کو ہی غدار اور جاسوس قرار دیا جائے اور اعلان کر دیا کہ فی الواقع یہ جادوگر موسیٰ کے شاگرد معلوم ہوتے ہیں اور ان دونوں کا مشن ایک ہی تھا۔ تبھی تو جادوگروں نے فوراً گھٹنے ٹیک دیئے ہیں۔ لہٰذا اے جادوگرو! میں تمہیں ایسی اور ایسی سزا دوں گا جسے تمہاری نسلیں بھی یاد رکھیں گی اور تمہیں موسیٰ پر ایمان لانے کا انجام خوب معلوم ہو جائے گا۔ تم ایمان لا کر یہ سمجھ رہے ہو کہ تم ہی نجات پانے والے ہو اور دوسرے لوگ جو موسیٰ پر ایمان نہیں لائے وہ ابدی عذاب میں مبتلا رہیں گے سو ابھی تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ کس کا عذاب سخت اور تا دیر رہنے والا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

نتیجہ موسیٰ علیہ السلام کی صداقت کا گواہ بنا ٭٭
اللہ کی شان دیکھئے! چاہیئے تو یہ تھا کہ فرعون اب راہ راست پر آ جاتا۔ جن کو اس نے مقابلے کیلئے بلوایا تھا وہ عام مجمع میں ہارے۔ انہوں نے اپنی ہار مان لی، اپنے کرتوت کو جادو اور موسیٰ علیہ السلام کے معجزے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطاء کردہ معجزہ تسلیم کر لیا۔ خود وہ ایمان لے آئے جو مقابلے کے لیے بلوائے گئے تھے۔ مجمع عام میں سب کے سامنے بے جھجک انہوں نے دین حق کو قبول کر لیا۔ لیکن یہ اپنی شیطنیت میں اور بڑھ گیا اور اپنی قوت وطاقت دکھانے لگا لیکن بھلا حق والے مادی طاقتوں کو سمجھتے ہی کیا ہیں؟ «قَالَ فِرْعَوْنُ آمَنتُم بِهِ قَبْلَ أَنْ آذَنَ لَكُمْ ۖ إِنَّ هَـٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُوا مِنْهَا أَهْلَهَا ۖ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [7-الأعراف:123]‏‏‏‏
پہلے تو جادوگروں کے اس مسلم گروہ سے کہنے لگا کہ میری اجازت کے بغیر تم اس پر ایمان کیوں لائے؟ پھر ایسا بہتان باندھا جس کا جھوٹ ہونا بالکل واضح ہے کہ موسیٰ علیہ السلام تو تمہارے استاد ہیں انہی سے تم نے جادو سیکھا ہے۔ تم سب آپس میں ایک ہی ہو، مشورہ کر کے ہمیں تاراج کرنے کے لیے تم نے پہلے انہیں بھیجا پھر اس کے مقابلے میں خود آئے اور اپنے اندرونی سمجھوتے کے مطابق سامنے ہار گئے۔ اور اسے جتا دیا اور پھر اس کا دین قبول کر لیا تاکہ تمہاری دیکھا دیکھی میری رعایا بھی اس چکر میں پھنس جائے مگر تمہیں اپنی اس ساز باز کا انجام بھی معلوم ہو جائے گا۔ میں الٹی سیدھی طرف سے تمہارے ہاتھ پاؤں کاٹ کر تم کو کھجور کے تنوں پر سولی دوں گا اور اس بری طرح تمہاری جان لوں گا کہ دوسروں کے لیے عبرت ہو۔
اسی بادشاہ نے سب سے پہلے یہ سزا دی ہے۔ تم جو اپنے آپکو ہدایت پر اور مجھے اور میری قوم کو گمراہی پرسمجھتے ہو، اس کا حال بھی تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ دائمی عذاب کس پر آتا ہے؟ اس دھمکی کا ان کے دلوں پر الٹا اثر ہوا۔ وہ اپنے ایمان میں کامل بن گئے اور نہایت بےپرواہی سے جواب دیا کہ اس ہدایت و یقین کے مقابلے میں جو ہمیں اب اللہ کی طرف سے حاصل ہوا ہے، ہم تیرا مذہب کسی طرح قبول کرنے کے نہیں۔ نہ تجھے ہم اپنے سچے خالق مالک کے سامنے کوئی چیزسمجھیں۔
اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ جملہ قسم ہو یعنی اس اللہ کی قسم جس نے ہمیں اولاً پیدا کیا ہے، ہم ان واضح دلیلوں پر تیری گمراہی کو ترجیح دے ہی نہیں سکتے خواہ تو ہمارے ساتھ کچھ ہی کر لے۔ مستحق عبادت وہ ہے جس نے ہمیں بنایا نہ کہ تو، جو خود اسی کا بنایا ہوا ہے۔ تجھے جو کرنا ہو اس میں کمی نہ کر، تو تو ہمیں اسی وقت تک سزا دے سکتا ہے جب تک ہم اس دنیا کی حیات کی قید میں ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ اس کے بعد ابدی راحت اور غیر فانی خوشی ومسرت نصیب ہو گی۔ ہم اپنے رب پر ایمان لائے ہیں ہمیں امید ہے کہ وہ ہمارے اگلے قصوروں سے درگزر فرمالے گا بالخصوص یہ قصور جو ہم سے اللہ کے سچے نبی کے مقابلے پر جادو بازی کرنے کا سرزد ہوا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، فرعون نے بنی اسرائیل کے چالیس بچے لے کر انہیں جادوگروں کے سپرد کیا تھا کہ انہیں جادو کی پوری تعلیم دو۔ اب یہ لڑکے یہ مقولہ کہہ رہے ہیں کہ تو نے ہم سے جبراً جادوگری کی خدمت لی۔ عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے۔ پھر فرمایا ہمارے لیے بہ نسبت تیرے، اللہ بہت بہتر ہے اور دائمی ثواب دینے والا ہے۔ نہ ہمیں تیری سزاؤں سے ڈر نہ تیرے انعام کی لالچ۔ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی اس لائق ہے کہ اس کی عبادت و اطاعت کی جائے۔
اسی کے عذاب دائمی ہیں اور سخت خطرناک ہیں، اگر اس کی نافرمانی کی جائے۔ پس فرعون نے بھی ان کے ساتھ یہ کیا۔ سب کے ہاتھ پاؤں الٹی سیدھی طرف سے کاٹ کرسولی پر چڑھا دیا۔ وہ جماعت جو سورج کے نکلنے کے وقت کافر تھی، وہی جماعت سورج ڈوبنے سے پہلے مومن اور شہید تھی رحمتہ اللہ علیہم اجمعین۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قَالَ فرعون نے جادو گروں سے کہا: ﴿ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ یعنی مجھ سے پوچھے اور میری اجازت کے بغیر تم نے ایمان لانے کا اقدام کیسے کر لیا؟ چونکہ وہ اپنے ہر معاملے میں فرعون کے مطیع تھے اور اس کا نہایت ادب کرتے تھے، اس لیے فرعون کو ان کا ایمان لانا بڑا عجیب سا لگا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اس معاملے میں بھی اس کی اطاعت کریں گے۔ اس دلیل اور برہان کو دیکھ لینے کے بعد فرعون اپنے کفر اور سرکشی میں بڑھتا ہی چلا گیا۔ یہ بات کہہ کر اس نے اپنی قوم کی عقل کو اپنی اس بات سے ماؤف کر دیا اور یہ ظاہر کیا کہ موسیٰ علیہ السلام کو جادوگروں پر جو غلبہ حاصل ہوا ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ حق موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہے بلکہ یہ موسیٰ علیہ السلام اور جادوگروں کا گٹھ جوڑ ہے، انھوں نے فرعون اور اس کی قوم کو ان کی زمین سے باہر نکالنے کے لیے سازش کی ہے۔پس فرعون کی قوم نے مکروفریب پر مبنی اس موقف کو سچ سمجھ کر قبول کر لیا۔ ﴿ فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ فَاَ طَاعُوْهُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ (الزخرف:43؍54) اس نے اپنی قوم کی عقل کو ہلکا کر دیا اور انھوں نے اس کی بات مان لی، بے شک وہ نافرمان لوگ تھے۔
فرعون کی یہ بات کسی آدمی کی سمجھ میں نہیں آ سکتی جو رتی بھر عقل اور واقعہ کی معرفت رکھتا ہے۔ کیونکہ موسیٰ علیہ السلام جب مدین سے تشریف لائے تو وہ تنہا تھے جب وہ مصر پہنچے تو وہ کسی جادوگر یا غیر جادوگر سے نہیں ملے بلکہ وہ فرعون اور اس کی قوم کو دعوت دینے کے لیے جلدی سے اس کے پاس پہنچ گئے اور اسے معجزات دکھائے۔ فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کے معجزات کا مقابلہ کرنے کا ارادہ کر لیا اور امکان بھر کوشش کی، چنانچہ ہر کارے بھیج کر تمام شہروں سے ماہر جادوگر اکٹھے کر لیے۔ اس نے جادوگروں سے وعدہ کیا کہ اگر وہ موسیٰ پر غالب آ گئے تو وہ انھیں بہت بڑا معاوضہ اور قدرومنزلت عطا کرے گا۔ چونکہ وہ بہت زیادہ لالچی تھے اس لیے انھوں نے موسیٰ علیہ السلام پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے مکروفریب کے ہتھکنڈے استعمال کیے۔ کیا اس صورتحال میں یہ تصور کرنا ممکن ہے کہ جادوگروں اور موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے خلاف سازش کر لی ہو اور جو کچھ پیش آیا اس پر پہلے سے اتفاق کر لیا ہو۔ یہ محال ترین بات ہے۔
پھر فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا: ﴿ فَلَاُقَ٘طِّ٘عَنَّ۠ اَیْدِیَكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ پس میں ضرور کاٹ دوں گا تمھارے ہاتھ اور تمھارے پیر الٹے سیدھے جیسے فساد برپا کرنے والے محاربین کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ ان کا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دیا جاتا ہے۔ ﴿ وَّلَاُصَلِّبَنَّـكُمْ فِیْ جُذُوْعِ النَّخْلِ یعنی تمھاری رسوائی اور اس کی تشہیر کی خاطر تمھیں کھجور کے تنوں پر سولی دے دوں گا۔ ﴿ وَلَ٘تَ٘عْلَ٘مُنَّ اَ٘یُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابً٘ا وَّاَبْقٰى اور تم جان لو گے کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور پائدار ہے۔ یعنی فرعون اور اس کے گروہ کا یہ گمان تھا کہ فرعون کا عذاب اللہ تعالیٰ کے عذاب سے زیادہ سخت، حقائق کو بدلنے اور بے عقل لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے زیادہ دیر پا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فقال فرعون للسحرة: {آمنتُم له قبلَ أن آذَنَ لكم}؛ أي: كيف أقدمتُم على الإيمان من دون مراجعة منِّي ولا إذن، استغرب ذلك منهم لأدبهم معه وذلِّهم وانقيادهم له في كلِّ أمر من أمورهم، وجعل هذا من ذاك، ثم استلجَّ فرعونُ في كفره وطغيانه بعد هذا البرهان، واستخفَّ بقوله قومَهُ، وأظهر لهم أنَّ هذه الغلبة من موسى للسحرة ليس لأنَّ الذي معه الحقُّ، بل لأنَّه تمالأ هو والسحرة ومكروا ودبَّروا أن يخرجوا فرعونَ وقومَه من بلادهم، فقبل قومُه هذا المكرَ منه، وظنُّوه صدقاً، {فاستخفَّ قومَه فأطاعوه إنَّهم كانوا قوماً فاسقين}؛ مع أنَّ هذه المقالة التي قالها لا تدخُلُ عقلَ من له أدنى مُسْكة من عقل ومعرفةٍ بالواقع؛ فإنَّ موسى أتى من مَدْيَنَ وحيداً، وحين أتى؛ لم يجتمع بأحدٍ من السحرة ولا غيرهم، بل بادَرَ إلى دعوة فرعون وقومه، وأراهم الآيات، فأراد فرعونُ أن يعارِضَ ما جاء به موسى، فسعى ما أمكنه، وأرسل في مدائنه من يجمعُ له كلَّ ساحر عليم، فجاؤوا إليه، ووعدهم الأجر والمنزلة عند الغلبة، وهم حرصوا غاية الحرص وكادوا أشدَّ الكيد على غلبتهم لموسى، وكان منهم ما كان؛ فهل يمكن أو يُتَصَوَّر مع هذا أن يكونوا دبَّروا هم وموسى واتَّفقوا على ما صدر؟! هذا من أمحل المحال. ثم توعَّد فرعونُ السحرة فقال: لأقَطِّعَنَّ {أيدِيَكم وأرجُلَكم من خلافٍ}: كما يفعل بالمحاربِ الساعي بالفساد؛ يَقْطَعُ يده اليمنى ورجله اليسرى. {ولأصَلِّبَنَّكُم في جذوع النخل}؛ أي: لأجل أن تشتهروا وتختزوا. {وَلَتَعْلَمُنَّ أيُّنا أشدُّ عذاباً وأبقى}؛ يعني: بزعمه هو وأمته وأنَّه أشدُّ عذاباً من الله وأبقى؛ قلباً للحقائق، وترهيباً لمن لا عقل له.