قَالُوۡۤا اِنۡ ہٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ یُرِیۡدٰنِ اَنۡ یُّخۡرِجٰکُمۡ مِّنۡ اَرۡضِکُمۡ بِسِحۡرِہِمَا وَ یَذۡہَبَا بِطَرِیۡقَتِکُمُ الۡمُثۡلٰی ﴿۶۳﴾
کہا بے شک یہ دونوں یقینا جادوگر ہیں، چاہتے ہیں کہ تمھیں تمھاری سرزمین سے اپنے جادو کے ذریعے نکال دیں اور تمھارا وہ طریقہ لے جائیں جو سب سے اچھا ہے۔
En
کہنے لگے یہ دونوں جادوگر ہیں چاہتے ہیں کہ اپنے جادو (کے زور) سے تم کو تمہارے ملک سے نکل دیں اور تمہارے شائستہ مذہب کو نابود کردیں
En
کہنے لگے یہ دونوں محض جادوگر ہیں اور ان کا پختہ اراده ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے نکال باہر کر دیں اور تمہارے بہترین مذہب کو برباد کر دیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 63) ➊ { قَالُوْۤا اِنْ هٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ …:} یہ {” اِنْ “} اصل میں {”إِنَّ“} حرف تاکید ہے، جس کی علامت خبر {” لَسٰحِرٰنِ “} پر لام تاکید ہے۔ یہاں ایک مشہور سوال ہے کہ {” إِنَّ “} اپنے اسم کو نصب دیتا ہے، اس لیے {” هٰذٰىنِ “} کے بجائے {”هٰذَيْنِ“} ہونا چاہیے تھا۔ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ {” إِنَّ“} کے نون کو جزم دینے کے بعد اس کا عمل ختم کر دیا گیا اور {” هٰذٰىنِ “} مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے، دوسرا یہ کہ {” اِنْ “} (نون ساکن کے ساتھ) {” إِنَّهُ “} یعنی {” إِنَّ “} اور ضمیر شان کی جگہ آیا ہے، چنانچہ {”اِنْ “} کا اسم ضمیرِ شان تھی اور {” هٰذٰىنِ “} اگلے جملے کا مبتدا ہے اور وہ جملہ {” اِنْ “} کی خبر بن رہا ہے۔ (ابن جزی) مزید جواب لمبی تفسیروں میں دیکھیں۔ {” الْمُثْلٰى “ ”أَمْثَلُ“} اسم تفضیل کا مؤنث ہے، بمعنی {”أَفْضَلُ“} سب سے اچھا۔
➋ آخر باہمی مشورے کے بعد مال و دولت اور جاہ ومنصب کی حرص نے ان سب کو مقابلے پر متفق کر دیا اور فیصلہ یہ ٹھہرا کہ یہ دونوں یقینا جادوگر ہیں اور چاہتے ہیں کہ اقتدار حاصل کرکے تمھیں تمھارے وطن سے نکال دیں اور تمھارے دین و مذہب کو، جو سب سے اچھا ہے اور تمھاری عیش و عشرت والی بہترین زندگی کو حکومت پر قبضہ کرکے ختم کر دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ أُرْسِلاَ فِيْ غَنَمٍ بِأَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ الْمَرْءِ عَلَی الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِيْنِهٖ] ”دو بھوکے بھیڑیے، جو بھیڑ بکریوں میں چھوڑ دیے جائیں، وہ انھیں اس قدر برباد کرنے والے نہیں جس قدر آدمی کی مال اور بلند مرتبہ (شہرت) کی حرص اس کے دین کو برباد کرنے والی ہے۔“ [ترمذی، الزھد، باب حدیث ما ذئبان جائعان…: ۲۳۷۶۔ ابن حبان: ۳۲۲۸، عن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ، صحیح]
➋ آخر باہمی مشورے کے بعد مال و دولت اور جاہ ومنصب کی حرص نے ان سب کو مقابلے پر متفق کر دیا اور فیصلہ یہ ٹھہرا کہ یہ دونوں یقینا جادوگر ہیں اور چاہتے ہیں کہ اقتدار حاصل کرکے تمھیں تمھارے وطن سے نکال دیں اور تمھارے دین و مذہب کو، جو سب سے اچھا ہے اور تمھاری عیش و عشرت والی بہترین زندگی کو حکومت پر قبضہ کرکے ختم کر دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ أُرْسِلاَ فِيْ غَنَمٍ بِأَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ الْمَرْءِ عَلَی الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِيْنِهٖ] ”دو بھوکے بھیڑیے، جو بھیڑ بکریوں میں چھوڑ دیے جائیں، وہ انھیں اس قدر برباد کرنے والے نہیں جس قدر آدمی کی مال اور بلند مرتبہ (شہرت) کی حرص اس کے دین کو برباد کرنے والی ہے۔“ [ترمذی، الزھد، باب حدیث ما ذئبان جائعان…: ۲۳۷۶۔ ابن حبان: ۳۲۲۸، عن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ، صحیح]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
