ترجمہ و تفسیر — سورۃ طه (20) — آیت 70

فَاُلۡقِیَ السَّحَرَۃُ سُجَّدًا قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ ہٰرُوۡنَ وَ مُوۡسٰی ﴿۷۰﴾
تو جادو گر گرا دیے گئے، اس حال میں کہ سجدہ کرنے والے تھے، انھوں نے کہا ہم ہارون اور موسیٰ کے رب پر ایمان لائے۔ En
(القصہ یوں ہی ہوا) تو جادوگر سجدے میں گر پڑے (اور) کہنے لگے کہ ہم موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر ایمان لائے
En
اب تو تمام جادوگر سجدے میں گر پڑے اور پکار اٹھے کہ ہم تو ہارون اور موسیٰ (علیہما السلام) کے رب پر ایمان ﻻئے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 69 میں تا آیت 71 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

70۔ چنانچہ (یہ منظر دیکھ کر) جادوگر بے ساختہ سجدہ میں گر پڑے۔ کہنے لگے: ”ہم ہارون اور موسیٰ کے پروردگار پر ایمان [49] لے آئے“
[49] جادوگروں کا ایمان لانا:۔
جادوگروں نے غالباً پہلے سیدنا موسیٰؑ کے عصا کو اژدھا بنتے کبھی نہ دیکھا تھا۔ انھیں بس اتنا ہی بتلایا گیا تھا کہ ایک شخص جادو کے زور سے اپنی لاٹھی کو سانپ بنا دیتا ہے اور تمہیں اس کا مقابلہ کرنا ہے اور جادوگروں نے جب بچشم خود یہ دیکھ لیا کہ عصا سے بنا ہوا اژدھا ان کے بنے ہوئے سانپوں کو نگل بھی گیا ہے تو انھیں معلوم ہو گیا کہ یہ بات جادو کے علم کی بساط سے باہر ہے۔ اور موسیٰ و ہارون علیہما السلام جادوگر نہیں بلکہ فی الواقع اللہ کے رسول ہیں اور جب ان پیغمبروں نے فتح کی خوشی میں اللہ کے سامنے سجدہ شکر ادا کیا تو جادوگر بھی بے اختیار ان کے ساتھ سجدہ ریز ہو گئے اور بھری مجلس میں ان رسولوں پر اپنے ایمان لانے کا اعلان بھی کر دیا (معجزہ اور جادو کے فرق کے لئے دیکھئے سورۃ اعراف کی آیت نمبر 113 کا حاشیہ)

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پس موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا اور وہ ان جادو گروں کے بناوٹی سانپوں کو نگل گیا اور لوگ اس سارے کرشمے کو دیکھ رہے تھے۔ تب جادو گروں کو یقینی طورپر معلوم ہو گیا کہ یہ جادو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ معجزہ ہے پس وہ فوراً ایمان لے آئے۔ ﴿فَاُلْ٘قِیَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِیْنَۙ۰۰قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْ٘عٰلَمِیْنَۙ۰۰رَبِّ مُوْسٰؔى وَهٰرُوْنَ (الشعراء:26؍46-48) پس گر گئے جادوگر سجدے میں اور کہا ہم رب کائنات پر ایمان لے آئے جو ہارون اور موسیٰ کا رب ہے۔ پس اس بھرے مجمع میں حق ظاہر اور روشن ہو گیا اور مکروفریب اور جادو باطل ہو گیا اور یہ چیز اہل ایمان کے لیے ایک واضح دلیل اور رحمت بن گئی اور معاندین حق پر حجت قائم ہو گئی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فألقى موسى عصاه، فتلقَّفت ما صنعوا كلَّه وأكلتْه، والناسُ ينظُرون لذلك الصنيع، فعَلِمَ السحرةُ علماً يقيناً أنَّ هذا ليس بسحر، وأنَّه من الله، فبادروا للإيمان، {فأُلْقي السحرةُ} ساجدينَ، {قالوا آمنَّا بربِّ العالمين ربِّ موسى وهارون}، فوقع الحقُّ وظهر وسطع، وبطل السحر والمكر والكيدُ في ذلك المجمع العظيم، فصارتْ بيِّنة ورحمةً للمؤمنين وحجَّة على المعاندين.