تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پہلے تو جادوگروں کے اس مسلم گروہ سے کہنے لگا کہ میری اجازت کے بغیر تم اس پر ایمان کیوں لائے؟ پھر ایسا بہتان باندھا جس کا جھوٹ ہونا بالکل واضح ہے کہ موسیٰ علیہ السلام تو تمہارے استاد ہیں انہی سے تم نے جادو سیکھا ہے۔ تم سب آپس میں ایک ہی ہو، مشورہ کر کے ہمیں تاراج کرنے کے لیے تم نے پہلے انہیں بھیجا پھر اس کے مقابلے میں خود آئے اور اپنے اندرونی سمجھوتے کے مطابق سامنے ہار گئے۔ اور اسے جتا دیا اور پھر اس کا دین قبول کر لیا تاکہ تمہاری دیکھا دیکھی میری رعایا بھی اس چکر میں پھنس جائے مگر تمہیں اپنی اس ساز باز کا انجام بھی معلوم ہو جائے گا۔ میں الٹی سیدھی طرف سے تمہارے ہاتھ پاؤں کاٹ کر تم کو کھجور کے تنوں پر سولی دوں گا اور اس بری طرح تمہاری جان لوں گا کہ دوسروں کے لیے عبرت ہو۔
اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ جملہ قسم ہو یعنی اس اللہ کی قسم جس نے ہمیں اولاً پیدا کیا ہے، ہم ان واضح دلیلوں پر تیری گمراہی کو ترجیح دے ہی نہیں سکتے خواہ تو ہمارے ساتھ کچھ ہی کر لے۔ مستحق عبادت وہ ہے جس نے ہمیں بنایا نہ کہ تو، جو خود اسی کا بنایا ہوا ہے۔ تجھے جو کرنا ہو اس میں کمی نہ کر، تو تو ہمیں اسی وقت تک سزا دے سکتا ہے جب تک ہم اس دنیا کی حیات کی قید میں ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ اس کے بعد ابدی راحت اور غیر فانی خوشی ومسرت نصیب ہو گی۔ ہم اپنے رب پر ایمان لائے ہیں ہمیں امید ہے کہ وہ ہمارے اگلے قصوروں سے درگزر فرمالے گا بالخصوص یہ قصور جو ہم سے اللہ کے سچے نبی کے مقابلے پر جادو بازی کرنے کا سرزد ہوا ہے۔
اسی کے عذاب دائمی ہیں اور سخت خطرناک ہیں، اگر اس کی نافرمانی کی جائے۔ پس فرعون نے بھی ان کے ساتھ یہ کیا۔ سب کے ہاتھ پاؤں الٹی سیدھی طرف سے کاٹ کرسولی پر چڑھا دیا۔ وہ جماعت جو سورج کے نکلنے کے وقت کافر تھی، وہی جماعت سورج ڈوبنے سے پہلے مومن اور شہید تھی رحمتہ اللہ علیہم اجمعین۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهذا؛ لما عَرَفَ السحرةُ الحقَّ ورزقَهم الله من العقل ما يدرِكون به الحقائق؛ أجابوه بقولهم: {لَن نُؤْثِرَكَ على ما جاءَنا من البيِّناتِ} [أي لن نختارك وما وعدتنا به من الأجر والتقريب على ما أرانا اللَّه من الآيات البينات]: الدالاَّتِ على أنَّ الله هو الربُّ المعبود وحدَه، المعظَّم المبجَّل وحده، وأنَّ ما سواه باطلٌ، ونؤثِرَكَ على الذي فَطَرنا وخَلَقنا، هذا لا يكونُ. {فاقضِ ما أنت قاضٍ}: مما أوْعَدْتنا به من القطع والصلب والعذاب، {إنَّما تقضي هذه الحياةَ الدُّنيا}؛ أي: إنما توعدنا به غاية ما يكون في هذه الحياة الدُّنيا ينقضي ويزولُ ولا يضرُّنا؛ بخلافِ عذاب الله لمن استمرَّ على كفرِهِ؛ فإنَّه دائمٌ عظيمٌ. وهذا كأنَّه جوابٌ منهم لقوله: {وَلَتَعْلَمُنَّ أيُّنا أشدُّ عذاباً وأبقى}. وفي هذا الكلام من السَّحرة دليلٌ على أنَّه ينبغي للعاقل أن يوازنَ بين لَذَّات الدُّنيا ولذَّات الآخرة وبين عذاب الدُّنيا وعذاب الآخرة.