63۔ 1 مثلیٰ، طریقۃ کی صفت ہے یہ امثل کی تانیث ہے افضل کے معنی میں مطلب یہ ہے کہ اگر یہ دونوں بھائی اپنے ' جادو ' کے زور سے غالب آگئے، تو سادات و اشراف اس کی طرف مائل ہوجائیں گے، جس سے ہمارا اقتدار خطرے میں اور ان کے اقتدار کا امکان بڑھ جائے گا۔ علاوہ ازیں ہمارا بہترین طریقہ یا مذہب، اسے بھی یہ ختم کردیں گے۔ یعنی اپنے مشرکانہ مذہب کو بھی انہوں نے " بہترین " قرار دیا جیسا کہ آج بھی ہر باطل مذہب اور فرقے کے پیروکار اسی زعم فاسد میں مبتلا ہیں سچ فرمایا اللہ نے (کل حزب بما لدیھم فرحون) ہر فرقہ جو اس کے پاس ہے اس پر ریچھ رہا ہے۔۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
63۔ آخر کچھ لوگوں نے کہا: ”یہ دونوں جادوگر ہیں اور چاہتے یہ ہیں کہ جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے نکال دیں اور تمہارے مثالی طریق زندگی کو ختم کر دیں۔ [45]
[45] فرعونیوں کے خفیہ مشورے اور مقابلہ کے متحد دینے کی تلقین:۔
اس علیحدہ مجلس میں ان لوگوں نے، جو جادوگروں کو اکٹھا کرنے میں پیش پیش تھے، اس بات پر زور دیا کہ اب اختلاف کرنے کا موقع نہیں رہا۔ اب تو سب کو اس مقابلہ کے انعقاد پر متفق ہونا ہی بہتر ہے۔ مقابلہ نہ کرنا یا اسے ملتوی کرنا دونوں باتیں ہمارے لئے نقصان دہ اور ہماری شکست کے مترادف ہیں۔ کچھ دوسروں نے کہا کہ اگر تم نے مقابلہ نہ کیا یا تم ہار گئے تو سمجھ لو کہ تمہاری شامت آجائے گی۔ حکومت تم سے چھن جائے گی۔ بنی اسرائیل کے تم غلام بن جاؤ گے۔ پھر جو سلوک وہ چاہیں تم سے کریں تمہیں اس ملک میں رہنے بھی دیں یا نکال باہر کریں۔ تم انھیں کے رحم و کرم پر ہو گے۔ تمہاری یہ تہذیب اور تمدن، تمہاری یہ ثقافت اور عیش و طرب کی محفلیں ایسی سب چیزوں کا جنازہ نکل جائے گا۔ لہٰذا اب صرف ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرو اور جادوگروں کی خوب حوصلہ افزائی کرو اور یہ سمجھ لو کہ آج کا دن شعبدہ بازی کے مقابلے کا دن نہیں بلکہ تمہاری ہار جیت کا دن ہے۔ جو ہار گیا سو مارا گیا اور جو جیت گیا بالآخر اسی کا بول بالا ہو گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
وہ سرگوشی، جو وہ آپس میں کر رہے تھے، اس کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَالُوْۤا اِنْ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ یُرِیْدٰؔنِ اَنْ یُّخْرِجٰؔكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِمَا﴾ ”انھوں نے کہا، یہ دونوں جادوگر ہیں جو تمھیں اپنے جادو کے ذریعے سے تمھاری زمین سے نکالنا چاہتے ہیں۔“ ان کا یہ قول فرعون کے قول کی مانند ہے جو گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ یا تو فرعون اور جادوگروں میں بغیر کسی قصد کے اس قول پر اتفاق ہوا یا فرعون نے ان جادوگروں کو اس قول کی تلقین کی جس کا اس نے لوگوں کے سامنے اظہار کیا تھا اور لوگوں سے کہلوایا تھا، چنانچہ جادوگروں نے فرعون کی بات پر اضافہ کرتے ہوئے کہا: ﴿وَیَذْهَبَا بِطَرِیْقَتِكُمُ۠ الْ٘مُثْ٘لٰى﴾ ”اور تمھارے بہترین طریقے کو ختم کر دیں۔“ یعنی تمھارا جادو کا طریقہ جس پر موسیٰ علیہ السلام تمھارے ساتھ حسد کرتا ہے اور تم پر غالب آنا چاہتا ہے تاکہ اسے فخر اور شہرت حاصل ہو اور اس علم کا مقصد بھی یہی ہے جس میں تم ایک زمانے سے مشغول ہو۔ موسیٰ چاہتا ہے کہ وہ تمھارے جادو کو ختم کر دے جو تمھارا ذریعہ معاش ہے، جس کی وجہ سے تمھیں ریاست ملی ہوئی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
والنجوى التي أسرُّوها فسَّرها بقوله: {قالوا إنْ هذانِ لساحرانِ يُريدان أن يخرِجاكم من أرضِكم بسحرِهما}؛ كمقالة فرعون السابقة؛ فإمَّا أن يكونَ ذلك توافقاً من فرعون والسحرة على هذه المقالة من غير قصدٍ، وإما أن يكون تلقيناً منه لهم مقالته التي صمَّم عليها وأظهرها للناس، وزادوا على قول فرعون أن قالوا: {ويَذْهَبا بطريقتِكُم المُثلى}؛ أي: طريقة السحر؛ حسدكم عليها، وأراد أن يظهر عليكم؛ ليكون له الفخرُ والصيتُ والشهرةُ، ويكون هو المقصودُ بهذا العلم الذي شغلتُم زمانَكم فيه ويذهب عنكم ما كنتُم تأكلون بسببه، وما يتبع ذلك من الرياسة.