کہا تم اس پر اس سے پہلے ایمان لے آئے کہ میں تمھیں اجازت دوں، یقینا یہ تو تمھارا بڑا ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے، پس یقینا میں ہر صورت تمھارے ہاتھ اور تمھارے پائوں مخالف سمت سے بری طرح کاٹوں گا اور ضرور ہر صورت تمھیں کھجور کے تنوں پر بری طرح سولی دوں گا اور یقینا تم ضرور جان لو گے کہ ہم میں سے کون عذاب دینے میں زیادہ سخت اور زیادہ باقی رہنے والا ہے۔
En
(فرعون) بولا کہ پیشتر اس کے میں تمہیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔ بےشک وہ تمہارا بڑا (یعنی استاد) ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔ سو میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں (جانب) خلاف سے کٹوا دوں گا اور کھجور کے تنوں پر سولی چڑھوا دوں گا (اس وقت) تم کو معلوم ہوگا کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیر تک رہنے والا ہے
فرعون کہنے لگا کہ کیا میری اجازت سے پہلے ہی تم اس پرایمان لے آئے؟ یقیناً یہی تمہارا وه بڑا بزرگ ہے جس نے تم سب کو جادو سکھایا ہے، (سن لو) میں تمہارے پاؤں الٹے سیدھے کٹوا کر تم سب کو کھجور کے تنوں میں سولی پر لٹکوا دوں گا، اور تمہیں پوری طرح معلوم ہوجائے گا کہ ہم میں سے کس کی مار زیاده سخت اور دیرپا ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے جادو گروں سے کہا: ﴿ اٰمَنْتُمْلَهٗقَبْلَاَنْاٰذَنَلَكُمْ﴾ یعنی مجھ سے پوچھے اور میری اجازت کے بغیر تم نے ایمان لانے کا اقدام کیسے کر لیا؟ چونکہ وہ اپنے ہر معاملے میں فرعون کے مطیع تھے اور اس کا نہایت ادب کرتے تھے، اس لیے فرعون کو ان کا ایمان لانا بڑا عجیب سا لگا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اس معاملے میں بھی اس کی اطاعت کریں گے۔ اس دلیل اور برہان کو دیکھ لینے کے بعد فرعون اپنے کفر اور سرکشی میں بڑھتا ہی چلا گیا۔ یہ بات کہہ کر اس نے اپنی قوم کی عقل کو اپنی اس بات سے ماؤف کر دیا اور یہ ظاہر کیا کہ موسیٰ علیہ السلام کو جادوگروں پر جو غلبہ حاصل ہوا ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ حق موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہے بلکہ یہ موسیٰ علیہ السلام اور جادوگروں کا گٹھ جوڑ ہے، انھوں نے فرعون اور اس کی قوم کو ان کی زمین سے باہر نکالنے کے لیے سازش کی ہے۔پس فرعون کی قوم نے مکروفریب پر مبنی اس موقف کو سچ سمجھ کر قبول کر لیا۔ ﴿ فَاسْتَخَفَّقَوْمَهٗفَاَطَاعُوْهُ١ؕاِنَّهُمْكَانُوْاقَوْمًافٰسِقِیْنَ ﴾ (الزخرف:43؍54) ”اس نے اپنی قوم کی عقل کو ہلکا کر دیا اور انھوں نے اس کی بات مان لی، بے شک وہ نافرمان لوگ تھے۔“
فرعون کی یہ بات کسی آدمی کی سمجھ میں نہیں آ سکتی جو رتی بھر عقل اور واقعہ کی معرفت رکھتا ہے۔ کیونکہ موسیٰ علیہ السلام جب مدین سے تشریف لائے تو وہ تنہا تھے جب وہ مصر پہنچے تو وہ کسی جادوگر یا غیر جادوگر سے نہیں ملے بلکہ وہ فرعون اور اس کی قوم کو دعوت دینے کے لیے جلدی سے اس کے پاس پہنچ گئے اور اسے معجزات دکھائے۔ فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کے معجزات کا مقابلہ کرنے کا ارادہ کر لیا اور امکان بھر کوشش کی، چنانچہ ہر کارے بھیج کر تمام شہروں سے ماہر جادوگر اکٹھے کر لیے۔ اس نے جادوگروں سے وعدہ کیا کہ اگر وہ موسیٰ پر غالب آ گئے تو وہ انھیں بہت بڑا معاوضہ اور قدرومنزلت عطا کرے گا۔ چونکہ وہ بہت زیادہ لالچی تھے اس لیے انھوں نے موسیٰ علیہ السلام پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے مکروفریب کے ہتھکنڈے استعمال کیے۔ کیا اس صورتحال میں یہ تصور کرنا ممکن ہے کہ جادوگروں اور موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے خلاف سازش کر لی ہو اور جو کچھ پیش آیا اس پر پہلے سے اتفاق کر لیا ہو۔ یہ محال ترین بات ہے۔
پھر فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا: ﴿ فَلَاُقَ٘طِّ٘عَنَّ۠اَیْدِیَكُمْوَاَرْجُلَكُمْمِّنْخِلَافٍ ﴾”پس میں ضرور کاٹ دوں گا تمھارے ہاتھ اور تمھارے پیر الٹے سیدھے“ جیسے فساد برپا کرنے والے محاربین کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ ان کا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دیا جاتا ہے۔ ﴿ وَّلَاُصَلِّبَنَّـكُمْفِیْجُذُوْعِالنَّخْلِ﴾ یعنی تمھاری رسوائی اور اس کی تشہیر کی خاطر تمھیں کھجور کے تنوں پر سولی دے دوں گا۔ ﴿ وَلَ٘تَ٘عْلَ٘مُنَّاَ٘یُّنَاۤاَشَدُّعَذَابً٘اوَّاَبْقٰى ﴾”اور تم جان لو گے کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور پائدار ہے۔“ یعنی فرعون اور اس کے گروہ کا یہ گمان تھا کہ فرعون کا عذاب اللہ تعالیٰ کے عذاب سے زیادہ سخت، حقائق کو بدلنے اور بے عقل لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے زیادہ دیر پا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فقال فرعون للسحرة: {آمنتُم له قبلَ أن آذَنَ لكم}؛ أي: كيف أقدمتُم على الإيمان من دون مراجعة منِّي ولا إذن، استغرب ذلك منهم لأدبهم معه وذلِّهم وانقيادهم له في كلِّ أمر من أمورهم، وجعل هذا من ذاك، ثم استلجَّ فرعونُ في كفره وطغيانه بعد هذا البرهان، واستخفَّ بقوله قومَهُ، وأظهر لهم أنَّ هذه الغلبة من موسى للسحرة ليس لأنَّ الذي معه الحقُّ، بل لأنَّه تمالأ هو والسحرة ومكروا ودبَّروا أن يخرجوا فرعونَ وقومَه من بلادهم، فقبل قومُه هذا المكرَ منه، وظنُّوه صدقاً، {فاستخفَّ قومَه فأطاعوه إنَّهم كانوا قوماً فاسقين}؛ مع أنَّ هذه المقالة التي قالها لا تدخُلُ عقلَ من له أدنى مُسْكة من عقل ومعرفةٍ بالواقع؛ فإنَّ موسى أتى من مَدْيَنَ وحيداً، وحين أتى؛ لم يجتمع بأحدٍ من السحرة ولا غيرهم، بل بادَرَ إلى دعوة فرعون وقومه، وأراهم الآيات، فأراد فرعونُ أن يعارِضَ ما جاء به موسى، فسعى ما أمكنه، وأرسل في مدائنه من يجمعُ له كلَّ ساحر عليم، فجاؤوا إليه، ووعدهم الأجر والمنزلة عند الغلبة، وهم حرصوا غاية الحرص وكادوا أشدَّ الكيد على غلبتهم لموسى، وكان منهم ما كان؛ فهل يمكن أو يُتَصَوَّر مع هذا أن يكونوا دبَّروا هم وموسى واتَّفقوا على ما صدر؟! هذا من أمحل المحال. ثم توعَّد فرعونُ السحرة فقال: لأقَطِّعَنَّ {أيدِيَكم وأرجُلَكم من خلافٍ}: كما يفعل بالمحاربِ الساعي بالفساد؛ يَقْطَعُ يده اليمنى ورجله اليسرى. {ولأصَلِّبَنَّكُم في جذوع النخل}؛ أي: لأجل أن تشتهروا وتختزوا. {وَلَتَعْلَمُنَّ أيُّنا أشدُّ عذاباً وأبقى}؛ يعني: بزعمه هو وأمته وأنَّه أشدُّ عذاباً من الله وأبقى؛ قلباً للحقائق، وترهيباً لمن لا عقل له.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