ترجمہ و تفسیر — سورۃ طه (20) — آیت 62

فَتَنَازَعُوۡۤا اَمۡرَہُمۡ بَیۡنَہُمۡ وَ اَسَرُّوا النَّجۡوٰی ﴿۶۲﴾
تو وہ اپنے معاملے میں آپس میں جھگڑ پڑے اور انھوں نے پوشیدہ سرگوشی کی۔ En
تو وہ باہم اپنے معاملے میں جھگڑانے اور چپکے چپکے سرگوشی کرنے لگے
En
پس یہ لوگ آپس کے مشوروں میں مختلف رائے ہوگئے اور چھﭗ کر چپکے چپکے مشوره کرنے لگے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 62){ فَتَنَازَعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ …:} نصیحت بعض پر مؤثر ہوئی، بعض پر نہیں۔ چنانچہ وہ آپس میں چپکے چپکے جھگڑنے لگے، تاکہ فرعون یا موسیٰ یا عوام میں سے کسی کو ان کے باہمی اختلاف کی خبر نہ ہونے پائے۔ { النَّجْوٰى } آپس کی خفیہ بات، سرگوشی۔ { اَسَرُّوا } انھوں نے پوشیدہ کیا۔ { النَّجْوٰى } (سرگوشی) خود پوشیدہ ہوتی ہے، پھر { اَسَرُّوا } سے اس کی مزید پوشیدگی کا اندازہ کریں اور اس سے پہلے { بَيْنَهُمْ } (آپس میں) کا لفظ بتاتا ہے کہ اس جھگڑے کی خبر اس محدود گروہ کے درمیان ہی رہی، باہر نہیں نکلی۔ (ابن عاشور) کوئی کہنے لگا، موسیٰ جادوگر ہے اور کوئی کہنے لگا، یہ چہرہ جادوگر کا نہیں ہو سکتا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

62۔ 1 حضرت موسیٰ ؑ کے وعظ سے ان میں باہم کچھ اختلاف ہوا اور بعض چپکے چپکے کہنے لگے کہ یہ واقعی اللہ کا نبی ہی نہ ہو، اس کی گفتگو تو جادو گروں والی نہیں پیغمبرانہ لگتی ہے۔ بعض نے اس کے برعکس رائے کا اظہار کیا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

62۔ پھر اس معاملہ میں وہ (آل فرعون) آپس میں جھگڑنے گئے اور خفیہ [44] مشورہ کرنے لگے۔
[44] اکابرین فرعون میں اختلاف:۔
اکابرین قوم فرعون پر آپ کی نصیحت کا خاصا اثر ہوا اور وہ آپس میں اختلاف کرنے لگے۔ ایک فریق کہتا تھا کہ ان پیغمبروں کا مقابلہ کرنا اپنی شکست کو دعوت دینا ہے۔ دوسرا کہتا تھا کہ ابھی اس مقابلہ کو ملتوی کر دیا جائے جبکہ مقابلہ کے دیکھنے کے لئے لوگ جمع ہو چکے تھے۔ اس حال میں یہ اکابرین علیحدہ چلے گئے اور سر جوڑ بیٹھے تاکہ کسی ایک فیصلہ پر اتفاق رائے ہو جائے۔ اس مشورہ میں ماہر جادوگروں کو بھی شریک کیا گیا ان میں سے بعض کہنے لگے کہ ایسے نورانی چہرے جادوگر نہیں ہو سکتے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

کلام حق دلوں کو ضرور متاثر کرتا ہے۔ جب جادوگروں نے حضرت موسیٰ کی بات سنی تو ان جادوگروں کے درمیان باہم نزاع اور جھگڑا برپا ہو گیا۔ ان کے درمیان نزاع کا سبب شاید یہ اشتباہ تھا کہ آیا موسیٰ علیہ السلام حق پر ہیں یا نہیں؟ مگر اس وقت تک ان کے درمیان اس بارے میں کوئی فیصلہ نہ ہو سکا تھا… تاکہ اللہ تعالیٰ اس معاملے کو ظہور میں لے آئے جس کا وہ فیصلہ کر چکا ہے۔ ﴿ لِّیَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَیِّنَةٍ وَّیَحْیٰى مَنْ حَیَّ عَنْۢ بَیِّنَةٍ (الانفال:8؍42) تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔ اس وقت انھوں نے آپس میں سرگوشیاں شروع کر دیں کہ وہ ایک موقف پر متفق ہو جائیں تاکہ اپنے قول و فعل میں کامیابی سے ہمکنار ہوں اور لوگ ان کے دین کی پیروی کریں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وكلام الحقِّ لا بدَّ أن يؤثِّر في القلوب، لا جرم ارتفع الخصامُ والنزاع بين السحرة لمَّا سمعوا كلام موسى وارتبكوا، ولعلَّ من جملة نزاعهم الاشتباه في موسى هل هو على الحقِّ أم لا؟ ولكنهم إلى الآن ما تمَّ أمرهم؛ ليقضي الله أمراً كان مفعولاً؛ ليهلِكَ من هَلَكَ عن بينةٍ ويحيا من حَيَّ عن بينةٍ؛ فحينئذ أسرّوا فيما بينهم النجوى، وأنَّهم يتَّفقون على مقالةٍ واحدةٍ؛ لينجحوا في مقالهم وفعالهم، وليتمسَّك الناس بدينهم.