تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { ثُمَّ هَدٰى:} یعنی اس کے حسب حال شکل و صورت عطا فرما کر اسے زندگی گزارنے اور اپنی بناوٹ سے کام لینے کا راستہ بھی بتایا ہے، چنانچہ پرندے کا بچہ انڈے سے نکلتے ہی دانہ چگنے لگتا ہے، بطخ کا بچہ تیرنے لگتا ہے، جبکہ جانور اور انسان کا بچہ پیدا ہوتے ہی دودھ پینے لگتا ہے، اگر اللہ تعالیٰ نہ سکھاتا تو کون سکھا سکتا تھا؟ الغرض اس کائنات میں ہر چیز جو بھی کام کر رہی ہے اس کی دی ہوئی ہدایت اور تعلیم ہی سے کر رہی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا رب تو نہیں بلکہ وہ بزرگ و برتر اللہ ہے جس کی یہ اور یہ صفات ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے عموماً وہی دلائل پیش کیے جو ان کے جد امجد ابراہیم علیہ السلام نے پیش کیے تھے۔ دیکھیے سورۂ شعراء (۲۳ تا ۲۹)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
انسانی پیدائش کا طریقہ الگ ہے، چوپائے الگ صورت میں ہیں، درندے الگ وضع میں ہیں۔ ہر ایک کے جوڑے کی ہئیت ترکیبی علیحدہ ہے۔ کھانا پینا، کھانے پینے کی چیزیں، جوڑے سب الگ الگ اور ممتاز و مخصوص ہیں۔ ہر ایک کا انداز مقرر کر کے پھر اس کی ترکیب اسے بتلا دی ہے۔ عمل اجل، رزق مقدر اور مقرر کر کے اسی پر لگا دیا ہے۔ نظام کے ساتھ ساری مخلوق کا کارخانہ چل رہا ہے۔ کوئی اس سے ادھر ادھر نہیں ہو سکتا۔ خلق کا خالق، تقدیروں کا مقرر کرنے والا، اپنے ارادے پر مخلوق کی پیدائش کرنے والا ہی ہمارا رب ہے۔ یہ سب سن کر اس بےسمجھ نے پوچھا کہ اچھا تو پھر ان کا کیا حال ہے جو ہم سے پہلے تھے اور اللہ کی عبادت کے منکر تھے؟ اس سوال کو اس نے اہمیت کے ساتھ کیا۔
لیکن اللہ کے پیغمبر علیہ السلام نے ایسا جواب دیا کہ عاجز ہو گیا۔ فرمایا ان سب کا علم میرے رب کو ہے۔ لوح محفوظ میں ان کے اعمال لکھے ہوئے ہیں، جزا سزا کا دن مقرر ہے۔ نہ وہ غلط کرے کہ کوئی چھوٹا بڑا اس کی پکڑ سے چھوٹ جائے، نہ وہ بھولے کہ مجرم اس کی گرفت سے رہ جائیں۔ اس کا علم تمام چیزوں کو اپنے میں گھیرے ہوئے ہے۔ اس کی ذات بھول چوک سے پاک ہے۔ نہ اس کے علم سے کوئی چیز باہر، نہ علم کے بعد بھول جانے کا اس کا وصف، وہ کمی علم کے نقصان سے، وہ بھول کے نقصان سے پاک ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فأجاب موسى بجواب شافٍ كافٍ واضح، فقال: {ربُّنا الذي أعطى كلَّ شيءٍ خَلْقَه ثم هدى}؛ أي: ربُّنا الذي خلق جميع المخلوقات، وأعطى كلَّ مخلوق خَلْقَه اللائق به، [الدال] على حسن صنعة من خلقه، من كبر الجسم وصغره وتوسطه وجميع صفاته، ثم هدى كلَّ مخلوق إلى ما خَلَقَه له، وهذه الهداية الكاملةُ المشاهدةُ في جميع المخلوقات؛ فكلُّ مخلوق تجِدُه يسعى لما خُلِقَ له من المنافع وفي دفع المضارِّ عنه، حتَّى إنَّ الله أعطى الحيوان البهيم من العقل ما يتمكَّن به على ذلك، وهذا كقوله تعالى: {الذي أحسن كلَّ شيءٍ خَلَقَه}: فالذي خَلَقَ المخلوقاتِ، وأعطاها خَلْقَها الحسنَ الذي لا تقترح العقول فوقَ حسنِهِ، وهداها لمصالحها؛ هو الربُّ على الحقيقة؛ فإنكاره إنكارٌ لأعظم الأشياء وجوداً، وهو مكابرةٌ ومجاهرةٌ بالكذب؛ فلو قُدِّرَ أنَّ الإنسان أنكر من الأمور المعلومة ما أنكر؛ كان إنكارُهُ لربِّ العالمين أكبر من ذلك.