تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ طه (20) — آیت 51

قَالَ فَمَا بَالُ الۡقُرُوۡنِ الۡاُوۡلٰی ﴿۵۱﴾
اس نے کہا تو پہلے زمانوں کے لوگوں کا کیا حال ہے؟ En
کہا تو پہلی جماعتوں کا کیا حال؟
En
اس نے کہا اچھا یہ تو بتاؤ اگلے زمانے والوں کا حال کیا ہونا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس لیے جب فرعون اس قطعی دلیل کا مقابلہ نہ کر سکا تو اصل مقصد سے ہٹ کر جھگڑنے پر اتر آیا اور موسیٰ علیہ السلام سے کہنے لگا: ﴿ قَالَ فَمَا بَ٘الُ الْ٘قُ٘رُوْنِ الْاُوْلٰى یعنی پہلے زمانے کے لوگوں کا کیا معاملہ ہے اور ان کی کیا خبر اور کیا حال ہے ان لوگوں نے تو ہم سے پہلے حق کا انکار کر کے، کفر، ظلم اور عناد کا ارتکاب کیا، کیا وہ ہمارے لیے نمونہ ہیں؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا لما لم يمكنْ فرعون أن يعانِدَ هذا الدليل القاطع؛ عدل إلى المشاغبة، وحاد عن المقصود، فقال لموسى: {فما بالُ القرون الأولى}؛ أي: ما شأنهم؟ وما خبرهم؟ وكيف وصلت بهم الحالُ وقد سبقونا إلى الإنكار والكفر والظُّلم والعناد ولنا فيهم أسوة؟