ترجمہ و تفسیر — سورۃ طه (20) — آیت 51

قَالَ فَمَا بَالُ الۡقُرُوۡنِ الۡاُوۡلٰی ﴿۵۱﴾
اس نے کہا تو پہلے زمانوں کے لوگوں کا کیا حال ہے؟ En
کہا تو پہلی جماعتوں کا کیا حال؟
En
اس نے کہا اچھا یہ تو بتاؤ اگلے زمانے والوں کا حال کیا ہونا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 51){ قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰى:} یہ سوال پوچھنے کی تین وجہیں ہو سکتی ہیں اور موسیٰ علیہ السلام کے جواب میں سب کا حل موجود ہے۔ پہلی وجہ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ کے الفاظ میں یہ ہے: فرعون شاید دہریہ مزاج تھا۔ آدمیوں کی پیدائش کو سمجھتا تھا جیسے برسات کا سبزہ، نہ اول کسی نے پیدا کیا، آپ ہی پیدا ہو گیا، نہ آخر باقی رہا، گل کر مٹی ہو گیا۔ جب سنا کہ سب کے سر پر ایک رب ہے تب یہ پوچھا کہ اگلی خلق کہاں گئی؟ بتایا ان کا حساب لکھا ہوا موجود ہے کہ ایک ایک آدمی پھر حاضر ہو گا۔ (موضح) دوسری وجہ اس کے یہ پوچھنے کی کہ پھر پہلے زمانوں کے لوگوں کا کیا حال ہے، یہ ہو سکتی ہے کہ وہ یہ کہلوانا چاہتا تھا کہ جو لوگ سیکڑوں برس سے نسلاً بعد نسل دوسروں کو اپنا رب سمجھتے اور ان کی بندگی کرتے رہے ہیں وہ سب گمراہ اور مستحق عذاب تھے۔ مقصد اس کا یہ تھا کہ جب موسیٰ علیہ السلام ان کو گمراہ اور مستحق عذاب قرار دیں گے تو ان کے خلاف تمام لوگوں کے جذبات بھڑک اٹھیں گے اور وہ ان کی دعوت سے متنفر ہو جائیں گے۔ اہل حق کے خلاف اہل باطل جاہلوں کو مشتعل کرنے کا یہ ہتھکنڈا ہمیشہ سے استعمال کرتے رہے ہیں اور آج بھی اسے کارگر حربہ سمجھتے ہیں۔ سورۂ شعراء کی آیات (۲۳ تا ۲۹) کی روشنی میں یہ مطلب سب سے واضح نظر آتا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس معاملے کو اللہ کے علم کے سپرد کر دیا، چنانچہ فرعون کا وار خالی گیا۔
تیسری وجہ یہ کہ فرعون یہ باور کروانا چاہتا تھا کہ رسول تو عالم الغیب ہوتے ہیں، اگر تم واقعی رسول ہو تو پہلے یہ بتاؤ کہ پہلے زمانوں کے لوگوں کا کیا حال ہے، ان کا حال ہمیں بتاؤ۔ مقصد یہ تھا کہ جب نہیں بتا سکیں گے تو ہم کہہ دیں گے کہ یہ کیسا رسول ہے جو پہلے زمانوں کے لوگوں کے احوال بھی نہیں جانتا؟ جواب یہ دیا کہ یہ جاننا رسولوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ رب تعالیٰ کا کام ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

51۔ 1 فرعون نے بات کا رخ دوسری طرف پھیرنے کے لئے یہ سوال کیا، یعنی پہلے لوگ جو غیر اللہ کی عبادت کرتے ہوئے دنیا سے چلے گئے، ان کا حال کیا ہوگا؟

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

51۔ فرعون نے کہا: تو پھر جو نسلیں گزر چکی ہیں وہ کس حال میں [33] ہیں؟“
[33] فرعون کا دوسرا سوال کہ پہلی امتیں کس حال میں ہیں:۔
اس پہلو سے لاجواب ہو کر فرعون نے دوسرا سوال جو کیا وہ اس کی انتہائی شرارت پر مبنی تھا۔ جس سے وہ اپنی تمام رعیت کو ان رسولوں کے خلاف بھڑکانا اور ان میں مذہبی تعصب پیدا کرنا چاہتا تھا۔ اس کا سوال یہ تھا کہ اگر صورت حال یہی ہے کہ جو توحید و رسالت کی دعوت تم لے کر آئے ہو اس کو ماننے والوں کے لئے امن و سلامتی ہے اور جو اس دعوت پر ایمان نہیں رکھتے تو ان کو دردناک سزا ملے گی تو بتلاؤ جو ہمارے باپ دادا فوت ہو چکے ہیں وہ کس حال میں ہیں؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس لیے جب فرعون اس قطعی دلیل کا مقابلہ نہ کر سکا تو اصل مقصد سے ہٹ کر جھگڑنے پر اتر آیا اور موسیٰ علیہ السلام سے کہنے لگا: ﴿ قَالَ فَمَا بَ٘الُ الْ٘قُ٘رُوْنِ الْاُوْلٰى یعنی پہلے زمانے کے لوگوں کا کیا معاملہ ہے اور ان کی کیا خبر اور کیا حال ہے ان لوگوں نے تو ہم سے پہلے حق کا انکار کر کے، کفر، ظلم اور عناد کا ارتکاب کیا، کیا وہ ہمارے لیے نمونہ ہیں؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا لما لم يمكنْ فرعون أن يعانِدَ هذا الدليل القاطع؛ عدل إلى المشاغبة، وحاد عن المقصود، فقال لموسى: {فما بالُ القرون الأولى}؛ أي: ما شأنهم؟ وما خبرهم؟ وكيف وصلت بهم الحالُ وقد سبقونا إلى الإنكار والكفر والظُّلم والعناد ولنا فيهم أسوة؟